محمد ایوبؔ
یہ جو کاغذی پیراہن پہن کر بیٹھے ہو
لگتا ہے کسی سے عشق کر بیٹھے ہو
ہاتھ میں لرزتا ہوا اک خط ہے تمہارے
دل کی بات لفظوں میں بھر بیٹھے ہو
آنکھوں میں ٹھہرے خوابوں کے جزیرے
خاموشی میں طوفاں سمو بیٹھے ہو
بکھرے ہیں میز پہ یادوں کے پارے
خود کو ہی تنہا تم کر بیٹھے ہو
آئینہ دیکھو تو پہچان نہ پاؤ
کِس شخص کی صورت دھر بیٹھے ہو
اب لوٹ کے آنا ممکن نہیں ہے
دشتِ تمنا میں اُتر کے بیٹھے ہو
دنیا کی ہر اک رسم بھلا دی تم نے
اک نام کی دھُن میں ہی مر بیٹھے ہو
زمانے بھر کی ملامت خرید کر تم بھی
ایوب! راہِ وفا سے گزر بیٹھے ہو
ززز


