جنگ نیوز
نئی دہلی/بھارت نے 33ویں آسیان ریجنل فورم میں پاکستان کے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ کے بیانات کو بے بنیاد، گمراہ کن اور ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا کہ پاکستان ایک بار پھر بین الاقوامی پلیٹ فارم کو جھوٹے پروپیگنڈے اور ریاستی سرپرستی میں غلط معلومات پھیلانے کے لئے استعمال کر رہا ہے تاکہ سرحد پار دہشت گردی میں اپنے کردار سے توجہ ہٹائی جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر اور لداخ بھارت کے اٹوٹ اور ناقابلِ تنسیخ حصے تھے، ہیں اور ہمیشہ رہیں گے، اس لئے پاکستان کو اس معاملے پر تبصرہ کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں۔
رندھیر جیسوال نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ (IWT) پاکستان کی مسلسل سرحد پار دہشت گردی، خصوصاً پہلگام حملے کے تناظر میں معطل ہے اور یہ اس وقت تک معطل رہے گا جب تک پاکستان دہشت گردی کی حمایت مکمل اور قابلِ اعتماد طور پر ترک نہیں کرتا۔
انہوں نے پاکستان کی جانب سے "فتنہ الہندوستان” جیسی اصطلاحات کے استعمال کی بھی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو بین الاقوامی فورمز کے غلط استعمال کے بجائے اپنی سرزمین پر موجود دہشت گردی کے ڈھانچے کا خاتمہ کرنا چاہیے۔


