لیفٹیننٹ گورنر کا موسمیاتی لچک پیدا کرنے کیلئے قدرتی بنیادوں پر مبنی حل اَپنانے پر زور

 نیوز ڈیسک
سری نگر/ لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے آج اِسلامک یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (آئی یو ایس ٹی) کی منعقدہ کانفرنس میں شرکت کی۔ اُنہوں نے آئی یو ایس ٹی کے مرکزی کیمپس میں سول اینڈمیکنیکل اِنجینئرنگ بلاک، لارمو کیمپس اور لا ٔسکول کا بھی اِفتتاح کیا۔ اُنہوںنے یونیورسٹی کی مختلف اَقدامات پر مُبارک باد پیش کی اور ’منشیات سے پاک جموں و کشمیر‘ مہم سے متعلق یونیورسٹی کی پالیسی بریف کو سراہا۔
اُنہوںنے ہمالیائی خطے میں موسمیاتی تبدیلی کی خطرناک رفتار کو اُجاگر کیا ۔اُنہوں نے کہا کہ گزشتہ برس جنوری سے اگست کے دوران ہمالیہ میں تقریباً ہر روز کوئی نہ کوئی آفاتِ سماوی رونما ہوئی۔ اُنہوں نے کہا کہ صرف جموں و کشمیر میں ہی اچانک سیلاب اور بادل پھٹنے کے واقعات سے عوامی بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا جس کے نتیجے میں سڑکیں، پانی کی فراہمی کی سکیمیں اور بجلی کی ترسیل متاثر ہوئی۔ اُنہوں نے اِس بات پر زور دیا کہ ترقی اور ماحولیات کے تحفظ میں کوئی تضاد نہیں بلکہ فطرت خود ایک بنیادی ڈھانچہ ہے۔
لیفٹیننٹ گورنرنے کہا، ’’مثال کے طور پر واٹرشیڈ کی تعمیربھی سیلاب پر قابو پانے کا ایک مؤثر نظام ہے۔ یہ ایسا بنیادی ڈھانچہ ہے جو پانی کو صاف کرنے کے نظام کے طور پر بھی کام کرتا ہے اور آبپاشی کے نظام کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ اِسی طرح ویٹ لینڈز فطرت کے وسیع ذخائر ہیں جو برسات کے موسم میں اِضافی پانی جذب کرتے ہیں اور خشک مہینوں میں آہستہ آہستہ اِردگرد کے علاقوں کو زِندگی بخشتے ہیں۔ گھنے جنگلات سے ڈھکی پہاڑی ڈھلوان درحقیقت ایک مضبوط دیوار کی مانند ہوتی ہے جو پورے پہاڑ کو نیچے واقع دیہات پر گرنے سے بچاتی ہے۔ اس لئے میرا ماننا ہے کہ جب ہم ان قدرتی نظاموں کو تباہ کرتے ہیں تو ہم اپنے مستقبل سے کھیل رہے ہوتے ہیں جبکہ ان کا تحفظ اور بحالی ایک روشن مستقبل میں سرمایہ کاری کے مترادف ہے۔‘‘
اُنہوں نے سائنس دانوں اور متعلقہ شعبوں کے ماہرین پر زور دیا کہ وہ قدرتی بنیادوں پر مبنی حل کو ترقیاتی منصوبہ بندی کے حاشیے سے نکال کر اس کا مرکزی جزو بنائیں۔ اُنہوں نے پالیسی سازوں، سائنس دانوں اور اِنجینئروں کے سامنے چھ اہم سفارشات بھی پیش کیں۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا، ’’گلیشیئرز کے پگھلاؤ، چشموں کے بہاؤ، سوئیل ہیلتھ اور جنگلاتی رقبے کی نگرانی کے لئے ریموٹ سنسنگ، جغرافیائی نقشہ سازی اور آرٹیفیشل اِنٹلی جنس (اے آئی) جیسی جدید ٹیکنالوجیوں کا اِستعمال کیا جائے۔ اِس ڈیٹا کو خطے کے ہر ترقیاتی منصوبے کی بنیاد بنایا جانا چاہیے۔فطرت پر مبنی حل کو منصوبے کی بجٹ، جانچ اور نگرانی میں شامل کیا جانا چاہیے۔ کسانوں، چرواہوں، باغبانوں اور قبائلی کمیونٹیوں کو برابر کا شراکت دار بنایا جاناچاہیے کیوں کہ دریاؤں، پہاڑوں اور جنگلات سے متعلق ان کا نسلی اور روایتی علم بے حد قیمتی ہے۔ سالانہ بجٹ کے جائزوں میںیہ بھی شامل ہونا چاہیے کہ آیا جنگلات اور ماحولیاتی نظام مضبوط ہوئے ہیں یا کمزور ،تاکہ قدرتی وسائل کے تحفظ کے حوالے سے جوابدہی یقینی بنائی جا سکے۔ سائنس دانوں، پالیسی سازوں اور مقامی کمیونٹیوں کے درمیان طویل المدتی تعاون کے لئے پلیٹ فارم قائم کئے جائیں اور صرف کنکریٹ کے پشتوں پر انحصار کرنے کے بجائے سیلابی میدانوں اور دلدلی علاقوں کی بحالی کو فروغ دیا جائے تاکہ تعمیراتی ڈھانچوں کو قدرتی نظاموں کے ساتھ ہم آہنگ کیا جا سکے۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے یونیورسٹیوںپر زور دیا کہ وہ قدرتی بنیادوں پر مبنی حل کو ایک کثیر الشعبہ مضمون کی حیثیت دیں جس میں ماحولیات، ہائیڈرولوجی، اِنجینئرنگ، معاشیات، ڈیزاسٹر مینجمنٹ اور روایتی علم شامل ہوں۔ اُنہوں نے کہا کہ مستقبل کے ماہرین کو ماحولیاتی نظام، معیشت، ٹیکنالوجی اور معاشرے کے باہمی تعلق کو سمجھنا ہوگا۔
اُنہوں نے 2020 میں شروع کی گئی’ گرین جموں و کشمیر‘ مہم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس کے نتیجے میں جنگلاتی رقبہ تقریباً 55 فیصد تک بڑھایا گیا ہے۔ اُنہوں نے دیرپاطرزِ زِندگی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے ایسے ہمالیہ کا تصور پیش کیا جہاں واٹرشیڈز زیادہ صحت مند ہوں، ویٹ لینڈز پھلتے پھولتے رہیں اور دریا قدرتی طور پر بہتے ہوں، حیاتیاتی تنوع اور ثقافتی ورثے کو برقرار رکھیں۔
منوج سِنہا نے کہا،’’فطرت کو ترقی کے مرکز میں رکھ کر، جدید ٹیکنالوجی کو روایتی حکمت کے ساتھ مربوط کر کے، اور برادریوں کو برابر کے شراکت دار کے طور پر شامل کر کے، ہمالیائی خطہ موسمیاتی تبدیلی کے خلاف لچک پیدا کر سکتا ہے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ہمالیہ محض ایک جغرافیائی وجود نہیں بلکہ ایک زندہ ورثہ ہے جو دُور اندیشی، صبر اور ذمہ داری کا تقاضا کرتا ہے۔‘‘
اِس موقعہ پرلیفٹیننٹ گورنر نے آئی یو ایس ٹی کے ماہانہ میگزین’’ٹائمز ایکو‘‘ کا خصوصی شمارہ جو 100 روزہ انسدادِ منشیات مہم پر مبنی ہے اور ’’نشہ مُکت جموں و کشمیر ابھیان‘‘ سے متعلق پالیسی بریف جاری کی جسے جموں و کشمیر کے مختلف ماہرین نے تیار کیا ہے۔ اِس کے علاوہ پی ایم کے وِی وائی کے تربیت یافتہ افراد میں اسناد بھی تقسیم کی گئیں۔
کانفرنس میں قائمقام چیف جسٹس جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ جسٹس سنجیو کمار، وائس چانسلرآئی یو ایس ٹی  پروفیسر شکیل اے رومشو، رجسٹرار پروفیسر شمیم احمد شاہ، کانفرنس کے کنوینر پروفیسر جاوید حسین میر، نامور سائنس دانوں، ماہرین، سینئر اَفسران، فیکلٹی اور طلبأ نے شرکت کی۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

کشمیر کےعاقب نبی نے بھارتی ٹیسٹ ٹیم میں جگہ بنا لی

محمد عمر بٹ جنگ نیوز سری نگر/جموں و کشمیر کے لئے...

جموں کشمیر میں پانچ برس کے دوران 5908 چھوٹی کمپنیاں، 585 LLPs اور 1231 اسٹارٹ اپس رجسٹر

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/ مرکزی وزارتِ کارپوریٹ امور نے لوک...

کشمیر انٹرنیشنل فلم فیسٹول کیلئے زائد اَز 50 ممالک سے 1100فلموں کی انٹریاں موصول

جنگ نیوز سری نگر/ ڈائریکٹر اِنفارمیشن شریا سنگھل نے آج...

2020گاؤکدل مسجد قتل کیس: ملزم قتل کا مجرم قرار سزا پر فیصلہ 6 اگست کو سنایا جائے گا

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/ سرینگر کے پرنسپل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز...

راشٹریہ رکشا یونیورسٹی اور کشمیر یونیورسٹی کے درمیانMoU پر دستخط

پی آئی بی سرینگر/اشٹریہ رکشا یونیورسٹی (آر آر یو)، جو...

تازہ ترین خبریں

کشمیر کےعاقب نبی نے بھارتی ٹیسٹ ٹیم میں جگہ بنا لی

محمد عمر بٹ جنگ نیوز سری نگر/جموں و کشمیر کے لئے...

جموں کشمیر میں پانچ برس کے دوران 5908 چھوٹی کمپنیاں، 585 LLPs اور 1231 اسٹارٹ اپس رجسٹر

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/ مرکزی وزارتِ کارپوریٹ امور نے لوک...

کشمیر انٹرنیشنل فلم فیسٹول کیلئے زائد اَز 50 ممالک سے 1100فلموں کی انٹریاں موصول

جنگ نیوز سری نگر/ ڈائریکٹر اِنفارمیشن شریا سنگھل نے آج...

2020گاؤکدل مسجد قتل کیس: ملزم قتل کا مجرم قرار سزا پر فیصلہ 6 اگست کو سنایا جائے گا

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/ سرینگر کے پرنسپل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز...

راشٹریہ رکشا یونیورسٹی اور کشمیر یونیورسٹی کے درمیانMoU پر دستخط

پی آئی بی سرینگر/اشٹریہ رکشا یونیورسٹی (آر آر یو)، جو...

لیفٹیننٹ گورنر کا موسمیاتی لچک پیدا کرنے کیلئے قدرتی بنیادوں پر مبنی حل اَپنانے پر زور

 نیوز ڈیسک
سری نگر/ لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے آج اِسلامک یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (آئی یو ایس ٹی) کی منعقدہ کانفرنس میں شرکت کی۔ اُنہوں نے آئی یو ایس ٹی کے مرکزی کیمپس میں سول اینڈمیکنیکل اِنجینئرنگ بلاک، لارمو کیمپس اور لا ٔسکول کا بھی اِفتتاح کیا۔ اُنہوںنے یونیورسٹی کی مختلف اَقدامات پر مُبارک باد پیش کی اور ’منشیات سے پاک جموں و کشمیر‘ مہم سے متعلق یونیورسٹی کی پالیسی بریف کو سراہا۔
اُنہوںنے ہمالیائی خطے میں موسمیاتی تبدیلی کی خطرناک رفتار کو اُجاگر کیا ۔اُنہوں نے کہا کہ گزشتہ برس جنوری سے اگست کے دوران ہمالیہ میں تقریباً ہر روز کوئی نہ کوئی آفاتِ سماوی رونما ہوئی۔ اُنہوں نے کہا کہ صرف جموں و کشمیر میں ہی اچانک سیلاب اور بادل پھٹنے کے واقعات سے عوامی بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا جس کے نتیجے میں سڑکیں، پانی کی فراہمی کی سکیمیں اور بجلی کی ترسیل متاثر ہوئی۔ اُنہوں نے اِس بات پر زور دیا کہ ترقی اور ماحولیات کے تحفظ میں کوئی تضاد نہیں بلکہ فطرت خود ایک بنیادی ڈھانچہ ہے۔
لیفٹیننٹ گورنرنے کہا، ’’مثال کے طور پر واٹرشیڈ کی تعمیربھی سیلاب پر قابو پانے کا ایک مؤثر نظام ہے۔ یہ ایسا بنیادی ڈھانچہ ہے جو پانی کو صاف کرنے کے نظام کے طور پر بھی کام کرتا ہے اور آبپاشی کے نظام کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ اِسی طرح ویٹ لینڈز فطرت کے وسیع ذخائر ہیں جو برسات کے موسم میں اِضافی پانی جذب کرتے ہیں اور خشک مہینوں میں آہستہ آہستہ اِردگرد کے علاقوں کو زِندگی بخشتے ہیں۔ گھنے جنگلات سے ڈھکی پہاڑی ڈھلوان درحقیقت ایک مضبوط دیوار کی مانند ہوتی ہے جو پورے پہاڑ کو نیچے واقع دیہات پر گرنے سے بچاتی ہے۔ اس لئے میرا ماننا ہے کہ جب ہم ان قدرتی نظاموں کو تباہ کرتے ہیں تو ہم اپنے مستقبل سے کھیل رہے ہوتے ہیں جبکہ ان کا تحفظ اور بحالی ایک روشن مستقبل میں سرمایہ کاری کے مترادف ہے۔‘‘
اُنہوں نے سائنس دانوں اور متعلقہ شعبوں کے ماہرین پر زور دیا کہ وہ قدرتی بنیادوں پر مبنی حل کو ترقیاتی منصوبہ بندی کے حاشیے سے نکال کر اس کا مرکزی جزو بنائیں۔ اُنہوں نے پالیسی سازوں، سائنس دانوں اور اِنجینئروں کے سامنے چھ اہم سفارشات بھی پیش کیں۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا، ’’گلیشیئرز کے پگھلاؤ، چشموں کے بہاؤ، سوئیل ہیلتھ اور جنگلاتی رقبے کی نگرانی کے لئے ریموٹ سنسنگ، جغرافیائی نقشہ سازی اور آرٹیفیشل اِنٹلی جنس (اے آئی) جیسی جدید ٹیکنالوجیوں کا اِستعمال کیا جائے۔ اِس ڈیٹا کو خطے کے ہر ترقیاتی منصوبے کی بنیاد بنایا جانا چاہیے۔فطرت پر مبنی حل کو منصوبے کی بجٹ، جانچ اور نگرانی میں شامل کیا جانا چاہیے۔ کسانوں، چرواہوں، باغبانوں اور قبائلی کمیونٹیوں کو برابر کا شراکت دار بنایا جاناچاہیے کیوں کہ دریاؤں، پہاڑوں اور جنگلات سے متعلق ان کا نسلی اور روایتی علم بے حد قیمتی ہے۔ سالانہ بجٹ کے جائزوں میںیہ بھی شامل ہونا چاہیے کہ آیا جنگلات اور ماحولیاتی نظام مضبوط ہوئے ہیں یا کمزور ،تاکہ قدرتی وسائل کے تحفظ کے حوالے سے جوابدہی یقینی بنائی جا سکے۔ سائنس دانوں، پالیسی سازوں اور مقامی کمیونٹیوں کے درمیان طویل المدتی تعاون کے لئے پلیٹ فارم قائم کئے جائیں اور صرف کنکریٹ کے پشتوں پر انحصار کرنے کے بجائے سیلابی میدانوں اور دلدلی علاقوں کی بحالی کو فروغ دیا جائے تاکہ تعمیراتی ڈھانچوں کو قدرتی نظاموں کے ساتھ ہم آہنگ کیا جا سکے۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے یونیورسٹیوںپر زور دیا کہ وہ قدرتی بنیادوں پر مبنی حل کو ایک کثیر الشعبہ مضمون کی حیثیت دیں جس میں ماحولیات، ہائیڈرولوجی، اِنجینئرنگ، معاشیات، ڈیزاسٹر مینجمنٹ اور روایتی علم شامل ہوں۔ اُنہوں نے کہا کہ مستقبل کے ماہرین کو ماحولیاتی نظام، معیشت، ٹیکنالوجی اور معاشرے کے باہمی تعلق کو سمجھنا ہوگا۔
اُنہوں نے 2020 میں شروع کی گئی’ گرین جموں و کشمیر‘ مہم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس کے نتیجے میں جنگلاتی رقبہ تقریباً 55 فیصد تک بڑھایا گیا ہے۔ اُنہوں نے دیرپاطرزِ زِندگی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے ایسے ہمالیہ کا تصور پیش کیا جہاں واٹرشیڈز زیادہ صحت مند ہوں، ویٹ لینڈز پھلتے پھولتے رہیں اور دریا قدرتی طور پر بہتے ہوں، حیاتیاتی تنوع اور ثقافتی ورثے کو برقرار رکھیں۔
منوج سِنہا نے کہا،’’فطرت کو ترقی کے مرکز میں رکھ کر، جدید ٹیکنالوجی کو روایتی حکمت کے ساتھ مربوط کر کے، اور برادریوں کو برابر کے شراکت دار کے طور پر شامل کر کے، ہمالیائی خطہ موسمیاتی تبدیلی کے خلاف لچک پیدا کر سکتا ہے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ہمالیہ محض ایک جغرافیائی وجود نہیں بلکہ ایک زندہ ورثہ ہے جو دُور اندیشی، صبر اور ذمہ داری کا تقاضا کرتا ہے۔‘‘
اِس موقعہ پرلیفٹیننٹ گورنر نے آئی یو ایس ٹی کے ماہانہ میگزین’’ٹائمز ایکو‘‘ کا خصوصی شمارہ جو 100 روزہ انسدادِ منشیات مہم پر مبنی ہے اور ’’نشہ مُکت جموں و کشمیر ابھیان‘‘ سے متعلق پالیسی بریف جاری کی جسے جموں و کشمیر کے مختلف ماہرین نے تیار کیا ہے۔ اِس کے علاوہ پی ایم کے وِی وائی کے تربیت یافتہ افراد میں اسناد بھی تقسیم کی گئیں۔
کانفرنس میں قائمقام چیف جسٹس جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ جسٹس سنجیو کمار، وائس چانسلرآئی یو ایس ٹی  پروفیسر شکیل اے رومشو، رجسٹرار پروفیسر شمیم احمد شاہ، کانفرنس کے کنوینر پروفیسر جاوید حسین میر، نامور سائنس دانوں، ماہرین، سینئر اَفسران، فیکلٹی اور طلبأ نے شرکت کی۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں