
ڈاکٹر محمد واسع ظفر
اسلام نے انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کی اصلاح کے لیے جن بنیادی عبادات کو فرض قرار دیا ہے، ان میں نماز اور زکوٰۃ کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے ۔ نمازایک جسمانی عبادت ہے جو بندے کا تعلق اللہ سے قائم کرتی ہے، اس کے دل میں خشیت الٰہی پیدا کرتی ہے، اسے برائیوں سے روکتی اور اس کے کردار کو سنوارتی ہے جب کہ زکوٰۃ ایک مالی عبادت ہے جو قلبی اور مالی تطہیر کا ذریعہ ہے، معاشرے میں انسانی ہمدردی کو فروغ دیتی ہے اور معاشی توازن قائم کرتی ہے۔یہ دو عبادتیں ایسی ہیں جن کے اہتمام پر قرآن کریم میں حد درجہ تاکید کی گئی ہے۔ عربی لفظ’’الصَّلٰوۃ‘‘ کے تمام صیغوں کو مدنظررکھیں تو نماز کا ذکر قرآن میں لگ بھگ ۹۹ جگہ موجود ہے جن میں کم و بیش ۸۰ آیات میں نماز کی تاکیداً ہدایت موجود ہے۔ اسی طرح لفظ ’’الزَّکٰوۃ‘‘ کل ۳۲ جگہ موجود ہے، صدقہ اور انفاق فی سبیل اللہ کا ذکر ان کے علاوہ ہے۔ نیز کم از کم ۲۳ آیات ایسی ہیں جن میں نماز اور زکوٰۃ کی تاکید ساتھ ساتھ کی گئی ہے۔اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اسلام میں نمازوں کی پابندی اور زکوٰۃ کی ادائیگی کو کیا مقام حاصل ہے۔ قرآن کریم نے ان دو عبادتوں کو اسلام کی ظاہری علامت قرار دیا ہے۔ مثلاً مشرکین کے سلسلے میں اللہ کا ارشاد ہے: {فَإِن تَابُوْا وَأَقَامُوْا الصَّلٰوۃَ وَآتَوُا الزَّکٰوۃَ فَإِخْوَانُکُمْ فِیْ الدِّیْنِ}’’اگر یہ توبہ کرلیں اور نماز قائم کرنے لگیں اور زکوٰۃ دینے لگیںتو دین میں تمہارے بھائی ہیں۔‘‘ (التّوبۃ:۱۱)۔ گویا اسلامی برادری میں کسی کی شمولیت کو تب تک تسلیم نہیں کیا جائے گا جب تک وہ کفر و شرک سے توبہ کرکے نماز قائم نہ کرنے لگے اور زکوٰۃ نہ ادا کرنے لگے۔ اس لیے ان عبادات کا اہتمام حتی المقدور ضروری ہے۔
پھر زکوٰۃ چوں کہ صرف مال دار لوگوں پر سال میں ایک بار ہی فرض کی گئی ہے تو اس کی حیثیت شخصی اور وقتی ہوجاتی ہے لیکن نماز ہی ایک ایسی عبادت ہے جو بلا کسی تفریق کے تمام مسلمانوں پر وقت کی پابندی کے ساتھ یکساں و دائمی طور پر فرض ہے ، سوائے عورتوں کے کہ ان کو حیض (Menses) کے مخصوص ایام میں رخصت دی گئی ہے۔گویا نماز ایمان کی عام نشانی اور تمام مسلمانوں کے اظہار بندگی کا واحد عام ذریعہ ہے۔ اس لیے جناب رسول اللہ ﷺ نے بھی نماز کو ایمان کی علامت قرار دیا ہے، آپؐ کا ارشاد ہے: ’’بَیْنَ الْکُفْرِ وَ الإِیمَانِ تَرْکُ الصَّلَاۃِ‘‘ ’’ کفر اور ایمان کے درمیان فرق کرنے والی چیز نماز کا ترک کرنا ہے۔ ‘‘ (سنن الترمذیؒ، حدیث نمبر ۲۶۱۸، بروایت جابرؓ)۔ دوسری روایت میں ہے کہ آپؐ نے ارشاد فرمایا: ’’إِنَّ بَیْنَ الرَّجُلِ وَ بَیْنَ الشِّرْکِ وَ الْکُفْرِ تَرْکَ الصَّلَاۃِ‘‘(مفہوم): ’’بے شک آدمی اور شرک و کفر کے درمیان نماز کا ترک(حائل) ہے۔