جمہوری ستونوں کو مضبوط کرنا ناگزیر

 

محمد مسلم کبیر

ہندوستان دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلاتا ہے۔ اس جمہوری نظام کی بنیاد ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈ کر کی سربراہی میں تیار کردہ آئین پر رکھی گئی، جس کا بنیادی مقصد ہر شہری کو مساوات، آزادی، انصاف اور اخوت فراہم کرنا تھا۔ آئین نے صرف حکومت کے اختیارات ہی متعین نہیں کیے بلکہ ایسے ادارے بھی قائم کیے جو اقتدار کو جواب دہ بنائیں اور عوام کے بنیادی حقوق کی حفاظت کریں۔

عام طور پر جمہوریت کے چار ستون شمار کیے جاتے ہیں: مقننہ (حکومت و پارلیمنٹ)، عدلیہ، انتظامیہ و پولیس، اور آزاد میڈیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا آج یہ چاروں ستون اسی مضبوطی اور غیر جانبداری کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں جیسا کہ دستور سازوں نے تصور کیا تھا؟
جنتر منتر کا احتجاج اور حکومت کا کردار
جمہوریت میں پُرامن احتجاج شہریوں کا آئینی حق ہے۔ دہلی کے جنتر منتر پر مختلف طلبہ تنظیموں اور سماجی گروہوں کی جانب سے جاری احتجاج اسی آئینی حق کے دائرے میں دیکھا جاتا ہے۔ ایسے مواقع پر حکومت، پولیس، عدلیہ اور میڈیا کے کردار کا غیر جانبدارانہ جائزہ لینا ضروری ہے۔
حکومت اور پارلیمنٹ
جمہوری حکومت عوامی مینڈیٹ سے وجود میں آتی ہے، لیکن اس کی اصل کامیابی صرف انتخابات جیتنے میں نہیں بلکہ آئین کی روح کے مطابق حکمرانی کرنے میں ہے۔ ایک مضبوط حکومت وہ ہے جو اختلافِ رائے کو دشمنی نہ سمجھے، بلکہ اسے جمہوریت کی طاقت تصور کرے۔
موجودہ سیاسی ماحول میں اپوزیشن، سول سوسائٹی اور سماجی کارکنوں کے تحفظات، پارلیمانی مباحث کے محدود ہوتے دائرے، اور اہم قوانین کی جلد منظوری جیسے مسائل پر مسلسل بحث ہوتی رہی ہے۔ جمہوریت کی صحت اسی وقت برقرار رہتی ہے جب حکومت کے ساتھ مؤثر اور باوقار حزبِ اختلاف بھی موجود ہو۔
مرکزی حکومت سے عوام کی توقع ہوتی ہے کہ وہ صرف امن و امان برقرار رکھنے تک محدود نہ رہے بلکہ احتجاج کرنے والوں کے مطالبات کو سنجیدگی سے سنے، مذاکرات کا راستہ اختیار کرے اور اگر کسی طبقے میں بے چینی یا احساسِ محرومی پیدا ہو رہا ہو تو اس کے اسباب کو دور کرنے کی کوشش کرے۔ جمہوری حکومت کی طاقت صرف قانون نافذ کرنے میں نہیں بلکہ عوامی اعتماد قائم رکھنے میں بھی مضمر ہے۔
عدلیہ: عوام کی آخری امید
عدلیہ کو آئین کا محافظ کہا جاتا ہے۔ جب انتظامیہ یا حکومت سے کسی شہری کو انصاف نہ ملے تو عدالت ہی اس کی آخری پناہ گاہ ہوتی ہے۔
سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس نے متعدد تاریخی فیصلوں کے ذریعے بنیادی حقوق کی حفاظت کی ہے، لیکن حالیہ برسوں میں عدالتی کارروائیوں میں تاخیر، زیر التوا مقدمات کی بڑی تعداد، اور بعض حساس معاملات میں عدلیہ کے کردار پر عوامی سطح پر سوالات بھی اٹھائے گئے ہیں۔ عدلیہ کی غیر جانبداری اور عوامی اعتماد جمہوریت کے استحکام کے لئے ناگزیر ہیں۔
جب شہری یہ محسوس کریں کہ ان کے بنیادی حقوق متاثر ہو رہے ہیں تو ان کی نظریں عدلیہ کی طرف اٹھتی ہیں۔ ایسے معاملات میں عدلیہ سے یہی توقع کی جاتی ہے کہ وہ آئین کے آرٹیکل 14 (برابری)، آرٹیکل 19 (اظہارِ رائے اور پُرامن اجتماع کی آزادی)، آرٹیکل 21 (زندگی اور شخصی آزادی) اور آرٹیکل 25 (مذہبی آزادی) کی روشنی میں بروقت اور مؤثر انصاف فراہم کرے۔ عدالتی مداخلت نہ صرف متاثرہ فریق کو انصاف دیتی ہے بلکہ آئینی اداروں پر عوامی اعتماد بھی مضبوط کرتی ہے۔
پولیس اور انتظامیہ
پولیس کا بنیادی فرض شہریوں کے جان و مال کا تحفظ اور قانون کی یکساں عمل داری ہے۔ آئین کے مطابق قانون کی نظر میں ہر شہری برابر ہے۔
تاہم مختلف ریاستوں میں سیاسی دباؤ، منتخب کارروائی، ہجومی تشدد، مذہبی کشیدگی، اور بعض معاملات میں بے جا گرفتاریوں جیسے واقعات نے پولیس کی غیر جانبداری پر سوالات کھڑے کیے ہیں۔ پولیس پر عوام کا اعتماد اسی وقت مضبوط ہوگا جب اس کا رویہ مکمل طور پر آئینی، شفاف اور غیر امتیازی ہوگا۔

