جنگ نیوز
بشکیک/وزیر اعظم نریندر مودی نے کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے 26ویں سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف متحد اور غیر امتیازی کارروائی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس سنگین مسئلے سے نمٹنے میں دوہرے معیار کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔
31 اگست سے یکم ستمبر تک منعقدہ اجلاس میں ایس سی او کے قیام کی 25ویں سالگرہ کے موقع پر علاقائی امن، سلامتی، استحکام اور خوشحالی سے متعلق پیش رفت اور آئندہ تعاون کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔
مودی نے کہا کہ تنازعات کا حل میدان جنگ میں نہیں بلکہ مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی مالی معاونت، بھرتی، انتہاپسندی اور محفوظ پناہ گاہوں کے پورے نظام کو ختم کرنا ضروری ہے۔
وزیر اعظم نے افغانستان میں امن و استحکام کو یوریشیا کی سلامتی سے جوڑتے ہوئے کہا کہ بھارت افغانستان کے عوام کے لئے ترقیاتی اور انسانی امداد جاری رکھے گا۔
انہوں نے ایس سی او کے لئے بھارت کے تین نکاتی وژن SCO یعنی سکیورٹی، کنیکٹیویٹی اور مواقع پر عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیا۔ مودی نے کہا کہ رابطہ کاری کے تمام منصوبوں میں ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام بنیادی شرط ہونا چاہیے۔
انہوں نے نوجوانوںٹیکنالوجی، اختراع، اسٹارٹ اپس اور عوامی روابط کو رکن ممالک کے لئے نئے مواقع پیدا کرنے کا اہم ذریعہ قرار دیا اور اعلان کیا کہ بھارت رواں برس ایس سی او سولائزیشن ڈائیلاگ فورم کے پہلے اجلاس کی میزبانی کرے گا۔
اجلاس میں بشکیک اعلامیے کے علاوہ چار مفاہمتی یادداشتوں اور موسمیاتی تبدیلی، جوہری تحفظ، توانائی کے تحفظ اور منشیات کے انسداد سمیت مختلف شعبوں سے متعلق 20 سے زائد فیصلوں اور بیانات کو منظوری دی گئی۔


