نیوز ڈیسک
سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے آج پلوامہ میں ’ملاقات‘ پروگرام میں شرکت کی۔ یہ پروگرام سیو یوتھ ، سیو فیرچرفائونڈیشن کا ایک اقدام ہے جو بین المذاہب مکالمے، مذہبی ہم آہنگی اور ہندوستان کے مشترکہ ورثے کے تحفظ کو فروغ دینے کے لئے منعقد کیا گیا۔
اُنہوں نے اَپنے خطاب میں کہا کہ مکالمی محض الفاظ کا تبادلہ نہیں بلکہ دِلوں کے درمیان ایک پُل، اعتماد کو فروغ دینے کا ذریعہ اور اَمن و خوشحالی کی جانب ایک راستہ ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے رِگ وید کی قدیم حکمت’’سنگاچھدھوم سمواددھوم، سام وو منامسی جناتم‘‘کا حوالہ دیتے ہوئے شرکأکو یاد دلایا کہ مل جل کر چلنا، ایک دوسرے سے بات کرنا اور ایک دوسرے کے لئے اَپنے دِلوں میں جگہ بنانا ہندوستانی تہذیبی اَقدار کی روح ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ تنوع کوئی کمزوری نہیں بلکہ قوم کی سب سے بڑی طاقت ہے اور یہ ایسا ورثہ ہے جس کا تحفظ باہمی اعتماد اور احترام کے ذریعے کیا گیا ہے۔
اُنہوں نے کہا، ’’تمام مذاہب اور عقائد کے لئے باہمی اعتماد اور احترام ہمارے طرزِ زندگی کا لازمی حصہ رہا ہے۔ ہماری ہندوستان کی تہذیب نے 6,000 سال قبل ہمیں ایک نہایت خوبصورت پیغام دیا کہ مل جل کر چلیں، ایک دوسرے سے بات کریں اور ایک دوسرے کے لئے اَپنے دِلوں میں جگہ بنائیں۔‘‘
منوج سِنہا نے کہا کہ ہندوستان کی سرزمین نے صدیوں سے دُنیا بھر کے مذاہب، ثقافتوں اور روایات کا خیرمقدم کیا ہے اور انہیں ملک کے تہذیبی تانے بانے میں سمویا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ روایات کا یہ امتزاج آج ’واسودھیو کُٹم بکم یعنی دنیا ایک خاندان ہے‘کے فلسفے اور کشمیریت کی روح میں نمایاں ہوتا ہے جو یہ سکھاتی ہے کہ حقیقی شناخت مذہب یاکمیونٹی کے لیبل میں نہیں بلکہ کردار اور اِنسانیت میں مضمر ہے۔
اُنہوں نے سیو یوتھ سیو فیوچر فائوندیشن کی کوششوں کو سراہتے ہوئے منشیات کے اِستعمال کے خلاف کام کرنے اور بھائی چارے کو فروغ دینے والے نوجوان رضاکاروں کی ستائش کی۔ اُنہوں نے اِس بات پرزور دیا کہ اس طرح کے اقدامات کو وسیع پیمانے پر آگے بڑھایا جانا چاہیے۔
لیفٹیننٹ گورنرنے کہا، ’’اِس طرح کے اقدامات کو بہت بڑے پیمانے پر وسعت دینے کی ضرورت ہے۔ میرا ماننا ہے کہ حقیقی امن کا ایک اور مفہوم یہ ہے کہ امن اس وقت شروع ہوتا ہے جب ہم ایک دوسرے کو سمجھنا شروع کرتے ہیں۔ اس نقطٔ نظر سے یہاں ہماری موجودگی محض ایک سماجی اِجتماع نہیں ہے۔ ’ملاقات‘ کا حقیقی مفہوم ایک دوسرے کو سننا، ایک دوسرے کو سمجھنا، ایک دوسرے کا احترام کرنا اور جہاں دِلوں کے درمیان دوری ہو، وہاں مکالمے کی جانب پہلا قدم اُٹھانا ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’ملاقات‘ جیسے پروگراموں کے ذریعے ایسا ماحول پیدا کرنا ہوگا جس میں تمام مذاہب، تمام طریقہ ہائے عبادت اور معاشرے کے تمام طبقات سے تعلق رکھنے والے لوگ ایک ساتھ بیٹھیں، مسائل پر تبادلۂ خیال کریں، سچائی کا جائزہ لیں اور حقائق کو سمجھیں۔ اُنہوں نے کہا کہ جہاں لوگوں کے درمیان کوئی دیوار کھڑی کی گئی ہو وہاں ہر شخص کو مل کر اسے گرانے کے لئے کام کرنا چاہیے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے مستقبل کے لئے چھ نکاتی روڈ میپ کا خاکہ پیش کیا اور اِنتظامیہ و معاشرے کے تمام طبقوں پر زور دیا کہ نوجوانوں میں افہام و تفہیم کو فروغ دینے کے لئے سکولوں، کالجوں اور کمیونٹی سینٹروں میں باقاعدہ بین المذاہب مکالموں کو ادارہ جاتی شکل دی جائے۔اُنہوں نے ’یوتھ پیس ایمبیسیڈرزپر بھی زور دیا اور نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ ثقافتی تبادلے، کمیونٹی سروس اور ماحولیاتی تحفظ سے متعلق اقدامات کی قیادت کریں۔
اُنہوں نے کہا کہ شہریوں اور اِنتظامیہ کی مشترکہ شرکت کے ذریعے تاریخی اور ثقافتی مقامات کو مشترکہ ورثے کے طور پر محفوظ رکھنا نہایت اہم ہے۔ اُنہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ ڈیجیٹل خواندگی کو فروغ دیں اور عوامی اعتماد کے تحفظ کے لئے گمراہ کن معلومات کا مقابلہ کریں۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا، ’’یہ عوام اور اِنتظامیہ کی اِجتماعی ذِمہ داری ہے کہ نوجوانوں کو ایسی تعلیم ملے جو انہیں سوال پوچھنا سکھائے، ایسی ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہو جو انہیں ترقی کی راہ دِکھائے اور ایسا کردار پروان چڑھے جو ان میں حب الوطنی اور قوم کی تعمیر کا جذبہ پیدا کرے۔‘‘
اُنہوں نے ترقی پسند معاشرے کے لئے سماجی اِنصاف اور مساوی مواقع کی اہمیت کو بھی اُجاگر کیا اور تمام شراکت داروں سے کہا کہ ایسے غیر جانبدار نظام کو یقینی بنایا جائے جو تمام شہریوں کو تعلیم، روزگار، صحت کی سہولیات اور انصاف فراہم کرے۔اُنہوں نے اَپنی چھٹی اور آخری تجویز میں معاشرے کے تمام طبقوں کی نمائندگی کرنے والی ’وِلیج پیس کمیٹیوں‘کے قیام پر زور دیا تاکہ ہمدردی، اِنسانیت اور ترقی کو مزید مضبوط کیا جا سکے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے اِس بات پر زور دیا کہ حکومتیں قوانین بنا سکتی ہیں اور اِنتظامیہ نظام فراہم کر سکتی ہے لیکن حقیقی ہم آہنگی عوام خود قائم کرتے ہیں۔ اُنہوں نے اِنتظامی اَفسران پر زور دیا کہ وہ شہریوں کے تحفظ، ترقی میں مساوی مواقع اور فلاحی سکیموں کی مؤثر عمل آوری کو یقینی بنائیں۔
اِس موقعہ پراُنہوں نے پلوامہ سپورٹس سٹیڈیم سے ترنگا یاترا کو بھی روانہ کیا۔ اُنہوں نے ’ہر گھر ترنگا‘ اور دیگر قومی یکجہتی پروگراموں میں ان کی پرجوش شرکت کے لئے بھی ستائش کی۔
’ ملاقات پروگرام‘ ڈی آئی جی جنوبی کشمیر رینج جاوید اقبال متو،ضلع ترقیاتی کمشنر پلوامہ ڈاکٹر بشارت قیوم، ایس ایس پی پلوامہ تنوشری، چیئرمین سیو یوتھ فیوچر فائونڈیشن وجاہت فاروق بٹ، صدروومنز وِنگ انیقہ نذیر، زونل صدر ( جنوبی کشمیرمدثر ڈاراور فاؤنڈیشن کے دیگر ارکان، سینئر اَفسران، سول سوسائٹی کے نمائندگان، ممتاز شہری، مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے اَفراد اور بڑی تعداد میں نوجوانوں نے شرکت کی۔


