
اس دنیا میں، میں نے کچھ لوگ ایسے بھی دیکھے ہیں جو اپنی ذات کے خود ہی دشمن ہوتے ہیں ۔یہ لوگ نفسیاتی مریض ہوتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں دوسروں کا برا سوچنے سے یا برا چاہنے سے وہ دوسروں کو نقصان پہنچا رہے ہیں اصل میں وہ خود کا ہی نقصان کر رہے ہوتے ہیں ۔ایسے لوگوں کو نفسیاتی مرض ایک ناسور بن کر ان کو اندر ہی اندر سے گہن کی طرح چاٹ رہی ہوتی ہے اور یہی بیماری انہیں اندر سے کھوکھلا کر کے ہر احساسات اور جذبات سے عاری کر دیتی ہے۔
ایسا ہی ایک شخص تھا جس کا نام تھا سعود ۔
ایک شام سعود گھر میں اکیلا بیٹھا تھا ،شام کے سائے ہر طرف پھیلنے لگے تھے ۔گھر کی تنہائی میں اسے گھٹن کا احساس ہو رہا تھا ۔یادوں کے احصار نے آ گھیرا تھا ۔کچھ دن پہلے کی بات ہے اس گھر میں اس کی بیوی ذندہ لاش کی طرح چلتی پھرتی نظر آتی ۔بے در پے دو بچوں کی موت کے صدمے نے اسے اندر سے نچور دیا تھا ۔وہ باگل پن کی حد تک پہنچ چکی تھی ۔لیکن اسے اس سے بھی زیادہ غوصہ اپنے شوہر پر آرہا تھا کیونکہ وہ اسے اپنے بچوں کی موت کا ذمے دار قرار دے رہی تھی ۔جو اپنے بچوں کو بچانے کے لئے کچھ بھی نہیں کرسکا تھا ۔وہ جب بھی ا پنے شوہر کو دیکھتی تو وہ نگاہیں نیچی کر لیتا کیونکہ ان نگاہوں میں اسے حثرت و نیاس ،غصہ اور تنز کے تیر نظر آتے جن کو برداشت کرنا سعود کے بس سے باہر تھی۔
سعود ایک متوسط گھرانے سے تعلق رکھتا تھا ۔سعود کے ماں باپ محنت مزدوری کرکے گزارا کررہے تھے ان کی کچھ زمینیں تھیں جس پر اگنے والی فصلوں سے ان کا سال بھر کے لئے گزارا ہو جاتا تھا ۔سعود ان کی پہلی اولاد تھی اس لئے وہ اسے ہر چھوٹی موٹی خوشیاں دینے کی کوشش کر رہے تھے ۔اس لاڈ پیار نے سعود کو بگاڑ دیا تھا۔
ہڈ حرامی ،سستی کاہلی اور بے حسی اس کے خون میں شامل ہو گئی تھی ۔سعود اپنے ماں باپ کی تکلیفوں کا کوئی اثر محسوس نہیں کرتا ۔وہ دن با دن تعلیم سے دور ہوتا گیا ۔ماں باپ نے بہت سمجھایا پر ان کے سمجھانے کا کچھ اثر نہیں پڑا ۔
کچھ عرصے میں سعود کے باپ کی بیماری کی وجہ سے موت ہو گئی ۔پھر سعود کی ماں نے اس کے چاچا سے شادی کرلی تاکہ سعود کو باپ کا سہارا مل سکے۔
پھر کچھ سالوں میں سعود کے سوتیلے بھائی بہن کی آمد ہوئی ۔
پر سعود ان سے سوتیلوں جیسا سلوک کرنے لگا اور ہر وقت اپنا غصہ ان سوتیلے بھائی بہن پہ نکالتا رہتا ۔
سعود جب جوان ہوا تو وہ اوباش قسم کے لڑکوں کے ساتھ دوستی کرلی جو ہر غلط کام کرتے جیسے چوری چکاری ،جوا ،شراب نوشی دوسروں کی عورتوں کو تنگ کرنا بھی شامل تھا۔
سعود انہی حرکتوں کی وجہ سے ایک دن حادثے سے دو چار ہوا۔حادثہ کی وجہ سے اس کی آنکھوں کی بینائی چلی گئی ۔اس کے جتنے بھی اوباش قسم کے دوست تھے وہ سب سعود کو اس حال میں چھوڑ کر چلے گئے تھے ۔سعود اب پوری طرح سے گھر والوں کے رحم و کرم پہ تھا۔
ماں باپ سے جتنا ہوسکا انہوں نے سعود کا علاج کروایا اس کے لئے اپنی کچھ زمین بھی فروخت کر دی تھی۔علاج سے سعود ٹھیک تو ہو چکا تھا پر اس کی بینائی پوری طرح سے نہیں لوٹی تھی۔
کل تک جو سعود خوبرو نوجوان کی طرح بن ٹھن کے نکلتا تو غرور سے سر کو اٹھا کر چلتا تھا لیکن اب وہ جب بھی گھر سے نکلتا تو بینائی کمزور ہونے کی وجہ سے نگاہوں کو جھکا کر چلتا۔سچ کہتے ہیں کہ خدا کی لاٹھی بے آواز ہے ۔سعود کو اس کے برے کاموں کی سزا مل چکی تھی ۔
ایک دن سعود نے اپنے سوتیلے باپ سے اپنی شادی کی بات تو اس کے باپ نے کہا ” پہلے شادی کرنے کے قابل تو بن ۔شکل ہے نہ عقل اور اوپر سے کمائی کا ذریعہ بھی نہیں ہے،تجھ جیسے مفت خورے کو لڑکی دے گا کون” ۔
لیکن سعود اپنی ضد پہ اڑا رہا ” میں کچھ بھی نہیں سننا چاہتا، بس مجھے شادی کرنی ہے ہر حالت میں”
یہ سن کر سعود کی ماں اپنے شوہر کو سمجھانے لگی: ” ایک نا ایک دن سعود کی شادی کی ذما داری سر سے اتارنی ہے ،اور ویسے بھی سعود پہ بیوی بچوں کی ذما داری پڑے گی تو سمجھ داری آ ہی جائے گی اور کمانے پر مجبور بھی ہوگا”.
چنانچہ سعود کے والد نے کسی غریب گھرانے سے تعلق رکھنے والی سعدیہ نامی لڑکی سے سعود کی شادی کرادی ۔
سعدیہ سیدھی سادی لڑکی تھی ۔کم پڑی لکھی تھی۔ اس نے اپنی زندگی ماں باپ کے کہنے پر گزاری تھی۔اسے اپنے شوہر سعود سے کوئی اتنی بڑی توقع نہیں تھی ۔اس نے سسرال میں آتے ہی اسے اپنے گھر جیسا سمجھا اور گھر کے کاموں میں خود کو مصروف کرلیا ۔
شروع شروع میں سعود نے محنت مزدوری کرکے گزارا کرنے کی کوشش کی لیکن اس کی ہڈ حرامی اور سستی اس کی محنت کے آڑے آئی وہ کام چھوڑ کر گھر پہ بیٹھ گیا۔وہ بینائی کی کمزوری کا بہانا بناتا تو کبھی خود کو بیمار ظاہر کرتا ۔وہ لوگوں کی باتوں میں آکر کبھی فقیروں تو کبھی حکیموں کے پاس جانا شروع کر دیا علاج کے لئے۔
ایک دن سعدیہ کے گھر والے اپنی بیٹی سے ملنے آئے ۔پر سعدیہ کے پاس ان کی مہمان نوازی کے لئے کچھ بھی نہیں تھا کیونکہ سعود تو کچھ کماتا نہیں تھا ۔سعدیہ اپنے گھر والوں کے سامنے شرمندہ ہوئی ۔سعدیہ کے ماں باپ سمجھ گے تھے کہ یہی بیٹی کی قسمت میں لکھا ہے اور اپنی بیٹی کو دلاسہ دے کر چلے گئے ۔
سعود کے سوتیلے بھائی بہن اب جوان ہو چکے تھے اس لئے ان کے ماں باپ نے ان کی شادی کے لئے جو کچھ زمین بچی تھی وہ بیچ کر ان کی شادی کروائی۔
۔سعود کے حصے میں صرف ایک مکان آیا تھا ۔
اس کے باوجود بھی سعود اپنے ماں باپ کے گھر میں پڑا رہتا ۔
سعدیہ نے دیکھا کہ اس کا شوہر کچھ کما نہیں رہا سارا دن گھر ہی پڑا رہتا ہے تو اس نے اپنی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے خود ہی محنت مزدوری کرنی شروع کردی وہ لوگوں کے کپڑے دھوتی ان کے گھر کے کام کرتی اور وہ انہیں تھوڑے سے پیسے دیتے تھے جس سے سعدیہ کی گزر بسر ہو رہی تھی ۔
سعود کے ماں باپ نے اسے بہت سمجھایا کہ وہ محنت مزدوری کرے کچھ کمائے ورنہ کل کو جب اس کی اولاد ہوگی تو کہاں سے کھلاے گا ۔پر سعود نے ان کی باتوں سے کوئی اثر نہیں لیا تھا۔
سعدیہ ان دنوں امید سے تھی اور اپنے ماں باپ کے گھر آئی ہوئی تھی اپنے پہلے بچے کی پیدائش کے لئے ۔سعود اس کے ساتھ نہیں آیا تھا ۔
بچے کی پیدائش ہسپتال میں ہوئی تھی ۔ بچہ بہت کمزور تھا ڈاکٹر نے بچے کو آئی ۔سی ۔یو میں رکھنے کا مشورہ دیا ۔سعدیہ کے غریب ماں باپ کے پہلے سے ہی بچے کی ڈلیوری کا خرچہ بڑی مشکل سے ادا کیا تھا اب ان کے مزید خرچہ برداشت نہیں کر سکتے تھے اس لئے انھوں نے سعود کو مدد کے لئے بلایا تھا ۔سعود کے پاس پھوٹی کوڑی بھی نہیں تھی وہ پہلے سے ہی ماں باپ کے گھر میں پڑا رہتا اور اوپر سے کچھ کماتا بھی نہیں تھا ۔
نتیجہ یہ نکلا کہ بچہ ہسپتال میں انتقال کر گیا ۔سعدیہ کے لئے یہ صدمہ بہت بڑا تھا ۔
اس واقعے کے بعد سعود کی ماں نے اس کو سمجھا تے ہوئے کہا ” اب بھی تیری آنکھیں نہیں کھولیں اگر تو کچھ دو چار پیسے کما لیتا تو آج تیرا بچہ ہسپتال میں بے موت نہ مرتا۔خدارا اپنے عقل پہ پڑے ہوئے بند قفل کو کھول اور کچھ تو سمجھ داری سے کام لے” یہ سن کے سعود بولا ” میں بیمار ہوں میرا کوئی علاج نہیں کرواتا” سعود کی ماں غصے سے بولی ” کتنے سالوں سے تیرے منہ سے یہی سنتے آئے ہیں کہ بیمار ہے جبکہ تمہیں کوئی بیماری نہیں ہے ،یہ تیرا وہم ہے اور وہم کا کوئی علاج نہیں ہوتا”۔
سال گزرا تھا سعود کے ماں باپ اب اس دنیا چل بسے تھے ۔اس کے سوتیلے بھائی اس سے الگ رہتے تھے ۔
سعود اپنے گھر میں ہی سارا دن پڑا رہتا ۔سعدیہ اسے سمجھانے کی کوشش کرتی کہ محنت مزدوری کرکے گھر کی ضروریات کو پورا کرے اس طرح پڑے رہنے سے گھر کے خرچے پورے نہیں ہوتے ۔لیکن سعود یہ کہتا :” میری نظر کمزور ہے اور میں بیمار ہوں مجھے کون کام پہ رکھے گا ” ۔ اور پھر اپنی قسمت کو کوسنے لگا۔” اسی طرح گھر میں فارغ پڑے رہنے سے اور قسمت کو کوسنے سے قسمت بدل نہیں جاتی ۔قسمت کو اپنے ہاتھوں سے بدلنے کے لئے محنت کرنی پڑتی ہے ۔اور یہ تب ہی ممکن ہو سکتا ہے جب آنکھوں سے نہیں عقل سے دیکھو گے کیونکہ آنکھوں سے اندھا پھر بھی دیکھ سکتا ہے لیکن عقل کا اندھا کبھی نہیں دیکھ سکتا” سعدیہ اپنے بچے کے غم میں ایک دم پھٹ پڑی تھی ۔پر سعود کے دماغ میں وہم گھر کر چکا تھا ۔وہ سوچتا کہ دنیا جہان کی ساری بیماریاں مجھ میں ہی ہیں ۔اور میں بہت جلد اس سے رخصت ہو جاؤں گا ۔حالانکہ یہ سب اس کا دماغی فتور تھا ۔اس لئے تو کہتے ہیں کہ خالی دماغ شیطان کا کارخانہ ہوتا ہوتا ہے ۔
دن ایسے ہی گزرتے گئے سعدیہ ایک بار پھر امید سے ہوئی تھی اس بار بھی اس کے بچے کی ڈلیوری ہسپتال میں ہوئی تھی جس کا خرچہ اس کے ماں باپ نے اٹھایا تھا ۔بچہ اس بار بھی بہت کمزور تھا جس کے علاج کے لئے پیسوں کی ضرورت تھی ۔سعود کماتا تو تھا نہیں ڈھیٹ بن کر گھر پر ہی پڑا رہتا تھا ۔اس لئے وہ بچے کے علاج کے لئے پیسے کہاں سے دیتا۔
دوسرا بچہ بھی پہلے بچے کی طرح ہسپتال میں ہی مر گیا ۔سعدیہ کے لئے یہ دوسرا بڑا صدمہ تھا جس کو برداشت کرنا اس کے بس سے باہر تھا ۔سعدیہ دکھ تکلیفوں سے چور ہو کر گھر پہنچی ۔بے در پے دو بچوں کی موت نے اسے اندر سے نچور کے رکھ دیا تھا ۔وہ سعود کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتی کیونکہ وہ اس کو اپنے بچوں کی موت کی ذما دار سمجھتی تھی ۔
سعدیہ کے ماں باپ بیٹی کے اس حالات سے وقف تھے اور مزید اپنی بیٹی کو سعود جیسے سست ،ہڈ حرامی اور نفسیاتی مریض کے ساتھ نہیں دیکھ سکتے تھے ۔انھوں نے سعود سے طلاق مانگ لی ۔سعود کے صرف کے پاس صرف ایک مکان تھا جو کہ طلاق میں حق مہر کے طور پر دینا پڑتا ۔اس نے سعدیہ کو طلاق دینے سے انکار کردیا تھا ۔سعدیہ اب مزید اس شخص کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی تھی ۔اس لئے اس نے سعود سے کہا ” میں تیرے جیسے عقل سے اندھے اور نفسیاتی مریض کے ساتھ ایک پل کے لئے بھی ساتھ نہیں رہنا چاہتی ،مجھے تم سے طلاق چاہیے ۔کاش میں یہ فیصلہ پہلے لے پاتی ” ۔
یہ کہے کہ وہ سعود کے گھر سے چلی گئی اور جاتے جاتے سعود کو دھمکی دے گی کہ اگر اس نے طلاق نہیں دی تو وہ عدالت تک جائے گی ۔اب سعود کے پاس کوئی اور راستہ نہیں بچا تھا کہ طلاق دے دے ۔
سعود کو مجبوراً طلاق دینا پڑی تھی ۔ اس کا مکان اس سے حق مہر کے طور پر سعدیہ کے حصے میں چلا گیا تھا۔اس نے اپنے بھائیوں سے مدد مانگی تو انہوں نے کہا :”ہماری خود کی اولاد کے خرچے بھی بامشکل پورا کر پاتے ہیں ۔ہمارے پاس تمہیں دینے کے لئے کچھ بھی نہیں ہے ویسے بھی تم اپنے حصے کا مکان لے چکے ۔ہماری زمین میں سے تمہارا کوئی حصہ نہیں۔اگر ماں باپ کا مشورہ مان کر کچھ کماتے تو آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتا ۔تم اپنی بربادی کے خود ہی ذمادار ہو” ۔سعود اب در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور تھا۔
وہ کسی پہ کیا الزام دیتا وہ اپنی ذات کا خود ہی دشمن تھا ۔وہ گلیوں میں پاگلوں کی طرح گمتا پھرتا ۔پچھتاوے کے آنسو اس کی آنکھوں میں بہتے جا رہے تھے ۔اس نے اپنے لئے کانٹوں کی فصل بوئی تھی اب یہی فصل ساری عمر کاٹنی تھی۔