‘‘ (صحیح مسلمؒ، حدیث نمبر ۲۴۶، بروایت جابرؓ)۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی نماز کو ایمان کی لازمی علامت سمجھتے تھے اور اس کے ترک کو کفر گردانتے تھے۔ امام ترمذیؒ نے عبداللہ بن شقیق عقیلیؒ سے روایت نقل کی ہے کہ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم اعمال میںسے کسی بھی چیز کے ترک کو کفر نہیںسمجھتے تھے سوائے نمازکے۔(سنن الترمذیؒ ، حدیث نمبر ۲۶۲۲)۔ گویا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو ایسی قوم کا تصور بھی نہیں تھا جو نمازکے اہتمام سے غافل ہو اور کامل مومن ہونے کا دعوی بھی رکھے جیساکہ ہمارے زمانے کے لگ بھگ اسّی فیصد نسلی مسلمانوں کا حال ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ قرآن و سنت سے عدم تعلق کی وجہ سے ہم نے اسلام کا ایک ایسا تصور قائم کرلیا ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دیے گئے تصور سے بالکل مختلف ہے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ دنیوی و اخروی کامیابی کے لیے مسلمان گھرانے میں پیدا ہوجانا، مسلمان جیسے نام رکھ لینا، بعض مواقع پر چند رسوم کی ادائیگی یا مخصوص عبادات کا ادا کرلینا ہی کافی ہے اور اسلام کے جامع احکام کی پابندی کرنا ہمارے لیے ضروری نہیں جب کہ اسلام زندگی کے تمام امور میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کا تقاضا کرتا ہے اور اسے ہی حتمی کامیابی کا ذریعہ بتاتا ہے۔پھر دین و آخرت سے ہماری غفلت اور بے حسی کا یہ عالم ہے کہ ہم اس بات پر متنبہ کرنے والوں کی باتوں پر بھی کان دھرنے کو تیار نہیں ہیںجب کہ ہماری بھلائی اسی میں ہے کہ وقت رہتے ہم اپنے اس غلط تصور کو درست کرلیں اور صحیح اسلامی نہج پر آجائیں۔ اسی میںسے ایک پانچ نمازوں کا اہتمام بھی ہے جن سے غفلت کو کبھی ہلکے میں نہیں لینا چاہیے۔
دوسری با ت یہ ہے کہ نماز اللہ تعالیٰ کی یاد کا سب سے بہتر طریقہ ہے جو کئی عبادات کی جامع ہے۔ اس میں اللہ کے ذکر کے علاوہ پاکیزگی کا اہتمام بھی ہے، قبلہ رخ ہونے میں قبلہ کا احترام بھی ہے، اللہ کی بڑائی، اس کی پاکی اور عظمت کا اظہار بھی ہے، کلمہ شہادت کا اقرار بھی ہے جو تشہد کا حصہ ہے، اس میں قرآن کی تلاوت بھی ہے، رکوع و سجود بھی ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھی ہے، استغفار و دعا بھی ہے، اور سب سے بڑھ کر اس پیغام کا عملی مظاہرہ بھی ہے کہ پوری دنیا سے تعلق توڑ کر ایک اللہ سے پوری طرح تعلق کیسے جوڑ ا جاسکتا ہے اور اس سے ہم کلامی کا شرف کیسے حاصل کیا جاسکتا ہے؟ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے جلیل القدر پیغمبر حضرت موسیٰ علیہ السلام کو پہلی وحی میں اپنی یاد کے لیے نماز کا حکم فرمایا۔ ارشاد ربانی ہے: {وَأَقِمِ الصَّلٰوۃَ لِذِکْرِیْ} ’’میری یاد کے لیے نماز قائم کیجیے!‘‘ (طٰہٰ: ۱۴)۔ اللہ کی یاد کا اگر اس سے کوئی بہتر طریقہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر کو اسی کا حکم فرماتے، پھر قرآن کریم میں اس حکم کو نازل کرنا صرف بیان واقعہ کے طور پر نہیں ہے بلکہ امت محمدیہؐکی تعلیم و تربیت کے لیے ہے۔ اس لیے ہمیں اس حکم کی اہمیت کو سمجھنا چاہیے اور اللہ کی یاد سے منہ نہیں موڑنا چاہیے جب کہ اس نے ہمیں اپنی عبادت کے لیے ہی پیدا کیا ہے اور اپنے فرمان{وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِیَعْبُدُوْن(الذاریات: ۵۶)} (اور میں نے جنوں اور انسانوں کو اس کے سوا کسی اور کام کے لیے پیدا نہیں کیا کہ وہ میری عبادت کریں) کے ذریعہ اسے بالکل واضح کردیا ہے۔ نیز یہ وعدہ بھی کیا ہے: {فَاذْکُرُونِیْٓ أَذْکُرْکُمْ} ’’پس تم مجھے یاد کیا کرو، میں تمھیں یاد رکھوں گا۔‘‘ (البقرۃ: ۱۵۲)۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی ارشاد مبارک ہے: ’’اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میںاپنے بندے کے گمان کے ساتھ ہوتا ہوںجو وہ میرے ساتھ گمان رکھتا ہے، جب وہ مجھے یادکرتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں، اگر وہ مجھے اپنے نفس (دل) میں یاد کرے تو میں بھی اسے اپنے نفس میں یاد کرتا ہوں، اگر وہ مجھے کسی محفل میں یاد کرے تو میں اسے اس سے بہتر محفل میں یاد کرتا ہوں۔ ‘‘ (صحیح البخاريؒ، حدیث نمبر ۷۴۰۵، بروایت حضرت ابوہریرہؓ)۔
غور کیا جائے تو یہ اللہ کو یاد کرنے کی سب سے بڑی فضیلت ہے کہ بندہ زمین پر اپنے رب کو یاد کرے اور اس کا رب آسمان پر فرشتوں کی محفل میں اس کا ذکر کرے۔ اگر ہم میں سے کسی کو یہ معلوم ہو کہ ملک کے وزیراعظم نے اپنے خواص کی محفل میں اس کا تذکرہ کیا ہے تو وہ اسے اپنے لیے کتنے شرف و عزت کی بات سمجھے گا لیکن اس کائنات کا خالق، رازق و مدبر فرشتوں کی محفل میں ہمیں یاد کرے ، اس کی ہمیں کوئی وقعت سمجھ میں نہیں آتی۔پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا: ’’أَقْرَبُ مَا یَکُونُ الْعَبْدُ مِنْ رَبِّہِ، وَھُوَ سَاجِدٌ، فَأَکْثِرُوا الدُّعَائَ‘‘ ’’بندہ اپنے رب کے سب سے زیادہ قریب اس حالت میں ہوتا ہے جب کہ وہ سجدے میں ہو، لہٰذا اس میں کثرت سے دعا کرو۔‘‘ (صحیح مسلمؒ، حدیث نمبر ۱۰۸۳،بروایت حضرت ابوہریرہؓ)۔ ظاہر ہے کہ نمازوں کی پابندی اور سجدوں کی کثرت قرب الٰہی میں اضافہ کا ہی سبب بنے گا۔ ان ساری بشارتوں کے باوجود کسی بندے کا جو اللہ تعالیٰ کو اپنا رب بھی تسلیم کرتا ہو، اس کی یاد سے منہ موڑنا اور نماز کی پابندی کے حکم سے سرتابی کرنا،کتنی محرومی اور بدنصیبی کی بات ہے؟ اور وہ دین ہی کیا ہے جس میں اللہ کے سامنے جھکنا نہ ہو۔ جب قبیلہ ثقیف کے وفد نے اسلام قبول کرنے کے لیے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر من جملہ اور شرائط کے یہ شرط رکھی کہ وہ نماز نہیں پڑھیں گے ، تو آپؐ نے یہ فرمایا: ’’لَا خَیْرَ فِي دِیْنٍ لَیْسَ فِیْہِ رُکُوعٌ‘‘ ’’اس دین میں کوئی اچھائی نہیں جس میں رکوع (اللہ کے سامنے جھکنا)نہ ہو۔‘‘ (سنن أبي داودؒ، حدیث نمبر ۳۰۲۶)۔ اس روایت کو امام احمد بن حنبلؒ نے بھی اپنی مسند میں نقل کیا ہے جس کے الفاظ ہیں: ’’لَا خَیْرَ فِي دِیْنٍ لَا رُکُوعَ فِیْہِ‘‘ ’’اس دین میں کوئی خیر نہیں جس میں رکوع ( یعنی نماز)نہ ہو۔‘‘ (مسند أحمدؒ، حدیث نمبر ۱۷۹۱۳)۔ اس لیے کسی شخص کے اسلام لانے میں کیا خیر ہوسکتی ہے جب کہ وہ عمداًنماز نہ پڑھتا ہو۔
تیسری بات یہ کہ نمازکا تزکیۂ نفس سے گہرا تعلق ہے بلکہ یہ روح کی پاکیزگی اور اخلاقی اصلاح کا سب سے بڑا الٰہی ذریعہ ہے۔ نماز کے لیے آپ جیسے ہی وضو کرتے ہیں، اپنے قلب کے اندر وہ فرحت و شگفتگی محسوس کرتے ہیں جو اس سے قبل آپ کو حاصل نہیں تھی۔ یہی حال ارکان نماز کا ہے کہ ان کے اثرات قلب پر مرتب ہوتے ہیں اور ان سے نورانیت پیدا ہوتی ہے۔ تزکیۂ نفس کا پہلا قدم نفس کو گناہوں کی آلودگی سے بچانا ہے۔ نماز انسان کے اندر ایسی اخلاقی و روحانی طاقت پیدا کرتی ہے جو اسے نماز سے باہر بھی برے کاموں سے روکتی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: {إِنَّ الصَّلٰوۃَ تَنْہٰی عَنِ الْفَحْشَآئِ وَالْمُنْکَرِ} ’’ بے شک نماز بے حیائی اور برے کاموں سے روکتی ہے۔‘‘ (العنکبوت: ۴۵)۔ نیز تزکیۂ نفس کا اعلیٰ ترین مقام یہ ہے کہ انسان کا دل ہر وقت اللہ کی یاد اور اس کے خوف سے معمور رہے۔ دراصل یہی وہ کیفیت ہے جو انسان کو گناہوں سے باز رکھتی ہے، گناہ اسی وقت سرزد ہوتا ہے جب انسان اس بات سے غافل ہوجاتا ہے کہ اس کا رب اسے دیکھ رہا ہے۔ نماز اس کیفیت کو حاصل کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے جسے حدیث میں ’’مقام احسان‘‘ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جب اس کے متعلق پوچھا گیا تو آپؐ نے فرمایا: ’’أَنْ تَعْبُدَ اللّٰہَ کَأَنَّکَ تَرَاہُ، فَإِنْ لَمْ تَکُنْ تَرَاہُ فَإِنَّہُ یَرَاکَ‘‘ ’’احسان یہ ہے کہ تم اللہ کی عبادت اس طرح کروگویا تم اسے دیکھ رہے ہو، اور اگر تم اسے نہیں دیکھ رہے، تو (یہ یقین رکھو کہ) وہ تجھے دیکھ رہا ہے۔ ‘‘ (صحیح البخاريؒ: حدیث نمبر ۵۰)۔ اسی طرح جب تزکیۂ نفس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: ’’مَا تَزْکِیَۃُ النَّفْسِ‘‘ ’’ تزکیۂ نفس کیا ہے؟‘‘ تو آپؐ نے فرمایا: ’’أَنْ یَعْلَمَ أَنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَ جَلَّ مَعَہُ حَیْثُ کَانَ‘‘ ’’انسان یہ جان لے کہ وہ جہاں بھی ہے اللہ عزوجل اس کے ساتھ ہے۔‘‘ (الروض الداني إلی المعجم الصّغیر للطبرانيؒ، حدیث نمبر ۵۵۵، سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ للألبانيؒ، حدیث نمبر ۱۰۴۶ )۔ان دونوں روایتوں سے تزکیۂ نفس اور مقام احسان کا تعلق بالکل واضح ہے۔ اس لیے آدمی اگر مذکورہ کیفیت کے ساتھ نماز ادا کرنے کی عملی مشق کرے تو قوی امید ہے کہ مقام احسان پر وہ بہت جلد فائز ہوجائے۔
چوتھی بات یہ کہ نماز گناہوں کا کفارہ اور باطنی پاکیزگی کا بھی ذریعہ ہے۔ جس طرح غسل جسم کے ظاہری میل کچیل کو دور کردیتا ہے، اسی طرح پانچ وقت کی نمازیں نفس پر جمنے والے گناہوں کے زنگ کو دور کردیتی ہیں۔اس بات کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بہترین تمثیل سے سمجھایا ہے۔ ایک بار آپؐ نے صحابہ کرام سے پوچھا: ’’اگر تم میں سے کسی کے دروازے پر نہر جاری ہو اور وہ روزانہ اس میں پانچ بار غسل کرے، تو تمھارا کیا گمان ہے، کیا اس کے بدن پر کچھ میل کچیل باقی رہے گا؟ صحابہ نے عرض کیا: نہیں یا رسول اللہ ﷺ! اس کے بدن پرکچھ بھی میل کچیل باقی نہیں رہے گا۔ آپؐ نے فرمایا: ’’فَذٰلِکَ مِثْلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ، یَمْحُو اللّٰہُ بِہِ الْخَطَایَا‘‘ ’’یہی مثال پانچوں نمازوں کی ہے، اللہ پاک ان کے ذریعہ سے گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔‘‘ (صحیح البخاريؒ: حدیث نمبر ۵۲۸، صحیح مسلمؒ: حدیث نمبر۶۶۷)۔
پانچویں بات یہ کہ نماز حتمی کامیابی اور فلاح کا معیار ہے۔قرآن نے ان لوگوں کو کامیاب قرار دیا ہے جو اپنے نفس کا تزکیہ کرتے ہیں اور نماز کی پابندی کرتے ہیں۔ ارشاد خداوندی ہے: {قَدْ أَفْلَحَ مَن تَزَکّٰی ہ وَذَکَرَ اسْمَ رَبِّہِ فَصَلّٰی ہ} ’’بلاشبہ کامیاب ہوگیا وہ شخص جس نے اپنا تزکیہ کرلیا، اور اپنے رب کے نام کا ذکر کرتا رہا اور نماز پڑھتا رہا۔ ‘‘ (الاعلیٰ: ۱۴ – ۱۵)۔ اس آیت سے جہاں یہ مترشح ہوتا ہے کہ تزکیۂ نفس کا ذکر و نماز سے گہرا تعلق ہے وہیں یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ گو تزکیۂ نفس اپنے آپ میں بہت بڑا عمل ہے لیکن بغیر ذکر و نماز کے فلاح کے لیے کافی نہیں۔ ہاں تزکیۂ نفس کے ساتھ نمازوں پر مداومت بھی اختیار کی جائے تو فلاح کی امید کی جاسکتی ہے ۔ اس لیے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ نماز فلاح کا سبب اعظم ہے۔ بعضوں نے یہ بھی کہا کہ ایک طرف نماز تزکیۂ نفس میں معاون ہے تو دوسری طرف یہ تزکیہ کا عملی مظاہرہ بھی ہے۔ اس نکتے کی مناسبت سے یہاں یہ بھی واضح کردینا ضروری معلوم ہوتا ہے کہ کچھ لوگ جو خود کو راہ طریقت پر چلنے والا بتاتے ہیںجس کا اصل مقصد تزکیۂ نفس ہی ہوتا ہے ، اور نماز وں کے اہتمام سے غافل ہوتے ہیںبلکہ کچھ تو خود کو ان کی پابندی سے بالاتر سمجھتے ہیں، یہ سب ان کی جہالت اور قرآن سے عدم وابستگی کا نتیجہ ہے، اگر وہ صرف ان دو مختصر آیتوں پر غور کرلیں جو بقول حضرت تھانویؒ اہل طریق کے اعمال مقصودہ کی جامع ہیں ، تو ان پر اپنی کم علمی واضح ہوجائے گی اور وہ نماز کو کبھی ہلکے میں نہیں لیں گے۔
تاہم سطور بالا میں جو نماز کو حتمی کامیابی اور فلاح کا معیار بتایا گیا ہے، وہ بھی چند صفات کے ساتھ مشروط ہے۔ ان میں سے ایک صفت خشوع و خضوع ہے۔ اللہ رب العزت کا ارشاد ہے: {قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ ہ الَّذِیْنَ ہُمْ فِیْ صَلَاتِہِمْ خَاشِعُونَ} ’’ان ایمان والوں نے یقینا فلاح حاصل کرلی جو اپنی نمازوں میں خشوع اختیار کرنے والے ہیں۔ ‘‘ (المؤمنون: ۱ – ۲)۔ یعنی نمازوں پر ازلی کامیابی کے مستحق صرف وہی لوگ ہوں گے جو خشوع و خضوع کے ساتھ انھیں ادا کرتے ہوں۔ ’’خشوع‘‘ کے لغوی معنی عاجزی کرنے ، انکساری کرنے ، جھک جانے اور دب جانے کے ہیں۔اصطلاح شرع میں خشوع سے مراد دل کی وہ کیفیت ہے جس میں اللہ کی عظمت، اس کے جلال اور خوف کے احساس سے انسان کا دل عاجزی اختیار کرے اور اس کا اثر انسان کے اعضا و جوارح پر بھی ظاہر ہو۔ تو نماز میں خشوع کا مطلب یہ ہوا کہ عظمت الٰہی کے احساس کے ساتھ دل پوری طرح اللہ کی طرف متوجہ رہے، غیراللہ کے خیال کو بالقصد دل میں جگہ نہ دے اور جسم کے اعضا و جوارح پر بھی سکون طاری ہو کہ نماز کے منافی کسی قسم کی حرکت سے اجتناب کرے بالخصوص جن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے مثلاً ادھر ادھر دیکھنا، بدن کا ہلانا، ڈاڑھی یا کپڑے یا بدن کے کسی اور حصے سے کھیلنا، سجدے میں جاتے وقت اپنے بیٹھنے یا سجدہ کی جگہ کو صاف کرنا وغیرہ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’لَا یَزَالُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ مُقْبِلًا عَلَی الْعَبْدِ وَ ھُوَ فِي صَلَاتِہِ مَالَمْ یَلْتَفِتْ، فَإذَا الْتَفَتَ انْصَرَفَ عَنْہُ‘‘ ’’بندہ جب نماز میں ہوتا ہے تو اللہ عزوجل اس کی طرف برابر متوجہ رہتا ہے جب تک کہ وہ دوسری طرف التفات نہ کرے، جب وہ دوسری طرف التفات کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اس سے منہ موڑ لیتا ہے۔‘‘ (سنن أبي داودؒ، حدیث نمبر ۹۰۹)۔لہٰذا یہ ضروری ہے کہ انسان نماز میں شروع سے اخیر تک اخلاص اور حضور قلب قائم رکھے۔ نیز زبان سے جو الفاظ بھی ادا کرے، دل سے اس کی موافقت ہواور یہ تب ہی ہوگا جب ان کے معنی و مفہوم پر غور کرتے ہوئے انھیں ادا کرے گا اور دل کو ان کے تابع کرے گا۔ اس لیے نماز میں پڑھی جانے والی چیزوں مثلاً قرآن کی سورتوں، اذکار و تسبیحات، تحیات و درود، دعا وغیرہ کو معنی و مطالب کے ساتھ سیکھنا چاہیے تاکہ وہ حضور قلب میں معاون بنے۔ ہم لوگوں کا حال یہ ہے کہ تمام باتیں رٹی رٹائی ہوتی ہیںجن کے معنی و مطلب کا بھی ہمیں پتا نہیں ہوتا ، ہم اسی طرح نماز میں انھیں پڑھتے رہتے ہیں جیسے تیز بخار میں کوئی شخص بڑبڑانے لگتا ہے اور اسے خبر بھی نہیں ہوتی کہ وہ کیا بول رہا ہے؟ اسی طرح اطمینان و سکون بھی ہماری نمازوں سے عنقا ہو چکا ہے، لوگ اتنی تیزی میں نماز ادا کرتے ہیں جیسے کوئی بوجھ اتارنے آئے ہوں، جماعت کی نمازیں تک اب اس سے محفوظ نہیں رہیں اور حضور قلب کا یہ حال ہے کہ نماز کے بعد اگر لوگوں سے صرف یہ پوچھ لیاجائے کہ انہوں نے یا پیش امام نے دوران نماز کون سی سورتیں پڑھی ہیں تو شاید ہی کوئی بتاپائے ۔ اللہ پاک ہم سب کو سمجھ نصیب کرے اور اطمینان و سکون سے نماز ادا کرنے کی توفیق عطاکرے۔آمین!
نمازوں پر ازلی کامیابی کی دوسری شرط نمازوں کی محافظت ہے۔ اسے سورۃ المؤمنون کی مذکورہ بالاآیات کے ہی تھوڑا آگے بیان کیا گیا ہے۔ ارشاد ربانی ہے: {وَالَّذِیْنَ ہُمْ عَلٰی صَلَوَاتِہِمْ یُحَافِظُوْنَ} ’’اور وہ لوگ جو اپنی نمازوں کی پوری حفاظت کرنے والے ہیں۔‘‘ (المؤمنون: ۹)۔ نمازوں کی محافظت سے مراد ان سے تعلق رکھنے والی تمام چیزوں کی پوری نگہداشت ہے، مثلاً ان کی پابندی کرنا، ہرایک نماز کو اس کے مستحب وقت پر ادا کرنا، جسم اور کپڑے کو پاک رکھنا، کامل وضو کرنا،قیام، رکوع و سجود کی تکمیل کرنا، قرآن کی تصحیح کرنا، قرائت میں ترتیل کا خیال رکھنا، تعدیل ارکان اور خشوع و خضوع کا لحاظ رکھنا اور فرائض، سنن و آداب کی رعایت کے ساتھ نماز ادا کرنا وغیرہ۔ یہ تمام باتیںپوری ہوں گی تو نماز کامل ہوگی۔ معلوم ہو کہ آدمی کو نماز کا ثواب اس کے درجۂ کمال کے حساب سے ہی دیا جاتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’إِنَّ الرَّجُلَ لَیَنْصَرِفُ وَمَا کُتِبَ لَہُ إِلَّا عُشْرُ صَلَاتِہِ تُسْعَھَا، ثُمْنُھَا، سُبْعُھَا، سُدْسُھَا، خُمْسُھَا، رُبْعُھَا، ثُلُثُھَا، نِصْفُھَا‘‘ ’’انسان نماز سے فارغ ہوتا ہے اور اس کے لیے اس کی نمازسے صرف دسواں، نواں، آٹھواں، ساتواں، چھٹا، پانچواں، چوتھا، تیسرا، اور آدھا حصہ ہی لکھا جاتا ہے۔ ‘‘ (سنن أبي داودؒ، حدیث نمبر ۷۹۶، بروایت حضرت عمار بن یاسرؓ)۔یعنی جس درجہ کی نماز ہوتی ہے، اسی درجے کا ثواب لکھا جاتا ہے۔اس لیے کوشش ہونی چاہیے کہ نماز کو کامل ترین درجہ تک لے جائیں تاکہ اس کے ثواب کا پورا پورا حصہ حاصل ہو۔اس کے لیے ضروری ہے کہ نمازوں سے متعلق جن امور کی نگہداشت کی ہدایت دی گئی ہے، ان کی نگہداشت کی جائے اور حضور قلب کے ساتھ نماز ادا کرنے کی کوشش کی جائے۔ اس بات کو یاد رکھا جائے کہ ہماری کامیابی صرف عبادات کی ظاہری ادائیگی میں نہیں بلکہ ان کے اہتمام، اخلاص اور ان کے عملی اثرات کو اپنی زندگی میں نمایاں کرنے میںہے۔ اللہ تعالیٰ قارئین کے ساتھ احقر کو بھی عمل کی توفیق بخشے۔ آمین! یا رب العالمین!


