ساحلؔ عرفان شفیع
کھاگ بڈگام
سخت دل گیر ہوں مولیٰ جگر پاراپارا ہے
بھلا ایسی نے پکڑا ہے فقط تیرا سہارا ہے
کوئی کچھ بھی نہ کر پائے مصیبت ایسی سرہانے
تیری ہی آس ہے باقی تجھے ہی تو پکارا ہے
ہے دہشت چارسو پھیلی کہ آفت زور کی ایسی
نہ اب کوئی کسی کا ہے عجب ہرسو نظارا ہے
بھنور میں کشتی ہے میری کرے اب ناخدا بھی کیا
لگا دے پار تو یارب بہت ہی دور کنارا ہے
تو ہی مالک توہی خالق توہی فریاد سنتا ہے
لبوں پہ ہے یہی کلمہ کرم اب بس تمہارا ہے
پڑا ساحلؔ تیرے درپہ کریما اب کرم کر دے
عفو و د ر گزر کرنا تجھے بہت ہی پیارا ہے
٭٭٭


