اسلام میں عزت نفس، جذبات ا ور احساسات کا احترام

 

عبدالغفار صدیقی

رسول اکرم ﷺ صرف شریعت کے معلم نہیں بلکہ دلوں کے طبیب تھے۔ آپؐ نے ٹوٹے ہوئے دل جوڑے، محروموں کو حوصلہ دیا، غلاموں کو عزت بخشی، عورتوں، بچوں، بوڑھوں اور یتیموں کے حقوق کا تحفظ کیا اور دشمنوں تک کو معاف کر کے انسانیت کو یہ سبق دیا کہ حقیقی طاقت دل جیتنے میں ہے۔
اسلام نے انسان کے جذبات اور عزتِ نفس کے تحفظ کو غیر معمولی اہمیت دی ہے۔ اسی لئے زبان کی حفاظت پر زور دیتے ہوئے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جو شخص مجھے اپنی زبان اور شرم گاہ کی حفاظت کی ضمانت دے، میں اسے جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔” (بخاری) اور فرمایا: "جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہو، وہ بھلی بات کہے یا خاموش رہے۔” (متفق علیہ) کیونکہ تلخ الفاظ اکثر جسمانی زخموں سے زیادہ گہرے اثرات چھوڑتے ہیں۔
آپ ﷺ کی پوری زندگی دل جوڑنے کی عملی تفسیر تھی۔ آپ نے محبت، حسنِ اخلاق اور خیرخواہی سے لوگوں کو اپنا بنایا۔ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ دل آزاری صرف گالی یا تشدد سے نہیں بلکہ طنز، تحقیر، وعدہ خلافی، بے رخی اور کسی کی بے قدری سے بھی ہوتی ہے۔ اسی لئے فرمایا: "اچھی بات کہنا بھی صدقہ ہے” اور "مسکرا کر ملنا بھی صدقہ ہے۔”

حضرت انس بن مالکؓ فرماتے ہیں کہ دس سال رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں رہے، مگر آپؐ نے کبھی ڈانٹا تک نہیں۔ نہ یہ فرمایا کہ فلاں کام کیوں کیا یا کیوں نہ کیا۔ (متفق علیہ) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام اصلاح چاہتا ہے مگر تذلیل کے ذریعے نہیں، بلکہ محبت اور حکمت کے ساتھ۔

اسلام نے ہر انسان کی عزت کو اس کی انسانیت سے وابستہ کیا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ﴾ (الإسراء: 70)
یعنی ہر انسان عزت کا مستحق ہے، خواہ وہ کسی بھی قوم، نسل یا طبقے سے تعلق رکھتا ہو۔
اسی لئے اسلام نے اچھے نام رکھنے، برے القاب سے بچنے، گالی، بدگمانی، تجسس، غیبت اور مذاق اڑانے سے منع فرمایا۔ قرآن کہتا ہے:
﴿وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ﴾ (الحجرات: 11)
اور:
﴿وَلَا يَغْتَب بَّعْضُكُم بَعْضًا﴾ (الحجرات: 12)
کیونکہ یہ تمام رویے انسان کی عزتِ نفس کو مجروح کرتے ہیں۔
حضرت بلالؓ کا واقعہ اس حقیقت کی روشن مثال ہے۔ جب حضرت ابوذرؓ نے غصے میں ان کی والدہ کے حوالے سے نامناسب جملہ کہا تو رسول اللہ ﷺ نے فوراً تنبیہ فرمائی: "تم میں ابھی جاہلیت کی ایک خصلت باقی ہے۔” (متفق علیہ) اس سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام رنگ، نسل اور حسب و نسب کی بنیاد پر کسی کی تحقیر کو سخت ناپسند کرتا ہے۔

تحائف کے بارے میں بھی اسلام نے محبت اور احترام کا درس دیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "تحفے دیا کرو، محبت بڑھے گی۔” اور یہ بھی ہدایت دی کہ کسی تحفے کو حقیر نہ سمجھا جائے، خواہ وہ معمولی ہی کیوں نہ ہو، کیونکہ اصل اہمیت اس جذبۂ محبت کی ہے جو اس کے پیچھے ہوتا ہے۔
اسلام گفتگو میں بھی نرمی، شائستگی اور حکمت کا حکم دیتا ہے۔ قرآن مجید نے آواز میں اعتدال اور دعوت میں حسنِ اسلوب کی تعلیم دی ہے، حتیٰ کہ حضرت موسیٰؑ اور حضرت ہارونؑ کو فرعون سے بھی نرم انداز میں گفتگو کا حکم دیا گیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سخت لہجے کے بجائے خوش اخلاقی اور حکمت ہی اصلاح کا مؤثر ذریعہ ہے۔
اسلام صرف عبادات ہی نہیں بلکہ انسانی جذبات کی حفاظت کی بھی تعلیم دیتا ہے۔ غم زدہ لوگوں کی دلجوئی، مریض کی عیادت، تعزیت اور ضرورت مندوں کی خبرگیری کو عبادت قرار دیا گیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ خود مریضوں کی عیادت کرتے، دکھی دلوں کو تسلی دیتے اور بچوں کے جذبات کا خصوصی خیال رکھتے تھے۔
حضرت انسؓ روایت کرتے ہیں کہ ان کے چھوٹے بھائی کی چڑیا مر گئی تو رسول اللہ ﷺ محبت سے اس کی دلجوئی کرتے ہوئے فرمایا: "اے ابو عمیر! تمہاری چڑیا کا کیا ہوا؟” (متفق علیہ) اسی طرح حضرت صفیہؓ کے آنسو اپنے دستِ مبارک سے پونچھے، بچوں کو سلام کیا، انہیں گود میں اٹھایا، اور نماز میں بھی ان کے جذبات کا خیال رکھا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کمزور اور حساس طبقات کے احساسات کو بھی غیر معمولی اہمیت دیتا ہے۔
اسلام نے گھریلو آداب میں بھی انسان کی عزت اور پرائیویسی کا تحفظ کیا ہے۔ قرآن نے اجازت کے بغیر کسی کے گھر میں داخل ہونے سے منع فرمایا اور واپس جانے کا کہا جائے تو خوش دلی سے لوٹ آنے کی تعلیم دی۔ اسی طرح نابالغ بچوں کو بھی مخصوص اوقات میں اجازت لے کر داخل ہونے کا حکم دیا گیا تاکہ اہلِ خانہ کی نجی زندگی محفوظ رہے۔
مہمان داری میں بھی اسلام نے میزبان کے جذبات کا لحاظ رکھا ہے۔ اگر کسی دعوت میں اضافی شخص ساتھ آ جائے تو پہلے میزبان سے اجازت لینے کی تعلیم دی گئی، تاکہ اس پر غیر ضروری بوجھ نہ پڑے۔
اسلام نے غیر مسلموں کے جذبات کا احترام بھی سکھایا ہے۔ قرآن نے ان کے معبودوں کو برا بھلا کہنے سے منع فرمایا تاکہ ردِّعمل میں اللہ تعالیٰ کی شان میں گستاخی نہ ہو۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام اپنے عقائد پر ثابت قدم رہتے ہوئے بھی معاشرتی ہم آہنگی اور باہمی احترام کی تلقین کرتا ہے۔

یتیموں کے ساتھ حسنِ سلوک اسلام کی نمایاں تعلیمات میں سے ہے۔ قرآن نے ان پر ظلم اور ان کا مال کھانے سے سختی سے منع کیا، جبکہ رسول اللہ ﷺ نے یتیم کی کفالت کرنے والے کو جنت میں اپنی رفاقت کی خوش خبری دی۔ اسی طرح صدقہ دے کر احسان جتانے اور دل آزاری کرنے کو بھی ممنوع قرار دیا، کیونکہ اسلام کے نزدیک انسان کی عزت اس کے مال سے کہیں زیادہ قیمتی ہے۔
پڑوسیوں کے حقوق کو بھی ایمان کا حصہ قرار دیا گیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ وہ شخص کامل مومن نہیں جس کی ایذا سے اس کا پڑوسی محفوظ نہ ہو۔ اسلام نے یہاں تک تعلیم دی کہ ایسے کاموں سے بھی اجتناب کیا جائے جن سے پڑوسی کے دل میں محرومی یا رنج پیدا ہو۔
مجلس کے آداب میں بھی اسلام نے دوسروں کے احساسات کا خیال رکھنے کی تلقین کی ہے۔ قرآن نے مجلس میں جگہ کشادہ کرنے کا حکم دیا اور رسول اللہ ﷺ نے تین افراد کی موجودگی میں دو آدمیوں کے الگ سرگوشی کرنے سے منع فرمایا، کیونکہ اس سے تیسرے شخص کو دکھ پہنچتا ہے۔ اسی طرح جمعہ کے دن لوگوں کی گردنیں پھلانگ کر آگے بڑھنے کو بھی ناپسند فرمایا، کیونکہ اس میں دوسروں کو تکلیف پہنچتی ہے۔
رسول اللہ ﷺ کی سیرتِ طیبہ میں انسانی جذبات کی رعایت کا ایک نہایت خوب صورت واقعہ حضرت زاہر بن حرامؓ کا ہے۔ وہ ظاہری حسن کے اعتبار سے نمایاں نہ تھے، مگر رسول اللہ ﷺ انہیں بے حد محبوب رکھتے تھے۔ ایک روز آپؐ نے محبت بھرے انداز میں ان سے مزاح فرمایا۔ جب حضرت زاہرؓ نے عرض کیا کہ "یارسول اللہ! پھر تو آپ مجھے بہت سستا پائیں گے”، تو آپؐ نے فوراً فرمایا: "نہیں، بلکہ اللہ کے نزدیک تم بہت قیمتی ہو۔” (مسند احمد)

اس ایک جملے نے واضح کر دیا کہ انسان کی اصل قدر اس کی صورت یا دنیاوی حیثیت نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس کا مقام ہے۔ آج ہماری زبانیں بآسانی لوگوں کو "نالائق”، "ناکام” یا "بدصورت” کہہ دیتی ہیں، حالانکہ ایسے الفاظ کسی کی عزتِ نفس کو عمر بھر کے لئے مجروح کر سکتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں یہ سکھایا کہ مزاح بھی ایسا ہو جس سے کسی کے دل کو ٹھیس نہ پہنچے۔
والدین کے ساتھ حسنِ سلوک بھی اسلام کی بنیادی تعلیمات میں شامل ہے۔ قرآنِ مجید نے والدین کے ساتھ احسان، شکرگزاری، نرم گفتگو اور ان کے لئے دعا کا حکم دیا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿فَلَا تَقُلْ لَهُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا﴾
یعنی والدین کو "اُف” تک نہ کہا جائے، انہیں جھڑکا نہ جائے بلکہ عزت و احترام کے ساتھ گفتگو کی جائے۔ بڑھاپے میں ان کے جذبات کا خیال رکھنا اور ان کے حق میں دعا کرنا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے۔
اسلام کی تعلیمات کا خلاصہ یہی ہے کہ انسان صرف اپنے اعمال سے نہیں بلکہ اپنے اخلاق، زبان اور رویّے سے بھی پہچانا جاتا ہے۔ ایک مسکراہٹ، نرم لہجہ، دلجوئی، وعدے کی پاسداری، پڑوسی کا خیال، یتیم کی کفالت اور والدین کی خدمت—یہ سب ایسے اعمال ہیں جو دلوں کو جوڑتے اور معاشرے میں محبت کو فروغ دیتے ہیں۔

رسول اکرم ﷺ نے ہمیں ایسا معاشرہ تعمیر کرنے کی تعلیم دی ہے جہاں کسی کی عزتِ نفس مجروح نہ ہو، کسی کے جذبات پامال نہ ہوں اور ہر انسان خود کو محفوظ اور باوقار محسوس کرے۔ اگر ہم اپنی گفتگو، طرزِ عمل اور معاشرتی رویّوں میں ان تعلیمات کو جگہ دے دیں تو نفرتوں کی جگہ محبت، بداعتمادی کی جگہ اعتماد اور تقسیم کی جگہ اخوت جنم لے سکتی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں رحم، عفو، حسنِ اخلاق اور احترامِ انسانیت کی ان تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، تاکہ ہم نہ صرف بہتر مسلمان بلکہ دوسروں کے لئے سکون، محبت اور خیر کا ذریعہ بن سکیں۔ آمین۔
خیالِ خاطرِ احباب چاہیے ہر دم
انیسؔ، ٹھیس نہ لگ جائے آبگینوں کو

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

احتجاج، جمہوریت اور ریاستی ردعمل

حیات اندرابی پلوامہ، کشمیر دنیا کی جدید جمہوریتوں میں عوامی احتجاج...

امریکہ-اسرائیل تعلقات اور مشرقی وسطیٰ کا نیا منظرنامہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین...

محکمہ موسمیات کی تازہ پیشنگوئی

  اگلے 2 سے 4 گھنٹوں کے دوران جنوبی کشمیر...

زلزلے کے شدید جھٹکے، شدت 7.1 ریکارڈ، سونامی کی وارننگ جاری

ٹوکیو: جاپان کے جنوبی جزیرے کیوشو میں منگل کے روز...

