نادش نزیر
بھری محفل میں راز عیاں کر دو
ہمت ہے تو محفل سے رواں کر دو
زیادہ سوچیں شبہات کا سر چشمہ بن گئیں
اب منفی سوچوں کو وہاں کر دو
کچھ سال لگ گئے اُن الفاظ کو سمجھنے میں
تکلف نہ ہو تو احساسات بیاں کر دو
ساتھ رہ کر آہ کی آواز کہاں نکلتی تھی
اک ادا سے ہمارے لیے جہاں کر دو
ستم کے ایام میں بھی اُس کا نام لیتا تھا نادش
کچھ ہمارے مسرت کے لیے بھی قرباں کر دو
ززز