پولیس ریاست کی انتظامی طاقت کی علامت ہے، لیکن جمہوری نظام میں اس کی اولین وفاداری کسی حکومت سے نہیں بلکہ قانون اور آئین سے ہونی چاہیے۔ احتجاجی مظاہروں میں پولیس کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ امن و امان قائم رکھتے ہوئے شہریوں کے آئینی حقوق کا احترام کرے۔ طاقت کا استعمال صرف ناگزیر حالات میں اور قانون کے مطابق ہونا چاہیے۔ کسی بھی قسم کے امتیازی یا غیر متناسب رویے سے عوامی اعتماد مجروح ہوتا ہے۔
میڈیا: جمہوریت کا چوتھا ستون
آزاد اور ذمہ دار میڈیا جمہوریت کی روح ہے۔ اس کا فرض حکومت کی تعریف یا مخالفت نہیں بلکہ عوام تک سچ اور مستند معلومات پہنچانا ہے۔
ڈیجیٹل دور میں اطلاعات کی رفتار بڑھی ہے، مگر ساتھ ہی سنسنی خیزی، جھوٹی خبروں، کارپوریٹ مفادات اور سیاسی وابستگیوں کے الزامات نے میڈیا کی ساکھ کو بھی متاثر کیا ہے۔ ایسے حالات میں آزاد صحافت کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔
میڈیا کو جمہوریت کا چوتھا ستون کہا جاتا ہے، کیونکہ وہ عوام اور حکومت کے درمیان پل کا کردار ادا کرتا ہے۔ اگر میڈیا احتجاج کی صرف ایک جہت دکھائے اور دوسری رائے یا زمینی حقائق کو نظر انداز کرے تو عوام تک مکمل تصویر نہیں پہنچ پاتی۔ ذمہ دار صحافت کا تقاضا ہے کہ ہر پہلو کو حقائق، شواہد اور مختلف آراء کے ساتھ پیش کیا جائے تاکہ عوام خود رائے قائم کر سکیں۔
مذہبی اور سماجی آزادی
ہندوستان کا آئین ہر شہری کو مذہب اختیار کرنے، اس پر عمل کرنے اور اس کی تبلیغ کی آزادی دیتا ہے۔ اسی طرح اظہارِ رائے، تنظیم سازی اور پرامن احتجاج بھی بنیادی حقوق میں شامل ہیں۔

لیکن جب مذہبی منافرت، فرقہ وارانہ کشیدگی، یا کسی خاص طبقے میں خوف اور عدم تحفظ کا احساس پیدا ہو تو یہ جمہوری اقدار کے لئے ایک سنجیدہ چیلنج بن جاتا ہے۔ آئین کی اصل روح یہی ہے کہ اکثریت اور اقلیت، دونوں کو یکساں تحفظ حاصل ہو۔
ہندوستان کا آئین سماجی انصاف کی بنیاد پر قائم ہے۔ درج فہرست ذاتوں، درج فہرست قبائل، دیگر پسماندہ طبقات اور مذہبی و لسانی اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ آئینی ذمہ داری ہے۔ اگر ان طبقات میں عدم تحفظ، امتیازی سلوک یا انصاف میں تاخیر کا احساس پیدا ہو تو حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شفاف تحقیقات، مؤثر اقدامات اور مسلسل مکالمے کے ذریعے اعتماد بحال کرے۔
حکومت کی خاموشی یا تاخیر سے ردِعمل بعض اوقات شکوک و شبہات کو جنم دیتا ہے۔ تاہم کسی بھی معاملے میں حکومت کے کردار کا جائزہ لیتے وقت مصدقہ حقائق، عدالتی کارروائی اور آئینی اصولوں کو بنیاد بنانا ضروری ہے، تاکہ تنقید تعمیری ہو اور جمہوری اداروں کی اصلاح کا ذریعہ بنے۔
ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈ کر کی تنبیہ
ڈاکٹر بابا صاحب امبیدکر نے آئین ساز اسمبلی میں کہا تھا کہ بہترین آئین بھی اس وقت ناکام ہو سکتا ہے جب اسے نافذ کرنے والے افراد اپنی ذمہ داری دیانت داری سے ادا نہ کریں، جبکہ ایک اچھا نظام مخلص قیادت کے ذریعے مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔ اس لئے جمہوریت کی کامیابی صرف آئینی دفعات پر نہیں بلکہ اداروں کی غیر جانبداری، شفافیت اور آئینی وفاداری پر منحصر ہے۔

یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ جمہوریت کے چاروں ستون مکمل طور پر کمزور ہو چکے ہیں، اور نہ ہی یہ کہنا حقیقت کے مطابق ہوگا کہ سب کچھ مثالی ہے۔ حقیقت ان دونوں کے درمیان ہے۔ ہندوستان کے جمہوری ادارے اپنی جگہ موجود ہیں، لیکن ان کی مضبوطی کا انحصار اس بات پر ہے کہ وہ آئین کی روح، قانون کی بالادستی اور عوامی اعتماد کو کس حد تک برقرار رکھتے ہیں۔
ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈ کر نے ایک ایسے ہندوستان کا تصور پیش کیا تھا جہاں حکومت طاقت سے نہیں بلکہ آئین سے چلتی ہو، جہاں عدالتیں ہر شہری کے لئے امید کی کرن ہوں، پولیس قانون کی غیر جانبدار محافظ ہو، میڈیا سچائی کا علمبردار ہو، اور پسماندہ طبقات و اقلیتیں خود کو مساوی، محفوظ اور باوقار شہری محسوس کریں۔ اگر ریاست کے تمام ادارے آئین کی روح کے مطابق اپنی ذمہ داریاں ادا کریں تو جمہوریت نہ صرف مضبوط ہوگی بلکہ ہر شہری کے اعتماد کا مرکز بھی بنے گی۔اگر حکومت جواب دہ ہو، عدلیہ آزاد رہے، پولیس غیر جانبدار ہو، میڈیا ذمہ دار اور آزاد رہے، اور شہری اپنے آئینی حقوق و فرائض سے آگاہ ہوں، تو ہندوستانی جمہوریت مزید مضبوط ہوگی۔ یہی ڈاکٹر بابا صاحب امبیدکر کے دستور کا حقیقی پیغام اور ایک مضبوط، ترقی یافتہ اور ہم آہنگ ہندوستان کی بنیاد ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

احتجاج، جمہوریت اور ریاستی ردعمل

حیات اندرابی پلوامہ، کشمیر دنیا کی جدید جمہوریتوں میں عوامی احتجاج...

امریکہ-اسرائیل تعلقات اور مشرقی وسطیٰ کا نیا منظرنامہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین...

محکمہ موسمیات کی تازہ پیشنگوئی

  اگلے 2 سے 4 گھنٹوں کے دوران جنوبی کشمیر...

زلزلے کے شدید جھٹکے، شدت 7.1 ریکارڈ، سونامی کی وارننگ جاری

ٹوکیو: جاپان کے جنوبی جزیرے کیوشو میں منگل کے روز...

تازہ ترین خبریں

احتجاج، جمہوریت اور ریاستی ردعمل

حیات اندرابی پلوامہ، کشمیر دنیا کی جدید جمہوریتوں میں عوامی احتجاج...

امریکہ-اسرائیل تعلقات اور مشرقی وسطیٰ کا نیا منظرنامہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین...

محکمہ موسمیات کی تازہ پیشنگوئی

  اگلے 2 سے 4 گھنٹوں کے دوران جنوبی کشمیر...

زلزلے کے شدید جھٹکے، شدت 7.1 ریکارڈ، سونامی کی وارننگ جاری

ٹوکیو: جاپان کے جنوبی جزیرے کیوشو میں منگل کے روز...

جمہوری ستونوں کو مضبوط کرنا ناگزیر

 

محمد مسلم کبیر

ہندوستان دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلاتا ہے۔ اس جمہوری نظام کی بنیاد ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈ کر کی سربراہی میں تیار کردہ آئین پر رکھی گئی، جس کا بنیادی مقصد ہر شہری کو مساوات، آزادی، انصاف اور اخوت فراہم کرنا تھا۔ آئین نے صرف حکومت کے اختیارات ہی متعین نہیں کیے بلکہ ایسے ادارے بھی قائم کیے جو اقتدار کو جواب دہ بنائیں اور عوام کے بنیادی حقوق کی حفاظت کریں۔

عام طور پر جمہوریت کے چار ستون شمار کیے جاتے ہیں: مقننہ (حکومت و پارلیمنٹ)، عدلیہ، انتظامیہ و پولیس، اور آزاد میڈیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا آج یہ چاروں ستون اسی مضبوطی اور غیر جانبداری کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں جیسا کہ دستور سازوں نے تصور کیا تھا؟
جنتر منتر کا احتجاج اور حکومت کا کردار
جمہوریت میں پُرامن احتجاج شہریوں کا آئینی حق ہے۔ دہلی کے جنتر منتر پر مختلف طلبہ تنظیموں اور سماجی گروہوں کی جانب سے جاری احتجاج اسی آئینی حق کے دائرے میں دیکھا جاتا ہے۔ ایسے مواقع پر حکومت، پولیس، عدلیہ اور میڈیا کے کردار کا غیر جانبدارانہ جائزہ لینا ضروری ہے۔
حکومت اور پارلیمنٹ
جمہوری حکومت عوامی مینڈیٹ سے وجود میں آتی ہے، لیکن اس کی اصل کامیابی صرف انتخابات جیتنے میں نہیں بلکہ آئین کی روح کے مطابق حکمرانی کرنے میں ہے۔ ایک مضبوط حکومت وہ ہے جو اختلافِ رائے کو دشمنی نہ سمجھے، بلکہ اسے جمہوریت کی طاقت تصور کرے۔
موجودہ سیاسی ماحول میں اپوزیشن، سول سوسائٹی اور سماجی کارکنوں کے تحفظات، پارلیمانی مباحث کے محدود ہوتے دائرے، اور اہم قوانین کی جلد منظوری جیسے مسائل پر مسلسل بحث ہوتی رہی ہے۔ جمہوریت کی صحت اسی وقت برقرار رہتی ہے جب حکومت کے ساتھ مؤثر اور باوقار حزبِ اختلاف بھی موجود ہو۔
مرکزی حکومت سے عوام کی توقع ہوتی ہے کہ وہ صرف امن و امان برقرار رکھنے تک محدود نہ رہے بلکہ احتجاج کرنے والوں کے مطالبات کو سنجیدگی سے سنے، مذاکرات کا راستہ اختیار کرے اور اگر کسی طبقے میں بے چینی یا احساسِ محرومی پیدا ہو رہا ہو تو اس کے اسباب کو دور کرنے کی کوشش کرے۔ جمہوری حکومت کی طاقت صرف قانون نافذ کرنے میں نہیں بلکہ عوامی اعتماد قائم رکھنے میں بھی مضمر ہے۔
عدلیہ: عوام کی آخری امید
عدلیہ کو آئین کا محافظ کہا جاتا ہے۔ جب انتظامیہ یا حکومت سے کسی شہری کو انصاف نہ ملے تو عدالت ہی اس کی آخری پناہ گاہ ہوتی ہے۔
سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس نے متعدد تاریخی فیصلوں کے ذریعے بنیادی حقوق کی حفاظت کی ہے، لیکن حالیہ برسوں میں عدالتی کارروائیوں میں تاخیر، زیر التوا مقدمات کی بڑی تعداد، اور بعض حساس معاملات میں عدلیہ کے کردار پر عوامی سطح پر سوالات بھی اٹھائے گئے ہیں۔ عدلیہ کی غیر جانبداری اور عوامی اعتماد جمہوریت کے استحکام کے لئے ناگزیر ہیں۔
جب شہری یہ محسوس کریں کہ ان کے بنیادی حقوق متاثر ہو رہے ہیں تو ان کی نظریں عدلیہ کی طرف اٹھتی ہیں۔ ایسے معاملات میں عدلیہ سے یہی توقع کی جاتی ہے کہ وہ آئین کے آرٹیکل 14 (برابری)، آرٹیکل 19 (اظہارِ رائے اور پُرامن اجتماع کی آزادی)، آرٹیکل 21 (زندگی اور شخصی آزادی) اور آرٹیکل 25 (مذہبی آزادی) کی روشنی میں بروقت اور مؤثر انصاف فراہم کرے۔ عدالتی مداخلت نہ صرف متاثرہ فریق کو انصاف دیتی ہے بلکہ آئینی اداروں پر عوامی اعتماد بھی مضبوط کرتی ہے۔
پولیس اور انتظامیہ
پولیس کا بنیادی فرض شہریوں کے جان و مال کا تحفظ اور قانون کی یکساں عمل داری ہے۔ آئین کے مطابق قانون کی نظر میں ہر شہری برابر ہے۔
تاہم مختلف ریاستوں میں سیاسی دباؤ، منتخب کارروائی، ہجومی تشدد، مذہبی کشیدگی، اور بعض معاملات میں بے جا گرفتاریوں جیسے واقعات نے پولیس کی غیر جانبداری پر سوالات کھڑے کیے ہیں۔ پولیس پر عوام کا اعتماد اسی وقت مضبوط ہوگا جب اس کا رویہ مکمل طور پر آئینی، شفاف اور غیر امتیازی ہوگا۔

پولیس ریاست کی انتظامی طاقت کی علامت ہے، لیکن جمہوری نظام میں اس کی اولین وفاداری کسی حکومت سے نہیں بلکہ قانون اور آئین سے ہونی چاہیے۔ احتجاجی مظاہروں میں پولیس کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ امن و امان قائم رکھتے ہوئے شہریوں کے آئینی حقوق کا احترام کرے۔ طاقت کا استعمال صرف ناگزیر حالات میں اور قانون کے مطابق ہونا چاہیے۔ کسی بھی قسم کے امتیازی یا غیر متناسب رویے سے عوامی اعتماد مجروح ہوتا ہے۔
میڈیا: جمہوریت کا چوتھا ستون
آزاد اور ذمہ دار میڈیا جمہوریت کی روح ہے۔ اس کا فرض حکومت کی تعریف یا مخالفت نہیں بلکہ عوام تک سچ اور مستند معلومات پہنچانا ہے۔
ڈیجیٹل دور میں اطلاعات کی رفتار بڑھی ہے، مگر ساتھ ہی سنسنی خیزی، جھوٹی خبروں، کارپوریٹ مفادات اور سیاسی وابستگیوں کے الزامات نے میڈیا کی ساکھ کو بھی متاثر کیا ہے۔ ایسے حالات میں آزاد صحافت کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔
میڈیا کو جمہوریت کا چوتھا ستون کہا جاتا ہے، کیونکہ وہ عوام اور حکومت کے درمیان پل کا کردار ادا کرتا ہے۔ اگر میڈیا احتجاج کی صرف ایک جہت دکھائے اور دوسری رائے یا زمینی حقائق کو نظر انداز کرے تو عوام تک مکمل تصویر نہیں پہنچ پاتی۔ ذمہ دار صحافت کا تقاضا ہے کہ ہر پہلو کو حقائق، شواہد اور مختلف آراء کے ساتھ پیش کیا جائے تاکہ عوام خود رائے قائم کر سکیں۔
مذہبی اور سماجی آزادی
ہندوستان کا آئین ہر شہری کو مذہب اختیار کرنے، اس پر عمل کرنے اور اس کی تبلیغ کی آزادی دیتا ہے۔ اسی طرح اظہارِ رائے، تنظیم سازی اور پرامن احتجاج بھی بنیادی حقوق میں شامل ہیں۔

لیکن جب مذہبی منافرت، فرقہ وارانہ کشیدگی، یا کسی خاص طبقے میں خوف اور عدم تحفظ کا احساس پیدا ہو تو یہ جمہوری اقدار کے لئے ایک سنجیدہ چیلنج بن جاتا ہے۔ آئین کی اصل روح یہی ہے کہ اکثریت اور اقلیت، دونوں کو یکساں تحفظ حاصل ہو۔
ہندوستان کا آئین سماجی انصاف کی بنیاد پر قائم ہے۔ درج فہرست ذاتوں، درج فہرست قبائل، دیگر پسماندہ طبقات اور مذہبی و لسانی اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ آئینی ذمہ داری ہے۔ اگر ان طبقات میں عدم تحفظ، امتیازی سلوک یا انصاف میں تاخیر کا احساس پیدا ہو تو حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شفاف تحقیقات، مؤثر اقدامات اور مسلسل مکالمے کے ذریعے اعتماد بحال کرے۔
حکومت کی خاموشی یا تاخیر سے ردِعمل بعض اوقات شکوک و شبہات کو جنم دیتا ہے۔ تاہم کسی بھی معاملے میں حکومت کے کردار کا جائزہ لیتے وقت مصدقہ حقائق، عدالتی کارروائی اور آئینی اصولوں کو بنیاد بنانا ضروری ہے، تاکہ تنقید تعمیری ہو اور جمہوری اداروں کی اصلاح کا ذریعہ بنے۔
ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈ کر کی تنبیہ
ڈاکٹر بابا صاحب امبیدکر نے آئین ساز اسمبلی میں کہا تھا کہ بہترین آئین بھی اس وقت ناکام ہو سکتا ہے جب اسے نافذ کرنے والے افراد اپنی ذمہ داری دیانت داری سے ادا نہ کریں، جبکہ ایک اچھا نظام مخلص قیادت کے ذریعے مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔ اس لئے جمہوریت کی کامیابی صرف آئینی دفعات پر نہیں بلکہ اداروں کی غیر جانبداری، شفافیت اور آئینی وفاداری پر منحصر ہے۔

یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ جمہوریت کے چاروں ستون مکمل طور پر کمزور ہو چکے ہیں، اور نہ ہی یہ کہنا حقیقت کے مطابق ہوگا کہ سب کچھ مثالی ہے۔ حقیقت ان دونوں کے درمیان ہے۔ ہندوستان کے جمہوری ادارے اپنی جگہ موجود ہیں، لیکن ان کی مضبوطی کا انحصار اس بات پر ہے کہ وہ آئین کی روح، قانون کی بالادستی اور عوامی اعتماد کو کس حد تک برقرار رکھتے ہیں۔
ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈ کر نے ایک ایسے ہندوستان کا تصور پیش کیا تھا جہاں حکومت طاقت سے نہیں بلکہ آئین سے چلتی ہو، جہاں عدالتیں ہر شہری کے لئے امید کی کرن ہوں، پولیس قانون کی غیر جانبدار محافظ ہو، میڈیا سچائی کا علمبردار ہو، اور پسماندہ طبقات و اقلیتیں خود کو مساوی، محفوظ اور باوقار شہری محسوس کریں۔ اگر ریاست کے تمام ادارے آئین کی روح کے مطابق اپنی ذمہ داریاں ادا کریں تو جمہوریت نہ صرف مضبوط ہوگی بلکہ ہر شہری کے اعتماد کا مرکز بھی بنے گی۔اگر حکومت جواب دہ ہو، عدلیہ آزاد رہے، پولیس غیر جانبدار ہو، میڈیا ذمہ دار اور آزاد رہے، اور شہری اپنے آئینی حقوق و فرائض سے آگاہ ہوں، تو ہندوستانی جمہوریت مزید مضبوط ہوگی۔ یہی ڈاکٹر بابا صاحب امبیدکر کے دستور کا حقیقی پیغام اور ایک مضبوط، ترقی یافتہ اور ہم آہنگ ہندوستان کی بنیاد ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں