
ڈاکٹر محفوظ عالم
ٹوپی انسانی لباس کا ایک معصوم سا حصہ ہے، مگر اس کی قسمت دیکھیے کہ یہ معصومیت کے پردے میں کتنے بڑے بڑے کھیل کھیلتی ہے۔ کبھی یہ تہذیب کی علامت بنتی ہے، کبھی مذہب کی شناخت، اور کبھی سیاست کی چال۔ قدیم زمانے سے ٹوپی کا استعمال ہوتا آیا ہے—چاہے قدیم روم ہو، مصر ہو یا عراق—ہر جگہ ٹوپی نے اپنا جادو چلایا ہے۔ لگتا ہے انسان نے تہذیب سے پہلے ٹوپی ایجاد کی ہوگی!
ویسے تو ٹوپی سورج کی تمازت، بارش اور گردوغبار سے بچانے کے لیے پہنی جاتی ہے، گنجے پن کو بھی چھپاتی ہے۔ مگر ہمارے معاشرے میں اس کا اصل کام کچھ اور ہی ہے۔ کچھ لوگ ٹوپی پہن کر اپنے وقار میں اضافہ کرتے ہیں، اور کچھ لوگ بغیر ٹوپی پہنے ہی دوسروں کو ٹوپی پہنانے میں یدِ طولیٰ رکھتے ہیں۔ ایسے ماہرینِ فن کو دیکھ کر ٹوپی بھی شرما جاتی ہوگی کہ "میں تو سر پر رہنے کے لیے بنی تھی، یہ لوگ مجھے دماغ پر کیوں چڑھا رہے ہیں!”
پھر کچھ حضرات ایسے بھی ہوتے ہیں جو نہ خود ٹوپی پہنتے ہیں، نہ دوسروں کو پہناتے ہیں، بس دوسروں کی ٹوپی اچھالنے میں لطف اندوز ہوتے ہیں۔ عوام بھی بڑی دلچسپ مخلوق ہے—جب کسی اور کی ٹوپی اچھلتی ہے تو قہقہے لگتے ہیں، اور جب اپنی باری آتی ہے تو چہرہ یوں بن جاتا ہے جیسے بجلی کا برہنہ تار ہاتھ میں آگیا ہو۔
کچھ لوگ تو "ایک کی ٹوپی دوسرے کے سر” کا کھیل ایسے کھیلتے ہیں کہ جادوگر بھی پانی بھرے۔ ادھر کی ٹوپی ادھر، اور ادھر کی ادھر کا کھیل کھیلتے ہیں۔کچھ حضرات ٹوپی کو اپنی شرافت کا لائسنس بھی بنا لیتے ہیں، تاکہ ماضی کے کارنامے ٹوپی کے نیچے آرام فرماتے رہیں۔
آج کل تو حالت یہ ہے کہ مذہب کی شناخت بھی ٹوپی کے گرد گھومنے لگی ہے۔ گویا ٹوپی نہیں تو ایمان خطرے میں! ہر فرقے کی اپنی الگ ٹوپی—کہیں گول، کہیں ترچھی، کہیں نوکیلی، کہیں مخملی، کہیں کامدار۔ یوں لگتا ہے جیسے ٹوپیوں کی فیشن پریڈ ہو رہی ہو، اور ہر ٹوپی دوسرے کو "آؤ مقابلہ کریں” کا چیلنج دے رہی ہو۔ ان ٹوپیوں کے بیچ ایسی رقابت ہے کہ لگتا ہے اگر ٹوپیاں بول سکتیں تو ایک دوسرے پر فتوے جاری کر دیتیں۔
سیاست میں تو ٹوپی کا مقام کافی اہمیت کا حامل ہے۔ یہاں ٹوپی پہنانا، ٹوپی اچھالنا اور ٹوپی بدلنا بنیادی مہارتیں ہیں۔ سیاستدان تو ایسے ماہر ہوتے ہیں کہ راتوں رات ٹوپی بدل لیتے ہیں، اور عوام صبح اٹھ کر سوچتی رہ جاتی ہے کہ "کل یہ کس ٹیم میں تھا؟” کچھ عقیدت مند تو دو روپے کی دو ٹوپیاں خرید کر قطار میں لگ جاتے ہیں—ایک خود پہننے کے لیے اور ایک نیتا جی کے سر سجانے کے لیے۔ اگر نیتا جی نے پہن لی تو خوشی سے پھولے نہیں سماتے، اور اگر انکار کر دیا تو فوراً مذہب خطرے میں آ جاتا ہے! جب یہی کام دوسرا اپنے عقیدے کے مطابق انجام دیتا ہے تو پھر واویلا مچایا جاتا ہے۔
مذہبی فرقوں کی طرح سیاسی جماعتوں کی بھی اپنی اپنی ٹوپیاں ہیں-سرخ، سبز، زعفرانی، نیلی، پیلی۔ ویسے بھی سیاست میں کچھ بھی مستقل نہیں، سوائے ٹوپی بدلنے کے۔ ادب بھی اس کھیل سے اچھوتا نہیں ہے۔ یہاں تو یہ بھی ہوتا ہے کہ اپنی ٹوپی خود پہن لی جاتی ہے۔ کوئ موقع ہاتھ سے نہیں جاتا جب ایک دوسرے کی ٹوپی نہیں اچھالی جاتی ہو۔ کچھ تنقید نگار تو سوا ٹوپی اچھالنے کے اور کوئی کام نہیں کرتے ہیں۔ کبھی کبھی یہ بھی ہوتا ہے کہ دوسروں کی ٹوپی اپنی بتا دی جاتی ہے۔
شادی بیاہ میں بھی ٹوپی پہنانے کا رواج ہے۔ دلہا کو ٹوپی پہنانا تو واجب لگتا ہے کیونکہ یہ اس بات کا اعلان ہوتا ہے کہ اب تم بے نکیل کا گھوڑا نہیں رہے، لیکن کچھ مخصوص باراتیوں کو بھی ٹوپی پہنا دی جاتی ہے تاکہ وہ ٹوپی کی لاج رکھیں اور اپنے حدود میں رہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ٹوپی صرف علما یا شرفا تک محدود نہیں رہی بلکہ نیتا، اداکار، قوال، شیف، سپاہی—سب کے پاس اپنی اپنی ٹوپی ہے۔ لگتا ہے دنیا ایک بڑا سا "ٹوپی شو روم” بن چکی ہے۔
آخر میں یہی عرض ہے کہ اگر آپ ایک کامیاب سیاستدان، ادیب یا مذہبی رہنما بننا چاہتے ہیں تو "ٹوپی ٹوپی” کھیل میں مہارت حاصل کریں۔ مگر ایک بات یاد رکھیں۔جو آج دوسروں کی ٹوپی اچھالتا ہے، کل اس کی اپنی ٹوپی بھی ہوا میں اڑتی نظر آ سکتی ہے۔


