غزل: محمد ایوبؔ

محمد ایوبؔ

میں اسیرِ ماضی ہوا، میرا حال مجھ سے چھن گیا
میں جواب ڈھونڈھتا رہا، میرا سوال مجھ سے چھن گیا
نہ وہ در رہا، نہ وہ گھر رہا، نہ مکان نہ مکیں رہا
جو مرا آشیانہِ اُمید تھا، وہ یقین مجھ سے چھن گیا
میں اسی کی تلاش میں بھٹکتا رہا در بہ در
میں جاگتا رہا عمر بھر، میرا خواب مجھ سے چھن گیا
مرے سامنے اندھیرا تھا، میں منتظر تھا روشنی کا
میں غفلتوں میں گم رہا، میرا مہر مجھ سے چھن گیا
بڑی حسرتوں سے سجایا تھا میں نے گلستاں خیال کو
چلی ایسی تند و تیز ہوا، سارا چمن مجھ سے چھن گیا
میں سفر میں تھا اسی آس پر کہ ملے گی منزلِ جستجو
مگر راستے ہی میں کہیں میرا ہمسفر مجھ سے چھن گیا
میں بکھر گیا ہوں دھول میں، کہ وہ خاک تھی مری کیمیا
جو مرے وجود کی روح تھی، وہ بدن مجھ سے چھن گیا
میں نے حرفِ حق کو رقم کیا، مشکلوں سے بچا بچا کر
مری انگلیاں تو سلامت رہیں، میرا قلم مجھ سے چھن گیا

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

گزشتہ مضمون
اگلا مضمون

تازہ ترین خبریں

دردِ غربت اور احساسِ انسانیت

  مسعود محبوب خان دنیا میں بعض منظر ایسے ہوتے ہیں...

ہنڈواڑہ میں ’’My Youth My Pride‘‘ ووشو اور کبڈی چیمپئن شپ کا آغاز

  جنگ نیوز ڈیسک کپواڑہ، 28 جولائی: جموں و کشمیر سپورٹس...

احتجاج، جمہوریت اور ریاستی ردعمل

حیات اندرابی پلوامہ، کشمیر دنیا کی جدید جمہوریتوں میں عوامی احتجاج...

امریکہ-اسرائیل تعلقات اور مشرقی وسطیٰ کا نیا منظرنامہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین...

محکمہ موسمیات کی تازہ پیشنگوئی

  اگلے 2 سے 4 گھنٹوں کے دوران جنوبی کشمیر...

تازہ ترین خبریں

دردِ غربت اور احساسِ انسانیت

  مسعود محبوب خان دنیا میں بعض منظر ایسے ہوتے ہیں...

ہنڈواڑہ میں ’’My Youth My Pride‘‘ ووشو اور کبڈی چیمپئن شپ کا آغاز

  جنگ نیوز ڈیسک کپواڑہ، 28 جولائی: جموں و کشمیر سپورٹس...

احتجاج، جمہوریت اور ریاستی ردعمل

حیات اندرابی پلوامہ، کشمیر دنیا کی جدید جمہوریتوں میں عوامی احتجاج...

امریکہ-اسرائیل تعلقات اور مشرقی وسطیٰ کا نیا منظرنامہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین...

محکمہ موسمیات کی تازہ پیشنگوئی

  اگلے 2 سے 4 گھنٹوں کے دوران جنوبی کشمیر...

غزل: محمد ایوبؔ

محمد ایوبؔ

میں اسیرِ ماضی ہوا، میرا حال مجھ سے چھن گیا
میں جواب ڈھونڈھتا رہا، میرا سوال مجھ سے چھن گیا
نہ وہ در رہا، نہ وہ گھر رہا، نہ مکان نہ مکیں رہا
جو مرا آشیانہِ اُمید تھا، وہ یقین مجھ سے چھن گیا
میں اسی کی تلاش میں بھٹکتا رہا در بہ در
میں جاگتا رہا عمر بھر، میرا خواب مجھ سے چھن گیا
مرے سامنے اندھیرا تھا، میں منتظر تھا روشنی کا
میں غفلتوں میں گم رہا، میرا مہر مجھ سے چھن گیا
بڑی حسرتوں سے سجایا تھا میں نے گلستاں خیال کو
چلی ایسی تند و تیز ہوا، سارا چمن مجھ سے چھن گیا
میں سفر میں تھا اسی آس پر کہ ملے گی منزلِ جستجو
مگر راستے ہی میں کہیں میرا ہمسفر مجھ سے چھن گیا
میں بکھر گیا ہوں دھول میں، کہ وہ خاک تھی مری کیمیا
جو مرے وجود کی روح تھی، وہ بدن مجھ سے چھن گیا
میں نے حرفِ حق کو رقم کیا، مشکلوں سے بچا بچا کر
مری انگلیاں تو سلامت رہیں، میرا قلم مجھ سے چھن گیا

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

گزشتہ مضمون
اگلا مضمون