کشمیر کو اب ترقی اور ماحول میں توازن قائم کرنا ہوگا

 

بلال بشیر بٹ

مدیر اعلیٰ ، سرینگر جنگ

جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر کا یہ کہنا کہ "قدرت خود ایک انفراسٹرکچر ہے” ایک ایسی حقیقت ہے جسے ہم نے دہائیوں سے نظر انداز کیا ہے۔ اگر اس ایک جملے کو سنجیدگی سے سمجھ لیا جائے تو شاید کشمیر کے مستقبل کو ماحولیاتی تباہی سے بچایا جا سکتا ہے۔ ترقی کا مطلب صرف سڑکیں، عمارتیں، پل اور سیاحتی منصوبے نہیں ہوتے، بلکہ وہ جنگلات، دریا، جھیلیں، چشمے اور پہاڑ بھی ہوتے ہیں جو کسی خطے کی زندگی اور معیشت کی بنیاد ہوتے ہیں۔ قدرتی وسائل ختم ہو جائیں تو کنکریٹ کے جنگل انسان کو نہ صاف ہوا دے سکتے ہیں، نہ پانی اور نہ ہی محفوظ مستقبل۔
کشمیر آج موسمیاتی تبدیلی کے شدید اثرات کا سامنا کر رہا ہے۔ برف باری کے معمولات بدل چکے ہیں، گلیشیئر تیزی سے سکڑ رہے ہیں، گرمی کی شدت مسلسل بڑھ رہی ہے، بے وقت بارشیں اور اچانک سیلاب معمول بنتے جا رہے ہیں۔ ڈل، نگین اور وولر جیسی آبی نعمتیں سکڑ رہی ہیں جبکہ جنگلات کا رقبہ ہر سال کم ہوتا جا رہا ہے۔ اس تشویشناک صورتحال میں سب سے زیادہ افسوس ناک امر یہ ہے کہ جنگلاتی علاقوں میں غیر قانونی تعمیرات اور تجاوزات کی خبریں آئے دن منظر عام پر آتی ہیں۔ کہیں پہاڑ کاٹ کر ہوٹل بن رہے ہیں، کہیں جنگلوں میں رہائشی کالونیاں ابھر رہی ہیں اور کہیں درختوں کا بے دریغ قتل جاری ہے۔ یہ سب کچھ صرف قانون کی کمزوری نہیں بلکہ اجتماعی بے حسی کی علامت بھی ہے۔
ترقی کی مخالفت کوئی دانشمندی نہیں، لیکن ایسی ترقی جو آنے والی نسلوں سے ان کا ماحول چھین لے، دراصل تباہی کا دوسرا نام ہے۔ دنیا بھر میں اب "نیچر بیسڈ ڈیولپمنٹ” Nature-Based Developmentکا تصور اپنایا جا رہا ہے جہاں درختوں، دریاؤں اور حیاتیاتی تنوع کو بھی قومی اثاثہ سمجھا جاتا ہے۔ افسوس کہ ہمارے یہاں اکثر قدرت کو ترقی کی راہ میں رکاوٹ سمجھ لیا جاتا ہے، حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ اگر جنگلات سلامت ہوں گے تو پانی ہوگا، زراعت ہوگی، سیاحت ہوگی اور معیشت بھی مضبوط ہوگی۔
علامہ اقبال نے فطرت کی اہمیت کو یوں بیان کیا تھا:
"قدرت کے مقاصد کا عیاں ہے کہیں پوشیدہ
ہر ذرۂ ہستی میں ہے پیغامِ الٰہی۔”
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ماحولیات کو صرف سرکاری محکموں کی ذمہ داری نہ سمجھا جائے بلکہ اسے عوامی تحریک بنایا جائے۔ غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آواز بلند کرنا، درخت لگانا، جنگلات کی حفاظت کرنا، ندی نالوں کو آلودگی سے بچانا اور ترقیاتی منصوبوں میں ماحولیاتی اصولوں کی پابندی کو یقینی بنانا ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔ اگر عوام خاموش رہے تو آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔
فیض احمد فیض کا یہ شعر بھی آج کے حالات پر صادق آتا ہے:
"نسلوں کی نگاہوں میں یہ مٹی نہ رہے گی
ہم وقت کی دہلیز پہ خاموش اگر ہیں۔”
وقت آ گیا ہے کہ کشمیر میں ترقی کے پیمانے تبدیل کیے جائیں۔ کسی منصوبے کی کامیابی کا معیار صرف اس کی لاگت یا عمارتوں کی تعداد نہ ہو بلکہ یہ بھی دیکھا جائے کہ اس نے کتنے درخت بچائے، کتنے آبی ذخائر محفوظ کیے اور ماحول پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوئے۔ حکومت کو جنگلاتی علاقوں میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کرنی چاہیے، جبکہ عوام کو بھی ماحول دشمن سرگرمیوں کے خلاف خاموش تماشائی بننے کے بجائے ذمہ دار شہری کا کردار ادا کرنا ہوگا۔
اگر واقعی قدرت ہی اصل انفراسٹرکچر ہے تو پھر اس انفراسٹرکچر کی حفاظت ہی کشمیر کی بقا، خوشحالی اور آنے والی نسلوں کے محفوظ مستقبل کی سب سے بڑی ضمانت ہے۔ آج کا ایک درخت، کل کی ایک نسل کو زندگی دے سکتا ہے، لیکن آج کی ایک غیر قانونی تعمیر، کل کے پورے ماحول کو تباہ کر سکتی ہے۔ اب فیصلہ ہمیں کرنا ہے کہ ہم کنکریٹ کی عارضی چمک چاہتے ہیں یا فطرت کی دائمی نعمت۔
کشمیر کی معیشت کی بنیاد ہی قدرت ہے۔ یہاں کی سیاحت سرسبز وادیوں، برف پوش پہاڑوں، نیلگوں جھیلوں اور گھنے جنگلات کی مرہونِ منت ہے۔ زراعت، باغبانی اور آبی وسائل بھی اسی قدرتی نظام سے وابستہ ہیں۔ اگر یہی نظام کمزور پڑ گیا تو نہ صرف ماحول بلکہ روزگار، صحت، معیشت اور سماجی استحکام بھی شدید متاثر ہوں گے۔ دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلی کو اب صرف ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ معاشی اور قومی سلامتی کا مسئلہ تصور کیا جا رہا ہے۔ کشمیر کو بھی اسی تناظر میں اپنے قدرتی وسائل کے تحفظ کو اولین ترجیح بنانا ہوگا۔
بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں جنگل کو اکثر خالی زمین سمجھ لیا جاتا ہے جس پر تعمیرات کرنا ترقی کی علامت تصور کی جاتی ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ایک درخت محض لکڑی کا ڈھانچہ نہیں بلکہ آکسیجن کا کارخانہ، بارشوں کا ضامن، مٹی کا محافظ اور بے شمار جانداروں کی پناہ گاہ ہوتا ہے۔ جب جنگلات کاٹے جاتے ہیں تو صرف درخت نہیں گرتے بلکہ پورا ماحولیاتی نظام بکھر جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کشمیر میں لینڈ سلائیڈنگ، مٹی کے کٹاؤ، سیلاب اور خشک سالی جیسے مسائل میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
اکیسویں صدی میں ترقی کی تعریف بدل چکی ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک اب "گرین انفراسٹرکچر”، "کاربن نیوٹرل شہروں” اور "پائیدار ترقی” کو ترجیح دے رہے ہیں۔ ہمیں بھی سڑکوں اور عمارتوں کے ساتھ درختوں، آبی ذخائر، دلدلی علاقوں اور جنگلی حیات کے تحفظ کو ترقی کا لازمی جزو بنانا ہوگا۔ ہر بڑے منصوبے سے پہلے ماحولیاتی اثرات کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جائے اور ایسی تعمیرات کی ہرگز اجازت نہ دی جائے جو قدرتی نظام کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچائیں۔
صرف حکومتی قوانین ماحول کو محفوظ نہیں بنا سکتے جب تک عوام خود اپنی ذمہ داری محسوس نہ کریں۔ جس دن ایک عام شہری غیر قانونی درختوں کی کٹائی، جنگلات پر قبضے اور آبی ذخائر کی آلودگی کے خلاف آواز اٹھانا شروع کر دے گا، اسی دن حقیقی تبدیلی کی بنیاد پڑ جائے گی۔ اسکولوں، کالجوں، مساجد، میڈیا اور سماجی اداروں کو ماحولیات کے تحفظ کو ایک عوامی تحریک میں تبدیل کرنا ہوگا تاکہ آنے والی نسلیں ایک سرسبز اور محفوظ کشمیر میں سانس لے سکیں۔
علامہ اقبال کا یہ شعر ہمارے لئے ایک پیغام ہے:
نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی
لیفٹیننٹ گورنر کا یہ جملہ کہ "قدرت خود ایک انفراسٹرکچر ہے” صرف ایک کانفرنس کا موضوع نہیں بلکہ کشمیر کی بقا کا منشور ہونا چاہیے۔ اگر ہم نے آج جنگلات، پہاڑوں، دریاؤں اور جھیلوں کو بچانے کا اجتماعی عہد نہ کیا تو کل نہ سیاحت باقی رہے گی، نہ زراعت، نہ پانی اور نہ ہی وہ قدرتی حسن جس پر کشمیر کو ناز ہے۔ وقت کا تقاضا یہی ہے کہ ترقی اور ماحول کو ایک دوسرے کا مخالف نہیں بلکہ لازم و ملزوم سمجھا جائے۔ قدرت کو بچانا دراصل کشمیر کو بچانا ہے، اور کشمیر کو بچانا ہماری مشترکہ قومی، اخلاقی اور انسانی ذمہ داری ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

مصنوعی ذہانت کے دور میں کتب خانوں کے مستقبل پرIUSTمیں ورکشاپ

جنگ نیوز ڈیسک اونتی پورہ، یکم ستمبر: اسلامک یونیورسٹی آف...

آزاد فلم سازوں کی حمایت اور نوجوان ٹیلنٹ کو مواقع فراہم کرنے پر زور

  جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/جموں و کشمیر انڈیپنڈنٹ فلم میکرز گلڈ...

امریکہ کے ایران پر دو روز میں دوسری بار فضائی حملے

جنگ نیوز امریکی فوج نے منگل کو آبنائے ہرمز کے...

15 ہزار روپے رشوت معاملے میں دو پولیس افسر گرفتار

  جنگ نیوز انسداد بدعنوانی بیورو (ACB) نے سرینگر میں مبینہ...

انتظامیہ میں ردوبدل: 136 کے قریب JKASافسران کے تبادلے

  جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/ جموں و کشمیر انتظامیہ نے ایک...

تازہ ترین خبریں

مصنوعی ذہانت کے دور میں کتب خانوں کے مستقبل پرIUSTمیں ورکشاپ

جنگ نیوز ڈیسک اونتی پورہ، یکم ستمبر: اسلامک یونیورسٹی آف...

آزاد فلم سازوں کی حمایت اور نوجوان ٹیلنٹ کو مواقع فراہم کرنے پر زور

  جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/جموں و کشمیر انڈیپنڈنٹ فلم میکرز گلڈ...

امریکہ کے ایران پر دو روز میں دوسری بار فضائی حملے

جنگ نیوز امریکی فوج نے منگل کو آبنائے ہرمز کے...

15 ہزار روپے رشوت معاملے میں دو پولیس افسر گرفتار

  جنگ نیوز انسداد بدعنوانی بیورو (ACB) نے سرینگر میں مبینہ...

انتظامیہ میں ردوبدل: 136 کے قریب JKASافسران کے تبادلے

  جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/ جموں و کشمیر انتظامیہ نے ایک...

کشمیر کو اب ترقی اور ماحول میں توازن قائم کرنا ہوگا

 

بلال بشیر بٹ

مدیر اعلیٰ ، سرینگر جنگ

جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر کا یہ کہنا کہ "قدرت خود ایک انفراسٹرکچر ہے” ایک ایسی حقیقت ہے جسے ہم نے دہائیوں سے نظر انداز کیا ہے۔ اگر اس ایک جملے کو سنجیدگی سے سمجھ لیا جائے تو شاید کشمیر کے مستقبل کو ماحولیاتی تباہی سے بچایا جا سکتا ہے۔ ترقی کا مطلب صرف سڑکیں، عمارتیں، پل اور سیاحتی منصوبے نہیں ہوتے، بلکہ وہ جنگلات، دریا، جھیلیں، چشمے اور پہاڑ بھی ہوتے ہیں جو کسی خطے کی زندگی اور معیشت کی بنیاد ہوتے ہیں۔ قدرتی وسائل ختم ہو جائیں تو کنکریٹ کے جنگل انسان کو نہ صاف ہوا دے سکتے ہیں، نہ پانی اور نہ ہی محفوظ مستقبل۔
کشمیر آج موسمیاتی تبدیلی کے شدید اثرات کا سامنا کر رہا ہے۔ برف باری کے معمولات بدل چکے ہیں، گلیشیئر تیزی سے سکڑ رہے ہیں، گرمی کی شدت مسلسل بڑھ رہی ہے، بے وقت بارشیں اور اچانک سیلاب معمول بنتے جا رہے ہیں۔ ڈل، نگین اور وولر جیسی آبی نعمتیں سکڑ رہی ہیں جبکہ جنگلات کا رقبہ ہر سال کم ہوتا جا رہا ہے۔ اس تشویشناک صورتحال میں سب سے زیادہ افسوس ناک امر یہ ہے کہ جنگلاتی علاقوں میں غیر قانونی تعمیرات اور تجاوزات کی خبریں آئے دن منظر عام پر آتی ہیں۔ کہیں پہاڑ کاٹ کر ہوٹل بن رہے ہیں، کہیں جنگلوں میں رہائشی کالونیاں ابھر رہی ہیں اور کہیں درختوں کا بے دریغ قتل جاری ہے۔ یہ سب کچھ صرف قانون کی کمزوری نہیں بلکہ اجتماعی بے حسی کی علامت بھی ہے۔
ترقی کی مخالفت کوئی دانشمندی نہیں، لیکن ایسی ترقی جو آنے والی نسلوں سے ان کا ماحول چھین لے، دراصل تباہی کا دوسرا نام ہے۔ دنیا بھر میں اب "نیچر بیسڈ ڈیولپمنٹ” Nature-Based Developmentکا تصور اپنایا جا رہا ہے جہاں درختوں، دریاؤں اور حیاتیاتی تنوع کو بھی قومی اثاثہ سمجھا جاتا ہے۔ افسوس کہ ہمارے یہاں اکثر قدرت کو ترقی کی راہ میں رکاوٹ سمجھ لیا جاتا ہے، حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ اگر جنگلات سلامت ہوں گے تو پانی ہوگا، زراعت ہوگی، سیاحت ہوگی اور معیشت بھی مضبوط ہوگی۔
علامہ اقبال نے فطرت کی اہمیت کو یوں بیان کیا تھا:
"قدرت کے مقاصد کا عیاں ہے کہیں پوشیدہ
ہر ذرۂ ہستی میں ہے پیغامِ الٰہی۔”
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ماحولیات کو صرف سرکاری محکموں کی ذمہ داری نہ سمجھا جائے بلکہ اسے عوامی تحریک بنایا جائے۔ غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آواز بلند کرنا، درخت لگانا، جنگلات کی حفاظت کرنا، ندی نالوں کو آلودگی سے بچانا اور ترقیاتی منصوبوں میں ماحولیاتی اصولوں کی پابندی کو یقینی بنانا ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔ اگر عوام خاموش رہے تو آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔
فیض احمد فیض کا یہ شعر بھی آج کے حالات پر صادق آتا ہے:
"نسلوں کی نگاہوں میں یہ مٹی نہ رہے گی
ہم وقت کی دہلیز پہ خاموش اگر ہیں۔”
وقت آ گیا ہے کہ کشمیر میں ترقی کے پیمانے تبدیل کیے جائیں۔ کسی منصوبے کی کامیابی کا معیار صرف اس کی لاگت یا عمارتوں کی تعداد نہ ہو بلکہ یہ بھی دیکھا جائے کہ اس نے کتنے درخت بچائے، کتنے آبی ذخائر محفوظ کیے اور ماحول پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوئے۔ حکومت کو جنگلاتی علاقوں میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کرنی چاہیے، جبکہ عوام کو بھی ماحول دشمن سرگرمیوں کے خلاف خاموش تماشائی بننے کے بجائے ذمہ دار شہری کا کردار ادا کرنا ہوگا۔
اگر واقعی قدرت ہی اصل انفراسٹرکچر ہے تو پھر اس انفراسٹرکچر کی حفاظت ہی کشمیر کی بقا، خوشحالی اور آنے والی نسلوں کے محفوظ مستقبل کی سب سے بڑی ضمانت ہے۔ آج کا ایک درخت، کل کی ایک نسل کو زندگی دے سکتا ہے، لیکن آج کی ایک غیر قانونی تعمیر، کل کے پورے ماحول کو تباہ کر سکتی ہے۔ اب فیصلہ ہمیں کرنا ہے کہ ہم کنکریٹ کی عارضی چمک چاہتے ہیں یا فطرت کی دائمی نعمت۔
کشمیر کی معیشت کی بنیاد ہی قدرت ہے۔ یہاں کی سیاحت سرسبز وادیوں، برف پوش پہاڑوں، نیلگوں جھیلوں اور گھنے جنگلات کی مرہونِ منت ہے۔ زراعت، باغبانی اور آبی وسائل بھی اسی قدرتی نظام سے وابستہ ہیں۔ اگر یہی نظام کمزور پڑ گیا تو نہ صرف ماحول بلکہ روزگار، صحت، معیشت اور سماجی استحکام بھی شدید متاثر ہوں گے۔ دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلی کو اب صرف ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ معاشی اور قومی سلامتی کا مسئلہ تصور کیا جا رہا ہے۔ کشمیر کو بھی اسی تناظر میں اپنے قدرتی وسائل کے تحفظ کو اولین ترجیح بنانا ہوگا۔
بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں جنگل کو اکثر خالی زمین سمجھ لیا جاتا ہے جس پر تعمیرات کرنا ترقی کی علامت تصور کی جاتی ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ایک درخت محض لکڑی کا ڈھانچہ نہیں بلکہ آکسیجن کا کارخانہ، بارشوں کا ضامن، مٹی کا محافظ اور بے شمار جانداروں کی پناہ گاہ ہوتا ہے۔ جب جنگلات کاٹے جاتے ہیں تو صرف درخت نہیں گرتے بلکہ پورا ماحولیاتی نظام بکھر جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کشمیر میں لینڈ سلائیڈنگ، مٹی کے کٹاؤ، سیلاب اور خشک سالی جیسے مسائل میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
اکیسویں صدی میں ترقی کی تعریف بدل چکی ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک اب "گرین انفراسٹرکچر”، "کاربن نیوٹرل شہروں” اور "پائیدار ترقی” کو ترجیح دے رہے ہیں۔ ہمیں بھی سڑکوں اور عمارتوں کے ساتھ درختوں، آبی ذخائر، دلدلی علاقوں اور جنگلی حیات کے تحفظ کو ترقی کا لازمی جزو بنانا ہوگا۔ ہر بڑے منصوبے سے پہلے ماحولیاتی اثرات کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جائے اور ایسی تعمیرات کی ہرگز اجازت نہ دی جائے جو قدرتی نظام کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچائیں۔
صرف حکومتی قوانین ماحول کو محفوظ نہیں بنا سکتے جب تک عوام خود اپنی ذمہ داری محسوس نہ کریں۔ جس دن ایک عام شہری غیر قانونی درختوں کی کٹائی، جنگلات پر قبضے اور آبی ذخائر کی آلودگی کے خلاف آواز اٹھانا شروع کر دے گا، اسی دن حقیقی تبدیلی کی بنیاد پڑ جائے گی۔ اسکولوں، کالجوں، مساجد، میڈیا اور سماجی اداروں کو ماحولیات کے تحفظ کو ایک عوامی تحریک میں تبدیل کرنا ہوگا تاکہ آنے والی نسلیں ایک سرسبز اور محفوظ کشمیر میں سانس لے سکیں۔
علامہ اقبال کا یہ شعر ہمارے لئے ایک پیغام ہے:
نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی
لیفٹیننٹ گورنر کا یہ جملہ کہ "قدرت خود ایک انفراسٹرکچر ہے” صرف ایک کانفرنس کا موضوع نہیں بلکہ کشمیر کی بقا کا منشور ہونا چاہیے۔ اگر ہم نے آج جنگلات، پہاڑوں، دریاؤں اور جھیلوں کو بچانے کا اجتماعی عہد نہ کیا تو کل نہ سیاحت باقی رہے گی، نہ زراعت، نہ پانی اور نہ ہی وہ قدرتی حسن جس پر کشمیر کو ناز ہے۔ وقت کا تقاضا یہی ہے کہ ترقی اور ماحول کو ایک دوسرے کا مخالف نہیں بلکہ لازم و ملزوم سمجھا جائے۔ قدرت کو بچانا دراصل کشمیر کو بچانا ہے، اور کشمیر کو بچانا ہماری مشترکہ قومی، اخلاقی اور انسانی ذمہ داری ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں