مردے کی تفتیش

 

ماجد مجید

جوں ہی مردے کو قبرستان میں دفنایا گیا اور غم زدہ افراد اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے تو فوراً تفتیش والے سوالوں کی بوچھاڑ لئے مردے کی قبر میں داخل ہوئے اور کہا، "بولو، تیرے لئے کیا کیا انتظام ہو رہا ہے وہاں، جہاں سے تم آئے ہو؟”
مردہ آنکھیں ملتے ہوئے کہنے لگا، "ابھی وہاں میری کچھ جان باقی ہی رہ گئی تھی کہ میرے گھر والوں اور عزیز و اقارب کو فون پر فون آنے لگے۔”
"بھلا کیوں؟” تفتیش والے پوچھنے لگے۔
"یہی کہ میرا رسمِ چہارم کب مقرر ہے، اور کیا کیا انتظام ہوگا۔”
"پھر کیا جواب ملا؟” تفتیش والے پوچھنے لگے۔
"وہ کہنے لگے کہ چوتھے دن مقررہ وقت پر تشریف لانے کی درخواست ہے، اور گھر میں مختلف قسم کے پکوان ہوں گے۔ استدعا ہے کہ مقررہ وقت پر تشریف فرمائیں۔” مردے نے جواب دیا۔
"پھر ٹھیک ہے، ہم بھی تجھے تیرے چوتھے تک مہلت دیں گے، لیکن اگر اس دن کسی چیز کی کمی رہ گئی تو تیری خیر نہیں۔” تفتیشیوں نے کہا اور پورے قبرستان کا منظر اس کے سامنے پیش کیا۔
"غور سے دیکھو اس قبرستان کو، اور دیکھو کس مردے کو کیسا عذاب ہو رہا ہے۔”
نیا مردہ ان میں سے کئی پرانے مردوں کا عذاب دیکھ کر کانپنے لگا۔ وہ اس کے جانے پہچانے تھے۔ اس نے دبی آواز میں تفتیشیوں سے کہا، "ان بیچاروں کو ایسا عذاب کیوں دے رہے ہو؟ یہ دنیا میں نیک جانے جاتے تھے۔”
"اس سوال کا جواب ہم تجھے نہیں دیں گے، تم خود ان سے پوچھو۔” تفتیشیوں نے کہا۔
اور نیا مردہ اب پرانے مردوں سے پوچھنے لگا، "مہربانی کرکے ذرا مجھے بتائیے، تم دنیا میں بہت نیک لوگ مانے جاتے تھے، پھر تم سے ایسی کیا خطا سرزد ہوئی کہ اس قدر تمہیں عذاب دیا جا رہا ہے؟”
"ارے بھائی، کچھ مت پوچھ۔ ہمارا انتقال بھی اسی طرح ہوا جس طرح تیرا ہوا۔ ہمیں بھی اسی طرح دفنایا گیا جس طرح تجھے، اور وہی انتظام ہمارے گھر میں بھی ہوئے جیسے تیرے گھر میں اس وقت ہو رہے ہیں۔ پھر ہمارے پاس بھی یہ تفتیش والے آئے، سوال پر سوال کیے، اور تیری طرح ہمیں بھی چوتھے دن تک مہلت ملی، اور پھر۔۔۔۔۔۔”
اتنا کہہ کر مردے چیخ چیخ کر رونے لگے۔
"آخر اس مہلت میں کیا راز ہے؟” نئے مردے نے پوچھا۔
"بہت اچھا کیا جو تم نے پوچھا کہ مہلت میں کیا راز ہے۔ سنو بھائی! جس دن ہمارے چوتھے کا انتظام تھا، ہمارے گھر والے، عزیز و اقارب، دوست، دشمن، غرض سب یہاں اپنی اپنی گاڑیوں میں آ گئے۔ بس یوں سمجھ لو کہ قبرستان میں ان کی گاڑیوں کی لائن اس ڈھنگ سے لگ گئی کہ پاؤں جمانے کی جگہ نہ ملی۔ اور جس دوران وہ ہماری فاتحہ خوانی کرنے لگے، یہ تفتیش والے انہیں اور ان کی گاڑیوں کی گنتی کرنے لگے۔ لیکن بدقسمتی سے ایک آدمی، بیچارہ سفید پوش، ان کی گاڑیوں کی تعداد سے زیادہ نکل آیا۔ وہ شاید کسی دوسرے کی گاڑی میں سوار ہو کر ہماری فاتحہ خوانی میں شرکت کرنے آیا تھا، اس کی اپنی گاڑی نہیں تھی۔ بس اسی وجہ سے یہ تفتیش والے ہم سے غضب ناک ہوئے اور عذاب پر عذاب ڈھانے لگے۔ اب تو ہی بتا، ہم کیا کریں؟ عذاب سہنے کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں!”
"تو اس کا مطلب، جو بھی شخص ہماری فاتحہ خوانی پر یہاں آئے، ان سب کی اپنی الگ الگ گاڑی ہونی چاہیے؟” نئے مردے نے تعجب آمیز انداز میں کہا۔
"ہاں! ورنہ فاتحہ خوانی قبول نہیں ہوتی۔” پرانے مردوں نے کہا اور اس کی نظروں سے اوجھل ہو گئے۔
"اب تو سمجھا ان مردوں کو عذاب کیوں ہو رہا ہے؟” تفتیشیوں نے نئے مردے سے غضب ناک لہجے میں کہا۔
"تجھے بھی ہم تیرے چوتھے تک مہلت دیتے ہیں۔ اگر اس دن تیری فاتحہ خوانی میں آدمی شمار میں زیادہ ہوئے اور گاڑیاں کم ہوئیں تو تیری خیر نہیں۔”
تفتیش والے مردے کو گہری تشویش میں چھوڑ کر اس کے چوتھے تک وہاں سے چلے گئے۔ مردہ بیچارہ رات دن روتا رہا اور بارگاہِ ایزدی میں ملتجیانہ انداز میں کہنے لگا:
"بارِ الٰہا! رحم فرما۔ بے کس ہوں، لاچار ہوں۔ تجھ سے فریاد کرتا ہوں کہ میرے چوتھے پر سب کی اپنی الگ الگ گاڑی ہو۔ ایسا نہ ہو کہ گاڑیاں شمار میں کم اور آدمی زیادہ ہوں۔ بارِ الٰہا! فریاد ہے، قبول فرما۔”

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

گزشتہ مضمون
اگلا مضمون

تازہ ترین خبریں

احتجاج، جمہوریت اور ریاستی ردعمل

حیات اندرابی پلوامہ، کشمیر دنیا کی جدید جمہوریتوں میں عوامی احتجاج...

امریکہ-اسرائیل تعلقات اور مشرقی وسطیٰ کا نیا منظرنامہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین...

محکمہ موسمیات کی تازہ پیشنگوئی

  اگلے 2 سے 4 گھنٹوں کے دوران جنوبی کشمیر...

زلزلے کے شدید جھٹکے، شدت 7.1 ریکارڈ، سونامی کی وارننگ جاری

ٹوکیو: جاپان کے جنوبی جزیرے کیوشو میں منگل کے روز...

تازہ ترین خبریں

احتجاج، جمہوریت اور ریاستی ردعمل

حیات اندرابی پلوامہ، کشمیر دنیا کی جدید جمہوریتوں میں عوامی احتجاج...

امریکہ-اسرائیل تعلقات اور مشرقی وسطیٰ کا نیا منظرنامہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین...

محکمہ موسمیات کی تازہ پیشنگوئی

  اگلے 2 سے 4 گھنٹوں کے دوران جنوبی کشمیر...

زلزلے کے شدید جھٹکے، شدت 7.1 ریکارڈ، سونامی کی وارننگ جاری

ٹوکیو: جاپان کے جنوبی جزیرے کیوشو میں منگل کے روز...

مردے کی تفتیش

 

ماجد مجید

جوں ہی مردے کو قبرستان میں دفنایا گیا اور غم زدہ افراد اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے تو فوراً تفتیش والے سوالوں کی بوچھاڑ لئے مردے کی قبر میں داخل ہوئے اور کہا، "بولو، تیرے لئے کیا کیا انتظام ہو رہا ہے وہاں، جہاں سے تم آئے ہو؟”
مردہ آنکھیں ملتے ہوئے کہنے لگا، "ابھی وہاں میری کچھ جان باقی ہی رہ گئی تھی کہ میرے گھر والوں اور عزیز و اقارب کو فون پر فون آنے لگے۔”
"بھلا کیوں؟” تفتیش والے پوچھنے لگے۔
"یہی کہ میرا رسمِ چہارم کب مقرر ہے، اور کیا کیا انتظام ہوگا۔”
"پھر کیا جواب ملا؟” تفتیش والے پوچھنے لگے۔
"وہ کہنے لگے کہ چوتھے دن مقررہ وقت پر تشریف لانے کی درخواست ہے، اور گھر میں مختلف قسم کے پکوان ہوں گے۔ استدعا ہے کہ مقررہ وقت پر تشریف فرمائیں۔” مردے نے جواب دیا۔
"پھر ٹھیک ہے، ہم بھی تجھے تیرے چوتھے تک مہلت دیں گے، لیکن اگر اس دن کسی چیز کی کمی رہ گئی تو تیری خیر نہیں۔” تفتیشیوں نے کہا اور پورے قبرستان کا منظر اس کے سامنے پیش کیا۔
"غور سے دیکھو اس قبرستان کو، اور دیکھو کس مردے کو کیسا عذاب ہو رہا ہے۔”
نیا مردہ ان میں سے کئی پرانے مردوں کا عذاب دیکھ کر کانپنے لگا۔ وہ اس کے جانے پہچانے تھے۔ اس نے دبی آواز میں تفتیشیوں سے کہا، "ان بیچاروں کو ایسا عذاب کیوں دے رہے ہو؟ یہ دنیا میں نیک جانے جاتے تھے۔”
"اس سوال کا جواب ہم تجھے نہیں دیں گے، تم خود ان سے پوچھو۔” تفتیشیوں نے کہا۔
اور نیا مردہ اب پرانے مردوں سے پوچھنے لگا، "مہربانی کرکے ذرا مجھے بتائیے، تم دنیا میں بہت نیک لوگ مانے جاتے تھے، پھر تم سے ایسی کیا خطا سرزد ہوئی کہ اس قدر تمہیں عذاب دیا جا رہا ہے؟”
"ارے بھائی، کچھ مت پوچھ۔ ہمارا انتقال بھی اسی طرح ہوا جس طرح تیرا ہوا۔ ہمیں بھی اسی طرح دفنایا گیا جس طرح تجھے، اور وہی انتظام ہمارے گھر میں بھی ہوئے جیسے تیرے گھر میں اس وقت ہو رہے ہیں۔ پھر ہمارے پاس بھی یہ تفتیش والے آئے، سوال پر سوال کیے، اور تیری طرح ہمیں بھی چوتھے دن تک مہلت ملی، اور پھر۔۔۔۔۔۔”
اتنا کہہ کر مردے چیخ چیخ کر رونے لگے۔
"آخر اس مہلت میں کیا راز ہے؟” نئے مردے نے پوچھا۔
"بہت اچھا کیا جو تم نے پوچھا کہ مہلت میں کیا راز ہے۔ سنو بھائی! جس دن ہمارے چوتھے کا انتظام تھا، ہمارے گھر والے، عزیز و اقارب، دوست، دشمن، غرض سب یہاں اپنی اپنی گاڑیوں میں آ گئے۔ بس یوں سمجھ لو کہ قبرستان میں ان کی گاڑیوں کی لائن اس ڈھنگ سے لگ گئی کہ پاؤں جمانے کی جگہ نہ ملی۔ اور جس دوران وہ ہماری فاتحہ خوانی کرنے لگے، یہ تفتیش والے انہیں اور ان کی گاڑیوں کی گنتی کرنے لگے۔ لیکن بدقسمتی سے ایک آدمی، بیچارہ سفید پوش، ان کی گاڑیوں کی تعداد سے زیادہ نکل آیا۔ وہ شاید کسی دوسرے کی گاڑی میں سوار ہو کر ہماری فاتحہ خوانی میں شرکت کرنے آیا تھا، اس کی اپنی گاڑی نہیں تھی۔ بس اسی وجہ سے یہ تفتیش والے ہم سے غضب ناک ہوئے اور عذاب پر عذاب ڈھانے لگے۔ اب تو ہی بتا، ہم کیا کریں؟ عذاب سہنے کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں!”
"تو اس کا مطلب، جو بھی شخص ہماری فاتحہ خوانی پر یہاں آئے، ان سب کی اپنی الگ الگ گاڑی ہونی چاہیے؟” نئے مردے نے تعجب آمیز انداز میں کہا۔
"ہاں! ورنہ فاتحہ خوانی قبول نہیں ہوتی۔” پرانے مردوں نے کہا اور اس کی نظروں سے اوجھل ہو گئے۔
"اب تو سمجھا ان مردوں کو عذاب کیوں ہو رہا ہے؟” تفتیشیوں نے نئے مردے سے غضب ناک لہجے میں کہا۔
"تجھے بھی ہم تیرے چوتھے تک مہلت دیتے ہیں۔ اگر اس دن تیری فاتحہ خوانی میں آدمی شمار میں زیادہ ہوئے اور گاڑیاں کم ہوئیں تو تیری خیر نہیں۔”
تفتیش والے مردے کو گہری تشویش میں چھوڑ کر اس کے چوتھے تک وہاں سے چلے گئے۔ مردہ بیچارہ رات دن روتا رہا اور بارگاہِ ایزدی میں ملتجیانہ انداز میں کہنے لگا:
"بارِ الٰہا! رحم فرما۔ بے کس ہوں، لاچار ہوں۔ تجھ سے فریاد کرتا ہوں کہ میرے چوتھے پر سب کی اپنی الگ الگ گاڑی ہو۔ ایسا نہ ہو کہ گاڑیاں شمار میں کم اور آدمی زیادہ ہوں۔ بارِ الٰہا! فریاد ہے، قبول فرما۔”

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

گزشتہ مضمون
اگلا مضمون