
ساؔحل عرفان شفیع
اپنی حرکتوں سے ہر گز تکلیف کسی کو نہ دو
سنبھل جا اے ابنِ آدم ہوش کے ناخن لو
چھوڑ دو اپنی اَنا کیوں بنے ہو غرور پرور
اُتار اب حسد کی عینک دل کے دریچے کھولو
بے وجہ نفرت عداوت و دَست بَرداری
کیونکر ہو رشتوں کے اندر خدا را کچھ بولو
تیرے لہو میں دلنوازی کا ہے سلیقہ جان
اقبالؔ کے شاہن تم یہ پند و نصیحت لو
تم بھی ساؔحل یاد رکھ محبت بڑی دولت
بانٹ لو ہر فرد میں ہرگز نہ اسے تولو


