
جناب ارجن رام میگھوال
وکست بھارت کی جانب ملک کا سفر ایسی اصلاحات کی داستان ہے جو ’’ہم بھارت کے عوام‘‘ کی صلاحیتوں اور امنگوں سے پوری طرح ہم آہنگ ہے۔ یہ سفر صرف اقتصادی ترقی، بنیادی ڈھانچے اور ٹیکنالوجی کی کہانی نہیں، بلکہ ادارہ جاتی اصلاحات کا بھی سفر ہے۔ جیسے جیسے بھارتی معیشت وسعت اختیار کر رہی ہے، کاروبار ترقی کر رہے ہیں، سرمایہ کاری میں اضافہ ہو رہا ہے اور ملک عالمی سپلائی چین میں اپنی حیثیت مضبوط کر رہا ہے، ویسے ہی معاشی سرگرمیوں کو سہارا دینے والے اداروں کو بھی رفتار، شفافیت اور اعتبار کے ساتھ خود کو بدلنا ہوگا۔ حال ہی میں منظور کیا گیا ٹریبونل اصلاحات بل، 2026 اسی سمت میں ایک اہم قدم ہے۔
ٹریبونل اصلاحات بل کو پارلیمنٹ کی ضروری منظوری مل چکی ہے اور قانون بننے کے بعد اس کا مقصد ٹرائبونلس کے انتظامی و حکمرانی کے ڈھانچے کو مضبوط بنانا ہے، جبکہ ان کے بنیادی دائرۂ اختیار میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔ اس کی بنیادی توجہ ادارہ جاتی امور پر ہے، جن میں تقرریوں، حکمرانی، شفافیت، ملازمت کی شرائط، خودمختاری اور کارکردگی کو بہتر بنانا شامل ہے۔ اس لحاظ سے یہ بل ایک وسیع تر اصلاحاتی سفر کے اگلے مرحلے کی نمائندگی کرتا ہے، جس کا مقصد بھارت کے قانونی اور ضابطہ جاتی ایکونظام کو زیادہ جدید، قابلِ پیش گوئی اور مؤثر بنانا ہے۔
گزشتہ ایک دہائی کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی جی کی قیادت میں ملک نے مختلف شعبوں میں وسیع پیمانے پر ڈھانچہ جاتی اصلاحات کا مشاہدہ کیا ہے۔ جی ایس ٹی نے بالواسطہ ٹیکس نظام میں بنیادی تبدیلی پیدا کی؛ دیوالیہ اور دیوالیہ پن سے متعلق ضابطے نے دیوالیہ پن کے تصفیے کے نظام کو مضبوط کیا؛ گفٹ سٹی کے مالیاتی بنیادی ڈھانچے اور جن وشواس اقدام نے بعض جرائم کو قابل سزا دائرے سے باہر لانے اور ضابطوں کی تعمیل کے بوجھ کو کم کرنے میں پیش رفت کی؛ ڈیجیٹل انڈیا نے حکمرانی کو ٹیکنالوجی سے جوڑا؛ ہزاروں ضابطہ جاتی تقاضوں میں کمی کی گئی؛ نوآبادیاتی دور کے قوانین ختم کیے گئے اور نئے فوجداری قوانین نے فوجداری انصاف کے نظام کو جدید بنایا۔ ٹرائبونل اصلاحات بل اسی وسیع تر فلسفے یعنی ’’اصلاح، کارکردگی اور تبدیلی‘‘ کے عین مطابق ہے۔
جدید معیشت کی ضروریات کے تناظر میں ٹریبونل اصلاحات کی اہمیت مزید واضح ہو جاتی ہے۔ ٹرائبونل ٹیکس، کمپنی قانون، سیکیورٹیز، ماحولیات اور دیگر ضابطہ جاتی معاملات جیسے خصوصی شعبوں سے متعلق امور کو حل کرتے ہیں۔ ان کا مقصد آئینی عدالتوں کی جگہ لینا نہیں، بلکہ خصوصی نوعیت کے مقدمات کے فیصلے کے ذریعے عدالتی نظام کی تکمیل کرنا اور تیز رفتار و مؤثر انصاف کی فراہمی میں تعاون کرنا ہے۔
ترقی پذیرمعیشت میں کوئی تنازع شاذ و نادر ہی محض حساب کتاب، اعداد و شمار یا کسی قانونی پیچیدگی کا معاملہ ہوتا ہے۔ کسی تنازع کے پس پشت کسی صنعت میں سرمایہ کار کا اعتماد، کسی صنعت کی سرمایہ کاری، کسی کاروبار کا مستقبل، روزگار کے مواقع اور معاشی سرگرمیوں کا تسلسل بھی وابستہ ہو سکتا ہے۔ جب تنازعات کا بروقت اور منصفانہ حل ہوتا ہے تو سرمایہ دوبارہ پیداواری سرگرمیوں میں گردش کرنے لگتا ہے اور اقتصادی نظام پر اعتماد مضبوط ہوتا ہے۔ اس لیے انصاف کی آسانی اور کاروبار کرنے میں سہولت ایک دوسرے سے گہرا تعلق رکھتی ہیں اور یہ دراصل ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔
آئین کی دفعات 323 اے اور 323 بی، جو 1976 میں 42ویں آئینی ترمیم کے ذریعے شامل کی گئی تھیں، نے بالترتیب سرکاری ملازمت سے متعلق معاملات اور دیگر متعین موضوعات سے متعلق مقدمات کے لیے انتظامی ٹریبونلس اور دیگر خصوصی ٹریبونلس کی بنیاد رکھی۔ اس طرح خصوصی نوعیت کے مقدمات کے فیصلوں کے لیے مخصوص عدالتی نظام کی ضرورت کو تسلیم کیا گیا۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ مختلف وزارتوں اور محکموں کے تحت ٹریبونلس کا نظام پھیلتا گیا، جس کے نتیجے میں انتظامی انتشار، انتظامی طریقوں میں تفاوت اور متعدد الگ الگ طریقۂ کار وجود میں آئے۔
اس نظام کو معقول اور منظم بنانے کی ضرورت کو تسلیم کرتے ہوئے مودی حکومت نے 2015 میں ٹریبونلس کی تنظیم نو کا عمل شروع کیا۔ مالیاتی ایکٹ، 2017 کے ذریعے یکساں نوعیت کے ٹریبونلس کو ضم کیا گیا اور ان کی تعداد 26 سے کم کرکے 19 کر دی گئی۔ اس کے بعد 2017 اور 2020 میں ٹریبونل سے متعلق قواعد وضوابط وضع کیے گئے۔ بعد ازاں ٹریبونل اصلاحات آرڈیننس، 2021 اور ٹریبونل اصلاحات ایکٹ، 2021 کے ذریعے ٹریبونلس کی تعداد 19 سے کم کرکے 16 کر دی گئی۔ تاہم، سپریم کورٹ نے ان میں سے متعدد دفعات کو عدالتی خودمختاری اور اختیارات کی علیحدگی کے اصولوں کے منافی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔
عدالتی مباحث، جن میں روجَر میتھیو، مدراس بار ایسوسی ایشن کے مقدمات اور 19 نومبر 2025 کو سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی شامل ہے، میں مسلسل اس بات پر زور دیا گیا کہ ٹریبونل کے ارکان کی تقرری، مدتِ کار اور ملازمت کی شرائط عدالتی خودمختاری کے تقاضوں کے مطابق ہونی چاہئیں اور انہیں انتظامیہ کے کنٹرول سے آزاد رہنا چاہیے۔ اس کے ساتھ ایک شفاف اور خودمختار قومی ٹریبونل کمیشن کی ضرورت بھی اجاگر کی گئی۔ اسی پس منظر اور آئینی و عدالتی اصولوں کی روشنی میں ٹریبونل اصلاحات بل، 2026 پیش کیا گیا ہے، جس کا مقصد ایک جدید، خودمختار اور یکساں ٹریبونل نظام تشکیل دینا ہے۔
بل کے مرکز میں قومی ٹریبونل کمیشن (این ٹی سی) کی تجویز ہے۔ یہ کمیشن 16 ٹرائبونلس کو قومی ٹریبونل کمیشن کے مشترکہ دائرے میں لائے گا اور ان کی حکمرانی و انتظام کے لیے ایک مشترکہ ادارہ جاتی نظام قائم کرے گا۔ مجوزہ کمیشن کی سربراہی سپریم کورٹ کے سابق جج یا کسی ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس کے پاس ہوگی، جبکہ اس کے ساتھ دو عدالتی ارکان اور دو تکنیکی ارکان ہوں گے۔ اس تشکیل کا مقصد ٹریبونل نظام کی حکمرانی میں عدالتی اور تکنیکی مہارت کو یکجا کرنا ہے۔
قومی ٹریبونل کمیشن کو تقرری کے عمل میں اہم کردار ادا کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جس میں تلاش و انتخاب، تقرری، انکوائری اور عہدے سے ہٹانے سے متعلق طریقۂ کار شامل ہیں۔ ان امور کے لیے ایک باقاعدہ ادارہ جاتی نظام قائم کرکے بل کا مقصد تقرری کے عمل کو زیادہ شفاف، منظم، اہلیت پر مبنی اور خودمختار بنانا ہے۔ ایک علیحدہ قومی ٹریبونل کمیشن سیکریٹریٹ بھی قائم کرنے کی تجویز ہے، جو تمام ٹرائبونلس میں یکساں حکمرانی کے مقصد کو تقویت دے گا۔اس نظام میں یکسانیت خاص اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ ٹریبونل اگرچہ خصوصی نوعیت کے فرائض انجام دیتے ہیں، تاہم ان کی بنیادی ادارہ جاتی ضروریات یکساں ہیں۔ تقرری، ملازمت کی شرائط اور انتخاب کے عمل کے لیے واضح معیارات کے ساتھ قومی ٹریبونل ڈیٹا گرڈ قائم کرنے سے انتظامی انتشار کم ہوگا اور پورے ٹریبونل نظام میں زیادہ یکسانیت پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔قانون کے تحت ٹریبونلس کے چیئرپرسن اور ارکان کے لیے، مقررہ زیادہ سے زیادہ عمر کی حد کے تابع، پانچ سالہ مدت کار مقرر کی گئی ہے، جبکہ کم از کم عمر کی کوئی الگ شرط مقرر نہیں کی گئی۔ تنخواہ، الاؤنس اور ملازمت کی دیگر شرائط قواعد کے ذریعے متعین کیے جانے کی تجویز ہے۔ یہ وضاحت اس لیے اہم ہے کہ ملازمت کی واضح اور قابل پیش گوئی شرائط ادارہ جاتی استحکام اور عدالتی خودمختاری سے گہرا تعلق رکھتی ہیں۔
اہم بات یہ ہے کہ یہ بل انفرادی ٹریبونلس کے بنیادی دائرۂ اختیار میں کوئی تبدیلی نہیں کرتا۔ ان کا دائرۂ اختیار بدستور ان سے متعلقہ بنیادی قوانین کے ذریعے طے کیا جائے گا۔ اس اصلاح کو سمجھنے کے لیے یہ فرق بنیادی اہمیت رکھتا ہے کہ یہ بل دائرۂ اختیار کی تقسیم نو سے متعلق نہیں، بلکہ اس ادارہ جاتی ڈھانچے کو مضبوط بنانے سے متعلق ہے جس کے ذریعے ٹرائبونل اپنے دائرۂ اختیار کا استعمال کرتے ہیں۔لہٰذا، ٹریبونل اصلاحات بل کو عدالتی انتظام کو آئینی اصولوں سے ہم آہنگ کرنے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ ایسا ٹریبونل نظام جو خودمختار، شفاف، پیشہ ورانہ انداز میں منظم اور بروقت انصاف فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو، قانون کی بالادستی کو مضبوط کرتا ہے اور عوام کے اعتماد کو مستحکم بناتا ہے۔
بھارت کی ابھرتی ہوئی معیشت کے لیے یہ محض ایک انتظامی اصلاحات نہیں ہیں، بلکہ یہ ترقی کے وسیع تر بنیادی ڈھانچے کا ایک اہم حصہ ہے۔ ایک ترقی یافتہ معیشت کے لیے صرف سڑکیں، ریل، بندرگاہیں، بحری راستے اور ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچہ ہی ضروری نہیں، بلکہ مضبوط قانونی، عدالتی اور ادارہ جاتی بنیادی ڈھانچہ بھی اتنا ہی ناگزیر ہے۔ مؤثر ٹریبونل اس ادارہ جاتی بنیادی ڈھانچے کا ایک اہم جزو ہیں۔
اس قانون کے ذریعے قائم کیا جانے والا ایک مؤثر اور منظم ادارہ جاتی نظام بروقت تقرریوں، بہتر انتظام، شفاف طریقۂ کار اور تنازعات کے مؤثر تصفیے میں معاون ثابت ہوگا۔ اس طرح ایک ایسا ٹریبونل نظام تشکیل پانے میں مدد ملے گی جو زیادہ مربوط، قابل اعتماد اور شہریوں، کاروباری اداروں اور معیشت کی ضروریات کے لیے زیادہ جواب دہ ہوگا۔ یہ ایک ایسے جدید قانونی نظام کی تعمیر کی جانب اہم قدم ہے جو جدید معیشت کی ضروریات اور وکست بھارت کی امنگوں سے ہم آہنگ ہو۔ حکمرانی، ادارہ جاتی خودمختاری، شفافیت اور کارکردگی کو مضبوط بنا کر یہ اصلاحات انصاف کی آسانی کو فروغ دینے، کاروبار کرنے میں آسانی کو تقویت دینے اور بھارت کے قانونی و ادارہ جاتی ڈھانچے کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش ہے۔
ملک جیسے جیسے وکست بھارت 2047 @کی جانب بڑھ رہا ہے اور اصلاحات کی رفتار تیز کر رہا ہے، اصلاحات کا جذبہ ہر اس ادارے تک پہنچنا چاہیے جو قومی ترقی میں اپنا کردار ادا کرتا ہے۔ مضبوط ادارے اعتماد پیدا کرتے ہیں؛ اعتماد سرمایہ کاری کو فروغ دیتا ہے؛ سرمایہ کاری اقتصادی ترقی کو تقویت دیتی ہے اور مؤثر انصاف اس مثبت سلسلے کو قانون کی بالادستی سے مضبوطی سے جوڑے رکھتا ہے۔ ٹرائبونل اصلاحات بل، 2026 اس سلسلے کو مزید مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
مضمون نگار قانون اور انصاف کے مرکزی وزیرمملکت (آزادانہ چارج) نیز پارلیمانی امور کے وزیر مملکت ہیں۔
Tribunal Reforms: Strengthening Institutions, Advancing Justice
A reformative roadmap for Ease of Justice, Ease of Doing Business and Viksit Bharat @2047


