جنگ نیوز
وزیر اعظم نریندر مودی نے اعلان کیا ہے کہ پرچوں کے افشا کے واقعات کی روک تھام کے لئے فاسٹ ٹریک عدالتوں کے قیام اور سخت سزاؤں پر مبنی مسودۂ قانون آج جمعہ کو مرکزی کابینہ کے اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس قانون کو جاری مانسون اجلاس کے دوران جلد از جلد پارلیمان کے دونوں ایوانوں سے منظور کرانے کی ہر ممکن کوشش کرے گی۔
سوشل میڈیا پر جاری اپنے ویڈیو پیغام میں وزیرِ اعظم نے کہا کہ امتحانی پرچوں کے افشا نے لاکھوں طلبہ اور ان کے والدین کو شدید ذہنی اذیت سے دوچار کیا ہے اور حکومت اس مسئلے سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لئے پُرعزم ہے۔ ان کے بقول یہ کوئی معمولی معاملہ نہیں بلکہ ملک کے تعلیمی نظام اور نوجوانوں کے مستقبل سے جڑا ایک نہایت سنگین مسئلہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ NEET پرچہ افشا معاملے کے بعد حکومت کی اولین ترجیح یہ تھی کہ طلبہ کا ایک تعلیمی سال ضائع نہ ہونے پائے، اسی لئے ریکارڈ مدت میں تقریباً بائیس لاکھ امیدواروں کے لئے دوبارہ امتحان منعقد کیا گیا اور 19 جولائی کو نتائج بھی جاری کر دیے گئے۔
وزیرِ اعظم نے بتایا کہ مبینہ پرچہ افشا معاملے میں ملوث متعدد افراد کو گرفتار کرکے جیل بھیج دیا گیا ہے، تاہم صرف یہی اقدامات کافی نہیں۔ اسی لئے متعلقہ محکموں کو فاسٹ ٹریک عدالتوں اور مزید سخت قانونی سزاؤں پر مشتمل قانون تیار کرنے کی ہدایت دی گئی۔
انہوں نے کہا کہ تیار کردہ مسودۂ قانون میں خصوصی عدالتوں کے قیام اور سخت تعزیری دفعات شامل ہیں، جس پر کابینہ میں غور کے بعد حتمی شکل دی جائے گی اور اسے مانسون اجلاس کے دوسرے ہفتے میں پارلیمان میں پیش کرکے جلد از جلد منظور کرانے کی کوشش کی جائے گی۔
یہ اعلان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب مبینہ NEET پرچہ افشا معاملے پر ملک بھر میں احتجاج جاری ہے اور پارلیمان میں بھی اپوزیشن اس مسئلے پر بحث اور مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کر رہی ہے، جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ ذمہ دار عناصر کے خلاف فوری کارروائی کے ساتھ ساتھ قانونی اور ادارہ جاتی اصلاحات بھی متعارف کرائی جا رہی ہیں۔
ویڈیو سے قبل وزیر اعظم نے ٹیوٹ میں کہا
"ہمارے نوجوانوں کی فلاح و بہبود اور ان کا مستقبل سب سے بڑھ کر ہے!
ہم نے پرچہ لیک کے معاملات میں ملوث افراد کو فوری اور سخت سزا یقینی بنانے کے لئے فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں متعلقہ حکام اور افسران کو تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت دے دی گئی ہے۔ یہ طلبہ کے مفادات کے تحفظ کے لئے ہمارے مسلسل اقدامات کے سلسلے کی کڑی ہے۔
جو لوگ ہمارے نوجوانوں کے مستقبل کو نقصان پہنچانے کی کوشش کریں گے، انہیں کسی بھی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔”
دہلی ہائی کورٹ نے امتحانی پرچوں کے افشا سے متعلق مقدمات کے لئے خصوصی فاسٹ ٹریک عدالت قائم کردی
دہلی ہائی کورٹ نے امتحانی پرچوں کے مبینہ افشا سے متعلق مقدمات کی تیز رفتار سماعت کے لئے خصوصی فاسٹ ٹریک عدالت کے قیام کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ یہ اقدام وزیرِ اعظم نریندر مودی کی جانب سے امتحانی بدعنوانیوں کے خلاف سخت قانونی اقدامات اور فاسٹ ٹریک عدالتوں کے قیام کے اعلان کے چند گھنٹوں بعد سامنے آیا۔
ہائی کورٹ کے حکم نامے کے مطابق محترمہ انو گروور بالیگا کو روز ایونیو عدالتی کمپلیکس میں قائم نئی خصوصی فاسٹ ٹریک عدالت کی جج مقرر کیا گیا ہے۔ یہ عدالت پبلک ایگزامینیشنز (انسدادِ ناجائز ذرائع) ایکٹ، 2024 اور اس سے متعلق دیگر جرائم کے مقدمات کی سماعت کرے گی۔
حکم نامے میں یہ بھی ہدایت دی گئی ہے کہ مذکورہ قانون کے تحت زیرِ التوا تمام مقدمات نئی قائم شدہ فاسٹ ٹریک عدالت کو منتقل کیے جائیں تاکہ ان کی فوری اور مؤثر سماعت یقینی بنائی جا سکے۔
قابلِ ذکر ہے کہ وزیرِ اعظم نریندر مودی نے جمعرات کو اعلان کیا تھا کہ حکومت امتحانی پرچوں کے افشا کے واقعات کے سدِباب کے لئے مزید سخت قانونی اقدامات کرے گی اور اس مقصد کے لئے فاسٹ ٹریک عدالتوں کے قیام سمیت نئی قانون سازی پارلیمنٹ میں جلد پیش کی جائے گی۔


