
ساؔحل عرفان
منشیات سے بچو سنوار و اپنی ذات
ورنہ بکھر جائے تیرے خواب و خیالات
اللہ نے بنایا تجھے ہے اشرف المخلوقات
اَحسن ِ تقویم تیری اعلیٰ ہیں صفات
نشہ ذہن کو کھوکھلا قلب کو سیاہ تر
انسان سے حیوان ہونا ہیں اِسکی عنایات
پل بھر کی مستی میں عمر بھر کا روگ
نشے سے برباد ہوتا ہے ضابطہ حیات
عادتیں بری ہونا بندے کا ہے زوال
غارت ہوجاتی ہے اُسکی ساری عبادات
برائیوں سے بچنا ہو زندگی کا معیار
یہی ہے خوشحالی اور یہی راہِ نجات
سبھوں کی خوشیوں کا رکھنا ہے خیال
نشہ مُکت ہوکے جینا ہے اصل حیات
ہوش میں بسر ہو گر خوبصورت ہے کائنات
ساحلؔ کہاں رہ جائے پھر شکوے شکایات
زز


