عالمی یوم انسانی ہمدردی: جنگوں کے شور میں انسانیت کی پکار

 

عادل سلام
سرینگر جنگ

ہر سال 19 اگست کو عالمی یوم انسانی ہمدردی (World Humanitarian Day) منایا جاتا ہے۔ بظاہر یہ ایک عالمی دن ہے، مگر حقیقت میں یہ انسانی ضمیر کے سامنے رکھا گیا ایک سوال ہے: کیا ہم ایک ایسی دنیا بنا رہے ہیں جہاں انسان کی جان، عزت اور بنیادی حقوق واقعی محفوظ ہوں؟
اس دن کی بنیاد ایک المناک واقعے میں پوشیدہ ہے۔ 19 اگست 2003 کو عراق کے دارالحکومت بغداد میں اقوام متحدہ کے دفتر پر ہونے والے بم حملے میں اقوام متحدہ کے نمائندے اور معروف سفارت کار سرجیو ویئرا ڈی میلو سمیت 22 افراد جاں بحق ہوئے۔ اس سانحے نے دنیا کو یہ احساس دلایا کہ جنگ زدہ علاقوں میں انسانیت کی خدمت کرنے والے کارکن بھی کس قدر بڑے خطرات کا سامنا کرتے ہیں۔ بعد ازاں اقوام متحدہ نے 19 اگست کو عالمی یوم انسانی ہمدردی قرار دیا تاکہ انسانی امداد کے لئے اپنی جانیں خطرے میں ڈالنے والے کارکنوں کو خراج تحسین پیش کیا جا سکے اور عالمی برادری کو انسانی خدمت کی اہمیت کا احساس دلایا جا سکے۔

مگر آج اس دن کے قیام کے برسوں بعد، دنیا کا منظرنامہ پہلے سے کہیں زیادہ تشویش ناک دکھائی دیتا ہے۔
روس اور یوکرین کی جنگ نے یورپ میں ایک طویل انسانی بحران کو جنم دیا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں مسلسل کشیدگی اور ایران سے متعلق فوجی تنازعات نے ایک پورے خطے کو غیر یقینی صورت حال سے دوچار کر رکھا ہے۔ سوڈان میں جاری جنگ نے ایک وسیع انسانی بحران پیدا کر دیا ہے، جہاں لاکھوں افراد بے گھر، بھوک اور بیماری کا شکار ہیں۔ غزہ اور خطے کے دیگر حصوں میں انسانی المیہ بھی دنیا کے اجتماعی ضمیر کے لئے ایک بڑا سوال بنا ہوا ہے۔
ان تمام تنازعات میں ایک قدر مشترک ہے: جنگ کے فیصلے چند طاقتور حلقے کرتے ہیں، مگر اس کی قیمت عام انسان ادا کرتا ہے۔
کوئی بچہ جنگ کا فیصلہ نہیں کرتا، مگر وہ یتیم ہو جاتا ہے۔ کوئی ماں محاذ آرائی شروع نہیں کرتی، مگر اسے اپنے گھر کے ملبے میں اپنے بچوں کو تلاش کرنا پڑتا ہے۔ کوئی کسان عالمی سیاست کا حصہ نہیں ہوتا، مگر بمباری اور بدامنی کے باعث اس کی فصل، گھر اور ذریعۂ معاش تباہ ہو جاتا ہے۔ ایک عام شہری کے لئے جنگ کسی نقشے پر کھینچی گئی سرحد یا ٹیلی ویژن کی اسکرین پر چلنے والی خبر نہیں ہوتی؛ جنگ اس کے لئے خالی باورچی خانہ، تباہ شدہ گھر، زخمی جسم اور غیر یقینی مستقبل کا نام ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں انسانی ہمدردی کی اہمیت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔
انسانی امداد صرف خوراک، ادویات، خیموں اور صاف پانی کی فراہمی کا نام نہیں۔ یہ دراصل اس بنیادی اصول کا اظہار ہے کہ مصیبت میں مبتلا انسان کو تنہا نہیں چھوڑا جا سکتا۔ کسی بھی انسان کی جان اس لئے کم قیمتی نہیں ہو جاتی کہ وہ کسی دوسرے ملک، مذہب، قوم یا سیاسی گروہ سے تعلق رکھتا ہے۔

لیکن موجودہ دنیا میں انسانی امداد خود بھی ایک مشکل مرحلہ بن چکی ہے۔ جنگ زدہ علاقوں میں امدادی کارکنوں کو رسائی کے مسائل، سکیورٹی خطرات، وسائل کی کمی اور بعض اوقات سیاسی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اسپتال اور امدادی مراکز بھی تنازعات سے محفوظ نہیں رہتے۔ اس صورتحال میں عالمی برادری کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے کہ وہ نہ صرف متاثرین تک امداد پہنچانے کے راستے کھولے بلکہ انسانی امداد اور امدادی کارکنوں کے تحفظ کو یقینی بنائے۔
اس کے ساتھ ایک اور تلخ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی۔ دنیا میں انسانی بحرانوں کی شدت اکثر اس بات سے بھی طے ہوتی ہے کہ متاثرہ ملک عالمی سیاست میں کتنی اہمیت رکھتا ہے۔ بعض بحران مسلسل عالمی توجہ حاصل کرتے ہیں، جبکہ بعض خطے خاموشی میں تباہ ہوتے رہتے ہیں۔ سوڈان کی صورت حال اس دوہرے معیار پر سنجیدہ سوال اٹھاتی ہے۔ اگر انسانی جان واقعی برابر ہے تو پھر ایک بحران کی تکلیف دوسرے بحران کے مقابلے میں کم اہم کیوں سمجھی جائے؟
انسانی ہمدردی کو جغرافیہ، مذہب، نسل، سیاسی مفاد اور طاقت کے ترازو میں نہیں تولا جا سکتا۔
دنیا کو یہ سمجھنا ہوگا کہ انسانی امداد جنگ کا متبادل نہیں ہے۔ خوراک کے ٹرک بھیجنا ضروری ہے، مگر جنگ ختم کرنا اس سے زیادہ ضروری ہے۔ زخمیوں کے لئے اسپتال قائم کرنا ضروری ہے، مگر اسپتالوں کو تباہ ہونے سے بچانا اس سے بھی زیادہ ضروری ہے۔ پناہ گزینوں کو خیمے فراہم کرنا ضروری ہے، مگر انہیں اپنے گھروں سے بے دخل ہونے سے روکنا اصل انسانی خدمت ہے۔

اسی لئے عالمی یوم انسانی ہمدردی کا دائرہ صرف امدادی سرگرمیوں تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ اس دن کو امن، جنگ بندی، شہریوں کے تحفظ، انسانی حقوق اور عالمی انصاف کے لئے اجتماعی عزم کا دن بھی بننا چاہیے۔
بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کے اصول اسی لئے وجود میں آئے تھے کہ جنگ کے دوران بھی انسانیت کی کچھ حدود قائم رہیں۔ مگر جب شہری آبادیوں کو نشانہ بنایا جائے، اسپتال غیر محفوظ ہوں، بچوں اور خواتین کی زندگی خطرے میں ہو اور لاکھوں افراد کو جبری نقل مکانی پر مجبور کیا جائے تو سوال صرف قانون کی خلاف ورزی کا نہیں رہتا، بلکہ پوری انسانی تہذیب کی اخلاقی بنیادوں پر سوال اٹھتا ہے۔
آج دنیا مصنوعی ذہانت، خلائی تحقیق، جدید طب اور بے مثال سائنسی ترقی کے دور میں داخل ہو چکی ہے۔ ہم ایسے ہتھیار بنا سکتے ہیں جو ہزاروں میل دور بیٹھ کر اپنے ہدف کو نشانہ بنا سکتے ہیں، مگر ہم ابھی تک انسان کو انسان سے نفرت کرنے سے روکنے میں ناکام ہیں۔ یہ ہماری سائنسی ترقی اور اخلاقی پسماندگی کے درمیان ایک خطرناک تضاد ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ طاقتور ممالک اپنی خارجہ پالیسیوں میں انسانی جان کو محض ایک عدد یا سیاسی مہرہ سمجھنا چھوڑ دیں۔ عالمی اداروں کو زیادہ مؤثر بنانا ہوگا، امدادی اداروں کو وسائل فراہم کرنا ہوں گے، جنگ زدہ علاقوں تک بلا روک ٹوک انسانی امداد پہنچانے کے لئے مؤثر نظام قائم کرنا ہوگا اور ان عناصر کا احتساب بھی ضروری ہوگا جو شہریوں کو دانستہ طور پر نشانہ بناتے ہیں۔
اس کے ساتھ عام انسان بھی اس عالمی انسانی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں۔ انسانی ہمدردی صرف حکومتوں اور بین الاقوامی اداروں کا کام نہیں۔ قدرتی آفات میں رضاکارانہ خدمت، ضرورت مندوں کی مدد، خون کا عطیہ، پناہ گزینوں کے ساتھ حسن سلوک، نفرت انگیز زبان سے اجتناب اور اپنے اردگرد کمزور افراد کا خیال رکھنا بھی اسی جذبے کی مختلف شکلیں ہیں۔

آج دنیا کو شاید پہلے سے کہیں زیادہ انسان بننے کی ضرورت ہے۔
جنگوں کے اس دور میں اگر ہم ہر خبر کو صرف اعداد و شمار کی طرح دیکھنے لگیں۔اتنے افراد ہلاک، اتنے زخمی، اتنے بے گھر،تو ہمیں یاد رکھنا ہوگا کہ ہر عدد کے پیچھے ایک مکمل انسانی زندگی موجود ہے۔ ہر ہلاکت کے پیچھے ایک خاندان ہے، ہر بے گھر شخص کے پیچھے ایک گھر کی یاد ہے اور ہر زخمی بچے کے پیچھے ایک ایسا مستقبل ہے جو شاید کبھی وجود میں نہ آ سکے۔
عالمی یوم انسانی ہمدردی اسی انسانی چہرے کو دوبارہ سامنے لانے کا دن ہے۔
دنیا کو مزید جنگی زبان نہیں، امن کی زبان درکار ہے۔ مزید نفرت نہیں، ہمدردی درکار ہے۔ مزید تباہی نہیں، تعمیر درکار ہے۔ اور سب سے بڑھ کر ایسی عالمی سیاست کی ضرورت ہے جس میں طاقتور کی فتح سے زیادہ انسان کی زندگی اہم ہو۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

موسم کی تازہ ترین صورتِ حال

  آج جموں و کشمیر کے بیشتر علاقوں میں مطلع...

JNUمیں ممتاز ادیب پروفیسر محمد حسن کی صدسالہ تقریبات کا آغاز

جنگ نیوز نئی دہلی /ہندوستانی زبانوں کا مرکز، جواہر لعل...

ٹائمز ماسٹر پبلک اسکول کی دو روزہ سالانہ تعلیمی کانفرنس اختتام پذیر

  جنگ نیوز ڈیسک سرینگر: ٹائمز ماسٹر پبلک اسکول، عالمگیری بازار،...

تازہ ترین خبریں

موسم کی تازہ ترین صورتِ حال

  آج جموں و کشمیر کے بیشتر علاقوں میں مطلع...

JNUمیں ممتاز ادیب پروفیسر محمد حسن کی صدسالہ تقریبات کا آغاز

جنگ نیوز نئی دہلی /ہندوستانی زبانوں کا مرکز، جواہر لعل...

ٹائمز ماسٹر پبلک اسکول کی دو روزہ سالانہ تعلیمی کانفرنس اختتام پذیر

  جنگ نیوز ڈیسک سرینگر: ٹائمز ماسٹر پبلک اسکول، عالمگیری بازار،...

عالمی یوم انسانی ہمدردی: جنگوں کے شور میں انسانیت کی پکار

 

عادل سلام
سرینگر جنگ

ہر سال 19 اگست کو عالمی یوم انسانی ہمدردی (World Humanitarian Day) منایا جاتا ہے۔ بظاہر یہ ایک عالمی دن ہے، مگر حقیقت میں یہ انسانی ضمیر کے سامنے رکھا گیا ایک سوال ہے: کیا ہم ایک ایسی دنیا بنا رہے ہیں جہاں انسان کی جان، عزت اور بنیادی حقوق واقعی محفوظ ہوں؟
اس دن کی بنیاد ایک المناک واقعے میں پوشیدہ ہے۔ 19 اگست 2003 کو عراق کے دارالحکومت بغداد میں اقوام متحدہ کے دفتر پر ہونے والے بم حملے میں اقوام متحدہ کے نمائندے اور معروف سفارت کار سرجیو ویئرا ڈی میلو سمیت 22 افراد جاں بحق ہوئے۔ اس سانحے نے دنیا کو یہ احساس دلایا کہ جنگ زدہ علاقوں میں انسانیت کی خدمت کرنے والے کارکن بھی کس قدر بڑے خطرات کا سامنا کرتے ہیں۔ بعد ازاں اقوام متحدہ نے 19 اگست کو عالمی یوم انسانی ہمدردی قرار دیا تاکہ انسانی امداد کے لئے اپنی جانیں خطرے میں ڈالنے والے کارکنوں کو خراج تحسین پیش کیا جا سکے اور عالمی برادری کو انسانی خدمت کی اہمیت کا احساس دلایا جا سکے۔

مگر آج اس دن کے قیام کے برسوں بعد، دنیا کا منظرنامہ پہلے سے کہیں زیادہ تشویش ناک دکھائی دیتا ہے۔
روس اور یوکرین کی جنگ نے یورپ میں ایک طویل انسانی بحران کو جنم دیا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں مسلسل کشیدگی اور ایران سے متعلق فوجی تنازعات نے ایک پورے خطے کو غیر یقینی صورت حال سے دوچار کر رکھا ہے۔ سوڈان میں جاری جنگ نے ایک وسیع انسانی بحران پیدا کر دیا ہے، جہاں لاکھوں افراد بے گھر، بھوک اور بیماری کا شکار ہیں۔ غزہ اور خطے کے دیگر حصوں میں انسانی المیہ بھی دنیا کے اجتماعی ضمیر کے لئے ایک بڑا سوال بنا ہوا ہے۔
ان تمام تنازعات میں ایک قدر مشترک ہے: جنگ کے فیصلے چند طاقتور حلقے کرتے ہیں، مگر اس کی قیمت عام انسان ادا کرتا ہے۔
کوئی بچہ جنگ کا فیصلہ نہیں کرتا، مگر وہ یتیم ہو جاتا ہے۔ کوئی ماں محاذ آرائی شروع نہیں کرتی، مگر اسے اپنے گھر کے ملبے میں اپنے بچوں کو تلاش کرنا پڑتا ہے۔ کوئی کسان عالمی سیاست کا حصہ نہیں ہوتا، مگر بمباری اور بدامنی کے باعث اس کی فصل، گھر اور ذریعۂ معاش تباہ ہو جاتا ہے۔ ایک عام شہری کے لئے جنگ کسی نقشے پر کھینچی گئی سرحد یا ٹیلی ویژن کی اسکرین پر چلنے والی خبر نہیں ہوتی؛ جنگ اس کے لئے خالی باورچی خانہ، تباہ شدہ گھر، زخمی جسم اور غیر یقینی مستقبل کا نام ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں انسانی ہمدردی کی اہمیت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔
انسانی امداد صرف خوراک، ادویات، خیموں اور صاف پانی کی فراہمی کا نام نہیں۔ یہ دراصل اس بنیادی اصول کا اظہار ہے کہ مصیبت میں مبتلا انسان کو تنہا نہیں چھوڑا جا سکتا۔ کسی بھی انسان کی جان اس لئے کم قیمتی نہیں ہو جاتی کہ وہ کسی دوسرے ملک، مذہب، قوم یا سیاسی گروہ سے تعلق رکھتا ہے۔

لیکن موجودہ دنیا میں انسانی امداد خود بھی ایک مشکل مرحلہ بن چکی ہے۔ جنگ زدہ علاقوں میں امدادی کارکنوں کو رسائی کے مسائل، سکیورٹی خطرات، وسائل کی کمی اور بعض اوقات سیاسی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اسپتال اور امدادی مراکز بھی تنازعات سے محفوظ نہیں رہتے۔ اس صورتحال میں عالمی برادری کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے کہ وہ نہ صرف متاثرین تک امداد پہنچانے کے راستے کھولے بلکہ انسانی امداد اور امدادی کارکنوں کے تحفظ کو یقینی بنائے۔
اس کے ساتھ ایک اور تلخ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی۔ دنیا میں انسانی بحرانوں کی شدت اکثر اس بات سے بھی طے ہوتی ہے کہ متاثرہ ملک عالمی سیاست میں کتنی اہمیت رکھتا ہے۔ بعض بحران مسلسل عالمی توجہ حاصل کرتے ہیں، جبکہ بعض خطے خاموشی میں تباہ ہوتے رہتے ہیں۔ سوڈان کی صورت حال اس دوہرے معیار پر سنجیدہ سوال اٹھاتی ہے۔ اگر انسانی جان واقعی برابر ہے تو پھر ایک بحران کی تکلیف دوسرے بحران کے مقابلے میں کم اہم کیوں سمجھی جائے؟
انسانی ہمدردی کو جغرافیہ، مذہب، نسل، سیاسی مفاد اور طاقت کے ترازو میں نہیں تولا جا سکتا۔
دنیا کو یہ سمجھنا ہوگا کہ انسانی امداد جنگ کا متبادل نہیں ہے۔ خوراک کے ٹرک بھیجنا ضروری ہے، مگر جنگ ختم کرنا اس سے زیادہ ضروری ہے۔ زخمیوں کے لئے اسپتال قائم کرنا ضروری ہے، مگر اسپتالوں کو تباہ ہونے سے بچانا اس سے بھی زیادہ ضروری ہے۔ پناہ گزینوں کو خیمے فراہم کرنا ضروری ہے، مگر انہیں اپنے گھروں سے بے دخل ہونے سے روکنا اصل انسانی خدمت ہے۔

اسی لئے عالمی یوم انسانی ہمدردی کا دائرہ صرف امدادی سرگرمیوں تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ اس دن کو امن، جنگ بندی، شہریوں کے تحفظ، انسانی حقوق اور عالمی انصاف کے لئے اجتماعی عزم کا دن بھی بننا چاہیے۔
بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کے اصول اسی لئے وجود میں آئے تھے کہ جنگ کے دوران بھی انسانیت کی کچھ حدود قائم رہیں۔ مگر جب شہری آبادیوں کو نشانہ بنایا جائے، اسپتال غیر محفوظ ہوں، بچوں اور خواتین کی زندگی خطرے میں ہو اور لاکھوں افراد کو جبری نقل مکانی پر مجبور کیا جائے تو سوال صرف قانون کی خلاف ورزی کا نہیں رہتا، بلکہ پوری انسانی تہذیب کی اخلاقی بنیادوں پر سوال اٹھتا ہے۔
آج دنیا مصنوعی ذہانت، خلائی تحقیق، جدید طب اور بے مثال سائنسی ترقی کے دور میں داخل ہو چکی ہے۔ ہم ایسے ہتھیار بنا سکتے ہیں جو ہزاروں میل دور بیٹھ کر اپنے ہدف کو نشانہ بنا سکتے ہیں، مگر ہم ابھی تک انسان کو انسان سے نفرت کرنے سے روکنے میں ناکام ہیں۔ یہ ہماری سائنسی ترقی اور اخلاقی پسماندگی کے درمیان ایک خطرناک تضاد ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ طاقتور ممالک اپنی خارجہ پالیسیوں میں انسانی جان کو محض ایک عدد یا سیاسی مہرہ سمجھنا چھوڑ دیں۔ عالمی اداروں کو زیادہ مؤثر بنانا ہوگا، امدادی اداروں کو وسائل فراہم کرنا ہوں گے، جنگ زدہ علاقوں تک بلا روک ٹوک انسانی امداد پہنچانے کے لئے مؤثر نظام قائم کرنا ہوگا اور ان عناصر کا احتساب بھی ضروری ہوگا جو شہریوں کو دانستہ طور پر نشانہ بناتے ہیں۔
اس کے ساتھ عام انسان بھی اس عالمی انسانی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں۔ انسانی ہمدردی صرف حکومتوں اور بین الاقوامی اداروں کا کام نہیں۔ قدرتی آفات میں رضاکارانہ خدمت، ضرورت مندوں کی مدد، خون کا عطیہ، پناہ گزینوں کے ساتھ حسن سلوک، نفرت انگیز زبان سے اجتناب اور اپنے اردگرد کمزور افراد کا خیال رکھنا بھی اسی جذبے کی مختلف شکلیں ہیں۔

آج دنیا کو شاید پہلے سے کہیں زیادہ انسان بننے کی ضرورت ہے۔
جنگوں کے اس دور میں اگر ہم ہر خبر کو صرف اعداد و شمار کی طرح دیکھنے لگیں۔اتنے افراد ہلاک، اتنے زخمی، اتنے بے گھر،تو ہمیں یاد رکھنا ہوگا کہ ہر عدد کے پیچھے ایک مکمل انسانی زندگی موجود ہے۔ ہر ہلاکت کے پیچھے ایک خاندان ہے، ہر بے گھر شخص کے پیچھے ایک گھر کی یاد ہے اور ہر زخمی بچے کے پیچھے ایک ایسا مستقبل ہے جو شاید کبھی وجود میں نہ آ سکے۔
عالمی یوم انسانی ہمدردی اسی انسانی چہرے کو دوبارہ سامنے لانے کا دن ہے۔
دنیا کو مزید جنگی زبان نہیں، امن کی زبان درکار ہے۔ مزید نفرت نہیں، ہمدردی درکار ہے۔ مزید تباہی نہیں، تعمیر درکار ہے۔ اور سب سے بڑھ کر ایسی عالمی سیاست کی ضرورت ہے جس میں طاقتور کی فتح سے زیادہ انسان کی زندگی اہم ہو۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں