سونا لازمی نہیں، آسان نکاح ہی سنت ہے

 

 

مفتی قاضی توفیق عمر

اسلام نے نکاح کو عبادت، عفت کے تحفظ اور ایک پاکیزہ معاشرے کی بنیاد قرار دیا ہے۔ قرآنِ کریم نے میاں بیوی کے تعلق کو سکون، محبت اور رحمت کا ذریعہ بتایا، جبکہ رسول اللہ ﷺ نے نکاح کو انتہائی آسان بنانے کی تعلیم دی۔ لیکن افسوس کہ آج ہمارا معاشرہ اس تعلیم سے بہت دور جا چکا ہے۔ ہم نے نکاح کو شریعت سے زیادہ رسم و رواج کا پابند بنا دیا ہے۔
آج اگر کسی غریب نوجوان کے دل میں نکاح کی خواہش پیدا ہوتی ہے تو اس کے سامنے سب سے پہلے اللہ کا حکم نہیں بلکہ معاشرے کی شرطیں کھڑی ہوتی ہیں۔ فلاں مقدار کا سونا، مہنگا مہر، قیمتی تحائف، پرتعیش دعوتیں، قیمتی لباس، اور نہ جانے کتنی ایسی رسمیں جن کا شریعت سے کوئی تعلق نہیں، مگر معاشرے نے انہیں عزت اور وقار کا معیار بنا دیا ہے۔
خصوصاً سونے کا مسئلہ اس وقت ایک سنگین سماجی بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ سونے کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں، لیکن اس کے باوجود بعض خاندان مہر اور جہیز میں سونے کو لازمی سمجھتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ غریب باپ بیٹی کے نکاح کے نام پر قرضوں میں ڈوب جاتا ہے، نوجوان برسوں شادی مؤخر کرتے رہتے ہیں، اور بے شمار بچیاں صرف اس لئے اپنے گھروں میں بیٹھی رہتی ہیں کہ ان کے والدین معاشرتی توقعات پوری کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔
یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے: کیا شریعت نے سونے کو مہر قرار دیا ہے؟
قرآنِ مجید نے فرمایا:
«﴿وَآتُوا النِّسَاءَ صَدُقَاتِهِنَّ نِحْلَةً﴾
"اور عورتوں کو ان کے مہر خوش دلی سے ادا کرو۔”
(النساء: 4)»
قرآن نے مہر کو عورت کا حق قرار دیا، مگر کہیں یہ نہیں کہا کہ مہر صرف سونے ہی میں ہو۔
رسول اللہ ﷺ کی سیرت اس سے بھی زیادہ واضح ہے۔ ایک صحابیؓ نکاح کرنا چاہتے تھے مگر ان کے پاس کچھ نہ تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
«”الْتَمِسْ وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ”
"جاؤ، اگر لوہے کی ایک انگوٹھی بھی مل جائے تو لے آؤ۔”
(صحیح بخاری: 5121، صحیح مسلم: 1425)»
یہ حدیث اعلان کر رہی ہے کہ اصل مقصد مہر کا ہونا ہے، نہ کہ اس کی نمائش۔
اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«”أَعْظَمُ النِّكَاحِ بَرَكَةً أَيْسَرُهُ مَؤُونَةً”
"سب سے زیادہ بابرکت نکاح وہ ہے جس میں خرچ کم ہو۔”
(مسند احمد)»
سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر رسول اللہ ﷺ آسانی کو برکت قرار دے رہے ہیں، تو ہم نے مشکل کو عزت کا معیار کیوں بنا لیا؟
یہ بھی حقیقت ہے کہ اسلام نے عورت کے مہر کے حق کو مکمل تحفظ دیا ہے۔ اس لئے اس مضمون کا مقصد ہرگز یہ نہیں کہ مہر کم سے کم رکھا جائے یا عورت کے حق میں کمی کی جائے، بلکہ یہ واضح کرنا ہے کہ مہر کی نوعیت اور مقدار باہمی رضامندی، استطاعت اور شریعت کی روح کے مطابق ہو، نہ کہ سماجی دباؤ اور دکھاوے کے مطابق۔
اگر کسی خاندان کی خوشی اور رضامندی سے سونا دینا ممکن ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں، لیکن اسے لازمی شرط بنا دینا، یا اتنا بوجھ ڈال دینا کہ نکاح ہی مشکل ہو جائے، شریعت کی روح کے خلاف ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ علماء، ائمہ، سماجی قائدین، پنچایتیں اور اہلِ ثروت سب مل کر ایک اجتماعی مہم شروع کریں۔ مساجد سے اعلان ہو کہ نکاح کو آسان بنایا جائے، مہر میں سونے کی لازمی شرط ختم کی جائے، فضول رسومات کو ترک کیا جائے، اور نوجوانوں کے لئے حلال راستہ آسان کیا جائے۔
یاد رکھیے! جب نکاح مشکل ہوگا تو معاشرہ دوسرے فتنوں سے محفوظ نہیں رہ سکے گا۔ اگر ہم واقعی اپنی بیٹیوں کی عزت، اپنے بیٹوں کی پاکدامنی اور اپنے معاشرے کی اصلاح چاہتے ہیں تو ہمیں شریعت کی طرف لوٹنا ہوگا، رسموں کی طرف نہیں۔
آئیے فیصلہ کریں کہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کو سونے کی زنجیریں نہیں، بلکہ سنتِ رسول ﷺ کی آسانیاں ورثے میں دیں گے۔ یہی دین کا تقاضا ہے، یہی معاشرے کی ضرورت ہے، اور یہی وقت کی سب سے بڑی پکار ہے۔کیا سونا واقعی شریعت کا تقاضا ہے؟ یا ہماری ایک رسم نے ہزاروں نکاح روک دیے؟

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

36 ممالک سے 274 مفرور مجرموں کو بھارت واپس لایا گیا

جنگ نیوز سرینگر/ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت اور...

چیتے کا معصوم بچی پر حملہ

سری نگر: جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیاں کے گاؤں دراگڑ...

پتھر کے بجائے خواب اٹھانے والے پلوامہ کے اویس کی کامیابی کا سفر

عرش مخدومی پلوامہ ، کشمیر   گزشتہ تین دہائیوں کے دوران...

موجودہ حالات میں مسلمانوں کی حکمت عملی کیا ہو

ابرا ہیم آتش   آج ملک میں خصوصا مسلمان بہت...

ریچھ کے حملے میں 50 سالہ خاتون شدید زخمی

سرینگر اطلاعات کے مطابق پیر کی شام وسطی کشمیر کے...

تازہ ترین خبریں

36 ممالک سے 274 مفرور مجرموں کو بھارت واپس لایا گیا

جنگ نیوز سرینگر/ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت اور...

چیتے کا معصوم بچی پر حملہ

سری نگر: جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیاں کے گاؤں دراگڑ...

پتھر کے بجائے خواب اٹھانے والے پلوامہ کے اویس کی کامیابی کا سفر

عرش مخدومی پلوامہ ، کشمیر   گزشتہ تین دہائیوں کے دوران...

موجودہ حالات میں مسلمانوں کی حکمت عملی کیا ہو

ابرا ہیم آتش   آج ملک میں خصوصا مسلمان بہت...

ریچھ کے حملے میں 50 سالہ خاتون شدید زخمی

سرینگر اطلاعات کے مطابق پیر کی شام وسطی کشمیر کے...

سونا لازمی نہیں، آسان نکاح ہی سنت ہے

 

 

مفتی قاضی توفیق عمر

اسلام نے نکاح کو عبادت، عفت کے تحفظ اور ایک پاکیزہ معاشرے کی بنیاد قرار دیا ہے۔ قرآنِ کریم نے میاں بیوی کے تعلق کو سکون، محبت اور رحمت کا ذریعہ بتایا، جبکہ رسول اللہ ﷺ نے نکاح کو انتہائی آسان بنانے کی تعلیم دی۔ لیکن افسوس کہ آج ہمارا معاشرہ اس تعلیم سے بہت دور جا چکا ہے۔ ہم نے نکاح کو شریعت سے زیادہ رسم و رواج کا پابند بنا دیا ہے۔
آج اگر کسی غریب نوجوان کے دل میں نکاح کی خواہش پیدا ہوتی ہے تو اس کے سامنے سب سے پہلے اللہ کا حکم نہیں بلکہ معاشرے کی شرطیں کھڑی ہوتی ہیں۔ فلاں مقدار کا سونا، مہنگا مہر، قیمتی تحائف، پرتعیش دعوتیں، قیمتی لباس، اور نہ جانے کتنی ایسی رسمیں جن کا شریعت سے کوئی تعلق نہیں، مگر معاشرے نے انہیں عزت اور وقار کا معیار بنا دیا ہے۔
خصوصاً سونے کا مسئلہ اس وقت ایک سنگین سماجی بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ سونے کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں، لیکن اس کے باوجود بعض خاندان مہر اور جہیز میں سونے کو لازمی سمجھتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ غریب باپ بیٹی کے نکاح کے نام پر قرضوں میں ڈوب جاتا ہے، نوجوان برسوں شادی مؤخر کرتے رہتے ہیں، اور بے شمار بچیاں صرف اس لئے اپنے گھروں میں بیٹھی رہتی ہیں کہ ان کے والدین معاشرتی توقعات پوری کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔
یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے: کیا شریعت نے سونے کو مہر قرار دیا ہے؟
قرآنِ مجید نے فرمایا:
«﴿وَآتُوا النِّسَاءَ صَدُقَاتِهِنَّ نِحْلَةً﴾
"اور عورتوں کو ان کے مہر خوش دلی سے ادا کرو۔”
(النساء: 4)»
قرآن نے مہر کو عورت کا حق قرار دیا، مگر کہیں یہ نہیں کہا کہ مہر صرف سونے ہی میں ہو۔
رسول اللہ ﷺ کی سیرت اس سے بھی زیادہ واضح ہے۔ ایک صحابیؓ نکاح کرنا چاہتے تھے مگر ان کے پاس کچھ نہ تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
«”الْتَمِسْ وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ”
"جاؤ، اگر لوہے کی ایک انگوٹھی بھی مل جائے تو لے آؤ۔”
(صحیح بخاری: 5121، صحیح مسلم: 1425)»
یہ حدیث اعلان کر رہی ہے کہ اصل مقصد مہر کا ہونا ہے، نہ کہ اس کی نمائش۔
اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«”أَعْظَمُ النِّكَاحِ بَرَكَةً أَيْسَرُهُ مَؤُونَةً”
"سب سے زیادہ بابرکت نکاح وہ ہے جس میں خرچ کم ہو۔”
(مسند احمد)»
سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر رسول اللہ ﷺ آسانی کو برکت قرار دے رہے ہیں، تو ہم نے مشکل کو عزت کا معیار کیوں بنا لیا؟
یہ بھی حقیقت ہے کہ اسلام نے عورت کے مہر کے حق کو مکمل تحفظ دیا ہے۔ اس لئے اس مضمون کا مقصد ہرگز یہ نہیں کہ مہر کم سے کم رکھا جائے یا عورت کے حق میں کمی کی جائے، بلکہ یہ واضح کرنا ہے کہ مہر کی نوعیت اور مقدار باہمی رضامندی، استطاعت اور شریعت کی روح کے مطابق ہو، نہ کہ سماجی دباؤ اور دکھاوے کے مطابق۔
اگر کسی خاندان کی خوشی اور رضامندی سے سونا دینا ممکن ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں، لیکن اسے لازمی شرط بنا دینا، یا اتنا بوجھ ڈال دینا کہ نکاح ہی مشکل ہو جائے، شریعت کی روح کے خلاف ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ علماء، ائمہ، سماجی قائدین، پنچایتیں اور اہلِ ثروت سب مل کر ایک اجتماعی مہم شروع کریں۔ مساجد سے اعلان ہو کہ نکاح کو آسان بنایا جائے، مہر میں سونے کی لازمی شرط ختم کی جائے، فضول رسومات کو ترک کیا جائے، اور نوجوانوں کے لئے حلال راستہ آسان کیا جائے۔
یاد رکھیے! جب نکاح مشکل ہوگا تو معاشرہ دوسرے فتنوں سے محفوظ نہیں رہ سکے گا۔ اگر ہم واقعی اپنی بیٹیوں کی عزت، اپنے بیٹوں کی پاکدامنی اور اپنے معاشرے کی اصلاح چاہتے ہیں تو ہمیں شریعت کی طرف لوٹنا ہوگا، رسموں کی طرف نہیں۔
آئیے فیصلہ کریں کہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کو سونے کی زنجیریں نہیں، بلکہ سنتِ رسول ﷺ کی آسانیاں ورثے میں دیں گے۔ یہی دین کا تقاضا ہے، یہی معاشرے کی ضرورت ہے، اور یہی وقت کی سب سے بڑی پکار ہے۔کیا سونا واقعی شریعت کا تقاضا ہے؟ یا ہماری ایک رسم نے ہزاروں نکاح روک دیے؟

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں