سرینگر/ دریائے جہلم میں آبی ٹرانسپورٹ کے فروغ اور شہری نقل و حمل کے نئے امکانات کو عملی شکل دینے کی سمت ایک اہم پیش رفت کے طور پر ڈویژنل کمشنر کشمیر انشل گرگ نے سیکریٹری ٹرانسپورٹ اوَنی لاواسا کے ہمراہ ان لینڈ واٹر ویز اتھارٹی آف انڈیاIWAI کے مجوزہ واٹر ٹرانسپورٹ پروجیکٹ کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اجلاس میں سرینگر، بڈگام، بارہمولہ اور گاندربل کے ڈپٹی کمشنرز سمیت متعلقہ محکموں کے اعلیٰ افسران شریک ہوئے۔
اجلاس میں آئی ڈبلیو اے آئی کوآرڈینیٹر نے دریائے جہلم میں واٹر ٹرانسپورٹ کے راستے میں حائل رکاوٹوں اور درکار تکنیکی و انتظامی مداخلتوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔ ڈویژنل کمشنر نے دو مقامات پر اراضی کا فوری قبضہ لینے اور تیسرے مقام کے لیے مشترکہ معائنہ کرنے کی ہدایت دی۔ بتایا گیا کہ آٹھ مجوزہ مقامات میں سے چار پہلے ہی آئی ڈبلیو اے آئی کے حوالے کیے جا چکے ہیں۔

ہائی ٹینشن اور لو ٹینشن پاور لائنوں سے متعلق مسائل پر آئی ڈبلیو اے آئی کو کے پی ڈی سی ایل کے ساتھ تفصیلی فہرست شیئر کرنے کی ہدایت دی گئی، جبکہ پی ڈبلیو ڈی کو پلوں کے نیچے موجود رکاوٹوں کے جائزے اور کلیئرنس میں تعاون کا کہا گیا۔ آر ٹی او کشمیر کو تمام محکموں کے درمیان تال میل کے لیے نوڈل آفیسر مقرر کرتے ہوئے ایک ہفتے کے اندر جامع رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی۔
ادھر، واٹر ٹرانسپورٹ کے کامیاب ماڈلز سے واقفیت کے لیے پریس انفارمیشن بیورPIBو سرینگر کی جانب سے کیرالہ کا میڈیا ٹور بھی شروع ہو گیا ہے، جس کے پہلے دن میڈیا وفد نے کوچی واٹر میٹرو کا دورہ کیا۔ وفد کو کوچی میٹرو ریل لمیٹڈ کے اعلیٰ حکام نے اس منفرد، ماحول دوست اور جدید شہری نقل و حمل منصوبے کے خدوخال سے آگاہ کیا۔
کوچی واٹر میٹرو کے منتظمین نے بتایا کہ یہ منصوبہ وقت کی بچت، یکساں ٹکٹنگ نظام، صفائی، حفاظت اور کم کاربن اخراج پر مبنی ہے، جو ہزاروں مسافروں کو بیٹری سے چلنے والی کشتیوں کے ذریعے سہولت فراہم کر رہا ہے۔ میڈیا وفد کو واٹر میٹرو کی عملی کارکردگی دکھانے کے لیے فیری رائیڈ بھی کرائی گئی۔
اہم بات یہ ہے کہ ملک کے پندرہ شہروں میں کوچی جیسے واٹر میٹرو منصوبوں کی فزیبلٹی اسٹڈیز کی جا چکی ہیں، جن میں سرینگر بھی شامل ہے۔ ایسے میں دریائے جہلم میں آبی ٹرانسپورٹ کا منصوبہ اور کیرالہ کے تجربات کشمیر کے لیے پائیدار، ماحول دوست اور جدید شہری نقل و حمل کی ایک امید افزا تصویر پیش کرتے ہیں، جو نہ صرف ٹریفک دباؤ کم کر سکتے ہیں بلکہ خطے کی معیشت اور سیاحت کو بھی نئی رفتار دے سکتے ہیں۔
وادی کشمیر میں آبی ٹرانسپورٹ کی سمت اہم پیش رفت
وادی کشمیر میں آبی ٹرانسپورٹ کی سمت اہم پیش رفت
سرینگر/ دریائے جہلم میں آبی ٹرانسپورٹ کے فروغ اور شہری نقل و حمل کے نئے امکانات کو عملی شکل دینے کی سمت ایک اہم پیش رفت کے طور پر ڈویژنل کمشنر کشمیر انشل گرگ نے سیکریٹری ٹرانسپورٹ اوَنی لاواسا کے ہمراہ ان لینڈ واٹر ویز اتھارٹی آف انڈیاIWAI کے مجوزہ واٹر ٹرانسپورٹ پروجیکٹ کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اجلاس میں سرینگر، بڈگام، بارہمولہ اور گاندربل کے ڈپٹی کمشنرز سمیت متعلقہ محکموں کے اعلیٰ افسران شریک ہوئے۔
اجلاس میں آئی ڈبلیو اے آئی کوآرڈینیٹر نے دریائے جہلم میں واٹر ٹرانسپورٹ کے راستے میں حائل رکاوٹوں اور درکار تکنیکی و انتظامی مداخلتوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔ ڈویژنل کمشنر نے دو مقامات پر اراضی کا فوری قبضہ لینے اور تیسرے مقام کے لیے مشترکہ معائنہ کرنے کی ہدایت دی۔ بتایا گیا کہ آٹھ مجوزہ مقامات میں سے چار پہلے ہی آئی ڈبلیو اے آئی کے حوالے کیے جا چکے ہیں۔

ہائی ٹینشن اور لو ٹینشن پاور لائنوں سے متعلق مسائل پر آئی ڈبلیو اے آئی کو کے پی ڈی سی ایل کے ساتھ تفصیلی فہرست شیئر کرنے کی ہدایت دی گئی، جبکہ پی ڈبلیو ڈی کو پلوں کے نیچے موجود رکاوٹوں کے جائزے اور کلیئرنس میں تعاون کا کہا گیا۔ آر ٹی او کشمیر کو تمام محکموں کے درمیان تال میل کے لیے نوڈل آفیسر مقرر کرتے ہوئے ایک ہفتے کے اندر جامع رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی۔
ادھر، واٹر ٹرانسپورٹ کے کامیاب ماڈلز سے واقفیت کے لیے پریس انفارمیشن بیورPIBو سرینگر کی جانب سے کیرالہ کا میڈیا ٹور بھی شروع ہو گیا ہے، جس کے پہلے دن میڈیا وفد نے کوچی واٹر میٹرو کا دورہ کیا۔ وفد کو کوچی میٹرو ریل لمیٹڈ کے اعلیٰ حکام نے اس منفرد، ماحول دوست اور جدید شہری نقل و حمل منصوبے کے خدوخال سے آگاہ کیا۔
کوچی واٹر میٹرو کے منتظمین نے بتایا کہ یہ منصوبہ وقت کی بچت، یکساں ٹکٹنگ نظام، صفائی، حفاظت اور کم کاربن اخراج پر مبنی ہے، جو ہزاروں مسافروں کو بیٹری سے چلنے والی کشتیوں کے ذریعے سہولت فراہم کر رہا ہے۔ میڈیا وفد کو واٹر میٹرو کی عملی کارکردگی دکھانے کے لیے فیری رائیڈ بھی کرائی گئی۔
اہم بات یہ ہے کہ ملک کے پندرہ شہروں میں کوچی جیسے واٹر میٹرو منصوبوں کی فزیبلٹی اسٹڈیز کی جا چکی ہیں، جن میں سرینگر بھی شامل ہے۔ ایسے میں دریائے جہلم میں آبی ٹرانسپورٹ کا منصوبہ اور کیرالہ کے تجربات کشمیر کے لیے پائیدار، ماحول دوست اور جدید شہری نقل و حمل کی ایک امید افزا تصویر پیش کرتے ہیں، جو نہ صرف ٹریفک دباؤ کم کر سکتے ہیں بلکہ خطے کی معیشت اور سیاحت کو بھی نئی رفتار دے سکتے ہیں۔


