
نجم باگ
آج جمعہ ہے اور صبح ہی سے رم جھم چل رہی ہے فجر میں تو خوب موسلادھار بارش تھی گہرا سیاہ لوپ زیب تن کرکے نماز جمعہ سے فراغت پالی ادھر ادھر سیاہ کالے کرتہ پاجامہ بہت زیب دے رہے ہیں گھر والے نالاں ہیں طنزیہ مسکراہٹ لبوں پر مچلتی رہتی ہے دوپہر ہوتے ہوتے مطلع یکدم صاف تھا بلکہ تمازت شروع ہو چکی تھی
ہوٹل گل بہار میں بھنبھناہٹ بھری ہوئ تھی وسیع کشادہ ہال کی کم وبیش سیٹیں پر تھیں بیرے دوڑے پھر رہے تھے عام طور پر جمعہ کی شام یہی منظر رہتا ہے اندر جاکر acسیکشن میں جھانک کر دیکھا وہ بھی کھچا کھچ بھرا ہوا تھا پلٹ کر نظر دوڑائ تو وہ دور کارنر سے اپنی طرف بلا رہے تھے سفاری سوٹ میں چہرہ پر مسکراہٹ کھیل رہی تھی سلام کرکے بازو بیٹھ گیا پھر تو باتوں کا جو سلسلہ چل پڑا تو وقت سرعت سے رواں تھا چائے ریفریشمنٹ سب ہی کچھ تو ہوگیا تھا سنا رہے تھے بھابھی صاحبہ ڈاکٹر کی تجویز پر heal میں اڈمٹ ہیں ملال وشرمندگی ہوئ کہ ہم کیوں بے نیاز ہورہے ہیں پر وہ بھی تو مطلع کرتے کل زرینہ کے ہمراہ دیکھ آونگا ماں جیسی ہی تو ہیں میرا بچپن ان کی شفقتوں سے مہکا ہوا تھا
ایک ہنگامی صورت حال ابھر آئ ہے شہر کے بے شمار مقامات پر اویرنیس کے پروگرام منعقد کیئے جارہے ہیں گھر گھر تذکیر وتنبیہ کی جا رہی ہے کہ غفلت نہ اوڑھے رہیں جاگیں اور جگائیں اسٹریٹ لیڈرس کی بن آئ ہے قائد ورہنما کا چولہ کس لیا ہے آگہی سے زیادہ عدم تحفظ کا چرچا ہے وہ بھی بہت فکر مند ہے اور فکر مندی جھنجھلاہٹ میں ڈھل رہی ہے مجھ سے ملا تو بہت طیش میں تھا سب کو ہی لپیٹے میں لے رکھا تھا میں نے سمجھا کہ آزمائشی دور کی عمر قلیل ہوتی ہے اور صدیوں کی نیند کو یکلخت بیدار مغزی میں نہیں بھنا جا سکتا
اور پھر ہماری تاریخ تو عروج وزوال سے بھری ہوئ ہے
ایک طویل لائحہ عمل ہے جس سے گذرنا ناگذیر ہے اور حالات کو بدلنے کی اولین شرط یہ ہے کہ خود کو بدلیں انفرادی سطح پر بھی اجتماعی سطح پر بھی اور سب سے اہم بات یہ کہ افراد سے توقعات ہٹاکر رب سے وابستہ ہو جائیں اور ساری جاری جاہلیتوں سے کنارہ کشی اختیار کرکے صاف سیدھی شاہراہ پر آجائیں
ارے بھائی تمہیں تو آگہی ہے کہ تاریخ انسانی میں یونس ع کی قوم ہی وہ واحد قوم ہے کہ جس نے اجتماعی طور پر توبہ کی اور رب نے عذاب کا فیصلہ اٹھا لیا اسی شعور کو بڑے پیمانے پر بیدار کیئے بغیر چارہ کار نہیں ہے
