
پروفیسر مشتاق احمد
اردو زبان و ادب کی تاریخ کے مطالعے سے یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ برصغیر کی علمی، ادبی اور تعلیمی تاریخ میں بعض ادارے ایسے ہیں جنہوں نے اپنے عہد سے آگے بڑھ کر پورے معاشرے کی فکری تشکیل میں بنیادی کردار ادا کیا۔ ان اداروں میں دہلی کالج کا نام نہایت احترام اور اہمیت کے ساتھ لیا جاتا ہے۔ حکومت برطانیہ کے دور میں یہ ادارہ جدید اور مشرقی علوم کے سنگم کی حیثیت رکھتا تھا۔ دہلی کالج نے نہ صرف تعلیم کے میدان میں نئی راہیں ہموار کیں بلکہ اردو زبان و ادب، سائنسی علوم کے فروغ اور جدید فکری شعور کی بیداری میں بھی نا قابل فراموش خدمات انجام دیں۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ داں اسے برصغیر میں جدید تعلیم کے اولین مراکز میں شمار کرتے ہیں۔
واضح ہو کہ دہلی صدیوں سے علم رہا ہے۔ مغلیہ سلطنت کے زوال کے باوجود اس شہر کی علمی روایت برقرار رہی۔انیسویں صدی کے اوائل میں جب انگریز اقتدار مستحکم ہورہا تھاتو جدید تعلیم کی ضرورت شدت سے محسوس کی جانے لگی۔ اس پس منظر میں دہلی کالج کے نام سے (موجودہ ذاکر حسین کالج، دہلی) 1825ء میں قائم کیا گیا۔ یہاں یہ ذکر بھی ضروری ہے کہ یہ کالج پہلے غازی الدین خاں کے مدرسہ کے نام سے جانا جاتا تھا جو 1892 ء میں قائم ہوا تھا۔ ابتدامیں اس کا مقصد عربی، فارسی اور اسلامی علوم کی تعلیم دینی تھا لیکن جلد ہی اس میں جدید سائنسی اور مغربی علوم کو بھی شامل کر لیا گیا۔ یوں یہ ادارہ قدیم اور جدید علوم کے درمیان ایک پل بن گیا۔ اس زمانے میں جب بہت سے لوگ مغربی علوم سے خوف زدہ تھے، دہلی کالج نے اعتدال کا راستہ اختیار کیا اورنئی تعلیم کو مقامی زبانوں کے ذریعے عام کرنے کی کوشش کی۔ دہلی کالج کی سب سے بڑی خصوصیت یہ تھی کہ یہاں مشرقی علوم کے ساتھ جدید مغربی علوم کی تدریس بھی ہوتی تھی۔ عربی اورفارسی کے اساتذہ کے ساتھ ساتھ ریاضی، طبیعات، کیمیا، جغرافیہ اور طب کے ماہرین بھی موجود تھے۔ اس ادارے نے یہ تصور پیش کیا کہ علم کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔ اگر چہ اس دور میں انگریزی زبان جدید علوم کا اہم ذریعہ تھی، لیکن دہلی کالج نے اردو کو علمی زبان بنانے کی تحریک کو تقویت دی۔ یہی وہ فکر تھی جس نے بعد میں اردو نثر کی ترقی اور سائنسی ادب کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا۔
دہلی کالج کی تاریخ کا سب سے روشن باب اس کے ورناکیولر ٹرانسلیشن سوسائٹی (ترجمہ کرنے والی انجمن) سے وابستہ ہے۔ اس انجمن کے تحت یورپ کی اہم علمی اور سائنسی کتابوں کا اردو میں ترجمہ کیا گیا۔ ریاضی، فلکیات، طبیعات، جغرافیہ اور طب سے متعلق درجنوں کتابیںاردو میں منتقل کی گئیںان تراجم نے اردو زبان کے دامن کو وسیع کیا اور اس میں سائنسی اصطلاحات پیدا کیں۔ اگر یہ ترجمہ جاتی تحریک نہ ہوتی تو اردو میں جدید علوم کی روایت اتنی جلدی قائم نہ ہو پاتی۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس زمانے میں یورپ میں ہونے والی سائنسی ترقی سے ہندوستانی عوام کو روشناس کرانے میں دہلی کالج کا کردار بنیادی تھا۔ اس نے علم کو طبقاتی حدود سے نکال کر عام لوگوں تک پہنچانے کی کوشش کی۔ دہلی کالج کا سب سے نمایاں کارنامہ اردو زبان کی ترویج اور ترقی ہے۔ یہاں کے اساتذہ اور طلبہ نے اردو نثر کوئی جہتیں عطا کیں۔ اس ادارے میں لکھی جانے والی تحریروں نے اردو زبان کو علمی اظہار کے قابل بنایا۔ اس زمانے میں اردو شاعری اپنے عروج پرتھی لیکن نثر بھی ارتقائی مرحلے میں تھی۔ دہلی کالج کے فضلا نے اردو نثر کوسادگی، روانی اورعلمی وقار عطا کیا ۔علمی مضامین سائنسی مقالات اور درسی کتابوں کی تیاری نے اردو کو ایک مکمل علمی زبان کے طور پر متعارف کرایا۔
دہلی کالج سے متعدد نامور علماء، ادباء اور مفکرین وابستہ رہے۔ ان میں خصوصاً مولوی ذکا اللہ دہلوی کا نام نمایاں ہے جنہوں نے تاریخ ،سائنس اور تعلیم کے میدان میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔ اسی طرح ماسٹر رام چندرریاضی کے ممتاز استاد تھے جنہوں نے جدید سائنسی تعلیم کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔ ان شخصیات نے دہلی کالج کو محض ایک تعلیمی ادارہ نہیں بلکہ ایک فکری تحریک بنا دیا۔ دہلی کالج کے علمی ماحول نے بعد میں آنے والی اصلاحی اور تعلیمی تحریکوں کو گہرے طور پر متاثر کیا۔ بالخصوص سرسید احمد خاں کی تعلیمی فکر پر اس ادارے کے اثرات نمایاں نظر آتے ہیں۔ سرسید احمد خاں نے جدید تعلیم کے فروغ کے لئے جو جد و جہد کی، اس کی فکری بنیاد میں کسی نہ کسی شکل میں دہلی کالج کی روایت سے جڑی ہوئی تھیں۔
جدید علوم کے حصول اور سائنسی فکر کے فروغ کا جو تصور بعد میں علی گڑھ تحریک کا حصہ بنا، اس کی ابتدائی جھلک دہلی کالج میں دیکھی جاسکتی ہے۔ دہلی کالج صرف ایک درسگاہ نہیں تھا بلکہ ایک فکری مرکز بھی تھا۔ یہاں مختلف مذہبی، سماجی اور علمی موضوعات پر بحث و مباحثے ہوتے تھے۔ طلبہ کو تنقیدی بصیرت اور تحقیقی بصارت کی طرف راغب کیا جاتا تھا۔ اس ادارے نے ایسے اسکالرز پیدا کیے جو معاشرے میں اصلاح تعلیم اور ترقی کے علمبردار بنے۔ اس نے روایت اور جدت کے درمیان مکالمے کی فضا قائم کی، جس کا مثبت اثر پورے شمالی ہندوستان پر پڑا۔
1857ء کی جنگ آزادی دہلی کالج کے لئے ایک بڑا سانحہ ثابت ہوئی۔ دہلی اس جنگ کا مرکزی میدان بن گیا اور شہر کی علمی و ثقافتی زندگی شدید متاثر ہوئی۔ جنگ کے بعد انگریز حکومت نے متعدد تعلیمی اور ثقافتی اداروں کو نقصان پہنچایا۔ دہلی کالج بھی اس تباہی سے محفوظ نہ رہ سکا۔ اس کے علمی ماحول کو شدید دھچکا پہنچا اور بہت سے اساتذہ اور طلبہ منتشر ہوگئے۔ اگر چہ بعد میں تعلیمی سرگرمیاں بحال ہوئیں، لیکن وہ عظمت اور مرکزیت دوبارہ حاصل نہ ہو سکی جو 1857ء سے قبل اس ادارے کو حاصل تھا۔ دہلی کالج نے جدید ہندوستان کی فکری تشکیل میں نمایاں کردار ادا کیا۔ اس نے ایسے تعلیم یافتہ افراد پیدا کیے جوا نتظامیہ، تعلیم، صحافت اور ادب کے میدان میں آگے آئے۔ اس ادارے نے یہ ثابت کیا کہ جدید علوم اور مقامی تہذیب ایک دوسرے کی مخالف نہیں بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل کر سکتے ہیں۔ اس کی علمی روایت نے بعد میں متعد د تعلیمی اداروں کو متاثر کیا۔اردو میں سائنسی اور سماجی علوم کی تدریس کا تصور بھی بڑی حد تک اسی ادارے کی دین ہے۔
دہلی کالج کا ادبی ورثہ آج بھی اردو دنیا کے لئے باعثِ افتخار ہے ۔ یہاںکے فضلا نے اردو نثر کو جدید بنیاد یں فراہم کیں۔ ترجمہ نگاری، تصنیف و تالیف، تحقیق اور تنقید کے میدان میں جو روایت قائم ہوئی، اس کے اثرات آج بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ یہ تاریخی ادارہ اس حقیقت کی علامت ہے کہ زبانیں صرف شاعری کے لئے نہیں ہوتیں بلکہ علم، سائنس، فلسفہ اور حق کا وسیلہ بھی بن سکتی ہیں۔ اردو زبان کی علمی وسعت میں دہلی کالج کا حصہ ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ دہلی کالج برصغیر کی تعلیمی تاریخ کا ایک درخشاں باب ہے۔ انگریز حکومت کے دور میں اس نے جدید اور روایتی علوم کے امتزاج کی جو مثال قائم کی، وہ اپنی نوعیت میں منفرد تھی۔ اس ادارے نے اردو زبان کو علمی اظہار کا وسیلہ بنایا، جدید سائنسی علوم کے تراجم کوفروغ دیا، فکری بیداری پیدا کی اور آنے والی تعلیمی تحریکوں کے لئے راستہ ہموار کیا۔ آج جب ہم قومی تعلیمی پالیسی، مادری زبان میں تعلیم اور علم کے جمہوری فروغ کی بات کرتے ہیں تو دہلی کالج کی تاریخ ہمارے سامنے ایک روشن نمونہ بن کر آتی ہے۔ یہ ادارہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ قوموں کی ترقی کا راز ایسی درسگاہوں میں پوشیدہ ہوتا ہے جو روایت کی جڑوں سے وابستہ رہتے ہوئے جدید دنیا کے تقاضوں کو بھی قبول کرنے کا حوصلہ رکھتی ہوں۔ دہلی کالج اسی روشن روایت کا ایک تابندہ استعارہ ہے، جس کی تاریخی اور ادبی خدمات ہمیشہ علمی دنیا میں قدرو احترام کی نگاہ سے دیکھی جاتی رہیں گی۔
٭٭


