سبق پھر پڑھ صداقت کا، عدالت کا، شجاعت کا

 

ڈاکٹر اسداللہ خان

کچھ واقعات اخبار کے ساتھ پرانے ہو جاتے ہیں، کچھ موبائل کی اسکرین سے چند دن بعد غائب ہو جاتے ہیں، لیکن کچھ واقعات ایسے ہوتے ہیں جو ایک پوری نسل کے ذہن میں گھر کر جاتے ہیں۔ برسوں بعد بھی لوگ کہتے ہیں: ’’مجھے وہ دن آج بھی یاد ہے۔‘‘
یہی سے ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے: جو بڑے واقعات آج ہمارے نوجوان اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں، کیا کل ان کا ذکر ان کی تاریخ اور شہریت کی کتابوں میں بھی ہوگا؟ اور اگر نہیں ہوگا تو نئی نسل انہیں کس سے سمجھے گی؟ یہ سوال صرف نصاب کا نہیں، قومی حافظے کا سوال ہے۔
جولائی ۲۰۲۶ کی اہمیت محض اس لئے نہیں کہ اس مہینے میں چند بڑی خبریں سامنے آئیں، بلکہ اس لئے ہے کہ نئی نسل نے جمہوریت، احتجاج، اظہارِ رائے، امتحانی شفافیت اور اداروں کی جواب دہی جیسے اُن تصورات کو عملی صورت میں دیکھا جنہیں وہ اب تک کتابوں میں پڑھتی آئی تھی۔ ایسے واقعات کو تاریخ میں جگہ دینا کسی ایک موقف کی تائید نہیں، بلکہ آنے والی نسل کو یہ سمجھانے کا ذریعہ ہے کہ دستور، شہری حقوق اور جواب دہی محض کتابی اصطلاحات نہیں بلکہ زندہ معاشرتی عمل ہیں۔ اس اعتبار سے جولائی ۲۰۲۶ صرف ایک گزرا ہوا مہینہ نہیں، ایک نسل کا اجتماعی تجربہ بھی ہے۔
خبر اور تاریخ ایک چیز نہیں

ہم عموماً سمجھتے ہیں کہ آج کی خبر خود بخود کل کی تاریخ بن جائے گی۔ ایسا نہیں ہوتا۔ کوئی واقعہ پیش آتا ہے، اخبار اور ٹیلی ویژن اسے خبر بناتے ہیں، سوشل میڈیا اسے لاکھوں لوگوں تک پہنچاتا ہے، کچھ عرصے تک لوگ اس پر گفتگو کرتے ہیں، پھر دوسری خبریں آ جاتی ہیں اور پہلی خبر پیچھے چلی جاتی ہے۔
تاریخ وہاں سے شروع ہوتی ہے جہاں کوئی ذمہ دار ادارہ یہ طے کرتا ہے کہ آنے والی نسل کو اس واقعے کے بارے میں کیا، کتنا اور کس تناظر میں بتایا جائے۔ یہی کام کبھی درسی کتاب بڑی خوبی سے کرتی تھی۔
درسی کتاب کی طاقت یہ نہیں تھی کہ اس کے پاس سب سے تازہ معلومات ہوتی تھیں۔ اخبار ہمیشہ اس سے تیز تھا اور آج انٹرنیٹ ہزار گنا تیز ہے۔ کتاب کی اصل طاقت یہ تھی کہ وہ بچے کو بتاتی تھی کہ کون سی بات ایک سطر کے قابل ہے، کون سی ایک صفحے کے اور کون سی پورے باب کے۔
آج مسئلہ معلومات کی کمی نہیں بلکہ اہم اور غیر اہم میں فرق کرنے کی صلاحیت کی کمی ہے۔ موبائل کی اسکرین پر کسی قومی بحران کی خبر بھی اسی سائز میں آتی ہے جس میں کسی فلمی اداکار کا معمولی تنازع۔ ایک سنجیدہ عدالتی فیصلہ اور کسی مشہور شخصیت کی ویڈیو چند سیکنڈ کے فاصلے پر ہوتے ہیں۔ الگورتھم یہ نہیں پوچھتا کہ قوم کے لئے کیا اہم ہے؛ وہ یہ دیکھتا ہے کہ آپ کس چیز پر زیادہ دیر رکیں گے۔ یہ فرق بہت بڑا ہے۔
بچہ تعریف سے زیادہ مثال یاد رکھتا ہے
ہم سب نے اسکول میں پڑھا ہے کہ ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے۔ ہم نے دستور کی تمہید پڑھی، بنیادی حقوق یاد کیے، اظہارِ رائے کی آزادی اور شہری ذمہ داریوں کے بارے میں امتحان میں جواب لکھے۔

لیکن فرض کیجیے ایک اٹھارہ سالہ طالب علم کسی امتحانی بے ضابطگی سے متاثر ہوتا ہے۔ وہ دیکھتا ہے کہ نوجوان احتجاج کر رہے ہیں، عدالت میں معاملہ پہنچ رہا ہے، حکومت جواب دے رہی ہے، ذرائع ابلاغ بحث کر رہے ہیں اور بالآخر کسی ادارے یا ذمہ دار شخص کو جواب دہ ہونا پڑ رہا ہے۔ اب جمہوریت اس کے لئے صرف کتاب کی تعریف نہیں رہی؛ وہ ایک زندہ تجربہ بن گئی۔
تعلیم کا ایک سادہ اصول ہے: بچے تعریفیں بھول سکتے ہیں، مثالیں دیر تک یاد رکھتے ہیں۔ اسی لئے سوال یہ ہے کہ اگر جمہوریت کی تعریف اسکول دے اور اس کی زندہ مثال صرف سوشل میڈیا دے تو بچے کی سیاسی اور سماجی سمجھ کی تشکیل کون کرے گا؟
اسکول خاموش رہے تب بھی سبق ملتا ہے
تعلیم صرف وہ نہیں جو استاد تختۂ سیاہ پر لکھتا ہے۔ بچہ اسکول سے بہت کچھ بغیر کتاب کے بھی سیکھتا ہے: اپنی باری کا انتظار کرنا، دوسروں کی بات سننا، اختلاف کے باوجود ساتھ بیٹھنا، دلیل دینا اور نظم و ضبط قائم رکھنا۔ اسی طرح خاموشی بھی ایک سبق ہے۔
اگر کوئی واقعہ پورے ملک میں زیرِ بحث ہو، گھر میں اس پر گفتگو ہو، موبائل پر اس کی ویڈیوز گردش کر رہی ہوں، دوست اس پر بحث کر رہے ہوں، لیکن کلاس روم میں اس کا نام لینا بھی ممنوع سمجھا جائے تو بچہ ایک عجیب پیغام لیتا ہے: ’’شاید اصل زندگی کے بعض سوالات اسکول میں نہیں پوچھے جاتے۔‘‘
اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر تازہ سیاسی تنازع اگلے دن کتاب میں شامل کر دیا جائے۔ نصاب کو احتیاط کی ضرورت ہے۔ ہر خبر تاریخ نہیں ہوتی اور ہر الزام حقیقت ثابت نہیں ہوتا۔ مگر احتیاط اور مکمل خاموشی میں فرق ہے۔ احتیاط کہتی ہے: ابھی حتمی فیصلہ مت سناؤ۔ خاموشی کہتی ہے: بات ہی مت کرو۔ تعلیم کو پہلی روش اختیار کرنی چاہیے، دوسری نہیں۔
اختلاف کو باہر نکالنے سے اختلاف ختم نہیں ہوتا

بعض اساتذہ اور ادارے حساس موضوعات سے اس لئے بچتے ہیں کہ کہیں کلاس میں بحث یا تنازع نہ پیدا ہو، لیکن نوجوان بحث کرنا بند نہیں کرتا۔ وہ اسکول کے باہر بحث کرتا ہے، واٹس ایپ گروپ میں، انسٹاگرام پر، یوٹیوب کے کمنٹس میں یا دوستوں کے درمیان۔
فرق صرف اتنا ہے کہ وہاں کوئی استاد موجود نہیں جو اسے یہ سکھائے کہ مخالف کی بات بھی پوری سنو، دعوے کا ثبوت مانگو، خبر کا ماخذ دیکھو اور اختلاف کو دشمنی میں تبدیل نہ کرو۔ اختلاف کو کلاس روم سے نکال دینے سے اختلاف ختم نہیں ہوتا؛ وہ صرف تربیت سے محروم ہو جاتا ہے۔
شاید ہمارے زمانے کی ایک بڑی مشکل یہی ہے۔ آج نوجوان کو کسی مسئلے پر جمع کرنا آسان ہے، مگر اسے مخالف دلیل سننے پر آمادہ کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ ہیش ٹیگ بنانا آسان ہے، دلیل بنانا مشکل؛ ویڈیو شیئر کرنا آسان ہے، اس کی صداقت جانچنا مشکل۔ جمہوریت صرف آواز اٹھانے کا نام نہیں، دوسرے کی آواز سننے کا نام بھی ہے۔
ایک ہی ملک، دو الگ یادیں
فرض کیجیے کسی بڑے واقعے کو لاکھوں لوگوں نے دیکھا، اس کی ویڈیوز محفوظ ہیں، خاندانوں نے اس کا اثر محسوس کیا، مگر سرکاری نصاب میں برسوں اس کا کوئی ذکر نہیں۔ واقعہ بھلایا نہیں جائے گا۔ وہ لوگوں کی گفتگو، ویڈیوز، تصاویر، لطیفوں، گیتوں اور خاندانی یادوں میں زندہ رہے گا۔
لیکن پھر ملک کے پاس دو حافظے بن سکتے ہیں: ایک وہ جو کتابوں میں محفوظ ہے اور دوسرا وہ جو لوگوں کے ذہنوں اور موبائل فونوں میں محفوظ ہے۔

فرانسیسی ماہرِ سماجیات موریس ہالبواکس نے اجتماعی حافظے کے تصور کو سمجھاتے ہوئے بنیادی طور پر یہی بتایا کہ انسان اپنی یادیں تنہا نہیں بناتا؛ خاندان، معاشرہ اور ادارے ہماری یادوں کو شکل دیتے ہیں۔ اسکول کبھی اس عمل کا ایک مضبوط مرکز تھا۔ اگر اسکول یہ جگہ چھوڑ دے تو جگہ خالی نہیں رہتی۔ اسے کوئی اور پُر کرتا ہے، آج شاید سوشل میڈیا، وائرل ویڈیو یا الگورتھم۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ اسکول جواب دہ ہے، الگورتھم نہیں۔
نوجوانی میں دیکھا ہوا واقعہ عمر بھر ساتھ رہتا ہے
اپنی زندگی پر نظر ڈالئے۔ ہمیں بچپن اور نوجوانی کے کئی واقعات حیرت انگیز وضاحت سے یاد ہوتے ہیں۔ کوئی جنگ، انتخاب، فساد، قدرتی آفت، کھیلوں کی بڑی کامیابی یا قومی سانحہ—ہمیں یہ بھی یاد رہتا ہے کہ خبر سنتے وقت ہم کہاں تھے۔
کیونکہ نوجوانی صرف واقعات دیکھنے کی عمر نہیں، اپنی شناخت بنانے کی عمر بھی ہے۔ اسی لئے آج کا اٹھارہ سالہ طالب علم جس واقعے سے براہِ راست متاثر ہوتا ہے، ممکن ہے اسے ساٹھ سال بعد بھی یاد رکھے۔
درسی کتاب یہ طے نہیں کر سکتی کہ وہ کیا یاد رکھے گا۔ وہ صرف یہ طے کر سکتی ہے کہ اس کی ذاتی یاد اور قوم کی تحریری یاد ایک دوسرے سے گفتگو کریں گی یا نہیں۔
کتاب کی سب سے بڑی طاقت: اعتماد
اگر بچہ کوئی بڑی بات پہلے ہی جانتا ہو اور اپنی کتاب میں اس کا کوئی ذکر نہ پائے تو ممکن ہے وہ واقعے کے بارے میں اپنی رائے نہ بدلے؛ البتہ کتاب کے بارے میں اس کی رائے ضرور بدل سکتی ہے۔ وہ سوچ سکتا ہے: ’’اگر یہ بات یہاں نہیں ہے تو اور کیا کچھ نہیں بتایا گیا ہوگا؟‘‘
یہی سے اعتماد کا مسئلہ شروع ہوتا ہے۔ درسی کتاب کی اصل طاقت معلومات نہیں، اعتبار ہے۔ کتاب کے پیچھے مصنف ہوتا ہے، ادارہ ہوتا ہے، ایڈیشن اور تاریخ ہوتی ہے۔ غلطی ہو تو سوال پوچھنے کے لئے کوئی دروازہ موجود ہوتا ہے۔ سوشل میڈیا کی ایک وائرل پوسٹ کے پیچھے اکثر ایسا کوئی دروازہ نہیں ہوتا۔
اس لئے کتاب کو انٹرنیٹ سے رفتار کا مقابلہ نہیں کرنا چاہیے؛ وہ مقابلہ کبھی نہیں جیت سکتی۔ اسے اعتبار، تناظر اور ذمہ داری کا مقابلہ جیتنا چاہیے۔
تو پھر راستہ کیا ہے؟
اس کا حل یہ نہیں کہ ہر احتجاج، تنازع یا سیاسی واقعہ فوراً نصاب میں شامل کر دیا جائے۔ زیادہ بہتر راستہ یہ ہے کہ بچوں کو فیصلہ نہیں، فیصلہ کرنے کا طریقہ سکھایا جائے۔
مثلاً کسی معاصر مسئلے پر استاد دو مختلف اخبارات کی رپورٹیں سامنے رکھ سکتا ہے اور پوچھ سکتا ہے: دونوں میں فرق کیا ہے؟ کس خبر میں ماخذ واضح ہے؟ کون سا جملہ حقیقت ہے اور کون سا تبصرہ؟

کسی وائرل واٹس ایپ پیغام کو سامنے رکھ کر پوچھا جا سکتا ہے: اسے سب سے پہلے کس نے جاری کیا؟ تاریخ کیا ہے؟ تصویر اسی واقعے کی ہے یا پرانی؟ دوسری معتبر جگہوں پر یہی خبر موجود ہے یا نہیں؟ یہ آج کے زمانے کی بنیادی تعلیم ہے۔
اسی طرح امتحان میں صرف یہ نہ پوچھا جائے کہ ’’اظہارِ رائے کی آزادی کی تعریف لکھیے۔‘‘ کبھی یہ بھی پوچھا جائے: ’’آپ کے سامنے دو متضاد خبریں ہیں۔ بتائیے کون سی زیادہ قابلِ اعتبار ہے اور کیوں؟‘‘ ایسا ایک سوال پوری تدریس کا رخ بدل سکتا ہے۔

اسکول اپنے شہر اور محلے کی تاریخ بھی بچوں سے مرتب کرا سکتے ہیں۔ بچے بزرگوں کے انٹرویو لیں، پرانی تصاویر جمع کریں، کسی اہم مقامی واقعے کے مختلف گواہوں سے گفتگو کریں اور پھر دیکھیں کہ ایک ہی واقعے کو مختلف لوگ کیسے یاد کرتے ہیں۔ یوں طالب علم صرف تاریخ پڑھے گا نہیں، تاریخ بننے کے عمل کو سمجھے گا۔
جب بچے کا پہلا استاد الگورتھم بن جائے
آنے والے برسوں میں مسئلہ اور بڑا ہونے والا ہے۔ نئی نسل کسی تاریخی یا سیاسی سوال کا پہلا جواب شاید استاد سے نہیں پوچھے گی۔ وہ سرچ انجن یا مصنوعی ذہانت سے پوچھے گی اور چند سیکنڈ میں ایک پُراعتماد جواب اس کے سامنے ہوگا۔
اسکول اس رفتار کا مقابلہ نہیں کر سکتا اور اسے کرنا بھی نہیں چاہیے۔ اس کا اصل کام اب یہ سکھانا ہے کہ جواب ملنے کے بعد اس پر سوال کیسے کیا جائے: یہ جواب کس ماخذ سے آیا؟ کیا دوسرا نقطۂ نظر بھی موجود ہے؟ کیا تصویر اصلی ہے؟ کیا خبر مکمل ہے؟ کیا حقیقت اور رائے کو الگ کیا گیا ہے؟
اگر اسکول یہ صلاحیت پیدا کر دے تو وہ ڈیجیٹل دور میں پہلے سے زیادہ ضروری ہو جائے گا۔ اور اگر وہ صرف وہی معلومات یاد کرواتا رہا جو ایک مشین چند سیکنڈ میں دے سکتی ہے تو بچے کے ذہن میں ایک فطری سوال پیدا ہوگا: پھر اسکول کی ضرورت کیا ہے؟
یہی ہمارے عہد کا اصل تعلیمی سوال ہے۔
تاریخ کو یقیناً وقت چاہیے۔ آج پیش آنے والے ہر واقعے پر کل حتمی فیصلہ نہیں لکھا جا سکتا۔ مؤرخ کو تحقیق، ثبوت اور فاصلے کی ضرورت ہوتی ہے۔ مگر اس احتیاط کا مطلب یہ بھی نہیں کہ ہم اپنے عہد کے اہم واقعات کو خاموشی کے حوالے کر دیں۔ تاریخ کا صفحہ کبھی حقیقتاً خالی نہیں رہتا؛ اگر ذمہ دار ادارے اسے تحقیق، توازن اور دیانت کے ساتھ نہیں لکھیں گے تو اسے کوئی وائرل ویڈیو لکھے گی، کوئی بے نام پوسٹ، کوئی الگورتھم، کوئی افواہ یا کوئی تعصب۔

یہیں نصاب ساز اداروں، تعلیمی بورڈوں، ماہرینِ تعلیم، مؤرخین، مصنفین اور اساتذہ کی ذمہ داری شروع ہوتی ہے۔ ان کا کام نئی نسل کو یہ بتانا نہیں کہ کیا سوچنا ہے، بلکہ یہ سکھانا ہے کہ کیسے سوچنا ہے؛ واقعے کو کیسے سمجھنا ہے، خبر کو کیسے پرکھنا ہے، اختلاف کو کیسے سننا ہے اور تاریخ کو ثبوت، تناظر اور انصاف کے ساتھ کیسے پڑھنا ہے۔
جولائی ۲۰۲۶ کتاب میں ایک باب بنے، چند صفحات پائے یا محض ایک دستاویزی حوالہ، یہ فیصلہ تحقیق اور وقت کریں گے؛ لیکن اسے مکمل خاموشی کے سپرد کر دینا بھی ایک فیصلہ ہوگا، اور شاید سب سے زیادہ دور رس فیصلہ۔ کیونکہ جس واقعے کو نصاب جگہ نہیں دیتا، ضروری نہیں کہ نئی نسل اسے بھول جائے؛ ممکن ہے وہ اسے کسی اور ذریعے سے یاد رکھے، مگر پھر اس یاد کی صحت، توازن اور سمت کی ذمہ داری ہمارے ہاتھ میں نہیں رہے گی۔
اس لئے اصل سوال صرف یہ نہیں کہ اسکول تاریخ کے اس باب میں شریک ہوگا یا تماشائی۔ سوال اس سے کہیں بڑا ہے: کیا ہمارے تعلیمی ادارے اپنے عہد کی اجتماعی یاد کو دیانت، توازن اور ذمہ داری کے ساتھ اگلی نسل تک پہنچانے کا فرض ادا کریں گے؟
آنے والا وقت شاید ہم سے یہ نہیں پوچھے گا کہ ہمارے نصاب میں تاریخ کے کتنے ابواب تھے۔ وہ پوچھے گا:
جب تاریخ ہمارے بچوں کی آنکھوں کے سامنے بن رہی تھی، جب ان کے ذہن سوالوں سے بھر رہے تھے اور دنیا انہیں ہر اسکرین سے اپنے اپنے جواب دے رہی تھی،تب ہمارے اسکول، ہمارے نصاب، ہمارے تعلیمی بورڈ اور ہمارے اہلِ علم کہاں تھے؟

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

موسم کی تازہ ترین صورتِ حال

  آج جموں و کشمیر کے بیشتر علاقوں میں مطلع...

JNUمیں ممتاز ادیب پروفیسر محمد حسن کی صدسالہ تقریبات کا آغاز

جنگ نیوز نئی دہلی /ہندوستانی زبانوں کا مرکز، جواہر لعل...

ٹائمز ماسٹر پبلک اسکول کی دو روزہ سالانہ تعلیمی کانفرنس اختتام پذیر

  جنگ نیوز ڈیسک سرینگر: ٹائمز ماسٹر پبلک اسکول، عالمگیری بازار،...

تازہ ترین خبریں

موسم کی تازہ ترین صورتِ حال

  آج جموں و کشمیر کے بیشتر علاقوں میں مطلع...

JNUمیں ممتاز ادیب پروفیسر محمد حسن کی صدسالہ تقریبات کا آغاز

جنگ نیوز نئی دہلی /ہندوستانی زبانوں کا مرکز، جواہر لعل...

ٹائمز ماسٹر پبلک اسکول کی دو روزہ سالانہ تعلیمی کانفرنس اختتام پذیر

  جنگ نیوز ڈیسک سرینگر: ٹائمز ماسٹر پبلک اسکول، عالمگیری بازار،...

سبق پھر پڑھ صداقت کا، عدالت کا، شجاعت کا

 

ڈاکٹر اسداللہ خان

کچھ واقعات اخبار کے ساتھ پرانے ہو جاتے ہیں، کچھ موبائل کی اسکرین سے چند دن بعد غائب ہو جاتے ہیں، لیکن کچھ واقعات ایسے ہوتے ہیں جو ایک پوری نسل کے ذہن میں گھر کر جاتے ہیں۔ برسوں بعد بھی لوگ کہتے ہیں: ’’مجھے وہ دن آج بھی یاد ہے۔‘‘
یہی سے ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے: جو بڑے واقعات آج ہمارے نوجوان اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں، کیا کل ان کا ذکر ان کی تاریخ اور شہریت کی کتابوں میں بھی ہوگا؟ اور اگر نہیں ہوگا تو نئی نسل انہیں کس سے سمجھے گی؟ یہ سوال صرف نصاب کا نہیں، قومی حافظے کا سوال ہے۔
جولائی ۲۰۲۶ کی اہمیت محض اس لئے نہیں کہ اس مہینے میں چند بڑی خبریں سامنے آئیں، بلکہ اس لئے ہے کہ نئی نسل نے جمہوریت، احتجاج، اظہارِ رائے، امتحانی شفافیت اور اداروں کی جواب دہی جیسے اُن تصورات کو عملی صورت میں دیکھا جنہیں وہ اب تک کتابوں میں پڑھتی آئی تھی۔ ایسے واقعات کو تاریخ میں جگہ دینا کسی ایک موقف کی تائید نہیں، بلکہ آنے والی نسل کو یہ سمجھانے کا ذریعہ ہے کہ دستور، شہری حقوق اور جواب دہی محض کتابی اصطلاحات نہیں بلکہ زندہ معاشرتی عمل ہیں۔ اس اعتبار سے جولائی ۲۰۲۶ صرف ایک گزرا ہوا مہینہ نہیں، ایک نسل کا اجتماعی تجربہ بھی ہے۔
خبر اور تاریخ ایک چیز نہیں

ہم عموماً سمجھتے ہیں کہ آج کی خبر خود بخود کل کی تاریخ بن جائے گی۔ ایسا نہیں ہوتا۔ کوئی واقعہ پیش آتا ہے، اخبار اور ٹیلی ویژن اسے خبر بناتے ہیں، سوشل میڈیا اسے لاکھوں لوگوں تک پہنچاتا ہے، کچھ عرصے تک لوگ اس پر گفتگو کرتے ہیں، پھر دوسری خبریں آ جاتی ہیں اور پہلی خبر پیچھے چلی جاتی ہے۔
تاریخ وہاں سے شروع ہوتی ہے جہاں کوئی ذمہ دار ادارہ یہ طے کرتا ہے کہ آنے والی نسل کو اس واقعے کے بارے میں کیا، کتنا اور کس تناظر میں بتایا جائے۔ یہی کام کبھی درسی کتاب بڑی خوبی سے کرتی تھی۔
درسی کتاب کی طاقت یہ نہیں تھی کہ اس کے پاس سب سے تازہ معلومات ہوتی تھیں۔ اخبار ہمیشہ اس سے تیز تھا اور آج انٹرنیٹ ہزار گنا تیز ہے۔ کتاب کی اصل طاقت یہ تھی کہ وہ بچے کو بتاتی تھی کہ کون سی بات ایک سطر کے قابل ہے، کون سی ایک صفحے کے اور کون سی پورے باب کے۔
آج مسئلہ معلومات کی کمی نہیں بلکہ اہم اور غیر اہم میں فرق کرنے کی صلاحیت کی کمی ہے۔ موبائل کی اسکرین پر کسی قومی بحران کی خبر بھی اسی سائز میں آتی ہے جس میں کسی فلمی اداکار کا معمولی تنازع۔ ایک سنجیدہ عدالتی فیصلہ اور کسی مشہور شخصیت کی ویڈیو چند سیکنڈ کے فاصلے پر ہوتے ہیں۔ الگورتھم یہ نہیں پوچھتا کہ قوم کے لئے کیا اہم ہے؛ وہ یہ دیکھتا ہے کہ آپ کس چیز پر زیادہ دیر رکیں گے۔ یہ فرق بہت بڑا ہے۔
بچہ تعریف سے زیادہ مثال یاد رکھتا ہے
ہم سب نے اسکول میں پڑھا ہے کہ ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے۔ ہم نے دستور کی تمہید پڑھی، بنیادی حقوق یاد کیے، اظہارِ رائے کی آزادی اور شہری ذمہ داریوں کے بارے میں امتحان میں جواب لکھے۔

لیکن فرض کیجیے ایک اٹھارہ سالہ طالب علم کسی امتحانی بے ضابطگی سے متاثر ہوتا ہے۔ وہ دیکھتا ہے کہ نوجوان احتجاج کر رہے ہیں، عدالت میں معاملہ پہنچ رہا ہے، حکومت جواب دے رہی ہے، ذرائع ابلاغ بحث کر رہے ہیں اور بالآخر کسی ادارے یا ذمہ دار شخص کو جواب دہ ہونا پڑ رہا ہے۔ اب جمہوریت اس کے لئے صرف کتاب کی تعریف نہیں رہی؛ وہ ایک زندہ تجربہ بن گئی۔
تعلیم کا ایک سادہ اصول ہے: بچے تعریفیں بھول سکتے ہیں، مثالیں دیر تک یاد رکھتے ہیں۔ اسی لئے سوال یہ ہے کہ اگر جمہوریت کی تعریف اسکول دے اور اس کی زندہ مثال صرف سوشل میڈیا دے تو بچے کی سیاسی اور سماجی سمجھ کی تشکیل کون کرے گا؟
اسکول خاموش رہے تب بھی سبق ملتا ہے
تعلیم صرف وہ نہیں جو استاد تختۂ سیاہ پر لکھتا ہے۔ بچہ اسکول سے بہت کچھ بغیر کتاب کے بھی سیکھتا ہے: اپنی باری کا انتظار کرنا، دوسروں کی بات سننا، اختلاف کے باوجود ساتھ بیٹھنا، دلیل دینا اور نظم و ضبط قائم رکھنا۔ اسی طرح خاموشی بھی ایک سبق ہے۔
اگر کوئی واقعہ پورے ملک میں زیرِ بحث ہو، گھر میں اس پر گفتگو ہو، موبائل پر اس کی ویڈیوز گردش کر رہی ہوں، دوست اس پر بحث کر رہے ہوں، لیکن کلاس روم میں اس کا نام لینا بھی ممنوع سمجھا جائے تو بچہ ایک عجیب پیغام لیتا ہے: ’’شاید اصل زندگی کے بعض سوالات اسکول میں نہیں پوچھے جاتے۔‘‘
اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر تازہ سیاسی تنازع اگلے دن کتاب میں شامل کر دیا جائے۔ نصاب کو احتیاط کی ضرورت ہے۔ ہر خبر تاریخ نہیں ہوتی اور ہر الزام حقیقت ثابت نہیں ہوتا۔ مگر احتیاط اور مکمل خاموشی میں فرق ہے۔ احتیاط کہتی ہے: ابھی حتمی فیصلہ مت سناؤ۔ خاموشی کہتی ہے: بات ہی مت کرو۔ تعلیم کو پہلی روش اختیار کرنی چاہیے، دوسری نہیں۔
اختلاف کو باہر نکالنے سے اختلاف ختم نہیں ہوتا

بعض اساتذہ اور ادارے حساس موضوعات سے اس لئے بچتے ہیں کہ کہیں کلاس میں بحث یا تنازع نہ پیدا ہو، لیکن نوجوان بحث کرنا بند نہیں کرتا۔ وہ اسکول کے باہر بحث کرتا ہے، واٹس ایپ گروپ میں، انسٹاگرام پر، یوٹیوب کے کمنٹس میں یا دوستوں کے درمیان۔
فرق صرف اتنا ہے کہ وہاں کوئی استاد موجود نہیں جو اسے یہ سکھائے کہ مخالف کی بات بھی پوری سنو، دعوے کا ثبوت مانگو، خبر کا ماخذ دیکھو اور اختلاف کو دشمنی میں تبدیل نہ کرو۔ اختلاف کو کلاس روم سے نکال دینے سے اختلاف ختم نہیں ہوتا؛ وہ صرف تربیت سے محروم ہو جاتا ہے۔
شاید ہمارے زمانے کی ایک بڑی مشکل یہی ہے۔ آج نوجوان کو کسی مسئلے پر جمع کرنا آسان ہے، مگر اسے مخالف دلیل سننے پر آمادہ کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ ہیش ٹیگ بنانا آسان ہے، دلیل بنانا مشکل؛ ویڈیو شیئر کرنا آسان ہے، اس کی صداقت جانچنا مشکل۔ جمہوریت صرف آواز اٹھانے کا نام نہیں، دوسرے کی آواز سننے کا نام بھی ہے۔
ایک ہی ملک، دو الگ یادیں
فرض کیجیے کسی بڑے واقعے کو لاکھوں لوگوں نے دیکھا، اس کی ویڈیوز محفوظ ہیں، خاندانوں نے اس کا اثر محسوس کیا، مگر سرکاری نصاب میں برسوں اس کا کوئی ذکر نہیں۔ واقعہ بھلایا نہیں جائے گا۔ وہ لوگوں کی گفتگو، ویڈیوز، تصاویر، لطیفوں، گیتوں اور خاندانی یادوں میں زندہ رہے گا۔
لیکن پھر ملک کے پاس دو حافظے بن سکتے ہیں: ایک وہ جو کتابوں میں محفوظ ہے اور دوسرا وہ جو لوگوں کے ذہنوں اور موبائل فونوں میں محفوظ ہے۔

فرانسیسی ماہرِ سماجیات موریس ہالبواکس نے اجتماعی حافظے کے تصور کو سمجھاتے ہوئے بنیادی طور پر یہی بتایا کہ انسان اپنی یادیں تنہا نہیں بناتا؛ خاندان، معاشرہ اور ادارے ہماری یادوں کو شکل دیتے ہیں۔ اسکول کبھی اس عمل کا ایک مضبوط مرکز تھا۔ اگر اسکول یہ جگہ چھوڑ دے تو جگہ خالی نہیں رہتی۔ اسے کوئی اور پُر کرتا ہے، آج شاید سوشل میڈیا، وائرل ویڈیو یا الگورتھم۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ اسکول جواب دہ ہے، الگورتھم نہیں۔
نوجوانی میں دیکھا ہوا واقعہ عمر بھر ساتھ رہتا ہے
اپنی زندگی پر نظر ڈالئے۔ ہمیں بچپن اور نوجوانی کے کئی واقعات حیرت انگیز وضاحت سے یاد ہوتے ہیں۔ کوئی جنگ، انتخاب، فساد، قدرتی آفت، کھیلوں کی بڑی کامیابی یا قومی سانحہ—ہمیں یہ بھی یاد رہتا ہے کہ خبر سنتے وقت ہم کہاں تھے۔
کیونکہ نوجوانی صرف واقعات دیکھنے کی عمر نہیں، اپنی شناخت بنانے کی عمر بھی ہے۔ اسی لئے آج کا اٹھارہ سالہ طالب علم جس واقعے سے براہِ راست متاثر ہوتا ہے، ممکن ہے اسے ساٹھ سال بعد بھی یاد رکھے۔
درسی کتاب یہ طے نہیں کر سکتی کہ وہ کیا یاد رکھے گا۔ وہ صرف یہ طے کر سکتی ہے کہ اس کی ذاتی یاد اور قوم کی تحریری یاد ایک دوسرے سے گفتگو کریں گی یا نہیں۔
کتاب کی سب سے بڑی طاقت: اعتماد
اگر بچہ کوئی بڑی بات پہلے ہی جانتا ہو اور اپنی کتاب میں اس کا کوئی ذکر نہ پائے تو ممکن ہے وہ واقعے کے بارے میں اپنی رائے نہ بدلے؛ البتہ کتاب کے بارے میں اس کی رائے ضرور بدل سکتی ہے۔ وہ سوچ سکتا ہے: ’’اگر یہ بات یہاں نہیں ہے تو اور کیا کچھ نہیں بتایا گیا ہوگا؟‘‘
یہی سے اعتماد کا مسئلہ شروع ہوتا ہے۔ درسی کتاب کی اصل طاقت معلومات نہیں، اعتبار ہے۔ کتاب کے پیچھے مصنف ہوتا ہے، ادارہ ہوتا ہے، ایڈیشن اور تاریخ ہوتی ہے۔ غلطی ہو تو سوال پوچھنے کے لئے کوئی دروازہ موجود ہوتا ہے۔ سوشل میڈیا کی ایک وائرل پوسٹ کے پیچھے اکثر ایسا کوئی دروازہ نہیں ہوتا۔
اس لئے کتاب کو انٹرنیٹ سے رفتار کا مقابلہ نہیں کرنا چاہیے؛ وہ مقابلہ کبھی نہیں جیت سکتی۔ اسے اعتبار، تناظر اور ذمہ داری کا مقابلہ جیتنا چاہیے۔
تو پھر راستہ کیا ہے؟
اس کا حل یہ نہیں کہ ہر احتجاج، تنازع یا سیاسی واقعہ فوراً نصاب میں شامل کر دیا جائے۔ زیادہ بہتر راستہ یہ ہے کہ بچوں کو فیصلہ نہیں، فیصلہ کرنے کا طریقہ سکھایا جائے۔
مثلاً کسی معاصر مسئلے پر استاد دو مختلف اخبارات کی رپورٹیں سامنے رکھ سکتا ہے اور پوچھ سکتا ہے: دونوں میں فرق کیا ہے؟ کس خبر میں ماخذ واضح ہے؟ کون سا جملہ حقیقت ہے اور کون سا تبصرہ؟

کسی وائرل واٹس ایپ پیغام کو سامنے رکھ کر پوچھا جا سکتا ہے: اسے سب سے پہلے کس نے جاری کیا؟ تاریخ کیا ہے؟ تصویر اسی واقعے کی ہے یا پرانی؟ دوسری معتبر جگہوں پر یہی خبر موجود ہے یا نہیں؟ یہ آج کے زمانے کی بنیادی تعلیم ہے۔
اسی طرح امتحان میں صرف یہ نہ پوچھا جائے کہ ’’اظہارِ رائے کی آزادی کی تعریف لکھیے۔‘‘ کبھی یہ بھی پوچھا جائے: ’’آپ کے سامنے دو متضاد خبریں ہیں۔ بتائیے کون سی زیادہ قابلِ اعتبار ہے اور کیوں؟‘‘ ایسا ایک سوال پوری تدریس کا رخ بدل سکتا ہے۔

اسکول اپنے شہر اور محلے کی تاریخ بھی بچوں سے مرتب کرا سکتے ہیں۔ بچے بزرگوں کے انٹرویو لیں، پرانی تصاویر جمع کریں، کسی اہم مقامی واقعے کے مختلف گواہوں سے گفتگو کریں اور پھر دیکھیں کہ ایک ہی واقعے کو مختلف لوگ کیسے یاد کرتے ہیں۔ یوں طالب علم صرف تاریخ پڑھے گا نہیں، تاریخ بننے کے عمل کو سمجھے گا۔
جب بچے کا پہلا استاد الگورتھم بن جائے
آنے والے برسوں میں مسئلہ اور بڑا ہونے والا ہے۔ نئی نسل کسی تاریخی یا سیاسی سوال کا پہلا جواب شاید استاد سے نہیں پوچھے گی۔ وہ سرچ انجن یا مصنوعی ذہانت سے پوچھے گی اور چند سیکنڈ میں ایک پُراعتماد جواب اس کے سامنے ہوگا۔
اسکول اس رفتار کا مقابلہ نہیں کر سکتا اور اسے کرنا بھی نہیں چاہیے۔ اس کا اصل کام اب یہ سکھانا ہے کہ جواب ملنے کے بعد اس پر سوال کیسے کیا جائے: یہ جواب کس ماخذ سے آیا؟ کیا دوسرا نقطۂ نظر بھی موجود ہے؟ کیا تصویر اصلی ہے؟ کیا خبر مکمل ہے؟ کیا حقیقت اور رائے کو الگ کیا گیا ہے؟
اگر اسکول یہ صلاحیت پیدا کر دے تو وہ ڈیجیٹل دور میں پہلے سے زیادہ ضروری ہو جائے گا۔ اور اگر وہ صرف وہی معلومات یاد کرواتا رہا جو ایک مشین چند سیکنڈ میں دے سکتی ہے تو بچے کے ذہن میں ایک فطری سوال پیدا ہوگا: پھر اسکول کی ضرورت کیا ہے؟
یہی ہمارے عہد کا اصل تعلیمی سوال ہے۔
تاریخ کو یقیناً وقت چاہیے۔ آج پیش آنے والے ہر واقعے پر کل حتمی فیصلہ نہیں لکھا جا سکتا۔ مؤرخ کو تحقیق، ثبوت اور فاصلے کی ضرورت ہوتی ہے۔ مگر اس احتیاط کا مطلب یہ بھی نہیں کہ ہم اپنے عہد کے اہم واقعات کو خاموشی کے حوالے کر دیں۔ تاریخ کا صفحہ کبھی حقیقتاً خالی نہیں رہتا؛ اگر ذمہ دار ادارے اسے تحقیق، توازن اور دیانت کے ساتھ نہیں لکھیں گے تو اسے کوئی وائرل ویڈیو لکھے گی، کوئی بے نام پوسٹ، کوئی الگورتھم، کوئی افواہ یا کوئی تعصب۔

یہیں نصاب ساز اداروں، تعلیمی بورڈوں، ماہرینِ تعلیم، مؤرخین، مصنفین اور اساتذہ کی ذمہ داری شروع ہوتی ہے۔ ان کا کام نئی نسل کو یہ بتانا نہیں کہ کیا سوچنا ہے، بلکہ یہ سکھانا ہے کہ کیسے سوچنا ہے؛ واقعے کو کیسے سمجھنا ہے، خبر کو کیسے پرکھنا ہے، اختلاف کو کیسے سننا ہے اور تاریخ کو ثبوت، تناظر اور انصاف کے ساتھ کیسے پڑھنا ہے۔
جولائی ۲۰۲۶ کتاب میں ایک باب بنے، چند صفحات پائے یا محض ایک دستاویزی حوالہ، یہ فیصلہ تحقیق اور وقت کریں گے؛ لیکن اسے مکمل خاموشی کے سپرد کر دینا بھی ایک فیصلہ ہوگا، اور شاید سب سے زیادہ دور رس فیصلہ۔ کیونکہ جس واقعے کو نصاب جگہ نہیں دیتا، ضروری نہیں کہ نئی نسل اسے بھول جائے؛ ممکن ہے وہ اسے کسی اور ذریعے سے یاد رکھے، مگر پھر اس یاد کی صحت، توازن اور سمت کی ذمہ داری ہمارے ہاتھ میں نہیں رہے گی۔
اس لئے اصل سوال صرف یہ نہیں کہ اسکول تاریخ کے اس باب میں شریک ہوگا یا تماشائی۔ سوال اس سے کہیں بڑا ہے: کیا ہمارے تعلیمی ادارے اپنے عہد کی اجتماعی یاد کو دیانت، توازن اور ذمہ داری کے ساتھ اگلی نسل تک پہنچانے کا فرض ادا کریں گے؟
آنے والا وقت شاید ہم سے یہ نہیں پوچھے گا کہ ہمارے نصاب میں تاریخ کے کتنے ابواب تھے۔ وہ پوچھے گا:
جب تاریخ ہمارے بچوں کی آنکھوں کے سامنے بن رہی تھی، جب ان کے ذہن سوالوں سے بھر رہے تھے اور دنیا انہیں ہر اسکرین سے اپنے اپنے جواب دے رہی تھی،تب ہمارے اسکول، ہمارے نصاب، ہمارے تعلیمی بورڈ اور ہمارے اہلِ علم کہاں تھے؟

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں