غزل: محمد ایوب

 

محمد ایوبؔ

یہ جو کاغذی پیراہن پہن کر بیٹھے ہو
لگتا ہے کسی سے عشق کر بیٹھے ہو
ہاتھ میں لرزتا ہوا اک خط ہے تمہارے
دل کی بات لفظوں میں بھر بیٹھے ہو
آنکھوں میں ٹھہرے خوابوں کے جزیرے
خاموشی میں طوفاں سمو بیٹھے ہو
بکھرے ہیں میز پہ یادوں کے پارے
خود کو ہی تنہا تم کر بیٹھے ہو
آئینہ دیکھو تو پہچان نہ پاؤ
کِس شخص کی صورت دھر بیٹھے ہو
اب لوٹ کے آنا ممکن نہیں ہے
دشتِ تمنا میں اُتر کے بیٹھے ہو
دنیا کی ہر اک رسم بھلا دی تم نے
اک نام کی دھُن میں ہی مر بیٹھے ہو
زمانے بھر کی ملامت خرید کر تم بھی
ایوب! راہِ وفا سے گزر بیٹھے ہو
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

ہنڈواڑہ میں ’’My Youth My Pride‘‘ ووشو اور کبڈی چیمپئن شپ کا آغاز

  جنگ نیوز ڈیسک کپواڑہ، 28 جولائی: جموں و کشمیر سپورٹس...

احتجاج، جمہوریت اور ریاستی ردعمل

حیات اندرابی پلوامہ، کشمیر دنیا کی جدید جمہوریتوں میں عوامی احتجاج...

امریکہ-اسرائیل تعلقات اور مشرقی وسطیٰ کا نیا منظرنامہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین...

محکمہ موسمیات کی تازہ پیشنگوئی

  اگلے 2 سے 4 گھنٹوں کے دوران جنوبی کشمیر...

زلزلے کے شدید جھٹکے، شدت 7.1 ریکارڈ، سونامی کی وارننگ جاری

ٹوکیو: جاپان کے جنوبی جزیرے کیوشو میں منگل کے روز...

تازہ ترین خبریں

ہنڈواڑہ میں ’’My Youth My Pride‘‘ ووشو اور کبڈی چیمپئن شپ کا آغاز

  جنگ نیوز ڈیسک کپواڑہ، 28 جولائی: جموں و کشمیر سپورٹس...

احتجاج، جمہوریت اور ریاستی ردعمل

حیات اندرابی پلوامہ، کشمیر دنیا کی جدید جمہوریتوں میں عوامی احتجاج...

امریکہ-اسرائیل تعلقات اور مشرقی وسطیٰ کا نیا منظرنامہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین...

محکمہ موسمیات کی تازہ پیشنگوئی

  اگلے 2 سے 4 گھنٹوں کے دوران جنوبی کشمیر...

زلزلے کے شدید جھٹکے، شدت 7.1 ریکارڈ، سونامی کی وارننگ جاری

ٹوکیو: جاپان کے جنوبی جزیرے کیوشو میں منگل کے روز...

غزل: محمد ایوب

 

محمد ایوبؔ

یہ جو کاغذی پیراہن پہن کر بیٹھے ہو
لگتا ہے کسی سے عشق کر بیٹھے ہو
ہاتھ میں لرزتا ہوا اک خط ہے تمہارے
دل کی بات لفظوں میں بھر بیٹھے ہو
آنکھوں میں ٹھہرے خوابوں کے جزیرے
خاموشی میں طوفاں سمو بیٹھے ہو
بکھرے ہیں میز پہ یادوں کے پارے
خود کو ہی تنہا تم کر بیٹھے ہو
آئینہ دیکھو تو پہچان نہ پاؤ
کِس شخص کی صورت دھر بیٹھے ہو
اب لوٹ کے آنا ممکن نہیں ہے
دشتِ تمنا میں اُتر کے بیٹھے ہو
دنیا کی ہر اک رسم بھلا دی تم نے
اک نام کی دھُن میں ہی مر بیٹھے ہو
زمانے بھر کی ملامت خرید کر تم بھی
ایوب! راہِ وفا سے گزر بیٹھے ہو
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں