شاعری

جاوید قسیم

شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے ہیں

اِس حویلی کو تو دالان سے سب جانتے ہیں
دین کو حافظِ قرآن سے سب جانتے ہیں
یعنی قرآن کو جزدان سے سب جانتے ہیں

دم کرانے کے لیے بھیڑ یہاں لگتی ہے
فایدہ ہوتا ہے قرآن سے سب جانتے ہیں
حوصلے والے اُتر جاتے ہیں کشتی لیکر
ویسے دریاؤں کو طوفان سے سب جانتے ہیں

کل تلک سب نے مجھے سمجھا تھا سیدھا سادہ
آج مجھکو مرے ہیجان سے سب جانتے ہیں
جس میں پوشیدہ ہے زندہ دلی کی لیئکاری
اس کو سرگم کی اسی تان سے سب جانتے ہیں
کوئی سمجھا ہی نہیں اس میں خسارہ ہوگا
عشق کے کام کو نقصان سے سب جانتے ہیں
تیرے دل میں جو بسی رہتی ہیں میری یادیں
تیرے گھر کو اسی مہمان سے سب جانتے ہیں

کتنے ہی غم ہیں یہاں زیست بسر کرنے کو
درد کو عشق کے عنوان سے سب جانتے ہیں
تیرے اندر چھپے شیطان سے واقف ہیں سبھی
اور مجھ کو مرے ایمان سےسب جانتے ہیں
حکمرانوں کی بہت بھیڑ لگی ہے لیکن
عدل کو آپ کے میزان سے سب جانتے ہیں

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

احتجاج، جمہوریت اور ریاستی ردعمل

حیات اندرابی پلوامہ، کشمیر دنیا کی جدید جمہوریتوں میں عوامی احتجاج...

امریکہ-اسرائیل تعلقات اور مشرقی وسطیٰ کا نیا منظرنامہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین...

محکمہ موسمیات کی تازہ پیشنگوئی

  اگلے 2 سے 4 گھنٹوں کے دوران جنوبی کشمیر...

زلزلے کے شدید جھٹکے، شدت 7.1 ریکارڈ، سونامی کی وارننگ جاری

ٹوکیو: جاپان کے جنوبی جزیرے کیوشو میں منگل کے روز...

تازہ ترین خبریں

احتجاج، جمہوریت اور ریاستی ردعمل

حیات اندرابی پلوامہ، کشمیر دنیا کی جدید جمہوریتوں میں عوامی احتجاج...

امریکہ-اسرائیل تعلقات اور مشرقی وسطیٰ کا نیا منظرنامہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین...

محکمہ موسمیات کی تازہ پیشنگوئی

  اگلے 2 سے 4 گھنٹوں کے دوران جنوبی کشمیر...

زلزلے کے شدید جھٹکے، شدت 7.1 ریکارڈ، سونامی کی وارننگ جاری

ٹوکیو: جاپان کے جنوبی جزیرے کیوشو میں منگل کے روز...

شاعری

جاوید قسیم

شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے ہیں

اِس حویلی کو تو دالان سے سب جانتے ہیں
دین کو حافظِ قرآن سے سب جانتے ہیں
یعنی قرآن کو جزدان سے سب جانتے ہیں

دم کرانے کے لیے بھیڑ یہاں لگتی ہے
فایدہ ہوتا ہے قرآن سے سب جانتے ہیں
حوصلے والے اُتر جاتے ہیں کشتی لیکر
ویسے دریاؤں کو طوفان سے سب جانتے ہیں

کل تلک سب نے مجھے سمجھا تھا سیدھا سادہ
آج مجھکو مرے ہیجان سے سب جانتے ہیں
جس میں پوشیدہ ہے زندہ دلی کی لیئکاری
اس کو سرگم کی اسی تان سے سب جانتے ہیں
کوئی سمجھا ہی نہیں اس میں خسارہ ہوگا
عشق کے کام کو نقصان سے سب جانتے ہیں
تیرے دل میں جو بسی رہتی ہیں میری یادیں
تیرے گھر کو اسی مہمان سے سب جانتے ہیں

کتنے ہی غم ہیں یہاں زیست بسر کرنے کو
درد کو عشق کے عنوان سے سب جانتے ہیں
تیرے اندر چھپے شیطان سے واقف ہیں سبھی
اور مجھ کو مرے ایمان سےسب جانتے ہیں
حکمرانوں کی بہت بھیڑ لگی ہے لیکن
عدل کو آپ کے میزان سے سب جانتے ہیں

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں