سکینہ ایتو: قربانی کا مجسمہ

 

پروفیسر شہاب عنایت ملک

وزیر برائے تعلیم، صحت اور سماجی بہبود سکینہ ایتو کا تعلق جنوبی کشمیر کے دور دراز علاقے دمحال ہانجی پورہ سے ہے، جو 1970 کی دہائی تک ایک پسماندہ خطہ سمجھا جاتا تھا۔ بعد ازاں اس علاقے کو شہید ولی محمد ایتو جیسا رہنما نصیب ہوا، جنہوں نے سڑکوں، اسکولوں، اسپتالوں اور دیگر بنیادی سہولیات کے ذریعے علاقے کی تقدیر بدل دی۔ دمحال ہانجی پورہ کی ترقی اور تعلیمی میدان میں ان کی خدمات آج بھی قابلِ ذکر ہیں۔
سکینہ ایتو اپنے والد شہید ولی محمد ایتو کی ہونہار اور باصلاحیت بیٹی ہیں، جنہوں نے نہ صرف ان کے مشن کو آگے بڑھایا بلکہ اسے عوامی خدمت کی ایک وسیع تحریک کی شکل دی۔ ولی محمد ایتو اپنی علمی، سیاسی اور سماجی خدمات کے باعث جموں و کشمیر کے عوام کے دلوں میں آج بھی زندہ ہیں۔ 1994 میں جامع مسجد تالاب کھٹیکاں کے باہر دہشت گردوں کے ہاتھوں ان کی شہادت نے پوری ریاست کو گہرے صدمے سے دوچار کر دیا۔ ان کی شرافت، اخلاق اور غریبوں کے لئے خدمات کو ہر طبقۂ فکر نے خراجِ عقیدت پیش کیا۔
اپنے والد کے بعد ان کے مشن کو آگے بڑھانے میں سکینہ ایتو نے اہم کردار ادا کیا۔ اگرچہ ابتدا میں ان کا سیاست میں آنے کا ارادہ نہیں تھا اور وہ بھوپال میڈیکل کالج میں ایم بی بی ایس کی طالبہ تھیں، مگر والد کے مشن کو جاری رکھنے کے لئے انہوں نے ڈاکٹری کے خواب کو قربان کر دیا۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے اصرار پر سیاست میں قدم رکھنے والی سکینہ ایتو نے پھر پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔
وہ چار مرتبہ دمحال ہانجی پورہ سے ممبر اسمبلی منتخب ہوئیں اور تین بار ریاستی کابینہ کا حصہ رہیں۔ بحیثیت عوامی نمائندہ انہوں نے سماجی بہبود، خواتین کی بااختیاری اور امن کے فروغ کے لئے کام کیا۔ اپنے حلقے میں سڑکوں، پانی اور بجلی کے منصوبوں کے علاوہ لڑکیوں کے اسکولوں اور کالجوں کے لئے فنڈز کی منظوری، غریب خاندانوں کی مدد، بیواؤں کی پنشن اور آنگن واڑی کارکنوں کی سہولیات میں بہتری جیسے اقدامات ان کی عوامی خدمت کے نمایاں پہلو ہیں۔
سکینہ ایتو نے ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر عوامی خدمت کو سیاست کا مقصد بنایا۔ دہشت گردی اور فرقہ وارانہ کشیدگی کے دور میں بھی وہ عوام کے درمیان رہیں اور جمہوریت، قومی یکجہتی اور امن کی آواز بلند کرتی رہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ مسائل کا حل بندوق سے نہیں بلکہ بات چیت اور ووٹ کی طاقت سے نکلتا ہے۔ اسی عوامی خدمت کے دوران ان پر دو مرتبہ جان لیوا حملے بھی ہوئے، مگر وہ محفوظ رہیں اور اپنے مشن پر قائم رہیں۔
جس دور میں سکینہ ایتو نے سیاست میں قدم رکھا، وہ خواتین کے لئے خاص طور پر مشکل زمانہ تھا۔ قدامت پسند معاشرے اور دہشت گردی کے ماحول کے باوجود انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔ ان کے نزدیک سیاست کرسی یا اقتدار کا نام نہیں بلکہ خدمتِ خلق کا ذریعہ ہے۔ وہ خواتین کی مضبوطی، ہندو مسلم بھائی چارے اور صوفیانہ رواداری کی مسلسل داعی رہی ہیں۔
آج سکینہ ایتو محض ایک سیاسی رہنما نہیں بلکہ کشمیر کی بیٹیوں کے لئے امید اور حوصلے کی علامت ہیں۔ سیاست میں آنے والی بہت سی نوجوان لڑکیوں کے لئے ان کا نام ایک رول ماڈل کی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کی ایک نمایاں خصوصیت اپنے حلقے کے عوام سے مسلسل رابطہ ہے۔ وہ باقاعدگی سے دمحال ہانجی پورہ جا کر عوامی مسائل سنتی ہیں اور ان کے حل کی کوشش کرتی ہیں۔
سکینہ ایتو کی شخصیت کا ایک قابلِ احترام پہلو اپنی والدہ کی خدمت بھی ہے۔ والد کی شہادت کے بعد انہوں نے اپنی ذاتی خواہشات اور مصروف سیاسی زندگی کے باوجود والدہ کی خدمت کو اہمیت دی۔ آج کے دور میں، جب بزرگ والدین اکثر تنہائی کا شکار ہو جاتے ہیں، ان کا یہ طرزِ عمل معاشرے کے لئے ایک قابلِ تقلید مثال ہے۔
یہی وہ خصوصیات ہیں جو سکینہ ایتو کو قربانی، استقامت اور چیلنجز کا مجسمہ بناتی ہیں۔
نگہ بلند، سخن دل نواز، جاں پرسوز
یہی ہے رختِ سفر میرِ کارواں کے لئے
تو شاہیں ہے، پرواز ہے کام تیرا
ترے سامنے آسماں اور بھی ہیں

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

موسم کی تازہ ترین صورتِ حال

  آج جموں و کشمیر کے بیشتر علاقوں میں مطلع...

JNUمیں ممتاز ادیب پروفیسر محمد حسن کی صدسالہ تقریبات کا آغاز

جنگ نیوز نئی دہلی /ہندوستانی زبانوں کا مرکز، جواہر لعل...

ٹائمز ماسٹر پبلک اسکول کی دو روزہ سالانہ تعلیمی کانفرنس اختتام پذیر

  جنگ نیوز ڈیسک سرینگر: ٹائمز ماسٹر پبلک اسکول، عالمگیری بازار،...

پارلیمانی کمیٹی کی رپورٹ

جنگ نیوز ڈیسک پارلیمانی قائمہ کمیٹی برائے امور داخلہ نے...

تازہ ترین خبریں

موسم کی تازہ ترین صورتِ حال

  آج جموں و کشمیر کے بیشتر علاقوں میں مطلع...

JNUمیں ممتاز ادیب پروفیسر محمد حسن کی صدسالہ تقریبات کا آغاز

جنگ نیوز نئی دہلی /ہندوستانی زبانوں کا مرکز، جواہر لعل...

ٹائمز ماسٹر پبلک اسکول کی دو روزہ سالانہ تعلیمی کانفرنس اختتام پذیر

  جنگ نیوز ڈیسک سرینگر: ٹائمز ماسٹر پبلک اسکول، عالمگیری بازار،...

پارلیمانی کمیٹی کی رپورٹ

جنگ نیوز ڈیسک پارلیمانی قائمہ کمیٹی برائے امور داخلہ نے...

سکینہ ایتو: قربانی کا مجسمہ

 

پروفیسر شہاب عنایت ملک

وزیر برائے تعلیم، صحت اور سماجی بہبود سکینہ ایتو کا تعلق جنوبی کشمیر کے دور دراز علاقے دمحال ہانجی پورہ سے ہے، جو 1970 کی دہائی تک ایک پسماندہ خطہ سمجھا جاتا تھا۔ بعد ازاں اس علاقے کو شہید ولی محمد ایتو جیسا رہنما نصیب ہوا، جنہوں نے سڑکوں، اسکولوں، اسپتالوں اور دیگر بنیادی سہولیات کے ذریعے علاقے کی تقدیر بدل دی۔ دمحال ہانجی پورہ کی ترقی اور تعلیمی میدان میں ان کی خدمات آج بھی قابلِ ذکر ہیں۔
سکینہ ایتو اپنے والد شہید ولی محمد ایتو کی ہونہار اور باصلاحیت بیٹی ہیں، جنہوں نے نہ صرف ان کے مشن کو آگے بڑھایا بلکہ اسے عوامی خدمت کی ایک وسیع تحریک کی شکل دی۔ ولی محمد ایتو اپنی علمی، سیاسی اور سماجی خدمات کے باعث جموں و کشمیر کے عوام کے دلوں میں آج بھی زندہ ہیں۔ 1994 میں جامع مسجد تالاب کھٹیکاں کے باہر دہشت گردوں کے ہاتھوں ان کی شہادت نے پوری ریاست کو گہرے صدمے سے دوچار کر دیا۔ ان کی شرافت، اخلاق اور غریبوں کے لئے خدمات کو ہر طبقۂ فکر نے خراجِ عقیدت پیش کیا۔
اپنے والد کے بعد ان کے مشن کو آگے بڑھانے میں سکینہ ایتو نے اہم کردار ادا کیا۔ اگرچہ ابتدا میں ان کا سیاست میں آنے کا ارادہ نہیں تھا اور وہ بھوپال میڈیکل کالج میں ایم بی بی ایس کی طالبہ تھیں، مگر والد کے مشن کو جاری رکھنے کے لئے انہوں نے ڈاکٹری کے خواب کو قربان کر دیا۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے اصرار پر سیاست میں قدم رکھنے والی سکینہ ایتو نے پھر پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔
وہ چار مرتبہ دمحال ہانجی پورہ سے ممبر اسمبلی منتخب ہوئیں اور تین بار ریاستی کابینہ کا حصہ رہیں۔ بحیثیت عوامی نمائندہ انہوں نے سماجی بہبود، خواتین کی بااختیاری اور امن کے فروغ کے لئے کام کیا۔ اپنے حلقے میں سڑکوں، پانی اور بجلی کے منصوبوں کے علاوہ لڑکیوں کے اسکولوں اور کالجوں کے لئے فنڈز کی منظوری، غریب خاندانوں کی مدد، بیواؤں کی پنشن اور آنگن واڑی کارکنوں کی سہولیات میں بہتری جیسے اقدامات ان کی عوامی خدمت کے نمایاں پہلو ہیں۔
سکینہ ایتو نے ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر عوامی خدمت کو سیاست کا مقصد بنایا۔ دہشت گردی اور فرقہ وارانہ کشیدگی کے دور میں بھی وہ عوام کے درمیان رہیں اور جمہوریت، قومی یکجہتی اور امن کی آواز بلند کرتی رہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ مسائل کا حل بندوق سے نہیں بلکہ بات چیت اور ووٹ کی طاقت سے نکلتا ہے۔ اسی عوامی خدمت کے دوران ان پر دو مرتبہ جان لیوا حملے بھی ہوئے، مگر وہ محفوظ رہیں اور اپنے مشن پر قائم رہیں۔
جس دور میں سکینہ ایتو نے سیاست میں قدم رکھا، وہ خواتین کے لئے خاص طور پر مشکل زمانہ تھا۔ قدامت پسند معاشرے اور دہشت گردی کے ماحول کے باوجود انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔ ان کے نزدیک سیاست کرسی یا اقتدار کا نام نہیں بلکہ خدمتِ خلق کا ذریعہ ہے۔ وہ خواتین کی مضبوطی، ہندو مسلم بھائی چارے اور صوفیانہ رواداری کی مسلسل داعی رہی ہیں۔
آج سکینہ ایتو محض ایک سیاسی رہنما نہیں بلکہ کشمیر کی بیٹیوں کے لئے امید اور حوصلے کی علامت ہیں۔ سیاست میں آنے والی بہت سی نوجوان لڑکیوں کے لئے ان کا نام ایک رول ماڈل کی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کی ایک نمایاں خصوصیت اپنے حلقے کے عوام سے مسلسل رابطہ ہے۔ وہ باقاعدگی سے دمحال ہانجی پورہ جا کر عوامی مسائل سنتی ہیں اور ان کے حل کی کوشش کرتی ہیں۔
سکینہ ایتو کی شخصیت کا ایک قابلِ احترام پہلو اپنی والدہ کی خدمت بھی ہے۔ والد کی شہادت کے بعد انہوں نے اپنی ذاتی خواہشات اور مصروف سیاسی زندگی کے باوجود والدہ کی خدمت کو اہمیت دی۔ آج کے دور میں، جب بزرگ والدین اکثر تنہائی کا شکار ہو جاتے ہیں، ان کا یہ طرزِ عمل معاشرے کے لئے ایک قابلِ تقلید مثال ہے۔
یہی وہ خصوصیات ہیں جو سکینہ ایتو کو قربانی، استقامت اور چیلنجز کا مجسمہ بناتی ہیں۔
نگہ بلند، سخن دل نواز، جاں پرسوز
یہی ہے رختِ سفر میرِ کارواں کے لئے
تو شاہیں ہے، پرواز ہے کام تیرا
ترے سامنے آسماں اور بھی ہیں

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں