
از: جناب پیوش گوئل
سرکاری ای-مارکیٹ پلیس (جی ای ایم) سرکاری خریداری کے لیے ایک شفاف، سب کی شمولیت پر مبنی اور مؤثر پلیٹ فارم فراہم کرنے کے معاملے میں عالمی سطح پر نمایاں حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ یہ 1.37لاکھ سرکاری خریداروں کو 25لاکھ فروخت کنندگان اور خدمات فراہم کرنے والوں سے جوڑتا ہے۔
جی ای ایم کی خاص بات یہ ہے کہ اس نے سرکاری خریداری کے تمام اہم کاموں کو ایک ہی بڑے ڈیجیٹل بازار میں یکجا کر دیا ہے۔ یہ عالمی بہترین طریقۂ کار کو حکومت کی جامع ترقی کی ترجیح کے ساتھ جوڑتا ہے اور وزیر اعظم نریندر مودی کے 2047 تک وِکست بھارت کے وژن کو آگے بڑھانے کا ایک مؤثر ذریعہ بن رہا ہے۔
وزیر اعظم کی جانب سے 2016 میں اس اہم ڈیجیٹل اقدام کے آغاز کے بعد گزرنے والی ایک دہائی میں، جی ای ایم سے سرکاری خریداری کے نظام میں انقلابی تبدیلی آئی ہے۔ اس نے بدعنوانی کے خاتمے کے ساتھ ساتھ نئے کاروباری اداروں، چھوٹی و درمیانے درجے کی صنعتوں، خواتین کاروباریوں اور چھوٹے شہروں کے کاروباروں کو فروغ دیا ہے۔
صارف دوست یہ پلیٹ فارم واقعی ایک نادر مثال ہے، جس نے بدنام زمانہ ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سپلائیز اینڈ ڈسپوزلس (محکمۂ عام خریداری و ترسیل)کی جگہ لے لی ہے۔ اس محکمے میں خریداری کا نظام غیر شفاف اور غیر مسابقتی تھا، جس سے ان چند بااثر لوگوں کو ناجائز فائدہ پہنچتا تھا جو خریداری کے نظام میں مضبوطی سے جڑے ہوئے تھے۔
درحقیقت ، وزارتِ تجارت و صنعت کی نئی اور جدید عمارت وانِجیہ بھون اسی جگہ تعمیر کی گئی ہے جہاں کبھی وہ فرسودہ ادارہ قائم تھا جو اپنی غیرشفاف اور مشکوک شہرت کے باعث بدنام ہو چکا تھا۔
وزیر تجارت و صنعت کی حیثیت سے مجھے فخر ہے کہ9اگست 2016 کو شروع کیا گیا جی ای ایم عوامی خریداری کے شعبے میں اپنی مثالی خدمات کے دس سال مکمل کر رہا ہے۔ یہ محض اعداد و شمار کے حوالے سے جشن منانے کا موقع نہیں، بلکہ اس بات کی کامیاب اور بنیادی تبدیلی کی علامت ہے کہ سرکاری خریداری کس طرح ملک کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
شفافیت اور کاروبار کرنے میں آسانی
مصنوعات کی دریافت، بولی لگانے، معاہدہ دینے اور ادائیگی تک سرکاری خریداری کے پورے عمل کو ڈیجیٹل شکل دینے کے باعث جی ای ایم نے من مانی اور صوابدیدی فیصلوں کے امکانات ختم کر دیے ہیں، منصفانہ مسابقت کو فروغ دیا ہے اور عوام کے اعتماد کو مزید مضبوط بنایا ہے۔ ہر لین دین کا مکمل اور قابلِ جانچ ڈیجیٹل ریکارڈ محفوظ رہتا ہے، جس سے جواب دہی یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ سرکاری خریداری کے نظام میں شفافیت، دیانت داری اور اعتماد بھی مزید مستحکم ہوتا ہے۔
جی ای ایم، وزیر اعظم نریندر مودی کے کاروبار کرنے میں آسانی کے مشن کا ایک اہم ستون ہے۔ ایک ہی ڈیجیٹل پلیٹ فارم، آسان رجسٹریشن، یکساں طریقۂ کار اور مسلسل پالیسی اصلاحات کے ذریعے جی ای ایم نے سرکاری خریداری میں شرکت کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو نمایاں طور پر کم کیا ہے۔ ضمانتی رقم جمع کرانے کی شرط ختم کرنے اور لین دین کی فیس کو معقول بنانے جیسے اقدامات نے سرکاری خریداری تک رسائی کو مزید آسان اور سب کے لیے یکساں بنا دیا ہے۔
آتم نربھربھارت
جی ای ایم نے خود انحصاری اور سودیشی کاروباری اداروں کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ملکی صنعت کاروں اور خدمات فراہم کرنے والوں کو ترجیح دے کر اس نے مقامی سپلائی کے نظام کو مضبوط کیا، دیسی پیداوار کو فروغ دیا اور ملک کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کیا ہے۔
پورٹل پر دیا جانے والا ہر آرڈر بھارت کی پیداواری صلاحیت اور معاشی خودانحصاری کے میدان میں ایک سرمایہ کاری ہے۔ خاص طور پر قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ جی ای ایم پر آرڈرز کی تعداد کے لحاظ سے بہت چھوٹے اور چھوٹے درجے کی صنعتوں (ایم ایس ای) کا حصہ تقریباً 60 فیصد ہے، جبکہ کل تجارتی مالیت (جی ایم وی) میں ان کا حصہ45 فیصد سے زیادہ ہے۔
جامع سرکاری خریداری
جی ای ایم وزیر اعظم نریندر مودی کے ’’سب کا ساتھ، سب کا وکاس‘‘ کے مشن کے مطابق مساوی اور جامع ترقی کو فروغ دینے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ یہ نئے کاروباری اداروں، چھوٹے کاروباروں اور خواتین کی زیرِ قیادت کاروباری اداروں کو بغیر کسی رکاوٹ یا واسطے کے سرکاری خریداروں کے سامنے اپنی مصنوعات اور خدمات پیش کرنے کا آسان موقع فراہم کرتا ہے۔
کاروبار میں داخل ہونے کی رکاوٹیں دور کرکے اور سرکاری خریداری تک رسائی کو سب کے لیے آسان بنا کر، جی ای ایم نے ملک بھر کے چھوٹے کاروباری اداروں کو ملک کی تعمیر و ترقی میں فعال شراکت دار بننے اور اس کاروباری میدان میں قدم رکھنے کا موقع دیا ہے جو کبھی صرف بڑی اور قائم شدہ کمپنیوں تک محدود تھا۔
جی ای ایم کے ذریعے 12 لاکھ سے زیادہ مائیکرو اور اسمال انٹرپرائزز نے 9 لاکھ کروڑ روپے سے زائد مالیت کے سرکاری آرڈرز مکمل کیے ہیں۔ 2.20 لاکھ سے زیادہ خواتین کاروباریوں نے 99,713 کروڑ روپے سے زائد کے آرڈرز حاصل کیے، جبکہ 42,000 سے زیادہ نئے کاروباری اداروں نے 65,600 کروڑ روپے سے زائد مالیت کے سرکاری آرڈرز مکمل کیے ہیں۔ جی ای ایم نے 69,000 سے زیادہ درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل سے تعلق رکھنے والے کاروباریوں کو سرکاری خریداری میں حصہ لینے کا موقع فراہم کیا ہے، جنہوں نے 23,145 کروڑ روپے سے زائد مالیت کے آرڈرز مکمل کیے ہیں۔
ترقی کا محرک
یہ کامیابیاں اس بات کی واضح عکاسی کرتی ہیں کہ جی ای ایم محض ایک ڈیجیٹل سرکاری خریداری کا پلیٹ فارم نہیں، بلکہ جامع ترقی، کاروباری سرگرمیوں کے فروغ اور معاشی خودمختاری کا ایک مؤثر محرک ہے۔ یہ یقینی بناتا ہے کہ ہر اہل کاروباری ادارے کو بھارت کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنے کا مساوی موقع حاصل ہو۔
کئی لحاظ سے جی ای ایم کا سفروِکست بھارت2047 کے عزائم کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ وزیر اعظم کے ایسے ترقی یافتہ بھارت کے وژن سے ہم آہنگ ہے جو شفاف، سب کو ساتھ لے کر چلنے والا، جدت پسند اور ڈیجیٹل طور پر خودمختار ہو۔
جی ای ایم کی دوسری دہائی میں داخل ہوتے ہوئے ہمارا مقصد اسے ایک زیادہ ذہین، ماحول دوست اور عالمی معیار کے مطابق پلیٹ فارم بنانا ہے، جو جدید ٹیکنالوجی سے بھرپور فائدہ اٹھائے اور مختلف شعبوں سے وابستہ افراد کی شرکت کو مزید وسیع کرے۔ خاص طور پر اختراع کاروں، نئے کاروباری اداروں، چھوٹے کاروباروں، خواتین، نوجوانوں، چھوٹے شہروں کے کاروباری افراد اور محروم طبقات سے تعلق رکھنے والے کاروباریوں کو زیادہ مواقع فراہم کیے جائیں گے۔
بھارت کے کامیاب ترین ڈیجیٹل سرکاری خریداری کے نظاموں میں سے ایک کے طور پر، جی ای ایم اس بات کی بہترین مثال ہے کہ ٹیکنالوجی، اعداد و شمار کا تجزیہ، مصنوعی ذہانت اور صارف دوست ڈیزائن سرکاری اخراجات میں تیزی، کارکردگی اور رقم کے بہترین استعمال کو کیسے یقینی بنا سکتے ہیں۔ گزشتہ دو مالی برسوں کے دوران اس پلیٹ فارم کی سالانہ مجموعی تجارتی مالیت 5 لاکھ کروڑ روپے سے تجاوز کر چکی ہے، جس سے اب تک کی مجموعی مالیت تقریباً 20 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گئی ہے۔ اس کے علاوہ، جی ای ایم پر 10,644 مصنوعات اور 350 خدمات کے زمرے شامل ہو چکے ہیں۔
خواہ وہ زندگی بچانے والی ادویات اور ویکسین اسپتالوں تک تیزی سے پہنچانا ہوں، دفاعی سازوسامان اور ڈرونز کی مؤثر فراہمی ہو، معیاری آلات کے ذریعے تعلیمی اداروں میں بہتری لانا ہو، یا قابلِ اعتماد بنیادی ڈھانچے سے گاؤں کو توانائی فراہم کرنا ہو، شفاف اور مؤثر سرکاری خریداری عوامی خدمات کی بہتر فراہمی اور وسائل کے بہترین استعمال کو یقینی بناتی ہے۔
اس تبدیلی کے اصل فائدہ اٹھانے والے بھارت کے شہری ہیں۔ آئی آئی ٹی دہلی کی جولائی-اگست 2026 میں کی گئی ایک تحقیق کے مطابق، گزشتہ تین مالی برسوں(مالی سال 24-2023 سے 26-2025)کے دوران جی ای ایم کے ذریعے خریداری سے 86,571.69 کروڑ روپے کا مالی فائدہ حاصل ہوا، جس میں قیمت اور خریداری کے عمل میں بہتری سے ہونے والی بچت شامل ہے۔ اسی طرح، تحقیق میں جی ای ایم پر دستیاب 101 مصنوعات کی قیمتوں کا فلپ کارٹ، ایمیزون، انڈیا مارٹ وغیرہ جیسے پلیٹ فارموں پر موجود انہی مصنوعات سے موازنہ کیا گیا۔ تحقیق سے معلوم ہوا کہ 74.3 فیصد مصنوعات جی ای ایم پر سستی تھیں اور مجموعی طور پر تقریباً 13.6 فیصد کی بچت ہوئی۔
جی ای ایم پورٹل وزیر اعظم نریندر مودی کے بھارت کی اقتصادی ترقی اور خوش حالی کے اہداف کو آگے بڑھانے میں ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ یہ معاشرے کے محروم طبقات کو بااختیار بنانے اور انہیں ترقی کے مواقع فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دیتا ہے اور اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ ٹیکس دہندگان کی رقم کا مؤثر استعمال کرتے ہوئے اعلیٰ معیار کی مصنوعات مسابقتی قیمتوں پر خریدی جائیں۔
(مضمون نگار صنعت وتجارت کے مرکزی وزیر ہیں)
The Gem of Inclusive, Transparent Public Procurement
By Shri Piyush Goyal