اس سے یہ مراد نہیں ہے کے کہ تعلیم معاشی عروج خدمت خلق خوشگوار تعلقات عبادات میں استغراق اور مثبت تعمیری اور اصلاحی کاموں سے کنارہ کش ہو جائیں نہیں بلکہ توبہ استغفار کی اولیت کے ساتھ دیگر کام کرتے رہیں تب ہی رب کی تائید ونصرت سے فیض یاب ہوا جا سکتا ہے ہراساں اور دہشت زدہ ہونے کی قطعی ضرورت نہیں ہے کہ حالات کے بدلنے میں وقت کوئ عنصر نہیں ہے
تم ٹھیک کہتے ہو
اصل میں یہ میڈیا اور سیاست کی ملی بھگت ہے اس سے ہوشیار رہنا وقت کا تقاضہ ہے
اور ہاں بہت دن ہوئے ملاقات نہیں ہوئ کیا مشاغل ہیں
نہیں کچھ خاص نہیں
سب اپنے اپنے بزنس وجاب میں جٹے ہوئے ہیں بیٹیاں اپنے سسرال میں مست حال ہیں میرے لیئے ہی وقت گذارنا کٹھن مرحلہ ہے
اب فرصت میں ہو
بالکل خیریت کہاں جانا ہے
کہیں خاص نہیں
ایک دو مکانوں میں ملاقات کر لینگے اور پھر ہوٹل بھر جائےگی وہاں کچھ لوگوں سے افہام وتفہیم کر لینگے
کیا کوئ خاص بات
نہیں ابھی جو باتیں تمہارے روبرو رکھیں اسی کو کتاب و سنت سے منقع کرینگے
بہت خوب یہ تو بہت اچھی بات ہے
ابھی مجھے ایک کام یاد آگیا ہے
میں چلتا ہوں
میں ہونق سا اس کو دیکھتا رہا اور
وہ سرعت سے چل دیا ۔
کالونی میں بکیٹس گھڑے پلاسٹک کے ڈبوں کی لمبی قطار تھی اور واٹر ٹینکر سے ایک کے بعد دیگرے میں پانی انڈیلا جا رہا تھا لوگ شکایت کررہے تھے کہ آدھا برتن ہی بھرا جا رہا ہے گھر میں داخل ہوا تو دیکھا بہووں اور بیٹوں پر طیش میں تھی کہ پانی کو بے فضول ضائع کیا جا رہا ہے میں نے کہا اطمینان رکھو صبح اچھی خاصی بارش ہوئ ہے بورویل کا واٹر لیول بڑھ جائے گا فرید کے خالی برتن لے آنے پر وہ برہم تھی
کیا کروں امی
سارا ٹینک خالی ہو گیا
آدھا ٹینکر تو کونسلر کی ٹینک میں ڈال دیا میں نے خود دیکھا ہے پھر ڈرائیور دو دو گھڑے بیچتا بھی ہے
اب تم خود اندازہ کرسکتی ہو کہ سارا پس منظر اہل ایمان کا ہے اور دروغ اور بدکرداری کا یہ حال ہے تو پھر بغیر توبہ کے حالات کیسے بدلینگے ہم تو زمین کا نمک ہیں محض خالی خالی باتوں کی لاف زنی سے کچھ نہیں ہوگا منقلب ہونا ایک ہی علاج ہے اور سب سر ہلا رہے تھے کاش قلب میں بھی اتر جائے تو کچھ بات بنے
باتیں تو تمہاری دل کو لگتی ہیں
پر یہ کیا ماجرا ہے کہ تبدیلی منفی ہی ہورہی ہے
اسکی وجہ یہ ہے کہ نہ توافق ہے نہ تعاون نہ تصویق ہے اور توثیق اور نہ ہی منصوبہ بندی بلکہ مختلف گروہ ہیں جو متضاد راہ پر چل پڑے ہیں اور پھر تعلق ہے نہ تامل اور نہ ہی تال میل بلکہ بندگی کے شور میں خودسری جلوہ گر ہے ظاہری بات انتشار وہزیمت کے مظاہرے ہیں
حالانکہ اسلوب بھی ہے کردار وواقعات اور مکالمات سے فضا سحر انگیز ہے پھر بھی شکایت ہے مطالعہ کو خیر باد کیئے عرصہ ہو چکا ہے اسلیئے کچھ کہنے سے بہتر ہے کہ اپنی خلاقیت سے ہی جڑے رہیں بس ۔


