ایک سے دو لاکھ تک کا سفر: آتم نربھر بھارت کی تعمیر کرتے صنعت کار

 

چراغ پاسوان

مرکزی وزیر

جب 2020 میں کووِڈ-19 وبائی مرض نے زندگیوں اور روزی روٹی کو متاثر کیاتھا، اس وقت عزت مآب وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے اس بات کو سمجھا کہ بحالی کے اثرات بڑی صنعت تک پہنچنے چاہئیں۔ یہ سب سے چھوٹے پروڈیوسرز اور کاروباری اداروں، خصوصاً ان تک پہنچنے چاہئیں جو بھارت کے مواضعات اور چھوٹے شہروں میں مصروف عمل ہیں۔
آتم نربھر بھارت ابھیا ن کے تحت اس مقصد کے ساتھ اسی سال "پردھان منتری فارملائزیشن آف مائیکرو فوڈ پروسیسنگ انٹرپرائزز اسکیم” (پی ایم ایف ایم ای)کا آغاز کیا گیا تھا۔ اس کا آغاز غذائی معیشت کے ایک ایسے حصے سے ہوا جو طویل عرصے سے باضابطہ مالیات اور ادارہ جاتی تعاون سے باہر رہا تھا: یعنی وہ چھوٹے پروسیسرز جو پہلے سے ہی پیداوار، فروخت اور چند لوگوں کو روزگار فراہم کر رہے تھے، لیکن ان کے پاس ترقی کے لئے درکار سرمائے یا رہنمائی کی کمی تھی۔ یہ اسکیم اس پختہ یقین کی عکاس ہے جو وزیر اعظم مسلسل رکھتے آئے ہیں، کہ ہندوستان کی ترقی کی شروعات اس کی بنیاد سے ہونی چاہیے، یعنی ان لوگوں کے درمیان سے جو خود اپنے کاروباری ادارے قائم کرنے کے خواہش مند ہیں۔
پی ایم ایف ایم ای اسکیم کے کریڈٹ سے منسلک عنصر کے تحت اب تک دو لاکھ سے زائد قرضے منظور کیے جا چکے ہیں۔ یہ سنگ میل اس کے پیچھے موجود لوگوں یعنی ان کاروباری افراد کی وجہ سے اہمیت رکھتا ہے، جو باضابطہ قرض کے نظام میں شامل ہوئے ہیں اور جنہوں نے اپنے کاروبار کو آگے بڑھانے کا ایک حقیقی موقع حاصل کیا ہے۔ یہ ایک ایسی کامیابی ہے جو جشن منانے کے قابل ہے، اور ان لوگوں کو خراج تحسین پیش کرنے کا لمحہ ہے جنہوں نے اسے ممکن بنایا۔
ان میں سب سے پہلے جناب جمنالال پاٹیدار تھے، جن کی درخواست پی ایم ایف ایم ای کے تحت سب سے پہلے منظور کی گئی تھی۔ دسویں پاس اور فوڈ پروسیسنگ کا کوئی سابقہ تجربہ نہ رکھنے والے اس کاروباری شخص نے 10 لاکھ روپے کی سرمایہ کاری سے دھنیا پروسیسنگ یونٹ شروع کیا تھا۔ اس اسکیم کے تعاون سے انہیں مالیات، مشینری اور رہنمائی تک رسائی حاصل ہوئی، اور ان کا یہ خیال ایک فعال کاروباری ادارے میں بدل گیا جس میں آج پانچ سے زائد افراد برسرِروزگار ہیں۔
ان کی کہانی ایک سادہ سی بات واضح کرتی ہے۔ کاروبار کرنا کسی اچھے خاندان میں پیدا ہونے یا اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کا کوئی خاص حق نہیں ہے۔ اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ آیا کوئی شخص جس کے پاس کوئی آئیڈیا ہو، وہ اس پر عمل کرنے کے لئے درکار مالیات، تکنالوجی اور مدد حاصل کر سکتا ہے یا نہیں۔ عام ہندوستانیوں کو کاروباری ادارے قائم کرنے اور دوسروں کو روزگار دینے کے قابل بنا کر، پی ایم ایف ایم ای اسکیم وزیر اعظم کے اس وژن کو آگے بڑھا رہی ہے جس کا مقصد روزگار کے متلاشی افراد کو روزگار بہم پہنچانے والوں میں تبدیل کرنا ہے۔
ہندوستان طویل عرصے سے لاکھوں ایسے ماہر مائیکرو پروسیسرز کا گھر رہا ہے جو منفرد مقامی مصنوعات تیار کرتے ہیں۔ ان میں سے اکثر کے پاس جس چیز کی کمی تھی، وہ تھی سرمائے کی بآسانی فراہمی، جدید تکنالوجی، کوالٹی سرٹیفیکیشن اور منظم منڈیوں تک رسائی کا راستہ۔ یہ اسکیم ان تمام کمیوں کو ایک ساتھ دور کرنے کے لئے وضع کی گئی تھی، جس کے لئے کریڈٹ سے منسلک امداد، صلاحیت سازی میں اضافہ، مشترکہ بنیادی ڈھانچہ، برانڈنگ اور مارکیٹ لنکیج فراہم کیا گیا، تاکہ غیر منظم کاروباری اداروں کو باضابطہ معیشت میں لایا جا سکے جہاں انہیں ترقی کرنے کا ایک حقیقی موقع مل سکے۔
خواتین اس تبدیلی کی اہم محرک رہی ہیں۔ دو لاکھ سے زائد کریڈٹ سے منسلک منظوریوں میں سے تقریباً 44 فیصد خواتین کے زیر قیادت چلنے والے کاروباری اداروں کو دی گئی ہیں، جبکہ سیلف ہیلپ گروپس کی چار لاکھ سے زائد ارکان کو اپنے کاروبار کو مضبوط اور اپ گریڈ کرنے کے لئے سیڈ کیپٹل (ابتدائی سرمایہ) حاصل ہوا ہے۔ مجموعی طور پر اس اسکیم کے تحت 20300 کروڑ روپے سے زیادہ کی سرمایہ کاری ہوئی ہے اور تقریباً چھ لاکھ کے بقدر روزگار کے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ 75000 سے زیادہ یونٹس”اُدیم رجسٹریشن” اور ایف ایس ایس اے آئیاور جی ایس ٹی کے تحت قوانین پر عملدرآمد کے ذریعے باضابطہ معیشت کا حصہ بن چکے ہیں۔ بہت سی خواتین کے لئے اس کا مطلب ان مہارتوں کو تسلیم شدہ کاروباری اداروں میں تبدیل کرنا ہے جن کی مشق وہ گھر یا برادری کے اندر کرتی تھیں، تاکہ انہیں مالیات، ٹیکنالوجی اور وسیع تر مارکیٹوں تک رسائی مل سکے۔ آنے والے مرحلے میں متعدد مزید خواتین کو اس تبدیلی میں مدد فراہم کرنا مرکزی ہدف رہنا چاہیے۔
ان اعداد و شمار میں سے ہر ایک کے پیچھے ایک وسیع تر فائدہ چھپا ہوا ہے۔ ایک فعال کاروباری ادارہ کسان کی پیداوار خریدتا ہے، اس نقصان کو کم کرتا ہے جو کبھی ہر فصل کی کٹائی کے بعد ہوا کرتا تھا، اور مصنوعات کی زیادہ تر قدر (قیمت) کو اسی جگہ کے قریب محفوظ رکھتا ہے جہاں وہ تیار کی جاتی ہے۔ ایک مقامی فصل برانڈڈ پروڈکٹ بن جاتی ہے۔ گھر کی ایک مہارت مستقل روزگار کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ، ایک ضلع اپنی بنائی ہوئی مصنوعات کی وجہ سے پہچانا جانے لگتا ہے۔ یہی عملی طور پر "ووکل فار لوکل” ہے، جو ایک وقت میں ایک کاروباری ادارے کے ذریعے آگے بڑھ رہی ہے۔
جس منظوری نے پی ایم ایف ایم ای اسکیم کو دو لاکھ کے سنگ میل تک پہنچایا، وہ رانچی کے شری اندر جیت سنگھ کو دی گئی، جو بیکری کا کاروبار قائم کر رہے ہیں اور یہ خواب دیکھتے ہیں کہ ان کے کیک اور پیسٹریاں ایک دن پورے جھارکھنڈ میں مشہور ہوں گی۔ اپنے سے پہلے کے پاٹیدار کی طرح، وہ بھی ایک چھوٹے کاروبار اور بڑے ارادے کے ساتھ شروعات کر رہے ہیں، اور ان کی اس شروعات کو اسکیم کا بھرپور تعاون حاصل ہے۔ وہ ان ہزاروں پہلی نسل کے کاروباری افراد میں سے ایک ہیں جنہیں پی ایم ایف ایم ای اسکیم اب پہلی منظوری سے ایک کامیاب اور پھلتے پھولتے کاروباری ادارے کی طرف لے جا رہی ہے۔ اگر پاٹیدار یہ دکھاتے ہیں کہ یہ سفر کتنی دور تک جا سکتا ہے، تو سنگھ یہ ثابت کرتے ہیں کہ یہ سفر اب بھی مسلسل رفتار پکڑ رہا ہے۔
آگے کا راستہ کچھ ایسا ہی ہے۔ مائیکرو پروسیسرز کے لئے باضابطہ قرض کے دروازے کھولنا پہلا ہدف تھا، اور اب اس سے بھی زیادہ مشکل لیکن فائدہ مند کام یہ ہے کہ ہر منظور شدہ قرض کو کسانوں اور کاروباریوں تک پہنچایا جائے، اور ہر قرض کو ایک ایسے کاروبار میں تبدیل کیا جائے جو منافع بخش ہو اور طویل عرصے تک قائم رہے۔ منظوری تو صرف ایک راستہ کھولتی ہے؛ ہمارا اصل کام ہر کاروباری شخص کی مدد کرنا ہے تاکہ وہ اس راستے پر آگے بڑھے اور کوئی ایسی چیز کھڑی کرے جو پائیدار ہو۔
یہی چیز پی ایم ایف ایم ای کے آئندہ مرحلے کی سمت طے کرے گی۔ ہم ہونہار اور امید افزا کاروباری اداروں تک قرض کی رسائی کو مزید تیز کریں گے، بہتر ٹیکنالوجی اور پیکیجنگ کو اپنانے میں ان کی مدد کریں گے، مارکیٹوں تک ان کی رسائی کو وسیع کریں گے، اور ان میں سے بہت سے اداروں کو اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک خریداروں تک پہنچنے کے لئے تیار کریں گے۔ اور ہم قرض کی منظوری سے پہلے ہی نہیں بلکہ اس کے بعد بھی اپنے کاروباری افراد کے ساتھ کھڑے رہیں گے، اس مستقل اور پائیدار مدد کے ساتھ جو پہلے قرض کو ایک مستقل روزگار میں بدل دیتی ہے۔
اگر مجموعی طور پر دیکھا جائے تو یہ دو لاکھ منظوریاں محض ایک انتظامی سنگ میل سے کہیں بڑھ کر ہیں۔ ہر وہ کاروباری ادارہ جو اپنی جڑیں مضبوط کرتا ہے، وہ اپنے ارد گرد کی معیشت کو بھی مستحکم بناتا ہے۔ یہ قریبی کھیتوں سے پیداوار خریدتا ہے، گھر کے قریب آمدنی کے ذرائع پیدا کرتا ہے، اور مزید خواتین اور نوجوان ہندوستانیوں کو اپنے کاروبار قائم کرنے کا اعتماد دیتا ہے۔
جب ہم پاٹیدار کے دھنیا پروسیسنگ یونٹ کو دیکھتے ہیں، تو اس سے حاصل ہونے والا تجربہ بالکل سادہ ہے۔ پی ایم ایف ایم ای کے تحت پہلی منظوری ایک ایسے شخص کو ملی تھی جس کے پاس نہ تو پہلے سے کوئی قائم شدہ فیکٹری تھی اور نہ ہی کوئی مخصوص ڈگری۔ ان کے پاس جو چیز تھی وہ ایک آئیڈیا اور کام کرنے کا جذبہ تھا؛ اور اسکیم نے انہیں جو چیز دی وہ رسائی تھی۔ دو لاکھ منظوریوں کے بعد، اب یہ موقع ملک بھر کے کاروباری افراد تک پہنچ چکا ہے۔ اب ہمارا کام ان میں سے زیادہ سے زیادہ لوگوں کی مدد کرنا ہے تاکہ وہ ایسے کاروبار قائم کر سکیں جو پائیدار ہوں، دوسروں کو روزگار فراہم کریں اور اسی جگہ قدر و قیمت پیدا کریں جہاں سے وہ شروعات کرتے ہیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

ہنڈواڑہ میں ’’My Youth My Pride‘‘ ووشو اور کبڈی چیمپئن شپ کا آغاز

  جنگ نیوز ڈیسک کپواڑہ، 28 جولائی: جموں و کشمیر سپورٹس...

احتجاج، جمہوریت اور ریاستی ردعمل

حیات اندرابی پلوامہ، کشمیر دنیا کی جدید جمہوریتوں میں عوامی احتجاج...

امریکہ-اسرائیل تعلقات اور مشرقی وسطیٰ کا نیا منظرنامہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین...

محکمہ موسمیات کی تازہ پیشنگوئی

  اگلے 2 سے 4 گھنٹوں کے دوران جنوبی کشمیر...

زلزلے کے شدید جھٹکے، شدت 7.1 ریکارڈ، سونامی کی وارننگ جاری

ٹوکیو: جاپان کے جنوبی جزیرے کیوشو میں منگل کے روز...

تازہ ترین خبریں

ہنڈواڑہ میں ’’My Youth My Pride‘‘ ووشو اور کبڈی چیمپئن شپ کا آغاز

  جنگ نیوز ڈیسک کپواڑہ، 28 جولائی: جموں و کشمیر سپورٹس...

احتجاج، جمہوریت اور ریاستی ردعمل

حیات اندرابی پلوامہ، کشمیر دنیا کی جدید جمہوریتوں میں عوامی احتجاج...

امریکہ-اسرائیل تعلقات اور مشرقی وسطیٰ کا نیا منظرنامہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین...

محکمہ موسمیات کی تازہ پیشنگوئی

  اگلے 2 سے 4 گھنٹوں کے دوران جنوبی کشمیر...

زلزلے کے شدید جھٹکے، شدت 7.1 ریکارڈ، سونامی کی وارننگ جاری

ٹوکیو: جاپان کے جنوبی جزیرے کیوشو میں منگل کے روز...

ایک سے دو لاکھ تک کا سفر: آتم نربھر بھارت کی تعمیر کرتے صنعت کار

 

چراغ پاسوان

مرکزی وزیر

جب 2020 میں کووِڈ-19 وبائی مرض نے زندگیوں اور روزی روٹی کو متاثر کیاتھا، اس وقت عزت مآب وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے اس بات کو سمجھا کہ بحالی کے اثرات بڑی صنعت تک پہنچنے چاہئیں۔ یہ سب سے چھوٹے پروڈیوسرز اور کاروباری اداروں، خصوصاً ان تک پہنچنے چاہئیں جو بھارت کے مواضعات اور چھوٹے شہروں میں مصروف عمل ہیں۔
آتم نربھر بھارت ابھیا ن کے تحت اس مقصد کے ساتھ اسی سال "پردھان منتری فارملائزیشن آف مائیکرو فوڈ پروسیسنگ انٹرپرائزز اسکیم” (پی ایم ایف ایم ای)کا آغاز کیا گیا تھا۔ اس کا آغاز غذائی معیشت کے ایک ایسے حصے سے ہوا جو طویل عرصے سے باضابطہ مالیات اور ادارہ جاتی تعاون سے باہر رہا تھا: یعنی وہ چھوٹے پروسیسرز جو پہلے سے ہی پیداوار، فروخت اور چند لوگوں کو روزگار فراہم کر رہے تھے، لیکن ان کے پاس ترقی کے لئے درکار سرمائے یا رہنمائی کی کمی تھی۔ یہ اسکیم اس پختہ یقین کی عکاس ہے جو وزیر اعظم مسلسل رکھتے آئے ہیں، کہ ہندوستان کی ترقی کی شروعات اس کی بنیاد سے ہونی چاہیے، یعنی ان لوگوں کے درمیان سے جو خود اپنے کاروباری ادارے قائم کرنے کے خواہش مند ہیں۔
پی ایم ایف ایم ای اسکیم کے کریڈٹ سے منسلک عنصر کے تحت اب تک دو لاکھ سے زائد قرضے منظور کیے جا چکے ہیں۔ یہ سنگ میل اس کے پیچھے موجود لوگوں یعنی ان کاروباری افراد کی وجہ سے اہمیت رکھتا ہے، جو باضابطہ قرض کے نظام میں شامل ہوئے ہیں اور جنہوں نے اپنے کاروبار کو آگے بڑھانے کا ایک حقیقی موقع حاصل کیا ہے۔ یہ ایک ایسی کامیابی ہے جو جشن منانے کے قابل ہے، اور ان لوگوں کو خراج تحسین پیش کرنے کا لمحہ ہے جنہوں نے اسے ممکن بنایا۔
ان میں سب سے پہلے جناب جمنالال پاٹیدار تھے، جن کی درخواست پی ایم ایف ایم ای کے تحت سب سے پہلے منظور کی گئی تھی۔ دسویں پاس اور فوڈ پروسیسنگ کا کوئی سابقہ تجربہ نہ رکھنے والے اس کاروباری شخص نے 10 لاکھ روپے کی سرمایہ کاری سے دھنیا پروسیسنگ یونٹ شروع کیا تھا۔ اس اسکیم کے تعاون سے انہیں مالیات، مشینری اور رہنمائی تک رسائی حاصل ہوئی، اور ان کا یہ خیال ایک فعال کاروباری ادارے میں بدل گیا جس میں آج پانچ سے زائد افراد برسرِروزگار ہیں۔
ان کی کہانی ایک سادہ سی بات واضح کرتی ہے۔ کاروبار کرنا کسی اچھے خاندان میں پیدا ہونے یا اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کا کوئی خاص حق نہیں ہے۔ اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ آیا کوئی شخص جس کے پاس کوئی آئیڈیا ہو، وہ اس پر عمل کرنے کے لئے درکار مالیات، تکنالوجی اور مدد حاصل کر سکتا ہے یا نہیں۔ عام ہندوستانیوں کو کاروباری ادارے قائم کرنے اور دوسروں کو روزگار دینے کے قابل بنا کر، پی ایم ایف ایم ای اسکیم وزیر اعظم کے اس وژن کو آگے بڑھا رہی ہے جس کا مقصد روزگار کے متلاشی افراد کو روزگار بہم پہنچانے والوں میں تبدیل کرنا ہے۔
ہندوستان طویل عرصے سے لاکھوں ایسے ماہر مائیکرو پروسیسرز کا گھر رہا ہے جو منفرد مقامی مصنوعات تیار کرتے ہیں۔ ان میں سے اکثر کے پاس جس چیز کی کمی تھی، وہ تھی سرمائے کی بآسانی فراہمی، جدید تکنالوجی، کوالٹی سرٹیفیکیشن اور منظم منڈیوں تک رسائی کا راستہ۔ یہ اسکیم ان تمام کمیوں کو ایک ساتھ دور کرنے کے لئے وضع کی گئی تھی، جس کے لئے کریڈٹ سے منسلک امداد، صلاحیت سازی میں اضافہ، مشترکہ بنیادی ڈھانچہ، برانڈنگ اور مارکیٹ لنکیج فراہم کیا گیا، تاکہ غیر منظم کاروباری اداروں کو باضابطہ معیشت میں لایا جا سکے جہاں انہیں ترقی کرنے کا ایک حقیقی موقع مل سکے۔
خواتین اس تبدیلی کی اہم محرک رہی ہیں۔ دو لاکھ سے زائد کریڈٹ سے منسلک منظوریوں میں سے تقریباً 44 فیصد خواتین کے زیر قیادت چلنے والے کاروباری اداروں کو دی گئی ہیں، جبکہ سیلف ہیلپ گروپس کی چار لاکھ سے زائد ارکان کو اپنے کاروبار کو مضبوط اور اپ گریڈ کرنے کے لئے سیڈ کیپٹل (ابتدائی سرمایہ) حاصل ہوا ہے۔ مجموعی طور پر اس اسکیم کے تحت 20300 کروڑ روپے سے زیادہ کی سرمایہ کاری ہوئی ہے اور تقریباً چھ لاکھ کے بقدر روزگار کے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ 75000 سے زیادہ یونٹس”اُدیم رجسٹریشن” اور ایف ایس ایس اے آئیاور جی ایس ٹی کے تحت قوانین پر عملدرآمد کے ذریعے باضابطہ معیشت کا حصہ بن چکے ہیں۔ بہت سی خواتین کے لئے اس کا مطلب ان مہارتوں کو تسلیم شدہ کاروباری اداروں میں تبدیل کرنا ہے جن کی مشق وہ گھر یا برادری کے اندر کرتی تھیں، تاکہ انہیں مالیات، ٹیکنالوجی اور وسیع تر مارکیٹوں تک رسائی مل سکے۔ آنے والے مرحلے میں متعدد مزید خواتین کو اس تبدیلی میں مدد فراہم کرنا مرکزی ہدف رہنا چاہیے۔
ان اعداد و شمار میں سے ہر ایک کے پیچھے ایک وسیع تر فائدہ چھپا ہوا ہے۔ ایک فعال کاروباری ادارہ کسان کی پیداوار خریدتا ہے، اس نقصان کو کم کرتا ہے جو کبھی ہر فصل کی کٹائی کے بعد ہوا کرتا تھا، اور مصنوعات کی زیادہ تر قدر (قیمت) کو اسی جگہ کے قریب محفوظ رکھتا ہے جہاں وہ تیار کی جاتی ہے۔ ایک مقامی فصل برانڈڈ پروڈکٹ بن جاتی ہے۔ گھر کی ایک مہارت مستقل روزگار کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ، ایک ضلع اپنی بنائی ہوئی مصنوعات کی وجہ سے پہچانا جانے لگتا ہے۔ یہی عملی طور پر "ووکل فار لوکل” ہے، جو ایک وقت میں ایک کاروباری ادارے کے ذریعے آگے بڑھ رہی ہے۔
جس منظوری نے پی ایم ایف ایم ای اسکیم کو دو لاکھ کے سنگ میل تک پہنچایا، وہ رانچی کے شری اندر جیت سنگھ کو دی گئی، جو بیکری کا کاروبار قائم کر رہے ہیں اور یہ خواب دیکھتے ہیں کہ ان کے کیک اور پیسٹریاں ایک دن پورے جھارکھنڈ میں مشہور ہوں گی۔ اپنے سے پہلے کے پاٹیدار کی طرح، وہ بھی ایک چھوٹے کاروبار اور بڑے ارادے کے ساتھ شروعات کر رہے ہیں، اور ان کی اس شروعات کو اسکیم کا بھرپور تعاون حاصل ہے۔ وہ ان ہزاروں پہلی نسل کے کاروباری افراد میں سے ایک ہیں جنہیں پی ایم ایف ایم ای اسکیم اب پہلی منظوری سے ایک کامیاب اور پھلتے پھولتے کاروباری ادارے کی طرف لے جا رہی ہے۔ اگر پاٹیدار یہ دکھاتے ہیں کہ یہ سفر کتنی دور تک جا سکتا ہے، تو سنگھ یہ ثابت کرتے ہیں کہ یہ سفر اب بھی مسلسل رفتار پکڑ رہا ہے۔
آگے کا راستہ کچھ ایسا ہی ہے۔ مائیکرو پروسیسرز کے لئے باضابطہ قرض کے دروازے کھولنا پہلا ہدف تھا، اور اب اس سے بھی زیادہ مشکل لیکن فائدہ مند کام یہ ہے کہ ہر منظور شدہ قرض کو کسانوں اور کاروباریوں تک پہنچایا جائے، اور ہر قرض کو ایک ایسے کاروبار میں تبدیل کیا جائے جو منافع بخش ہو اور طویل عرصے تک قائم رہے۔ منظوری تو صرف ایک راستہ کھولتی ہے؛ ہمارا اصل کام ہر کاروباری شخص کی مدد کرنا ہے تاکہ وہ اس راستے پر آگے بڑھے اور کوئی ایسی چیز کھڑی کرے جو پائیدار ہو۔
یہی چیز پی ایم ایف ایم ای کے آئندہ مرحلے کی سمت طے کرے گی۔ ہم ہونہار اور امید افزا کاروباری اداروں تک قرض کی رسائی کو مزید تیز کریں گے، بہتر ٹیکنالوجی اور پیکیجنگ کو اپنانے میں ان کی مدد کریں گے، مارکیٹوں تک ان کی رسائی کو وسیع کریں گے، اور ان میں سے بہت سے اداروں کو اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک خریداروں تک پہنچنے کے لئے تیار کریں گے۔ اور ہم قرض کی منظوری سے پہلے ہی نہیں بلکہ اس کے بعد بھی اپنے کاروباری افراد کے ساتھ کھڑے رہیں گے، اس مستقل اور پائیدار مدد کے ساتھ جو پہلے قرض کو ایک مستقل روزگار میں بدل دیتی ہے۔
اگر مجموعی طور پر دیکھا جائے تو یہ دو لاکھ منظوریاں محض ایک انتظامی سنگ میل سے کہیں بڑھ کر ہیں۔ ہر وہ کاروباری ادارہ جو اپنی جڑیں مضبوط کرتا ہے، وہ اپنے ارد گرد کی معیشت کو بھی مستحکم بناتا ہے۔ یہ قریبی کھیتوں سے پیداوار خریدتا ہے، گھر کے قریب آمدنی کے ذرائع پیدا کرتا ہے، اور مزید خواتین اور نوجوان ہندوستانیوں کو اپنے کاروبار قائم کرنے کا اعتماد دیتا ہے۔
جب ہم پاٹیدار کے دھنیا پروسیسنگ یونٹ کو دیکھتے ہیں، تو اس سے حاصل ہونے والا تجربہ بالکل سادہ ہے۔ پی ایم ایف ایم ای کے تحت پہلی منظوری ایک ایسے شخص کو ملی تھی جس کے پاس نہ تو پہلے سے کوئی قائم شدہ فیکٹری تھی اور نہ ہی کوئی مخصوص ڈگری۔ ان کے پاس جو چیز تھی وہ ایک آئیڈیا اور کام کرنے کا جذبہ تھا؛ اور اسکیم نے انہیں جو چیز دی وہ رسائی تھی۔ دو لاکھ منظوریوں کے بعد، اب یہ موقع ملک بھر کے کاروباری افراد تک پہنچ چکا ہے۔ اب ہمارا کام ان میں سے زیادہ سے زیادہ لوگوں کی مدد کرنا ہے تاکہ وہ ایسے کاروبار قائم کر سکیں جو پائیدار ہوں، دوسروں کو روزگار فراہم کریں اور اسی جگہ قدر و قیمت پیدا کریں جہاں سے وہ شروعات کرتے ہیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں