جنگ نیوز
سرینگر/ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی رہنمائی میں 2019 سے اب تک 36 ممالک سے 274 مفرور مجرم بھارت واپس لائے گئے ہیں۔ مفرور اقتصادی مجرموں کے خلاف کارروائی مضبوط بنانے کے لیے 2018 میں مفرور اقتصادی مجرم قانون نافذ کیا گیا، جبکہ انٹیلی جنس، ٹیکنالوجی اور سفارتی تعاون پر مبنی مربوط نظام تشکیل دے کر حوالگی کے عمل کو مؤثر بنایا گیا۔
2014 سے قبل بھارت کے صرف 37 ممالک سے حوالگی کے معاہدے تھے، معاشی مفروروں کے خلاف کوئی مخصوص قانون موجود نہیں تھا، 2004 تا 2013 اوسطاً سالانہ صرف چار مفرور واپس لائے گئے، 110 درخواستیں زیر التوا رہیں، جبکہ نامکمل دستاویزات، سست عمل، قانونی رکاوٹوں، کمزور بین الادارہ جاتی رابطے اور ریڈ کارنر نوٹس کے تاخیر سے اجرا نے پیش رفت کو متاثر کیا۔
مودی حکومت نے مفرور مجرموں کی حوالگی کو قومی ترجیح قرار دیتے ہوئے عالمی رسائی، مضبوط ہم آہنگی اور مؤثر سفارت کاری پر مبنی حکمت عملی اپنائی۔ 2019 میں این آئی اے (ترمیم) ایکٹ اور یو اے پی اے (ترمیم) ایکٹ نافذ کیے گئے، جبکہ 2024 میں نئے فوجداری قوانین کے تحت بی این ایس ایس کی دفعات 355 اور 356 کے ذریعے پہلی بار مفرور ملزمان کے خلاف غیر حاضری میں مقدمے کی سماعت کی قانونی گنجائش فراہم کی گئی۔
2022 میں بھارت نے 90ویں انٹرپول جنرل اسمبلی کی میزبانی کی، جبکہ جنوری 2025 میں بھارت پول پلیٹ فارم شروع کیا گیا، جس کے ذریعے سی بی آئی، ریاستی پولیس اور دیگر ایجنسیوں کی 1400 سے زائد اکائیاں منسلک ہوئیں، اطلاعات کے تبادلے کا وقت کم ہو کر عموماً 10 تا 20 دن اور بعض معاملات میں 3 تا 10 دن رہ گیا۔ اس سلسلے میں مرکزی وزیر داخلہ پانچ اہم جائزہ اجلاس بھی کر چکے ہیں۔
مودی حکومت نے پی ایم ایل اے کے سخت نفاذ کے تحت 2019 سے 2026 کے درمیان مفرور مجرموں کے 17,874 کروڑ روپے کے اثاثے ضبط کیے۔ سی بی آئی نے عالمی آپریشن سنٹر قائم کیا، ریاستوں اور مرکزی ایجنسیوں میں انٹرپول رابطہ افسر مقرر کیے، جبکہ انٹرپول کے ریڈ کارنر نوٹس میں نمایاں اضافہ ہوا: 2022 میں 40، 2023 میں 100، 2024 میں 107، 2025 میں 112 اور 2026 میں اب تک 182 نوٹس جاری ہوئے، جبکہ گزشتہ تین برسوں میں مجموعی طور پر 401 ریڈ کارنر نوٹس جاری کیے گئے۔
آپریشن ترشول کے تحت سیٹلائٹ، نگرانی، ڈیجیٹل فوٹ پرنٹ اور پروفائل میپنگ کے ذریعے شناخت تبدیل کرنے والے مفروروں کا سراغ لگایا گیا، جبکہ ویڈیو کانفرنسنگ سمیت جدید ٹیکنالوجی سے حوالگی کے عمل کو تیز کیا گیا۔ بہتر قانونی تیاری اور معیاری دستاویزات کی بدولت دہشت گردی، گینگسٹرزم، مالی جرائم، منشیات، قتل، عصمت دری اور پاکسو ایکٹ کے مقدمات میں مطلوب افراد کو واپس لایا گیا۔
یہ مہم دہشت گردی، خالصتان نواز انتہا پسندی، گینگسٹر۔دہشت گرد گٹھ جوڑ، منشیات، سائبر فراڈ اور جعلی کرنسی کے خلاف بھی جاری ہے۔ امریکہ سے تہور حسین رانا کی حوالگی کو اس سلسلے کی اہم کامیابی قرار دیا گیا، جبکہ جموں و کشمیر سے متعلق دہشت گردی، نارکو دہشت گردی اور سرحد پار نیٹ ورکس میں ملوث مفروروں کے خلاف بھی کارروائیاں تیز کی گئیں۔
حکومت کے مطابق یہ کامیابیاں مضبوط قانونی تیاری، مستقل سفارتی کوششوں اور آئی بی، سی بی آئی، را، این آئی اے، ای ڈی، وزارت خارجہ، این سی بی، ڈی جی جی آئی اور ریاستی پولیس کے مشترکہ تعاون کا نتیجہ ہیں۔ جنوری 2026 میں ملٹی ایجنسی سینٹر (ایم اے سی) کے تحت قائم اسٹینڈنگ فوکس گروپ کو مقدمات کی ترجیح، دستاویزات کی معیاری تیاری، معلوماتی خلا دور کرنے، غیر ملکی اداروں سے مسلسل رابطے اور ریاستی ایجنسیوں کی معاونت کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ بیرون ملک سرگرم مفرور ملزمان مسلسل اور حقیقی خطرہ ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے مربوط، فعال اور پیشگی حکمت عملی ناگزیر ہے۔


