کشمیر میں بہار کے سیاحتی موسم کے آغاز کے ساتھ ہی سری نگر کے لئے ہوائی کرایوں میں غیر معمولی اضافہ تشویش کا باعث بن گیا ہے۔ ٹولپ گارڈن کے افتتاح کے ساتھ جہاں سیاحت کو فروغ ملنا چاہیے تھا، وہیں مہنگے ٹکٹوں نے سیاحوں کی دلچسپی کو متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔
سیاحت سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ بلند کرایے خاص طور پر متوسط طبقے کے سیاحوں کو روک رہے ہیں، جس سے ہوٹلوں، ٹرانسپورٹ اور دیگر شعبوں پر منفی اثر پڑ رہا ہے۔ چونکہ کشمیر کا زیادہ تر انحصار فضائی سفر پر ہے، اس لئے کرایوں میں اضافہ براہِ راست سیاحوں کی تعداد میں کمی کا سبب بنتا ہے۔
اگرچہ فضائی کمپنیوں کا متحرک قیمتوں کا نظام ایک حقیقت ہے، لیکن سیاحتی سیزن کے آغاز پر غیر معمولی اضافہ مناسب نہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت اور متعلقہ ادارے اس صورتحال کا نوٹس لیں، کرایوں کو متوازن رکھنے کے لئے اقدامات کریں اور پروازوں کی تعداد میں اضافہ کریں۔
اس کے ساتھ ساتھ طویل مدتی منصوبہ بندی بھی ناگزیر ہے۔ ریلوے اور سڑک رابطوں کو مزید بہتر بنا کر فضائی سفر پر انحصار کم کیا جا سکتا ہے، جس سے نہ صرف کرایوں میں استحکام آئے گا بلکہ سیاحوں کے لئے متبادل سہولیات بھی فراہم ہوں گی۔ زیادہ مسابقتی فضائی خدمات بھی قیمتوں کو اعتدال میں رکھنے میں مدد دے سکتی ہیں۔
آخرکار، کشمیر کی سیاحت صرف خوبصورتی کا نہیں بلکہ معاشی بقا کا بھی مسئلہ ہے۔ اگر سیاحوں کے لئے رسائی مشکل اور مہنگی ہو جائے تو اس کے اثرات دور رس ہوں گے۔ اس لئے ضروری ہے کہ تمام متعلقہ فریق مل کر ایسے اقدامات کریں جو کشمیر کو ایک سستا، آسان اور پرکشش سیاحتی مقام بنائے رکھیں۔
مہنگے ہوائی کرائےسیاحت کےلئے خطرہ
مہنگے ہوائی کرائےسیاحت کےلئے خطرہ
کشمیر میں بہار کے سیاحتی موسم کے آغاز کے ساتھ ہی سری نگر کے لئے ہوائی کرایوں میں غیر معمولی اضافہ تشویش کا باعث بن گیا ہے۔ ٹولپ گارڈن کے افتتاح کے ساتھ جہاں سیاحت کو فروغ ملنا چاہیے تھا، وہیں مہنگے ٹکٹوں نے سیاحوں کی دلچسپی کو متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔
سیاحت سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ بلند کرایے خاص طور پر متوسط طبقے کے سیاحوں کو روک رہے ہیں، جس سے ہوٹلوں، ٹرانسپورٹ اور دیگر شعبوں پر منفی اثر پڑ رہا ہے۔ چونکہ کشمیر کا زیادہ تر انحصار فضائی سفر پر ہے، اس لئے کرایوں میں اضافہ براہِ راست سیاحوں کی تعداد میں کمی کا سبب بنتا ہے۔
اگرچہ فضائی کمپنیوں کا متحرک قیمتوں کا نظام ایک حقیقت ہے، لیکن سیاحتی سیزن کے آغاز پر غیر معمولی اضافہ مناسب نہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت اور متعلقہ ادارے اس صورتحال کا نوٹس لیں، کرایوں کو متوازن رکھنے کے لئے اقدامات کریں اور پروازوں کی تعداد میں اضافہ کریں۔
اس کے ساتھ ساتھ طویل مدتی منصوبہ بندی بھی ناگزیر ہے۔ ریلوے اور سڑک رابطوں کو مزید بہتر بنا کر فضائی سفر پر انحصار کم کیا جا سکتا ہے، جس سے نہ صرف کرایوں میں استحکام آئے گا بلکہ سیاحوں کے لئے متبادل سہولیات بھی فراہم ہوں گی۔ زیادہ مسابقتی فضائی خدمات بھی قیمتوں کو اعتدال میں رکھنے میں مدد دے سکتی ہیں۔
آخرکار، کشمیر کی سیاحت صرف خوبصورتی کا نہیں بلکہ معاشی بقا کا بھی مسئلہ ہے۔ اگر سیاحوں کے لئے رسائی مشکل اور مہنگی ہو جائے تو اس کے اثرات دور رس ہوں گے۔ اس لئے ضروری ہے کہ تمام متعلقہ فریق مل کر ایسے اقدامات کریں جو کشمیر کو ایک سستا، آسان اور پرکشش سیاحتی مقام بنائے رکھیں۔


