
جاوید قسیم
شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے ہیں
اِس حویلی کو تو دالان سے سب جانتے ہیں
دین کو حافظِ قرآن سے سب جانتے ہیں
یعنی قرآن کو جزدان سے سب جانتے ہیں
دم کرانے کے لیے بھیڑ یہاں لگتی ہے
فایدہ ہوتا ہے قرآن سے سب جانتے ہیں
حوصلے والے اُتر جاتے ہیں کشتی لیکر
ویسے دریاؤں کو طوفان سے سب جانتے ہیں
کل تلک سب نے مجھے سمجھا تھا سیدھا سادہ
آج مجھکو مرے ہیجان سے سب جانتے ہیں
جس میں پوشیدہ ہے زندہ دلی کی لیئکاری
اس کو سرگم کی اسی تان سے سب جانتے ہیں
کوئی سمجھا ہی نہیں اس میں خسارہ ہوگا
عشق کے کام کو نقصان سے سب جانتے ہیں
تیرے دل میں جو بسی رہتی ہیں میری یادیں
تیرے گھر کو اسی مہمان سے سب جانتے ہیں
کتنے ہی غم ہیں یہاں زیست بسر کرنے کو
درد کو عشق کے عنوان سے سب جانتے ہیں
تیرے اندر چھپے شیطان سے واقف ہیں سبھی
اور مجھ کو مرے ایمان سےسب جانتے ہیں
حکمرانوں کی بہت بھیڑ لگی ہے لیکن
عدل کو آپ کے میزان سے سب جانتے ہیں


