
ساؔحل عرفان شفیع
کھاگ، کشمیر
تیری ممتا کی خوشبو سے میرا مہکا جگ تمام
بلند و بالا تیری عظمت اے ماں تجھے سلام
تم درد کا مداوا ہو تیر ی آغوش میں سکون
کارگاہِ دنیامیں تو قدرت کا حسین انعام
میری خاطر ہزارہا دکھ سہے خوشی خوشی
بیشک ماں ہوتی ہے قربانی کا دوسرا نام
میرے اندر جو دیکھی بے چینی ذرا بھر بھی
کہاں ماں سو پائی تیری نیندیں ہوئی حرام
میرے لئے تیری ہستی شفقت کی عمدہ مثال
تیرے قدموں تلے جنت اتنابرتر تیرا مقام
تیری دعائوں کے سبب کیا کیا نہ مجھے ملا
بڑی خوش اُسلوبی سے ہوا ہر کام سَرانجام
ساؔحل ہے ماں سرتا پا بے بہا خزینہ قدرت کا
رب تعالیٰ کی رحمت ماں ہے جنت کا پیغام
ئئئئئ