تازہ ترین خبریں

احتجاج، جمہوریت اور ریاستی ردعمل

حیات اندرابی پلوامہ، کشمیر دنیا کی جدید جمہوریتوں میں عوامی احتجاج...

امریکہ-اسرائیل تعلقات اور مشرقی وسطیٰ کا نیا منظرنامہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین...

محکمہ موسمیات کی تازہ پیشنگوئی

  اگلے 2 سے 4 گھنٹوں کے دوران جنوبی کشمیر...

زلزلے کے شدید جھٹکے، شدت 7.1 ریکارڈ، سونامی کی وارننگ جاری

ٹوکیو: جاپان کے جنوبی جزیرے کیوشو میں منگل کے روز...

اسلام میں عزت نفس، جذبات ا ور احساسات کا احترام

 

عبدالغفار صدیقی

رسول اکرم ﷺ صرف شریعت کے معلم نہیں بلکہ دلوں کے طبیب تھے۔ آپؐ نے ٹوٹے ہوئے دل جوڑے، محروموں کو حوصلہ دیا، غلاموں کو عزت بخشی، عورتوں، بچوں، بوڑھوں اور یتیموں کے حقوق کا تحفظ کیا اور دشمنوں تک کو معاف کر کے انسانیت کو یہ سبق دیا کہ حقیقی طاقت دل جیتنے میں ہے۔
اسلام نے انسان کے جذبات اور عزتِ نفس کے تحفظ کو غیر معمولی اہمیت دی ہے۔ اسی لئے زبان کی حفاظت پر زور دیتے ہوئے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جو شخص مجھے اپنی زبان اور شرم گاہ کی حفاظت کی ضمانت دے، میں اسے جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔” (بخاری) اور فرمایا: "جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہو، وہ بھلی بات کہے یا خاموش رہے۔” (متفق علیہ) کیونکہ تلخ الفاظ اکثر جسمانی زخموں سے زیادہ گہرے اثرات چھوڑتے ہیں۔
آپ ﷺ کی پوری زندگی دل جوڑنے کی عملی تفسیر تھی۔ آپ نے محبت، حسنِ اخلاق اور خیرخواہی سے لوگوں کو اپنا بنایا۔ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ دل آزاری صرف گالی یا تشدد سے نہیں بلکہ طنز، تحقیر، وعدہ خلافی، بے رخی اور کسی کی بے قدری سے بھی ہوتی ہے۔ اسی لئے فرمایا: "اچھی بات کہنا بھی صدقہ ہے” اور "مسکرا کر ملنا بھی صدقہ ہے۔”

حضرت انس بن مالکؓ فرماتے ہیں کہ دس سال رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں رہے، مگر آپؐ نے کبھی ڈانٹا تک نہیں۔ نہ یہ فرمایا کہ فلاں کام کیوں کیا یا کیوں نہ کیا۔ (متفق علیہ) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام اصلاح چاہتا ہے مگر تذلیل کے ذریعے نہیں، بلکہ محبت اور حکمت کے ساتھ۔

اسلام نے ہر انسان کی عزت کو اس کی انسانیت سے وابستہ کیا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ﴾ (الإسراء: 70)
یعنی ہر انسان عزت کا مستحق ہے، خواہ وہ کسی بھی قوم، نسل یا طبقے سے تعلق رکھتا ہو۔
اسی لئے اسلام نے اچھے نام رکھنے، برے القاب سے بچنے، گالی، بدگمانی، تجسس، غیبت اور مذاق اڑانے سے منع فرمایا۔ قرآن کہتا ہے:
﴿وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ﴾ (الحجرات: 11)
اور:
﴿وَلَا يَغْتَب بَّعْضُكُم بَعْضًا﴾ (الحجرات: 12)
کیونکہ یہ تمام رویے انسان کی عزتِ نفس کو مجروح کرتے ہیں۔
حضرت بلالؓ کا واقعہ اس حقیقت کی روشن مثال ہے۔ جب حضرت ابوذرؓ نے غصے میں ان کی والدہ کے حوالے سے نامناسب جملہ کہا تو رسول اللہ ﷺ نے فوراً تنبیہ فرمائی: "تم میں ابھی جاہلیت کی ایک خصلت باقی ہے۔” (متفق علیہ) اس سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام رنگ، نسل اور حسب و نسب کی بنیاد پر کسی کی تحقیر کو سخت ناپسند کرتا ہے۔

تحائف کے بارے میں بھی اسلام نے محبت اور احترام کا درس دیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "تحفے دیا کرو، محبت بڑھے گی۔” اور یہ بھی ہدایت دی کہ کسی تحفے کو حقیر نہ سمجھا جائے، خواہ وہ معمولی ہی کیوں نہ ہو، کیونکہ اصل اہمیت اس جذبۂ محبت کی ہے جو اس کے پیچھے ہوتا ہے۔
اسلام گفتگو میں بھی نرمی، شائستگی اور حکمت کا حکم دیتا ہے۔ قرآن مجید نے آواز میں اعتدال اور دعوت میں حسنِ اسلوب کی تعلیم دی ہے، حتیٰ کہ حضرت موسیٰؑ اور حضرت ہارونؑ کو فرعون سے بھی نرم انداز میں گفتگو کا حکم دیا گیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سخت لہجے کے بجائے خوش اخلاقی اور حکمت ہی اصلاح کا مؤثر ذریعہ ہے۔
اسلام صرف عبادات ہی نہیں بلکہ انسانی جذبات کی حفاظت کی بھی تعلیم دیتا ہے۔ غم زدہ لوگوں کی دلجوئی، مریض کی عیادت، تعزیت اور ضرورت مندوں کی خبرگیری کو عبادت قرار دیا گیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ خود مریضوں کی عیادت کرتے، دکھی دلوں کو تسلی دیتے اور بچوں کے جذبات کا خصوصی خیال رکھتے تھے۔
حضرت انسؓ روایت کرتے ہیں کہ ان کے چھوٹے بھائی کی چڑیا مر گئی تو رسول اللہ ﷺ محبت سے اس کی دلجوئی کرتے ہوئے فرمایا: "اے ابو عمیر! تمہاری چڑیا کا کیا ہوا؟” (متفق علیہ) اسی طرح حضرت صفیہؓ کے آنسو اپنے دستِ مبارک سے پونچھے، بچوں کو سلام کیا، انہیں گود میں اٹھایا، اور نماز میں بھی ان کے جذبات کا خیال رکھا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کمزور اور حساس طبقات کے احساسات کو بھی غیر معمولی اہمیت دیتا ہے۔
اسلام نے گھریلو آداب میں بھی انسان کی عزت اور پرائیویسی کا تحفظ کیا ہے۔ قرآن نے اجازت کے بغیر کسی کے گھر میں داخل ہونے سے منع فرمایا اور واپس جانے کا کہا جائے تو خوش دلی سے لوٹ آنے کی تعلیم دی۔ اسی طرح نابالغ بچوں کو بھی مخصوص اوقات میں اجازت لے کر داخل ہونے کا حکم دیا گیا تاکہ اہلِ خانہ کی نجی زندگی محفوظ رہے۔
مہمان داری میں بھی اسلام نے میزبان کے جذبات کا لحاظ رکھا ہے۔ اگر کسی دعوت میں اضافی شخص ساتھ آ جائے تو پہلے میزبان سے اجازت لینے کی تعلیم دی گئی، تاکہ اس پر غیر ضروری بوجھ نہ پڑے۔
اسلام نے غیر مسلموں کے جذبات کا احترام بھی سکھایا ہے۔ قرآن نے ان کے معبودوں کو برا بھلا کہنے سے منع فرمایا تاکہ ردِّعمل میں اللہ تعالیٰ کی شان میں گستاخی نہ ہو۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام اپنے عقائد پر ثابت قدم رہتے ہوئے بھی معاشرتی ہم آہنگی اور باہمی احترام کی تلقین کرتا ہے۔

یتیموں کے ساتھ حسنِ سلوک اسلام کی نمایاں تعلیمات میں سے ہے۔ قرآن نے ان پر ظلم اور ان کا مال کھانے سے سختی سے منع کیا، جبکہ رسول اللہ ﷺ نے یتیم کی کفالت کرنے والے کو جنت میں اپنی رفاقت کی خوش خبری دی۔ اسی طرح صدقہ دے کر احسان جتانے اور دل آزاری کرنے کو بھی ممنوع قرار دیا، کیونکہ اسلام کے نزدیک انسان کی عزت اس کے مال سے کہیں زیادہ قیمتی ہے۔
پڑوسیوں کے حقوق کو بھی ایمان کا حصہ قرار دیا گیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ وہ شخص کامل مومن نہیں جس کی ایذا سے اس کا پڑوسی محفوظ نہ ہو۔ اسلام نے یہاں تک تعلیم دی کہ ایسے کاموں سے بھی اجتناب کیا جائے جن سے پڑوسی کے دل میں محرومی یا رنج پیدا ہو۔
مجلس کے آداب میں بھی اسلام نے دوسروں کے احساسات کا خیال رکھنے کی تلقین کی ہے۔ قرآن نے مجلس میں جگہ کشادہ کرنے کا حکم دیا اور رسول اللہ ﷺ نے تین افراد کی موجودگی میں دو آدمیوں کے الگ سرگوشی کرنے سے منع فرمایا، کیونکہ اس سے تیسرے شخص کو دکھ پہنچتا ہے۔ اسی طرح جمعہ کے دن لوگوں کی گردنیں پھلانگ کر آگے بڑھنے کو بھی ناپسند فرمایا، کیونکہ اس میں دوسروں کو تکلیف پہنچتی ہے۔
رسول اللہ ﷺ کی سیرتِ طیبہ میں انسانی جذبات کی رعایت کا ایک نہایت خوب صورت واقعہ حضرت زاہر بن حرامؓ کا ہے۔ وہ ظاہری حسن کے اعتبار سے نمایاں نہ تھے، مگر رسول اللہ ﷺ انہیں بے حد محبوب رکھتے تھے۔ ایک روز آپؐ نے محبت بھرے انداز میں ان سے مزاح فرمایا۔ جب حضرت زاہرؓ نے عرض کیا کہ "یارسول اللہ! پھر تو آپ مجھے بہت سستا پائیں گے”، تو آپؐ نے فوراً فرمایا: "نہیں، بلکہ اللہ کے نزدیک تم بہت قیمتی ہو۔” (مسند احمد)

اس ایک جملے نے واضح کر دیا کہ انسان کی اصل قدر اس کی صورت یا دنیاوی حیثیت نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس کا مقام ہے۔ آج ہماری زبانیں بآسانی لوگوں کو "نالائق”، "ناکام” یا "بدصورت” کہہ دیتی ہیں، حالانکہ ایسے الفاظ کسی کی عزتِ نفس کو عمر بھر کے لئے مجروح کر سکتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں یہ سکھایا کہ مزاح بھی ایسا ہو جس سے کسی کے دل کو ٹھیس نہ پہنچے۔
والدین کے ساتھ حسنِ سلوک بھی اسلام کی بنیادی تعلیمات میں شامل ہے۔ قرآنِ مجید نے والدین کے ساتھ احسان، شکرگزاری، نرم گفتگو اور ان کے لئے دعا کا حکم دیا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿فَلَا تَقُلْ لَهُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا﴾
یعنی والدین کو "اُف” تک نہ کہا جائے، انہیں جھڑکا نہ جائے بلکہ عزت و احترام کے ساتھ گفتگو کی جائے۔ بڑھاپے میں ان کے جذبات کا خیال رکھنا اور ان کے حق میں دعا کرنا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے۔
اسلام کی تعلیمات کا خلاصہ یہی ہے کہ انسان صرف اپنے اعمال سے نہیں بلکہ اپنے اخلاق، زبان اور رویّے سے بھی پہچانا جاتا ہے۔ ایک مسکراہٹ، نرم لہجہ، دلجوئی، وعدے کی پاسداری، پڑوسی کا خیال، یتیم کی کفالت اور والدین کی خدمت—یہ سب ایسے اعمال ہیں جو دلوں کو جوڑتے اور معاشرے میں محبت کو فروغ دیتے ہیں۔

رسول اکرم ﷺ نے ہمیں ایسا معاشرہ تعمیر کرنے کی تعلیم دی ہے جہاں کسی کی عزتِ نفس مجروح نہ ہو، کسی کے جذبات پامال نہ ہوں اور ہر انسان خود کو محفوظ اور باوقار محسوس کرے۔ اگر ہم اپنی گفتگو، طرزِ عمل اور معاشرتی رویّوں میں ان تعلیمات کو جگہ دے دیں تو نفرتوں کی جگہ محبت، بداعتمادی کی جگہ اعتماد اور تقسیم کی جگہ اخوت جنم لے سکتی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں رحم، عفو، حسنِ اخلاق اور احترامِ انسانیت کی ان تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، تاکہ ہم نہ صرف بہتر مسلمان بلکہ دوسروں کے لئے سکون، محبت اور خیر کا ذریعہ بن سکیں۔ آمین۔
خیالِ خاطرِ احباب چاہیے ہر دم
انیسؔ، ٹھیس نہ لگ جائے آبگینوں کو

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں