لداخ میں گلیشیئرز، برفانی تودوں اور GLOF کی نگرانی کے لئے ISRO کی خلائی ٹیکنالوجی کا مؤثر استعمال

جنگ نیوز ڈیسک

سرینگر/مرکزی حکومت نے لوک سبھا کو بتایا ہے کہ ISRO لداخ میں گلیشیئرز، برفانی جھیلوں، برف باری، برفانی تودوں، لینڈ سلائیڈنگ، آبی وسائل اور GLOF جیسے قدرتی خطرات کی نگرانی کے لئے سیٹلائٹ اور جغرافیائی ٹیکنالوجی کا وسیع پیمانے پر استعمال کر رہا ہے۔
وزیر مملکت برائے وزیر اعظم دفتر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے تحریری جواب میں بتایا کہ 2020 سے 2023 کے دوران سیٹلائٹ ڈیٹا کی مدد سے لداخ کے 2 ہزار سے زائد گلیشیئرز کا ریکارڈ تیار کیا گیا، جبکہ گزشتہ دو دہائیوں میں ایک ہزار سے زیادہ گلیشیئرز میں ہونے والی تبدیلیوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ وزارت جل شکتی کے قومی ہائیڈرولوجی پروجیکٹ کے تحت 3219 برفانی جھیلوں کی نقشہ بندی کی گئی ہے اور زیادہ خطرناک جھیلوں کے لئے GLOF خطرات کا جائزہ بھی لیا گیا ہے۔
ڈاکٹر سنگھ کے مطابق ISRO گزشتہ چند برسوں سے برفانی صورتحال، لینڈ سلائیڈنگ، موسم اور آبی وسائل کی مسلسل سیٹلائٹ نگرانی کر رہا ہے، جبکہ قبل از وقت انتباہی نظام، جغرافیائی معلوماتی پلیٹ فارم اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے لئے متعدد خلائی منصوبوں پر بھی کام جاری ہے تاکہ لداخ میں موسمیاتی تبدیلیوں اور قدرتی آفات کے اثرات کو مؤثر انداز میں کم کیا جا سکے۔
جنگ نیوز ڈیسک
IRSO LOGO AND GLACIER PP
سرینگر/مرکزی حکومت نے لوک سبھا کو بتایا ہے کہ ISRO لداخ میں گلیشیئرز، برفانی جھیلوں، برف باری، برفانی تودوں، لینڈ سلائیڈنگ، آبی وسائل اور GLOF جیسے قدرتی خطرات کی نگرانی کے لئے سیٹلائٹ اور جغرافیائی ٹیکنالوجی کا وسیع پیمانے پر استعمال کر رہا ہے۔
وزیر مملکت برائے وزیر اعظم دفتر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے تحریری جواب میں بتایا کہ 2020 سے 2023 کے دوران سیٹلائٹ ڈیٹا کی مدد سے لداخ کے 2 ہزار سے زائد گلیشیئرز کا ریکارڈ تیار کیا گیا، جبکہ گزشتہ دو دہائیوں میں ایک ہزار سے زیادہ گلیشیئرز میں ہونے والی تبدیلیوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ وزارت جل شکتی کے قومی ہائیڈرولوجی پروجیکٹ کے تحت 3219 برفانی جھیلوں کی نقشہ بندی کی گئی ہے اور زیادہ خطرناک جھیلوں کے لئے GLOF خطرات کا جائزہ بھی لیا گیا ہے۔
ڈاکٹر سنگھ کے مطابق ISRO گزشتہ چند برسوں سے برفانی صورتحال، لینڈ سلائیڈنگ، موسم اور آبی وسائل کی مسلسل سیٹلائٹ نگرانی کر رہا ہے، جبکہ قبل از وقت انتباہی نظام، جغرافیائی معلوماتی پلیٹ فارم اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے لئے متعدد خلائی منصوبوں پر بھی کام جاری ہے تاکہ لداخ میں موسمیاتی تبدیلیوں اور قدرتی آفات کے اثرات کو مؤثر انداز میں کم کیا جا سکے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

یوم یکجہتی پر وزیر اعظم کا خطاب:نکسلواد ختم، غربت میں نمایاں کمی،

  جنگ نیوز ڈیسک نئی دہلی/وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتے...

سرینگر میں ڈاکٹر عزیز حاجنی کی ادبی خدمات کو خراج عقیدت پیش

جنگ نیوز سرینگر/کشمیری زبان و ادب کی ممتاز شخصیت ڈاکٹر...

وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے صحافی ندھی رازدان سے شادی کرلی

جنگ نیوز سرینگر/جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ...

آشوتوش دکشت نے بھارتی فضائیہ کے سربراہ کے طور پر عہدہ سنبھالا

جنگ نیوز   ایئر چیف مارشل آشوتوش دکشت پی وی ایس...

تازہ ترین خبریں

یوم یکجہتی پر وزیر اعظم کا خطاب:نکسلواد ختم، غربت میں نمایاں کمی،

  جنگ نیوز ڈیسک نئی دہلی/وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتے...

سرینگر میں ڈاکٹر عزیز حاجنی کی ادبی خدمات کو خراج عقیدت پیش

جنگ نیوز سرینگر/کشمیری زبان و ادب کی ممتاز شخصیت ڈاکٹر...

وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے صحافی ندھی رازدان سے شادی کرلی

جنگ نیوز سرینگر/جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ...

آشوتوش دکشت نے بھارتی فضائیہ کے سربراہ کے طور پر عہدہ سنبھالا

جنگ نیوز   ایئر چیف مارشل آشوتوش دکشت پی وی ایس...

لداخ میں گلیشیئرز، برفانی تودوں اور GLOF کی نگرانی کے لئے ISRO کی خلائی ٹیکنالوجی کا مؤثر استعمال

جنگ نیوز ڈیسک

سرینگر/مرکزی حکومت نے لوک سبھا کو بتایا ہے کہ ISRO لداخ میں گلیشیئرز، برفانی جھیلوں، برف باری، برفانی تودوں، لینڈ سلائیڈنگ، آبی وسائل اور GLOF جیسے قدرتی خطرات کی نگرانی کے لئے سیٹلائٹ اور جغرافیائی ٹیکنالوجی کا وسیع پیمانے پر استعمال کر رہا ہے۔
وزیر مملکت برائے وزیر اعظم دفتر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے تحریری جواب میں بتایا کہ 2020 سے 2023 کے دوران سیٹلائٹ ڈیٹا کی مدد سے لداخ کے 2 ہزار سے زائد گلیشیئرز کا ریکارڈ تیار کیا گیا، جبکہ گزشتہ دو دہائیوں میں ایک ہزار سے زیادہ گلیشیئرز میں ہونے والی تبدیلیوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ وزارت جل شکتی کے قومی ہائیڈرولوجی پروجیکٹ کے تحت 3219 برفانی جھیلوں کی نقشہ بندی کی گئی ہے اور زیادہ خطرناک جھیلوں کے لئے GLOF خطرات کا جائزہ بھی لیا گیا ہے۔
ڈاکٹر سنگھ کے مطابق ISRO گزشتہ چند برسوں سے برفانی صورتحال، لینڈ سلائیڈنگ، موسم اور آبی وسائل کی مسلسل سیٹلائٹ نگرانی کر رہا ہے، جبکہ قبل از وقت انتباہی نظام، جغرافیائی معلوماتی پلیٹ فارم اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے لئے متعدد خلائی منصوبوں پر بھی کام جاری ہے تاکہ لداخ میں موسمیاتی تبدیلیوں اور قدرتی آفات کے اثرات کو مؤثر انداز میں کم کیا جا سکے۔
جنگ نیوز ڈیسک
IRSO LOGO AND GLACIER PP
سرینگر/مرکزی حکومت نے لوک سبھا کو بتایا ہے کہ ISRO لداخ میں گلیشیئرز، برفانی جھیلوں، برف باری، برفانی تودوں، لینڈ سلائیڈنگ، آبی وسائل اور GLOF جیسے قدرتی خطرات کی نگرانی کے لئے سیٹلائٹ اور جغرافیائی ٹیکنالوجی کا وسیع پیمانے پر استعمال کر رہا ہے۔
وزیر مملکت برائے وزیر اعظم دفتر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے تحریری جواب میں بتایا کہ 2020 سے 2023 کے دوران سیٹلائٹ ڈیٹا کی مدد سے لداخ کے 2 ہزار سے زائد گلیشیئرز کا ریکارڈ تیار کیا گیا، جبکہ گزشتہ دو دہائیوں میں ایک ہزار سے زیادہ گلیشیئرز میں ہونے والی تبدیلیوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ وزارت جل شکتی کے قومی ہائیڈرولوجی پروجیکٹ کے تحت 3219 برفانی جھیلوں کی نقشہ بندی کی گئی ہے اور زیادہ خطرناک جھیلوں کے لئے GLOF خطرات کا جائزہ بھی لیا گیا ہے۔
ڈاکٹر سنگھ کے مطابق ISRO گزشتہ چند برسوں سے برفانی صورتحال، لینڈ سلائیڈنگ، موسم اور آبی وسائل کی مسلسل سیٹلائٹ نگرانی کر رہا ہے، جبکہ قبل از وقت انتباہی نظام، جغرافیائی معلوماتی پلیٹ فارم اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے لئے متعدد خلائی منصوبوں پر بھی کام جاری ہے تاکہ لداخ میں موسمیاتی تبدیلیوں اور قدرتی آفات کے اثرات کو مؤثر انداز میں کم کیا جا سکے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں