محمد عمر بٹ
جنگ نیوز
سری نگر/جموں و کشمیر کے لئے فخر اور خوشی کا ایک تاریخی لمحہ اس وقت رقم ہوا جب برق رفتار گیند بازعاقب نبی کو سری لنکا کے خلاف آئندہ ٹیسٹ سیریز کے لئے بھارتی ٹیم میں شامل کر لیا گیا۔ بھارتی کرکٹ میں یہ انتخاب نہ صرفعاقب نبی کی انتھک محنت، غیر معمولی صلاحیت اور شاندار کارکردگی کا اعتراف ہے بلکہ پوری وادی کے نوجوان کرکٹرز کے لئے امید، حوصلے اور نئے خوابوں کی روشن کرن بھی بن کر ابھرا ہے۔
بھارتی کرکٹ کنٹرول بورڈ (BCCI) کی جانب سے زخمی اسٹار فاسٹ بولر جسپریت بمراہ کی عدم دستیابی کے بعدعاقب نبی کو قومی ٹیسٹ اسکواڈ میں شامل کیا گیا۔ گزشتہ دو رنجی سیزن میں 104 وکٹیں حاصل کرنے والےعاقب نبی نے صرف26-2025 کے سیزن میں 60 شکار کیے اور اپنی تباہ کن بولنگ کی بدولت جموں و کشمیر کو تاریخ میں پہلی مرتبہ رنجی ٹرافی کا چیمپئن بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ حال ہی میں انڈیا اے کی جانب سے سری لنکا کے دورے میں بھی انہوں نے دو فرسٹ کلاس میچوں میں چھ وکٹیں حاصل کر کے سلیکٹرز کو اپنی صلاحیت کا بھرپور یقین دلایا۔
عاقب نبی کی قومی ٹیم میں شمولیت پر جموں و کشمیر بھر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ کھیلوں سے وابستہ شخصیات، شائقین کرکٹ اور نوجوانوں نے اسے خطے کی نئی شناخت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ کامیابی ثابت کرتی ہے کہ وادی کے نوجوان اب ہر میدان میں ملک کا نام روشن کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر بھی مبارک باد کے پیغامات کا تانتا بندھ گیا اورعاقب نبی کو "کشمیر کا فخر” قرار دیا جا رہا ہے۔
اس تاریخی کامیابی کو جموں و کشمیر میں کرکٹ کے سنہری دور کی شروعات قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرینِ کھیل کا کہنا ہے کہ اوکیب نبی کا بھارتی ٹیسٹ ٹیم تک پہنچنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اگر نوجوانوں کو مناسب مواقع، معیاری تربیت اور بہتر سہولیات فراہم کی جائیں تو وہ عالمی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا سکتے ہیں۔ اوکیب نبی کی یہ کامیابی نہ صرف ان کے ذاتی سفر کی معراج ہے بلکہ وادی کے ہر اس نوجوان کے لئے امید کا پیغام بھی ہے جو قومی رنگ پہننے کا خواب آنکھوں میں سجائے کرکٹ کے میدان میں اپنی قسمت آزما رہا ہے۔


