شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی

وہ بات اب تجھ میں باقی رہی ہی نہیں

وہ اندازِ کرم، شوقِ محبت بھی رہی نہیں
لوگ تو لوگ ہیں، ان سے گلہ کیسا
تو بھی بدلا بدلا ہے، یہ گوارا مجھے نہیں
وہ پسند و ناپسند کا خیال رکھتا تھا مگر
گر یہی بھیک میں ملے، یہ مجھے منظور نہیں
تیرے ہونٹوں سے پھول جھڑتے تھے باتوں میں
اب یہی میرے خلاف ہوں، یہ بھی منظور نہیں
تو عاجزی و انکساری کا پیکر تو ہے لیکن
کسی کو حقیر سمجھنا، یہ تیری شان نہیں
وہ مسئلے بھی خود ہی سلجھا لیا کرتا تھا
راہ چلتے ہر اک کو مگر راہ دکھاتا نہیں
اب بوجھ سا لگنے لگا ہوں میں اس کو، سیمانی
گر یہی بات ہے تو ہم بھی پکاریں گے نہیں

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

گزشتہ مضمون
اگلا مضمون

تازہ ترین خبریں

اسکمز میڈیکل کالج بمنہ میں ہفتۂ بیداریٔ نگرانی کا اہتمام

اقبال بیگ سری نگر/ جنگ نیوز/شیرِ کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف...

صوفی بزرگ حضرت احمد صاحب بٹواریؒ کا عرس احمد نگر سرینگر میں منایا گیا

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر /صوفی میڈیا سروسز/وادیِ کشمیر کے معروف...

امیت شاہ کیNCDC کو آئندہ 25 برس کا منصوبۂ عمل تیار کرنے کی ہدایت

جنگ نیوز نئی دہلی/مرکزی وزیر داخلہ و وزیرِ تعاون امیت...

’ ہنسی کے رنگ، سنگیت کے سنگ‘ :DIPRکے کلچرل یونٹ نے سری نگر میں پروگرام کا انعقادکیا

جنگ  نیوز  سری نگر/محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ (ڈی آئی...

جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ کے ججوں کی تقرری کے لئے 9 وکلا کی سفارش

جنگ نیوز نئی دہلی// سپریم کورٹ کالجیم نے 29 اکتوبر...

تازہ ترین خبریں

اسکمز میڈیکل کالج بمنہ میں ہفتۂ بیداریٔ نگرانی کا اہتمام

اقبال بیگ سری نگر/ جنگ نیوز/شیرِ کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف...

صوفی بزرگ حضرت احمد صاحب بٹواریؒ کا عرس احمد نگر سرینگر میں منایا گیا

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر /صوفی میڈیا سروسز/وادیِ کشمیر کے معروف...

امیت شاہ کیNCDC کو آئندہ 25 برس کا منصوبۂ عمل تیار کرنے کی ہدایت

جنگ نیوز نئی دہلی/مرکزی وزیر داخلہ و وزیرِ تعاون امیت...

’ ہنسی کے رنگ، سنگیت کے سنگ‘ :DIPRکے کلچرل یونٹ نے سری نگر میں پروگرام کا انعقادکیا

جنگ  نیوز  سری نگر/محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ (ڈی آئی...

جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ کے ججوں کی تقرری کے لئے 9 وکلا کی سفارش

جنگ نیوز نئی دہلی// سپریم کورٹ کالجیم نے 29 اکتوبر...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی

وہ بات اب تجھ میں باقی رہی ہی نہیں

وہ اندازِ کرم، شوقِ محبت بھی رہی نہیں
لوگ تو لوگ ہیں، ان سے گلہ کیسا
تو بھی بدلا بدلا ہے، یہ گوارا مجھے نہیں
وہ پسند و ناپسند کا خیال رکھتا تھا مگر
گر یہی بھیک میں ملے، یہ مجھے منظور نہیں
تیرے ہونٹوں سے پھول جھڑتے تھے باتوں میں
اب یہی میرے خلاف ہوں، یہ بھی منظور نہیں
تو عاجزی و انکساری کا پیکر تو ہے لیکن
کسی کو حقیر سمجھنا، یہ تیری شان نہیں
وہ مسئلے بھی خود ہی سلجھا لیا کرتا تھا
راہ چلتے ہر اک کو مگر راہ دکھاتا نہیں
اب بوجھ سا لگنے لگا ہوں میں اس کو، سیمانی
گر یہی بات ہے تو ہم بھی پکاریں گے نہیں

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

گزشتہ مضمون
اگلا مضمون