ہمارے یہاں لوگ جنگ کےمنتظر ہیں !

ایران کے گرد بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کے دوران ایک تشویشناک رجحان سوشل میڈیا پر تیزی سے ابھرا ہے خصوصاً ہمارے خطے میںجہاں سنجیدگی احتیاط اور انسانی ہمدردی کے بجائے ایسے مناظر سامنے آ رہے ہیں جیسے لوگ جنگ کے منتظر ہوں اور اس کے لئے ڈھول پیٹ رہے ہوں۔ گویا جنگ کوئی انسانی المیہ نہیں بلکہ ایک سنسنی خیز تماشا ہو۔ڈرائنگ روم سے لے کر موبائل اسکرین تک ہر دوسرا فرد اچانک تجزیہ کار اور صحافی بن گیا ہے۔ زمینی حقائق تاریخ جغرافیائی سیاست اور عام انسان کی قیمت سمجھے بغیر بڑے بڑے فیصلے صادر کیے جا رہے ہیں۔

چند وائرل ویڈیوز چند منتخب مناظر اور جذباتی نعروں کی بنیاد پر فتوے جاری ہو رہے ہیں کہ کون جیتے گا کون ہارے گا اور دنیا کو کس سمت جلنا چاہیے۔سب سے زیادہ افسوسناک پہلو نتائج سے مکمل بے نیازی ہے۔ جنگ کوئی کھیل نہیں نہ ہی طاقت دکھانے کا ذریعہ۔ یہ معیشتوں کو تباہ کرتی ہے خاندان بکھیر دیتی ہے لاکھوں لوگوں کو دربدر کرتی ہے اور ایسے زخم چھوڑ جاتی ہے جو نسلوں تک نہیں بھرتے۔ مہنگائی مہاجرین علاقائی عدم استحکام اور بے گناہوں کی جانوں کا ضیاع کسی ایک ملک تک محدود نہیں رہتا۔

آج جو لوگ محفوظ فاصلے سے خوشیاں منا رہے ہیں کل وہ بھی اس کے اثرات سے محفوظ نہیں رہیں گے۔ہمارا خطہ خود اس حقیقت کا گواہ ہے۔ ہم نے جنگیں پابندیاں اور پراکسی تنازعات جھیلے ہیں اور ان کے سائے آج تک موجود ہیں۔ اس کے باوجود یادداشت اس وقت کمزور پڑ جاتی ہے جب اشتعال فیشن بن جائے اور سوشل میڈیا شور کو عقل پر ترجیح دے۔ خاموشی ضبط اور سنجیدہ فکر ٹرینڈ نہیں کرتے اشتعال کرتا ہے۔ذمہ داری صرف افراد کی نہیں بلکہ اس سوچ کی بھی ہے جو فوری رائے کو سچ اور صبر کو کمزوری سمجھتی ہے۔

سنگین عالمی معاملات نعرے نہیں مانگتے بلکہ ہوش مندی چاہتے ہیں۔ ان پر بات انسان دوستی شعور اور اس ادراک کے ساتھ ہونی چاہیے کہ بموں کے نیچے بھی انسان بستے ہیں۔ایسے وقت میں جب دنیا نازک موڑ پر کھڑی ہے اسکرینوں کے پیچھے بیٹھ کر جنگ کے نعرے لگانا بہادری نہیں بلکہ حماقت ہے۔ اصل دانش امن کی بات کرنے طاقت سے سوال اٹھانے اور یہ یاد رکھنے میں ہے کہ ہر جنگ کا پہلا شکار ہمیشہ وہی بنتا ہے جو جنگ کبھی نہیں چاہتا۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

انڈونیشیا میں 6.7 شدت کے زلزلے کے جھٹکے

پالو، 16 جون انڈونیشیا کے سولاویسی جزیرے میں منگل کو...

محکمہ موسمیات کی تازہ پیشنگوئی

سرینگر۔ فیضان پنجابی موسمیاتی مرکز سرینگر نے اگلے کئی دنوں...

کشمیری پنڈت 36 سال بعد واپس آئے

سری نگر کشمیر کے مشترکہ ورثے اور بقائے باہمی کی...

موٹر سائیکل کھائی میں گرنے سے ایک کی موت، دو شدید زخمی 

جموں 16 جون دھنہ دوہیاں ستھارا میں منگل کی صبح...

تازہ ترین خبریں

انڈونیشیا میں 6.7 شدت کے زلزلے کے جھٹکے

پالو، 16 جون انڈونیشیا کے سولاویسی جزیرے میں منگل کو...

محکمہ موسمیات کی تازہ پیشنگوئی

سرینگر۔ فیضان پنجابی موسمیاتی مرکز سرینگر نے اگلے کئی دنوں...

کشمیری پنڈت 36 سال بعد واپس آئے

سری نگر کشمیر کے مشترکہ ورثے اور بقائے باہمی کی...

موٹر سائیکل کھائی میں گرنے سے ایک کی موت، دو شدید زخمی 

جموں 16 جون دھنہ دوہیاں ستھارا میں منگل کی صبح...

ہمارے یہاں لوگ جنگ کےمنتظر ہیں !

ایران کے گرد بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کے دوران ایک تشویشناک رجحان سوشل میڈیا پر تیزی سے ابھرا ہے خصوصاً ہمارے خطے میںجہاں سنجیدگی احتیاط اور انسانی ہمدردی کے بجائے ایسے مناظر سامنے آ رہے ہیں جیسے لوگ جنگ کے منتظر ہوں اور اس کے لئے ڈھول پیٹ رہے ہوں۔ گویا جنگ کوئی انسانی المیہ نہیں بلکہ ایک سنسنی خیز تماشا ہو۔ڈرائنگ روم سے لے کر موبائل اسکرین تک ہر دوسرا فرد اچانک تجزیہ کار اور صحافی بن گیا ہے۔ زمینی حقائق تاریخ جغرافیائی سیاست اور عام انسان کی قیمت سمجھے بغیر بڑے بڑے فیصلے صادر کیے جا رہے ہیں۔

چند وائرل ویڈیوز چند منتخب مناظر اور جذباتی نعروں کی بنیاد پر فتوے جاری ہو رہے ہیں کہ کون جیتے گا کون ہارے گا اور دنیا کو کس سمت جلنا چاہیے۔سب سے زیادہ افسوسناک پہلو نتائج سے مکمل بے نیازی ہے۔ جنگ کوئی کھیل نہیں نہ ہی طاقت دکھانے کا ذریعہ۔ یہ معیشتوں کو تباہ کرتی ہے خاندان بکھیر دیتی ہے لاکھوں لوگوں کو دربدر کرتی ہے اور ایسے زخم چھوڑ جاتی ہے جو نسلوں تک نہیں بھرتے۔ مہنگائی مہاجرین علاقائی عدم استحکام اور بے گناہوں کی جانوں کا ضیاع کسی ایک ملک تک محدود نہیں رہتا۔

آج جو لوگ محفوظ فاصلے سے خوشیاں منا رہے ہیں کل وہ بھی اس کے اثرات سے محفوظ نہیں رہیں گے۔ہمارا خطہ خود اس حقیقت کا گواہ ہے۔ ہم نے جنگیں پابندیاں اور پراکسی تنازعات جھیلے ہیں اور ان کے سائے آج تک موجود ہیں۔ اس کے باوجود یادداشت اس وقت کمزور پڑ جاتی ہے جب اشتعال فیشن بن جائے اور سوشل میڈیا شور کو عقل پر ترجیح دے۔ خاموشی ضبط اور سنجیدہ فکر ٹرینڈ نہیں کرتے اشتعال کرتا ہے۔ذمہ داری صرف افراد کی نہیں بلکہ اس سوچ کی بھی ہے جو فوری رائے کو سچ اور صبر کو کمزوری سمجھتی ہے۔

سنگین عالمی معاملات نعرے نہیں مانگتے بلکہ ہوش مندی چاہتے ہیں۔ ان پر بات انسان دوستی شعور اور اس ادراک کے ساتھ ہونی چاہیے کہ بموں کے نیچے بھی انسان بستے ہیں۔ایسے وقت میں جب دنیا نازک موڑ پر کھڑی ہے اسکرینوں کے پیچھے بیٹھ کر جنگ کے نعرے لگانا بہادری نہیں بلکہ حماقت ہے۔ اصل دانش امن کی بات کرنے طاقت سے سوال اٹھانے اور یہ یاد رکھنے میں ہے کہ ہر جنگ کا پہلا شکار ہمیشہ وہی بنتا ہے جو جنگ کبھی نہیں چاہتا۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں