
انجینئر محمود اقبال
اسٹرکچرل انجینئر و کنسلٹنٹ
جس کو بھی چاہاشدّت سے چاہا ہے فراز
سلسلہ ٹوٹا نہیں ہے ، درد کی زنجیر کا
مزاحمتوں،دردوں اور چاہتوں کا شاعر آج ہم میں نہیں ہے،لیکن درد کی زنجیر کا سلسلہ ابھی ٹوٹا نہیں ہے۔فراز ہمیں میٹھا میٹھا درد دے گئے۔ ہم اردو والوں کو فرازکی رہ رہ کر یاد آتی ہے۔
سب کے واسطے، لائے ہیں کپڑے سیل سے
لائے ہیں میرے لئے قیدی کا کمبل جیل سے
کچھ یاد آیا آپ کو؟فراز کی یہ پہلی مزاحمت تھی۔وہ بھی کسی اور سے نہیں اپنے ہی والد محترم سے جو بذات خود بھی فارسی کے ایک اچھے شاعر تھے۔واقعہ یوں ہے کہ ان کے والد نے عید کے موقعہ پر اپنے بچوں کے لئے کپڑے خرید کر گھر لائے تھے،مگر فراز کو اپنا لباس پسند نہیں آیا تھا۔اور فراز نے یہ شعر جڑ دیا تھا،یوں سمجھئے کہ بے ساختہ اُگل دیا تھا۔شاید ،والد سے یہ جراثیم ورثہ میں ملے ہوں؟ ان کی زندگی کا شاید یہ پہلا شعر تھا۔فراز نے بذات خود ایک انٹرویو میںبتایا تھاکہ وہ اس وقت وہ بہت چھوٹے تھے، نویں کلاس کے بعد دسویں جماعت میں جانے والے تھے۔گھر کا ماحول ادبی تھا۔گھر میں ’’ہنڈکو‘‘زبان بولی جاتی تھی۔اسی دور کی بات ہے،ایک کزن سے بیت بازی کا مقابلہ چل رہا تھا،اور فراز مسلسل مات کھارہے تھے۔انہیں ایک ترکیب سوجھی ا ور فی الد یبہ،گھڑ گھڑ کر اشعار کہنا شروع کردئے۔ کزن سمجھ نہیں پائے کہ کس نامور شاعر کے اشعار ہیں یہ؟ اور کزن کومات ہوگئی۔ہم نے بہت چھان بین کی کہ یہ کزن’’تھا‘‘ یا ’’تھی‘‘؟پتہ نہیں چلا۔شاید’تھی‘ تب ہی تو باپ کے بعد ’تھی‘ کے ادبی جراثیم سے فراز متاثر ہوئے ہوں؟مگر، یہ صرف قیاس ہے۔ہم نے ایک اور چھان بین ان کی بیگم کے بارے میں بھی کی۔تصویر تو دور کی بات،نام کا بھی پتہ نہیں چلا۔کافی تگ و دد کے بعد ایک نام ملا،مگر مستند ذرائع سے نہیں۔اس لئے آپ کو بتانے سے معذرت خواہ ہیں۔ پردہ ہے ترا؟وجہ سمجھ میں آتی ہے،پٹھان جو ٹہرے فراز؟اسی معصوم دور کا ایک اور دلچسپ واقعہ ہے۔بات یوںہے کہ گجرات، (پاکستانی پنجاب کا شہر)کے ایک کالج میں بیت بازی کا مقابلہ تھا،لیکن شرط تھی کہ دو طلباء کی ٹیم ہو،فراز کو کوئی اور ساتھی شاعر نہیں ملا تو اپنے ہی ایک ساتھی کو اپنے ہی اشعار رٹّہ مار مارکر یاد دلادئے ،اور دونوں نے شرکت کی اور بیت بازی کا مقابلہ، وہ دونوں اوّل نمبر سے جیت بھی گئے ۔فراز کی شاعری کی ابتداء لگتا ہے اپنی بالی ووڈ فلموں ہی کی طرح ہے۔یاد ہے نہ آ پ کو فلم ’’بابی‘‘ کا وہ مشہور نغمہ’’جب سے دیکھا میں نے تجھ کو،مجھ کو شاعری آگئی۔۔۔۔‘‘۔اورواقعی میںآگے چل کر احمد فراز ایک پختہ اور کہنہ مشق شاعر بن کر ابھرے۔
احمد فراز کا پیدائشی نام،سیّد احمد شاہ تھا۔والد محترم سیّد محمد شاہ برقؔ ،ایک استاد اور فارسی کے ایک نامور شاعر تھے۔اردو کے مایہ نازو انقلابی و رومانوی شاعر احمد فراز 12 جنوری ،1931ء کو پاکستان کے صوبے خیبر پختونخواہ کے علاقہ کوہاٹ، کے شہر نوشہرہ میں پیدا ہوئے تھے۔وہ ایک پشتو،سیّد خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔بالفاظ دیگر پٹھان تھے۔ان کے بھائی سیّد مسعود کوثر پاکستان کی سیاست کا ایک نمایاں نام ہے۔ وہ صوبہ خیبر پختونخواہ کے گورنر رہ چکے ہیں۔ فراز کے تین بیٹے ہیں۔سعدی فراز،شبلی فراز اور سرمدفراز۔شبلی فراز کا نام آپ نے یقینا بار بار سنا ہوگا،جو عمران خاں کی پارٹی ’’پاکستان تحریک انصاف‘‘ کے بڑے رہنماؤں میں سے ایک ہیں۔اس کے علاوہ ،عمران خاں کے قریبی ساتھیوں اور صلاح کاروں میں بھی ان کا شمار ہوتا ہے۔عمران خان کی کابینہ میں وہ وزیر سائینس و ٹکنالوجی بھی رہ چکے ہیں ۔انکے چھوٹے بھائی سرمد فراز موسیقی وتخلیقی دنیا میںمگن ہیں۔
فرازنے پشاور یونیورسٹی سے اردو اور فارسی میں ایم اے کیا تھا ،یعنی،وہ ڈبل پوسٹ گریجویٹ تھے۔ عملی زندگی کا آغاز ریڈیو پاکستان سے کیا تھا۔ ریڈیو پاکستان، پشاور میں بطور اسکرپٹ رائٹر کے طور پر اپنے کیرئیر کا آغاز کیا تھا ۔ بعد ازاں پشاور یونیورسٹی میں اردو کے لیکچرار اور استاد کے فرائض بھی انہوں نے انجام دئے ۔’’اکادمی ادبیات پاکستان‘‘ اور’’ پاکستان بیت المال ‘‘کے سربراہ بھی وہ رہے۔ان کے والد کی خواہش تھی کہ وہ سائنس اور ریاضی میں تعلیم آگے جاری رکھیں لیکن فراز کا فطری میلان ادب و شاعری کی طرف تھا۔فراز نے کبھی عشق، کبھی انقلاب، کبھی دوستی تو کبھی ماضی کے حالات اپنی شاعری میں بیان کئے ہیں۔
فراز کی شاعری میں عشق و محبت ،ہجر ،جدائی کے ساتھ ساتھ سیاسی مزاح، بغضِ جبر اور انسانی حقوق کا گہرا شعور ملتا ہے۔ ان کا کلام انتہائی نغمگی، سادگی اور دلنشین لہجے کی وجہ سے عوام اور خواص دونوں میں یکساں مقبول ہوا ہے۔احمد فرازکے اب تک 14 شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ جن میں جاناں جاناں، خواب گل پریشاں ہے، غزل بہانہ کرو، درد آشوب،تنہا تنہا، نایافت،نابینا شہر میں آئینہ، بے آواز گلی کوچوں میں، پس انداز موسم، شبِ خون، بودلک، یہ سب میری آوازیں ہیں، میرے خواب ریزہ ریزہ، اے عشق جفاپیشہ، شامل ہیں۔احمد فراز کی شاعری کے انگریزی، فرانسیسی، ہندی، روسی، یوگوسلاوی، جرمن اور پنجابی زبانوں میں تراجم ہو چکے ہیں۔
تم تکلف کو بھی اخلاص سمجھتے ہو فراز
دوست ہوتا نہیں ہر ہاتھ ملانے والا
ایک اور شعر ہوجائے؟
کچھ اس طرح سے گزاری ہے زندگی
جیسے تمام عمر کسی دوسرے کے گھر میں رہا
فراز،اپنے عہد کے سچے ترجمان تھے۔انہوں نے دیگر انقلابی شعرا کی طرح جنرل ضیاء الحق کی حکومت کے خلاف بھی اشعار کہے، جس کی پاداش میں انہیں گرفتار کیا گیا اورشہر بدر کردئے گئے تھے۔ انہوں نے چھ برس تک خود ساختہ جلا وطنی کو ترجیح دی تھی۔اس دوران ملکوں ملکوں کی وہ خاک چھانتے رہے۔ اسی دور کے ایک دلچسپ واقعہ کا تذکرہ ہوتا چلے؟واشنگٹن میںایک ادبی انجمن نے انہیں مشاعرہ کے لئے مدعو کیا تھا۔ایک خاندان نے صرف ایک ہفتہ کے لئے انہیں اپنے گھر ٹہر ایاتھا۔مگر،فراز نے اس خاندان میں ایسی دوستی اور انکے دلوں میں ایسی جگہ بنائی کہ ایک ہفتہ،ایک ماہ نہیں، بلکہ پورے ایک سال تک وہ ان کے مہمان بنے رہے تھے۔
سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں
سو اس کے شہر میں کچھ دن ٹہر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے ربط ہے اس کو خراب حالوں سے
سو اپنے آپ کو برباد کر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں
یہ بات ہے تو، چلو بات کر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے اس کے شبستاں سے متصل ہے بہشت
مکیں اُدھر کے بھی جلوے اِ دھر کے دیکھتے ہیں
رکے تو گردشیں اس کا طواف کرتی ہیں
چلے تو اس کو زمانے ٹھہر کے دیکھتے ہیں
کسے نصیب کہ بے پیرہن اسے دیکھے
کبھی کبھی در و دیوار گھر کے دیکھتے ہیں
کہانیاں ہی سہی سب مبالغے ہی سہی
اگر وہ خواب ہے تعبیر کر کے دیکھتے ہیں
اب اس کے شہر میں ٹھہریں کہ کوچ کر جائیں
فراز، ؔ آؤ ستارے سفر کے دیکھتے ہیں
احمد فراز،فیض احمد فیض کے ہم عصر تھے ،لیکن فیض کے زیرِ اثر نہیں تھے۔ وہ انہیں اپنا بزرگ اور ایک اچھا شاعر مانتے تھے۔وہ، فیض سے متاثر ضرور تھے،لیکن فیض کا شاگرد یا حریف بننے کی کبھی کوشش نہیں کی۔فیض کی جس خوبی کو وہ سب سے زیادہ پسند کرتے تھے،وہ تھی کہ فیض، انتہائی سخت موضوعات کوبھی شائستہ اور نرم زبان میں بیان کرتے تھے۔فرا زکا موقف تھا کہ’’فیض اپنی جگہ ایک غیر معولی شاعر تھے اور فراز کو، فراز ہی رہنا چاہئے‘‘۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ ان کا مقابلہ فیض سے کیا جائے۔ایک انٹرویو میں انہوں نے اعتراف کیا تھا کہ طالب علمی کے زمانے میں غالب اور فیض ان کے آئیڈیل تھے ۔فیض اور فراز کی ایک یادگار ملاقات 1983ء میںلندن میں ہوئی تھی۔ موقع تھا فراز کی کتاب کا رسم اجراء (اس یادگار ملاقات کی تصویر آپ دیکھ سکتے ہیں)۔یہ تقریب اس لئے بھی یادگار بن گئی تھی کی اس تقریب میں فیض کے علاوہ اردو ادب کے کچھ اور بڑے نام بھی تھے،جیسے افتخار عارف،محمد علی صدیقی وغیرہ۔
ایک اور دلچسپ واقعہ کا تذکرہ ہوتا چلے؟لاہور کے لئے ایک ہوائی جہاز کے سفر میں فیض اور فراز ہم سفر تھے۔ایک سرکاری ملازمت کے سلسلہ میں فراز تذبذب کا شکار تھے۔انہوں نے فیض سے مشورہ کیا کہ آیا انہیں یہ عہدہ قبول کرنا چاہئیے یا نہیں۔فیض نے کہا کہ،کیوں نہیں؟ سرکاری ملازمتیں اپنے لوگوں کو کرنی چاہئیں،ورنہ دوسرے لوگ آجائیں گے۔فراز نے یہ مشورہ قبول کرلیا تھا اور جاب جائن کرلی تھی۔اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ فراز اور فیض کے تعلقات باہمی احترام و عقیدت پر مبنی تھے،لیکن اندھی تقلید پر نہیں۔ جدائی،پر فرازنے کیا کہا تھا؟
قربتوں میں بھی ، جدائی کے بہانے مانگے
دل وہ بے مہر کے سدا رونے کے بہانے مانگے
اسی موضوع پرایک اور ہوجائے؟
اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں
جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں
ایک اور طویل شاہکارغزل کے چند اشعار آپ گنگنانا پسند کریں گے؟ مہدی حسن نہ سہی،خود ہی سہی؟زیرِلب سہی؟ تو شروع ہوجائیں!
رنجش ہی سہی، دل ہی دکھانے کے لئے آ
آ پھر سے مجھے چھوڑ کے جانے کے لئے آ
کچھ تو مرے پندار محبت کا بھرم رکھ
تو بھی تو کبھی مجھ کو منانے کے لئے آ
پہلے سے مراسم نہ سہی پھر بھی کبھی تو
رسم و رہ دنیا ہی نبھانے کے لئے آ
کس کس کو بتائیں گے جدائی کا سبب ہم
تو مجھ سے خفا ہے تو زمانے کے لئے آ
اک عمر سے ہوں لذت گریہ سے بھی محروم
اے راحت جاں مجھ کو رلانے کے لئے آ
اب تک دل خوش فہم کو تجھ سے ہیں امیدیں
یہ آخری شمعیں بھی بجھانے کے لئے آ
شہنشاہ موسیقی مہدی حسن نے پہلی مرتبہ جب مذکورہ غزل کو اپنی آواز کا سحر عطا کیا تھا تو پہلا مصرعہ عوام میں ضرب المثل کی حیثیت اختیار کر گیاتھا۔ بعد میں برصغیر کے کئی دیگر گلوکاروں نے اس غزل کو اپنے گلوں سے نوازا تھا ۔جیسے،اقبال بانو، جگجیت سنگھ،لتا منگیشکر وغیرہ ۔ اور یہ غزل امر ہوگئی۔’’کروں نہ یاد مگر کس طرح بھلاؤں اسے‘‘۔اس غزل کو غلام علی کی آواز نصیب ہوئی تھی۔ملکہ ترنّم نور جہاں اور پنکج ادھاس نے بھی فراز کی کئی غزلوںکو اپنے مسحور کن گلے عطا کئے ہیں۔آشا بھونسلے نے غلام علی کے ساتھ ملکر ’’کروں نہ یاد مگر۔۔۔۔۔‘‘گایا تھا۔رونی لیلی ایک بڑا نام ہے،انہوں نے بھی فراز کی غزلوں کو اپنی آواز عطا کی تھی۔پاکستان ٹیلی ویژن کے لئے ناہید اختر اور طاہرہ سیّد نے گنگنایا تھا’’یہ عالم شوق کا دیکھا نہ جائے‘‘۔
2004 ء میں احمد فراز کی ادبی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے حکومت پاکستان نے ’’ہلال امتیاز‘‘ کے ایوارڈ سے نوازا تھا۔ لیکن انہوں نے قریب دو سال کے عرصہ کے بعد یہ اعزاز واپس کردیا تھا۔پتہ ہے آپ کو کیوں؟وہ جنرل پرویز مشرّف سے نالاں ہوگئے تھے، جس نے جنرل کی وردی اتارکرصدر کی شیروانی پہن لی تھی۔ مشرّف نے بہانے بہانے سے پورے نو سال اقتدار کے مزے لوٹے تھے۔احمد فراز کی بذلہ سنجی اور حاضر جوابی اس وقت سامنے آئی،جب ایک صحافی نے طنزیہ انداز میں ان سے پوچھا تھاکہ،آپ نے اسے دو سال تک اپنے پاس کیوں رکھا؟۔فراز نے برجستہ جواب دیا تھا۔’’کیا تمغہ ان دو برسوں میں انڈے دے رہا تھا؟‘‘۔
فراز نے ہندوستان کے کئی دورے کئے تھے۔خصوصا، دلی میں شنکر۔شاد مشاعروں کے لئے۔2000ء میں فراز ایک مشاعرہ میں شرکت کے لئے دلّی آئے تھے ،لگے ہاتھوں انہیں دلّی کی جواہرلال نہرو یونیورسٹی کی ایک ادبی نشست میں شرکت کا موقع بھی مل گیا تھا۔فراز،نہ صرف مزاحمتوں، دردوں ،جدائیوں اور محبتوں کے شاعر تھے،بلکہ انقلابی شاعر بھی تھے۔
فراز کو کتنے قومی و بین لاقوامی ایوارڈ ملے ہونگے؟فہرست لمبی ہے۔ اختصار کو ملحوظ رکھتے ہوئے ہم یہاں صر ف چند کو بیان کر رہے ہیں۔آدم جی ادبی ایوارڈ(1966)پاکستان،فراق گورکھپوری عالمی ایوارد (1988)،بھارت، ستارہ امتیاز(1993)،پاکستان،کمالِ فن ایوارڈ (1994)،پاکستان۔انکی وفات کے بعد ،بعد از مرگ پاکستان کا سب سے بڑا سول ایوارڈ’’نشانِ امتیاز‘ (2020)سے بھی انہیں سرفراز کیا گیا تھا۔آج وہ ہم میں نہیں ہیں،لیکن انکی یادیں ہمار ے ساتھ ساتھ ہیں۔فراز ہی کی زبان میں!
ہوا ہے تجھ سے بچھڑنے کے بعد یہ معلوم
کہ تو نہیں تھا تیرے ساتھ ایک دنیا تھی
٭ ٭ ٭


