کشمیر کے بازاروں کی خاموش کہانی

کشمیر کے بازاروں کی خاموش کہانی

 

کشمیر کی وادی میں عیدالفطر سے قبل بازاروں کی چہل پہل ایک دیرینہ روایت رہی ہے، مگر اس سال یہ رونق کہیں کھو سی گئی ہے۔ عام طور پر ان دنوں میں بازار خریداروں سے بھرے ہوتے ہیں، دکانیں سجی ہوتی ہیں اور ہر طرف خوشی کا سماں ہوتا ہے، لیکن اس مرتبہ منظر بالکل مختلف ہے۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ انہیں اپنی زندگی کے سب سے سست عید سیزن کا سامنا ہے۔

اس غیر معمولی صورتحال کے پیچھے کئی وجوہات کارفرما ہیں۔ پہلگام میں پیش آئے واقعے کے بعد پیدا ہونے والی بے یقینی نے نہ صرف سیاحت بلکہ مقامی کاروبار پر بھی منفی اثر ڈالا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سیب کی خراب فصل نے ہزاروں خاندانوں کی آمدنی کو متاثر کیا ہے، کیونکہ یہ وادی کی معیشت کا ایک اہم ستون ہے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی نے عام آدمی کی قوتِ خرید کو کمزور کر دیا ہے، جبکہ عالمی سطح پر تیل کے مسائل نے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

نتیجتاً، اس سال عید کی تیاریوں میں وہ جوش و خروش نظر نہیں آتا۔ لوگ غیر ضروری اخراجات سے گریز کر رہے ہیں، نئے کپڑوں اور دیگر خریداری میں کمی آ گئی ہے، اور بازاروں میں خریداروں کی تعداد نمایاں طور پر گھٹ گئی ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف تاجروں کے لیے تشویش کا باعث ہے بلکہ وادی کی مجموعی معاشی حالت کی عکاسی بھی کرتی ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ متعلقہ ادارے اور پالیسی ساز اس مسئلے کا سنجیدگی سے نوٹس لیں۔ مقامی معیشت کو سہارا دینے، مہنگائی پر قابو پانے اور عوام کا اعتماد بحال کرنے کے لیے فوری اقدامات ناگزیر ہیں۔ عیدالفطر خوشیوں، یکجہتی اور امید کا پیغام لے کر آتی ہے، اور اگر بازار ویران ہوں تو یہ صرف معاشی بحران نہیں بلکہ اجتماعی حوصلے میں کمی کی علامت بھی ہے۔

امید کی جانی چاہیے کہ یہ وقتی جمود جلد ختم ہوگا اور کشمیر کے بازار ایک بار پھر اپنی روایتی رونقوں سے بھر جائیں گے، تاکہ عید کی خوشیاں حقیقی معنوں میں محسوس کی جا سکیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

یوم یکجہتی پر وزیر اعظم کا خطاب:نکسلواد ختم، غربت میں نمایاں کمی،

  جنگ نیوز ڈیسک نئی دہلی/وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتے...

سرینگر میں ڈاکٹر عزیز حاجنی کی ادبی خدمات کو خراج عقیدت پیش

جنگ نیوز سرینگر/کشمیری زبان و ادب کی ممتاز شخصیت ڈاکٹر...

وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے صحافی ندھی رازدان سے شادی کرلی

جنگ نیوز سرینگر/جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ...

آشوتوش دکشت نے بھارتی فضائیہ کے سربراہ کے طور پر عہدہ سنبھالا

جنگ نیوز   ایئر چیف مارشل آشوتوش دکشت پی وی ایس...

غزل: اسلم ٹیٹاگڑھی

    اسلم ٹیٹاگڑھی غم کے ہنگام سے خود پریشاں ہوں میں...

تازہ ترین خبریں

یوم یکجہتی پر وزیر اعظم کا خطاب:نکسلواد ختم، غربت میں نمایاں کمی،

  جنگ نیوز ڈیسک نئی دہلی/وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتے...

سرینگر میں ڈاکٹر عزیز حاجنی کی ادبی خدمات کو خراج عقیدت پیش

جنگ نیوز سرینگر/کشمیری زبان و ادب کی ممتاز شخصیت ڈاکٹر...

وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے صحافی ندھی رازدان سے شادی کرلی

جنگ نیوز سرینگر/جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ...

آشوتوش دکشت نے بھارتی فضائیہ کے سربراہ کے طور پر عہدہ سنبھالا

جنگ نیوز   ایئر چیف مارشل آشوتوش دکشت پی وی ایس...

غزل: اسلم ٹیٹاگڑھی

    اسلم ٹیٹاگڑھی غم کے ہنگام سے خود پریشاں ہوں میں...

کشمیر کے بازاروں کی خاموش کہانی

کشمیر کے بازاروں کی خاموش کہانی

 

کشمیر کی وادی میں عیدالفطر سے قبل بازاروں کی چہل پہل ایک دیرینہ روایت رہی ہے، مگر اس سال یہ رونق کہیں کھو سی گئی ہے۔ عام طور پر ان دنوں میں بازار خریداروں سے بھرے ہوتے ہیں، دکانیں سجی ہوتی ہیں اور ہر طرف خوشی کا سماں ہوتا ہے، لیکن اس مرتبہ منظر بالکل مختلف ہے۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ انہیں اپنی زندگی کے سب سے سست عید سیزن کا سامنا ہے۔

اس غیر معمولی صورتحال کے پیچھے کئی وجوہات کارفرما ہیں۔ پہلگام میں پیش آئے واقعے کے بعد پیدا ہونے والی بے یقینی نے نہ صرف سیاحت بلکہ مقامی کاروبار پر بھی منفی اثر ڈالا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سیب کی خراب فصل نے ہزاروں خاندانوں کی آمدنی کو متاثر کیا ہے، کیونکہ یہ وادی کی معیشت کا ایک اہم ستون ہے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی نے عام آدمی کی قوتِ خرید کو کمزور کر دیا ہے، جبکہ عالمی سطح پر تیل کے مسائل نے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

نتیجتاً، اس سال عید کی تیاریوں میں وہ جوش و خروش نظر نہیں آتا۔ لوگ غیر ضروری اخراجات سے گریز کر رہے ہیں، نئے کپڑوں اور دیگر خریداری میں کمی آ گئی ہے، اور بازاروں میں خریداروں کی تعداد نمایاں طور پر گھٹ گئی ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف تاجروں کے لیے تشویش کا باعث ہے بلکہ وادی کی مجموعی معاشی حالت کی عکاسی بھی کرتی ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ متعلقہ ادارے اور پالیسی ساز اس مسئلے کا سنجیدگی سے نوٹس لیں۔ مقامی معیشت کو سہارا دینے، مہنگائی پر قابو پانے اور عوام کا اعتماد بحال کرنے کے لیے فوری اقدامات ناگزیر ہیں۔ عیدالفطر خوشیوں، یکجہتی اور امید کا پیغام لے کر آتی ہے، اور اگر بازار ویران ہوں تو یہ صرف معاشی بحران نہیں بلکہ اجتماعی حوصلے میں کمی کی علامت بھی ہے۔

امید کی جانی چاہیے کہ یہ وقتی جمود جلد ختم ہوگا اور کشمیر کے بازار ایک بار پھر اپنی روایتی رونقوں سے بھر جائیں گے، تاکہ عید کی خوشیاں حقیقی معنوں میں محسوس کی جا سکیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں