
ابو ایمن
شیخ پورہ
بچپن میں دیگر کاموں کے علاؤہ میرا ایک کام یہ بھی ہوتا تھا کہ میں ہفتے میں دو ایک بار فلم دیکھنے اپنے ہمسایہ کے گھر ضرور جایا کرتا تھا۔ فلم میں کون سا ہیرو کام کررہا ہے اتنا تو میں جانتا تھا البتہ ہیرو کے بغیر باقی سبھی کرداروں سے میں ناواقف ہوتا تھا۔ ڈھائی سے تین گھنٹے چلنے والی فلموں کی اکثر کہانیاں میری سمجھ سے بالا تر ہوا کرتی تھیں البتہ پوری فلم میں سے کوئی نہ کوئی سین میرے ذہن پر ضرور نقش ہوتا تھا۔ ایک دن میں نے ایک فلم دیکھی ۔ فلم میں کون سے کردار تھے مجھے نہیں پتہ ۔حد تو یہ ہے کہ فلم میں ہیرو کون تھا اور فلم کا نام کیا تھا مجھے یہ بھی نہیں معلوم ۔ البتہ فلم کا ایک سین بہت ہی درد انگیز تھا جو میرے ذہن پر نقش کرگیا ۔ اس فلم میں ایک چھوٹی بچی ہوتی ہے جو کسی موذی مرض میں مبتلا ہوتی ہے۔ ڈاکٹروں نے اسے لاعلاج قرار دیا ہوتا ہے اور یہ بات بچی کو بھی معلوم ہوتی ہے۔ ایک دن یہ بچی اپنے والد سے گفتگو کرتی ہے والد اسے یوں کہتا ہے میری بچی آپ مجھ سے جو بھی چیز مانگو گی میں وہ لاکر دوں گا چاہے مجھے وہ ساتویں آسمان سے کیوں نہ لانی پڑے۔ یہاں تک کہ میں آپ کے لئے اپنی جان بھی قربان کر دوں گا۔
بچی اپنی معصومیت سے کہتی ہے کہ پاپا کیا آپ سچ بولتے ہو ؟
یہ سن کر باپ ایک حوصلہ مند آواز کے ساتھ جواب دیتا ہے جی ہاں میری بیٹی میں سچ بولتا ہوں۔ آپ مانگو جو آپ کو مانگنا ہے۔
اس پر بیٹی ایک ایسی فرمائش کرتی ہے جسے سن کر فلم دیکھنے والے پتھر دل انسان کا بھی کلیجہ پھٹنے کو آتا ہے اور آنکھوں سے آنسوں جاری ہونے لگتے ہیں ۔ بیٹی فرمائش کرتی ہے ۔
پاپا مجھے زندگی دےدو۔ میں جینا چاہتی ہوں ۔ بیٹی کی یہ فرمائش سن کر باپ کی زبان بند ہو جاتی ہے اور آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب بہنے لگتا ہے ۔ یہ اس فلم کا ایسا سین ہے جو فلم دیکھنے والوں کو سکتے میں ڈال دیتا ہے اور ان کی آنکھوں کو تر کر دیتا ہے۔
اس سین کی یاد میرے ذہن میں اس وقت تازہ ہو گئی جب 21 جولائی 2026 کی صبح میں نے اپنا موبائل فون ہاتھ میں لیا تو یہ دلدوز خبر پڑھنے کو ملی کہ عامرہ کا انتقال ہوا ہے۔ افسوس!
عامرہ میرے ہمسایہ طاہر احمد میر کی سب سے چھوٹی اور کمسن بچی تھی۔ ڈیڑھ دو سال پہلے ڈاکٹروں نے اسے ایک مرض میں مبتلا قرار دیا ۔یہ معصوم بچی بہت ہی پھرتیلی اور باتونی تھی۔اپنی ہم عمر ہمسایہ بچیوں کے ساتھ کھیلتی رہتی تھی۔ اس دوران طاہر احمد نے وادی کے مختلف ہسپتالوں سے اس کا علاج کرایا ۔ نو مہینے پہلے اس نے ڈاکٹروں سے مشورہ کرنے کے بعد دھلی کے ایمز ہسپتال میں اس بچی کا داخلہ کرایا اور تب سے لے کر اب تک دونوں میاں بیوی اپنی اس کمسن بچی کی تیمارداری میں مصروف رہے۔ یہاں تک کہ سال کے دو عظیم تہوار یعنی دو عیدیں بھی انہوں نے ہسپتال میں ہی گذاریں۔ بچی کی ماں ان نو مہینوں میں ایک پل بھی اپنی اس ننھی سی کلی سے دور نہیں ہوئی ۔دونوں میاں بیوی نے اپنی پوری جمع پونجی اپنی اس معصوم بچی کے علاج و معالجے پر خرچ کی۔ اور بڑے حوصلے سے اس آزمائش کا مقابلہ کیا ۔قابل تعریف بات یہ ہے کہ اس عرصہ میں جس نے بھی طاہر احمد سے بچی کی خبر گیری پوچھی کبھی انہیں حوصلہ شکن نہ پایا ۔ بلکہ اکثر اوقات میں وہ ادھر سے ہی خبر پوچھنے والے کی ڈھارس بندھا کر اسے حوصلہ دینے کے ساتھ ساتھ خود اپنا حوصلہ بھی بڑھاتے ۔ والدین ہونے کے ناطے انہوں نے اپنی اس بچی کا علاج کرانے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا ۔
دوران علاج اس بچی نے اپنے باپ سے کہا پاپا آپ جو بھی پینسہ کماتے ہو وہ میرے علاج پر لگ جاتا ہے۔ مجھے اُس فلم کا وہ سین یاد آگیا ۔ میں نے سوچا ہو سکتا ہے کہ طاہر احمد نے اس بات پر اپنی بیٹی سے کہا ہو کہ میری بیٹی آپ کے لئے تو میں اپنی جان تک قربان کرسکتا ہوں ۔ آپ بتا آپ کو کیا چاہیے ؟ اور ہو سکتا ہے کہ ایسے موقعے پر یہ معصوم بچی بھی وہی فرمائش کرتی کہ پاپا مجھے زندگی چاہیے ۔ کیونکہ دو دن پہلے ڈاکٹروں نے بتایا تھا کہ عامرہ اب صرف چند دنوں کی مہمان ہے۔ تو ایسی فرمائش پر طاہر احمد کیا جواب دیتے ؟
بہرحال میں ان ہی خیالات میں کھویا ہوا تھا کہ میری بیٹی میرے سامنے آگئی ۔ موبائیل فون پر عامرہ کا فوٹو دیکھ کر اس نے زوردار آواز میں کہا
یہ عمیرہ دیدی ہے نا۔
میں نے کہا کہ یہ عمیرہ دیدی تھی مگر اب یہ اللّٰہ کو پیاری ہو گئ ۔ میری اس بات پر میری بیٹی کے جیسے رونگھٹے کھڑے ہوگئے ۔وہ سکتے میں پڑ گئ اور ہکا بکا رہ گئی ۔ اس نے مجھ سے پوچھا
ہائے یہ کیوں مرگئی؟ اس کو ابھی کہاں مرنا تھا ؟
میری بیٹی کے سوالوں میں وزن بھی تھا کیونکہ عامرہ نے ابھی اپنی زندگی کی چند ہی بہاریں دیکھی تھیں ۔ اسے ابھی اپنی ہم عصر اور ہم عمر بچیوں کے ساتھ بہت سی باتیں کرنی تھیں ۔ لیکن اپنی بیٹی کے ان سوالوں کا جواب میرے ذہن میں نہیں تھا ۔میں نے اپنی بیٹی کو یوں سمجھایا
بیٹی کچھ کلیاں ایسی ہوتی ہیں جو پھول بننے سے پہلے ہی مرجھا جاتی ہیں ۔ بس یوں سمجھو کہ آپ کی عمیرہ دیدی ایک کلی تھی اور کلی مرجھا گئی ۔
الھم اغفرلھا وارحمھا و نور قبرھا
الھم ادخلھا فی جنت العالیہ


