
پروفیسر مشتاق احمد
آج کا زمانہ مصنوعی ذہانت ، سوشل میڈیا، مختصر ویڈیوز، تیز رفتار اطلاعات اور ڈیجیٹل رابطوں کا زمانہ ہے۔ انسانی زندگی پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ سہل، تیز اور معلومات سے بھرپور ضرور ہوئی ہے، مگر اس کے ساتھ ایک تلخ حقیقت بھی جڑی ہوئی ہے کہ انسان کا ادب، کتاب، مطالعہ اور گہرے فکری مکالمے سے تعلق کمزور پڑتا جا رہا ہے۔ کتاب کی جگہ موبائل نے لے لی ہے، مطالعے کی جگہ اسکرولنگ نے، اور غور و فکر کی جگہ فوری ردِعمل نے۔ ایسے ماحول میں یہ سوال بے حد اہم ہو جاتا ہے کہ کیا پریم چند جیسے ادیب کی فکر آج بھی ہمارے لئے معنویت رکھتی ہے؟ کیا ان کے افسانے اور ناول صرف اپنے عہد کی داستان ہیں، یا وہ آج کے انسان کی بھی ترجمانی کرتے ہیں؟کیا پریم چند کے مضامین کی عصری معنویت برقرار ہے؟ اس سوال کا جواب پورے اعتماد کے ساتھ ’’ہاں‘‘ میں دیا جا سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ پریم چند کی معنویت میں کمی نہیں بلکہ اضافہ ہوا ہے، کیونکہ انہوں نے انسان کو موضوع بنایا، اور انسان کے بنیادی مسائل آج بھی وہی ہیں، اگرچہ ان کی صورتیں بدل گئی ہیں۔ہمارے معاشرے میں اب بھی سماجی برائیاں موجود ہیں ، سیاسی استحصال جاری ہے، فرقہ واریت کا زور قائم ہے اور طبقاتی نظام کی قبیح تصویریں موجود ہیں۔اس لئے پریم چند کی تحریریں اسی وقت بے وقت کی راگنی قرار پائیں گی جب ہمارے معاشرے سے مذکورہ مسائل ختم ہو جائیں گے اور جب تک ہمارے سماج کی تصویر اور تقدیر نہیں بدلے گی اس وقت تک پریم چند کے افکار ونظریات کی معنویت بر قرار رہے گی۔
واضح ہو کہ پریم چند(31؍ جولائی1880۔8؍ اکتوبر1936ء) اردو اور ہندی ادب کے وہ عظیم افسانہ نگار ہیں جنہوں نے ادب کو محض تفریح یا حسنِ بیان کا ذریعہ نہیں سمجھا بلکہ اسے معاشرتی بیداری، انسانی ہمدردی اور اخلاقی شعور کی قوت بنایا۔ انہوں نے ہندوستان کے دیہات، کسان، مزدور، عورت، نچلے طبقات، محروم انسانوں اور استحصال کے شکار لوگوں کو اپنی تخلیقات کا مرکز بنایا۔ ان کا ادب محلوں اور درباروں کا نہیں بلکہ جھونپڑیوں، کھیتوں اور گلی کوچوں کا ادب ہے۔عصرِ حاضر یعنی ڈیجیٹل عہد کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ انسان مسلسل معلومات حاصل کر رہا ہے، مگر حکمت سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ معلومات کا انبار موجود ہے، لیکن انسانی احساس کمزور پڑ رہا ہے۔ ایسے وقت میں پریم چند کی تحریریں ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ ترقی صرف ٹیکنالوجی سے نہیں بلکہ انسان دوستی، انصاف اور اخلاقی شعور سے حاصل ہوتی ہے۔پریم چند کا مشہور ناول ’’گئودان‘‘ صرف ایک کسان ہوری کی کہانی نہیں بلکہ ایک ایسے سماج کی تصویر ہے جہاں محنت کرنے والا سب سے زیادہ محروم ہے۔ اگرچہ آج کا کسان ٹریکٹر، موبائل اور انٹرنیٹ استعمال کرتا ہے، لیکن قرض، معاشی عدم تحفظ اور استحصال کے مسائل اب بھی موجود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ’’گئودان‘‘کے کردار آج بھی زندہ محسوس ہوتے ہیں۔اسی طرح ’’کفن‘‘ کو دیکھیے۔ یہ افسانہ صرف غربت کی داستان نہیں بلکہ اس سماجی نظام پر شدید طنز ہے جو انسان سے اس کی حساسیت بھی چھین لیتا ہے۔ آج جب دنیا میں معاشی عدم مساوات بڑھ رہا ہے، تو’’کفن‘‘ کی معنویت پہلے سے کہیں زیادہ واضح ہو جاتی ہے۔
پریم چند کی ایک بڑی خصوصیت یہ ہے کہ انہوں نے مذہب، ذات، طبقے اور زبان سے اوپر اٹھ کر انسان کو دیکھا۔ ان کے نزدیک انسان کی عزت، انصاف اور ہمدردی سب سے بڑی قدریں تھیں۔ آج جب دنیا نفرت، تعصب، مذہبی انتہا پسندی اور سماجی تقسیم کے مسائل سے دوچار ہے، تو پریم چند کی فکر امن، رواداری اور مشترکہ انسانی قدروں کا سبق دیتی ہے۔
عہدِ حاضر میںڈیجیٹل میڈیا نے جہاں اظہار کی آزادی کو وسعت دی ہے، وہیں جھوٹی خبروں، نفرت انگیز مہمات اور سطحی مباحث کو بھی فروغ دیا ہے۔ ایسے ماحول میں پریم چند کا حقیقت پسندانہ طرزِ فکر ہمیں سکھاتا ہے کہ ہر مسئلے کو انسانی زاویے سے دیکھنا چاہیے، نہ کہ جذباتی یا تعصبانہ انداز سے۔پریم چند کا یہ قول آج بھی رہنمائی کرتا ہے: ’’ادب زندگی کی تنقید ہے۔‘‘یہ ایک مختصر جملہ نہیں بلکہ ادب کا مکمل فلسفہ ہے۔ ادب اگر زندگی کے مسائل، خوشیوں، دکھوں، ناانصافیوں اور امیدوں کی ترجمانی نہ کرے تو وہ محض الفاظ کا کھیل بن کر رہ جاتا ہے۔ یہی تصور آج بھی ادیبوں، صحافیوں اور دانش وروں کے لئے مشعلِ راہ ہے۔آج کے نوجوان زیادہ تر مختصر ویڈیوز، ریلز اور مصنوعی ذہانت سے تیار شدہ مواد کے درمیان زندگی گزار رہے ہیں۔ اس ماحول میں پریم چند کا مطالعہ انہیں یہ احساس دلاتا ہے کہ حقیقی انسانی تجربہ کسی مصنوعی ذہانت سے پیدا نہیں ہوتا بلکہ انسانی احساس، مشاہدے اور درد سے جنم لیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی کہانیاں پڑھنے والا محض لطف اندوز نہیں ہوتا بلکہ اپنے معاشرے پر بھی غور کرنے لگتا ہے۔
پریم چند کا ادب ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ ترقی صرف اقتصادی ترقی کا نام نہیں۔ اگر سماج میں انصاف، مساوات، تعلیم اور انسانی وقار موجود نہ ہو تو ترقی ادھوری رہتی ہے۔ آج جب دنیا مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور ڈیجیٹل انقلاب کی بات کر رہی ہے، تب بھی غربت، بھوک، بے روزگاری ، فرقہ واریت اور سماجی ناانصافی جیسے مسائل باقی ہیں۔ ان مسائل کی طرف توجہ دلانے کے لئے پریم چند کا ادب آج بھی زندہ اور متحرک ہے۔
مختصریہ کہ ڈیجیٹل عہد میں پریم چند کی معنویت صرف ایک ادبی شخصیت کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک سماجی مفکر، انسان دوست، دانشور اور اخلاقی رہنما کے طور پر بھی قائم ہے۔ ان کی تحریریں ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ مشینیں زندگی کو آسان بنا سکتی ہیں، مگر انسان کو انسان بنانا صرف ادب ہی کا کام ہے۔
پریم چند کی عظمت کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ انہوں نے ادب کو محض الفاظ کی آرائش یا جذبات کی عکاسی تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے سماج کی تعمیر اور انسان کی اصلاح کا مؤثر ذریعہ بنایا۔ ان کی ہر تحریر اپنے عہد کے مسائل سے جڑی ہوئی ہے، لیکن اس کے اندر ایسی آفاقی انسانی قدریں موجود ہیں جو ہر زمانے میں اپنی تازگی برقرار رکھتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایک صدی گزر جانے کے باوجود ان کی کہانیاں اور ناول آج بھی قاری کو اپنی گرفت میں لے لیتے ہیں۔
عہدِ حاضر کا ڈیجیٹل معاشرہ بظاہر بہت مربوط نظر آتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ انسان پہلے سے زیادہ تنہا ہوتا جا رہا ہے۔ ہزاروں ’’دوست‘‘ رکھنے والا فرد بھی اندر سے بے سکون اور بے تعلق محسوس کرتا ہے۔ سوشل میڈیا نے تعلقات کی وسعت تو پیدا کی ہے، مگر ان میں حسّاسیت کم کر دی ہے۔ ایسے ماحول میں پریم چند کے کردار ہمیں انسان سے انسان کے حقیقی رشتے کی اہمیت یاد دلاتے ہیں۔ ان کے افسانوں میں محبت، ہمدردی، ایثار، قربانی، دیانت اور اجتماعی احساس نمایاں ہیں، جو آج کے معاشرے کی سب سے بڑی ضرورت ہیں۔
پریم چند نے عورت کے مسائل کو بھی نہایت حساسیت کے ساتھ پیش کیا۔ ’’نرملا‘‘ جیسے ناول میں انہوں نے جہیز، کم عمری کی شادی، خاندانی ناانصافی اور عورت کی بے بسی کو جس انداز سے بیان کیا، وہ آج بھی ہمارے معاشرے کے لئے ایک آئینہ ہے۔ اگرچہ تعلیم اور قانون میں بہت سی اصلاحات ہوئی ہیں، لیکن خواتین کے خلاف تشدد، امتیازی رویے اور معاشرتی دباؤ اب بھی موجود ہیں۔ اس لئے پریم چند کی تحریریں آج بھی اصلاحِ معاشرہ کا مؤثر وسیلہ بن سکتی ہیں۔پریم چند نے نسوانی کرداروں کے ذریعہ نہ صرف خواتین کے مسائل کو اجاگر کیا بلکہ اس کی احتجاجی آواز کو بھی نئی سمت دی اور بقول وقارعظیم:
’’پریم چند کے اکثر افسانوں میں عورت کی فطرت میں قربانی کا جذبہ دکھایا گیاہے ۔ وہ اپنے شوہر ، اپنے بھائی اور اپنے ملک کے لئے بڑی سے بڑی قربانی کو اپنا اہم فرض جانتی ہے ۔ اس میں حسن ہے ، نظر کا جادو ہے ، ادائوں کا فریب ہے ، موسیقی کا ترنم ہے ، لیکن ان سب سے زیادہ ایثاروقربانی ہے ‘‘(فنِ افسانہ نگاری۔ وقار عظیم، ص:329)
پریم چند کا ایک مشہور افسانہ ’’عیدگاہ‘‘ہے جس میں حامد کا کردار صرف ایک بچے کی کہانی نہیں بلکہ ایثار، محبت اور خاندانی ذمہ داری کی لازوال علامت ہے۔ آج جب صارفیت اور مادّی خواہشات انسانی اقدار پر غالب آ رہی ہیں، حامد کا چمٹا ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ حقیقی خوشی دوسروں کی تکلیف کو کم کرنے میں ہے، نہ کہ صرف اپنی خواہشات پوری کرنے میں۔ڈیجیٹل دور میں مصنوعی ذہانت نے لکھنے، پڑھنے، تحقیق اور تدریس کے انداز بدل دیے ہیں۔ معلومات تک رسائی پہلے سے کہیں زیادہ آسان ہو گئی ہے، مگر یہ سوال بھی پیدا ہوا ہے کہ کیا مشین انسانی احساسات، تخلیقی بصیرت اور اخلاقی شعور کی جگہ لے سکتی ہے؟ اس سوال کا جواب پریم چند کی تخلیقات خود دیتی ہیں۔ ان کے کردار صرف واقعات کا مجموعہ نہیں بلکہ جیتے جاگتے انسان ہیں، جن کے دکھ، امیدیں، خواب اور داخلی کشمکش قاری کے دل میں اتر جاتی ہے۔ یہی وہ عنصر ہے جو کسی بھی عظیم ادب کو محض معلومات سے ممتاز بناتا ہے۔
آج تعلیم کے میدان میں بھی پریم چند کی فکر کی معنویت نمایاں ہے۔ نئی تعلیمی پالیسیوں میں تنقیدی فکر، اخلاقی تعلیم، سماجی شعور اور ہمہ جہت شخصیت سازی پر زور دیا جا رہا ہے۔ پریم چند کی تحریریں ان تمام مقاصد کی تکمیل میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں، کیونکہ وہ طلبہ کو صرف زبان نہیں سکھاتیں بلکہ زندگی کو سمجھنے کا سلیقہ بھی عطا کرتی ہیں۔صحافت کے میدان میں بھی پریم چند کا تصورِ ادب اور سماج بے حد اہم ہے۔ انہوں نے سچائی، دیانت داری اور عوامی مسائل کو ہمیشہ ترجیح دی۔ان کے مختلف النوع موضوعات پرتحریر کردہ مضامین نے غوروفکر کی ایک نئی دنیا آباد کی۔خصوصی طورپر قومی یکجہتی، لسانی تعصب اور سماجی استحصال کو انہوں نے اپنے غوروفکر کا موضوع بنایا۔ہندوستانی تہذیب وتمدن کی ترجمانی کے ساتھ ساتھ ملک کے ادبا اور شعرا پر بھی اپنی تنقیدی وتحقیقی رائے پیش کی۔ مثلاً سور داسؔ، بھوشنؔ، کبیرؔ، رحیمؔ خان خاناں، غالبؔ، میرؔکو بھی اپنا موضوع بنایا۔ آج جب اطلاعات کی فراوانی کے باوجود افواہوں، سنسنی خیزی اور تجارتی مفادات کا غلبہ بڑھتا جا رہا ہے، تو پریم چند کی فکر صحافیوں اور قلم کاروں کو یہ یاد دلاتی ہے کہ قلم کی اصل ذمہ داری عوام کے دکھ درد کی ترجمانی اور معاشرے میں انصاف کی آواز بلند کرنا ہے۔پریم چند کا قوم پرستی کا تصور بھی قابلِ غور ہے۔ ان کے نزدیک وطن سے محبت صرف جذباتی نعروں کا نام نہیں بلکہ ایسا سماج تشکیل دینا ہے جہاں ہر انسان کو عزت، انصاف اور مساوی مواقع حاصل ہوں۔ آج جب دنیا شناختی سیاست، لسانی کشیدگی اور سماجی تقسیم کے مسائل سے نبرد آزما ہے، تو پریم چند کا انسان دوست پہلے سے کہیں زیادہ اہم محسوس ہوتا ہے۔ان کا افسانہ ’’دنیا کا سب سے انمول رتن‘‘ آج بھی ایک شاہکار اور مثالی سمجھا جاتاہے ۔
ہاں یہ حقیقت ہے کہ نئی نسل کا ایک بڑا طبقہ کلاسیکی ادب سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ادب کی تدریس کو دلچسپ اور عصری انداز میں پیش نہیں کیا گیا۔ اگر پریم چند کی کہانیوں کو ڈیجیٹل پلیٹ فارم، آڈیو بکس، اینی میشن، ویب سیریز اور جدید تدریسی وسائل کے ذریعے نوجوانوں تک پہنچایا جائے تو ان کی فکر نئی نسل کے لئے بھی اتنی ہی مؤثر ثابت ہو سکتی ہے جتنی ایک صدی پہلے تھی۔ ٹیکنالوجی ادب کی حریف نہیں بلکہ اس کی معاون بن سکتی ہے، بشرطیکہ اسے صحیح مقصد کے لئے استعمال کیا جائے۔
مختصراً، پریم چند کا ادب ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ زمانے بدلتے رہتے ہیں، وسائل تبدیل ہوتے رہتے ہیں، مگر انسان کی بنیادی قدریں،عدل، محبت، دیانت، ہمدردی اور سماجی ذمہ داری ہمیشہ زندہ رہتی ہیں۔ یہی وہ قدریں ہیں جن پر ایک مہذب اور پائیدار معاشرہ قائم ہوتا ہے، اور یہی پریم چند کی فکر کا سب سے بڑا پیغام ہے۔ پریم چند کی ادبی عظمت کا سب سے روشن پہلو یہ ہے کہ انہوں نے ادب کو انسان دوستی کا منشور بنایا۔ انہوں نے نہ کسی مخصوص طبقے کی نمائندگی کی، نہ کسی خاص نظریے کی تبلیغ کو اپنا مقصد بنایا، بلکہ ان کی پوری تخلیقی زندگی انسان کی عزت، سماجی انصاف، اخلاقی تطہیر اور قومی بیداری کے لئے وقف رہی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تخلیقات وقت کی گرد سے محفوظ ہیں اور ہر نئے عہد میں نئی معنویت کے ساتھ ہمارے سامنے آتی ہیں۔آج جب مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل پلیٹ فارم اور عالمی مواصلاتی نظام نے انسانی زندگی کو غیر معمولی طور پر تبدیل کر دیا ہے، تو ایک خطرہ یہ بھی پیدا ہوا ہے کہ انسان کی توجہ فکر کی گہرائی سے ہٹ کر سطحیت کی طرف منتقل ہو رہی ہے۔ مطالعے کی جگہ مختصر ویڈیوز، سنجیدہ مکالمے کی جگہ فوری تبصرے اور کتابوں کی جگہ اسکرین نے لے لی ہے۔ اس صورتِ حال میں پریم چند کا ادب ہمیں توقف، تفکر اور خود احتسابی کی دعوت دیتا ہے۔ وہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ترقی صرف رفتار کا نام نہیں بلکہ شعور، اخلاق اور انسانیت کا سفر بھی ہے۔
پریم چند کی فکر کی ایک اہم خصوصیت ان کی حقیقت نگاری ہے۔ انہوں نے سماج کے تلخ حقائق سے نظریں نہیں چرائیں بلکہ انہیں پوری دیانت داری کے ساتھ پیش کیا۔ غربت، استحصال، طبقاتی تفاوت، مذہبی منافرت، جہالت، خواتین کے مسائل، کسانوں کی بدحالی اور سماجی ناانصافیاں ان کے ادب کے بنیادی موضوعات ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ایک صدی بعد بھی ان میں سے اکثر مسائل کسی نہ کسی صورت میں ہمارے معاشرے میں موجود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پریم چند کو پڑھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے جیسے وہ ہمارے آج کی کہانی لکھ رہے ہوں۔ہندوستان جیسے کثیرالثقافتی اور کثیرالمذہبی ملک میں پریم چند کی فکر قومی یکجہتی کا ایک مضبوط حوالہ ہے۔ ان کے کردار مذہب، زبان اور ذات سے پہلے انسان ہیں۔ وہ اختلاف کے باوجود باہمی احترام، رواداری اور سماجی ہم آہنگی پر یقین رکھتے ہیں۔ موجودہ دور میں جب معاشرتی تقسیم اور عدم برداشت کے رجحانات بڑھ رہے ہیں، پریم چند کا پیغام ہمیں مشترکہ تہذیب اور مشترکہ انسانیت کی طرف واپس بلاتا ہے۔اردو اور ہندی ادب کے تعلق سے بھی پریم چند کی شخصیت منفرد ہے۔ وہ دونوں زبانوں کے مشترکہ ادبی ورثے کی علامت ہیں۔ ان کی تخلیقات اس حقیقت کا ثبوت ہیں کہ زبانیں دیواریں نہیں بلکہ دلوں کو جوڑنے والے پل ہوتے ہیں۔ ان کا ادب ہندوستان کی اس گنگا جمنی تہذیب کا آئینہ ہے جس میں مختلف ثقافتیں ایک دوسرے کو تقویت دیتی ہیں۔اس لئے تعلیمی اداروں میں پریم چند کا مطالعہ صرف ادبی ذوق پیدا کرنے کے لئے نہیں بلکہ اخلاقی اور سماجی تربیت کے لئے بھی ضروری ہے۔ نئی نسل کو اگر صرف پیشہ ورانہ مہارتیں دی جائیں اور انسانی اقدار سے محروم رکھا جائے تو ترقی کا سفر ادھورا رہ جائے گا۔ پریم چند کی تحریریں طلبہ کو تنقیدی شعور، سماجی حساسیت، انصاف پسندی اور انسانی ہمدردی کی تعلیم دیتی ہیں، اور یہی کسی بھی مہذب معاشرے کی بنیاد ہے۔یہ بھی ضروری ہے کہ ہم پریم چند کو صرف نصابی مصنف کے طور پر نہ پڑھیں بلکہ ان کی فکر کو عصرِ حاضر کے تناظر میں سمجھیں۔ ان کے افسانوں پر مباحثے ہوں، ان کے ناولوں کی نئی تشریحات سامنے آئیں، ان کی تخلیقات پر فلمیں، آڈیو بکس، پوڈکاسٹس اور ڈیجیٹل کورسز تیار کیے جائیں تاکہ نئی نسل ان کے پیغام سے براہِ راست استفادہ کر سکے۔ ٹیکنالوجی اگر ادب کی ترویج کے لئے استعمال ہو تو وہ پریم چند جیسے ادیبوں کے افکار کو دنیا کے ہر گوشے تک پہنچا سکتی ہے۔
خلاصہ کلام یہ کہ ڈیجیٹل انقلاب نے انسان کو بے شمار سہولتیں عطا کی ہیں، لیکن یہ انقلاب اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتا جب تک اس کے ساتھ اخلاقی شعور، انسانی ہمدردی اور سماجی ذمہ داری بھی شامل نہ ہو۔ یہی وہ اقدار ہیں جنہیں پریم چند نے اپنی پوری ادبی زندگی میں فروغ دیا۔ ان کا ادب ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ معاشرہ صرف مشینوں، عمارتوں اور معاشی ترقی سے عظیم نہیں بنتا بلکہ اس کی اصل عظمت انسان کے کردار، انصاف کے نظام اور باہمی محبت میں مضمر ہے۔پریم چند کی فکر دراصل ایک چراغ ہے جو ہر عہد کے اندھیروں میں روشنی دیتا ہے۔ اگر بیسویں صدی میں انہوں نے استحصال زدہ انسان کی آواز بلند کی تھی تو اکیسویں صدی میں بھی ان کی آواز اتنی ہی توانا، اتنی ہی معتبر اور اتنی ہی ضروری ہے۔ اس لئے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ڈیجیٹل دور میں پریم چند کو پڑھنا ماضی کی طرف لوٹنا نہیں بلکہ مستقبل کو زیادہ انسانی، زیادہ عادلانہ اور زیادہ باوقار بنانے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔پریم چند کا ادب وقت کی قید سے آزاد ادب ہے۔ ان کی فکر انسان، سماج اور تہذیب کی تعمیر کا ایسا سرچشمہ ہے جو ہر دور میں نئی نسل کو روشنی فراہم کرتا رہے گا۔ آج جب دنیا تیزی سے ڈیجیٹل تبدیلیوں کے دور سے گزر رہی ہے، تو پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ٹیکنالوجی کے ساتھ انسانیت بھی زندہ رہے، ترقی کے ساتھ اخلاق بھی قائم رہے، اور معلومات کے ساتھ بصیرت بھی پروان چڑھے۔ یہی پریم چند کی فکر کا حقیقی پیغام اور ان کی ابدی معنویت ہے۔راقم الحروف نے اپنی کتاب ’’احتسابِ فکر ونظر‘‘ مطبوعہ2014ء میں اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا تھا کہ :
’’ایک عظیم فنکار کی سب سے بڑی خوبی یہ ہوتی ہے کہ زمان ومکان کی قید سے آزاد ہوتاہے اور گزرتے ہوئے وقت کے ساتھ ساتھ اس کی تخلیقی معنویت اور بڑھتی جاتی ہے ۔ پریم چند اردو کے واحد فکشن نگار ہیں جن کی فکر کا سورج ہر زمانے میں عدمِ مساوات، ظلم وجبر، فرقہ پرستی، تعصب پرستی، تنگ ذہنی وتنگ نظری اور ہر طرح کی نا انصافیوں کی تاریکیوں کو مٹانے کی قوت رکھتا ہے ‘‘ (ص:55)
غرض کہ عہدِ حاضر جسے ڈیجٹل عہد کہا جاتاہے اس میں بھی پریم چند کی تخلیقی شناخت اتنی ہی مستحکم ہے جتنی کہ بیسویں صدی میں تھی۔کیوں کہ جس طرح ’’پوس کی رات‘‘ کا ہلکوؔ شدت کے جاڑے کی رات میں زمینداروں کے قرض اور جبریہ مزدوری کے خوف سے بغیر گرم کپڑے کے اذیت ناک زندگی گزارنے پر مجبور تھا ، آج بھی لاکھوں کسان قرض کے بوجھ سے دبے ہوئے ہیں اور ہر سال ہزاروں خود کشی کر رہے ہیں ۔اس لئے پریم چند کی عصری معنویت اور ان کے افکار ونظریات کی اہمیت وافادیت ابدی وازلی ہے۔


