جنگ نیوز
امریکی فوج نے منگل کو آبنائے ہرمز کے قریب ایران کے متعدد اہداف پر تازہ حملے کیے، جو دو روز میں ایران پر امریکہ کی دوسری فوجی کارروائی ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو جوابی کارروائی کی صورت میں مزید سخت حملوں کی دھمکی دی ہے۔
ایرانی ساحلی علاقوں قشم، بندر عباس، چابہار، جاسک اور سیریک میں دھماکوں کی اطلاعات ہیں، تاہم نقصانات اور جانی ہلاکتوں کی فوری تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے حملوں کو ’’بڑے اور طاقتور‘‘ قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ کارروائی آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے کی مبینہ کوشش اور اردن میں امریکی فوجی اڈے کی جانب آٹھ میزائل داغے جانے کے جواب میں کی گئی۔
ایران کی پاسداران انقلاب نے امریکی حملوں پر سخت ردعمل کا انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ کو اپنی نئی کارروائیوں پر پچھتانا پڑے گا۔ ایرانی حکام نے آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل مزید متاثر کرنے کی دھمکی بھی دی ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان، پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکہ کو سخت جواب دینے کا عندیہ دیا۔
تازہ کشیدگی کے باعث مشرق وسطیٰ میں جنگ کے مزید پھیلاؤ اور عالمی تیل کی رسد متاثر ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔


