
محمدیوسف رحیم بیدری
بارش کا کچھ اتہ پتہ نہیں تھا۔ انسان ، حیوان ، چرند پرنداور درندسب پریشان تھے ۔ اسی درمیان ایک شام برکھارانی سے ملاقات ہوگئی۔ میں نے مسرت سے کہا’’پہلی ملاقات کاشکریہ ، کیابات ہے اس سال تم نظر نہیںآرہی ہو؟‘‘ اس نے اپنامنہ پھیرلیا اور اچانک واپس چلی گئی ۔مجھے اچھا نہیں لگا۔
دس منٹ بعد پھر سے بارش شروع ہوگئی تو میں نے جواب طلب نگاہوں سے پوچھا’’تم برکھاہو ، ہمیشہ برستے رہنا تمہاراکام ہے ، شاعرجس طرح شاعری کے لئے وقف ہوتاہے اسی طرح تم برکھااور ورشابرسات کے لئے وقف ہو۔ لیکن آخر یہ کیاہورہاہے ؟تم نظر نہیں آتی ہو‘‘
برکھارانی نے میری طرف غصہ سے دیکھا اور چیختے ہوئے نسوانی لہجے میں کہنے لگی ’’عورت بھی تو بچے پید اکرنے کے لئے ہے ۔ وہ بھی تو بچے پیدا نہیں کررہی ہے ۔ کل تک 12-15بچے ایک عورت پیدا کرتی تھی۔ آج دوتین بچوں میں پیدائش کاکوٹہ ختم کردیاجاتاہے ‘‘
میں نے حیرانی سے کہا’’یہ کیابات ہوئی؟ میں کچھ پوچھ رہاہوں اور برکھارانی تم کچھ اور جواب دے رہی ہو‘‘
برکھارانی نے کہا’’میں درست اورصدفیصد صحیح جواب دے رہی ہوں۔ جب مہیلائیں بچے پید اکرنا نہیں چاہتیں ۔ یاحکومتیں انھیں دوتین بچوں تک محدود کررہی ہیں تو پھر مجھ سے کیوں آشا کرتے ہوکہ میں ہرموسم میں برسوں گی ۔مہیلائیں بچے پیدا کرنے کے انسانوں کی افزائش کے پوتر کام میں کمی کررہی ہیںتو میں بھی بارش میں کمی کرنے کاحق رکھتی ہوں ۔ انسانوں کی طرح مجھے بھی حق حاصل ہے کہ برسنے میں تاخیر کروں یاپھر برسوں ہی نہیں ‘‘
برکھارانی بات تو ٹھیک ہی کہہ رہی تھی ۔ اب میرے پاس سرپیٹنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔


