موسم کی پیش گوئی جادو نہیں

کشمیر میں اب ہر سردی دو متوازی موسم لے کر آتی ہے۔ ایک برف، سردی اور غیر یقینی کا، اور دوسرا سوشل میڈیا پر شور، طنز اور محکمہ موسمیات کے خلاف تمسخر کا۔ جب بھی برفباری کی پیش گوئی حقیقت سے کم یا زیادہ ثابت ہوتی ہے، انگلیاں فوراً موسمیاتی ماہرین کی طرف اٹھنے لگتی ہیں۔ یہ رویہ دراصل اس بنیادی حقیقت سے لاعلمی کا مظہر ہے کہ موسم کی پیش گوئی آخر ہے کیا۔
موسم کی پیش گوئی کوئی فال بینی نہیں، نہ ہی یہ قیاس آرائی کا کھیل ہے۔ یہ خدا بننے کی کوشش بھی نہیں۔ موسمیاتی ماہرین سائنسی اعداد و شمار، سیٹلائٹ تصاویر، فضائی دباؤ، موسمی ماڈلز اور برسوں کے مشاہدے کی بنیاد پر تجزیہ کرتے ہیں۔ پیش گوئی یقین نہیں بلکہ امکان کا نام ہے، جسے علم اور تجربے کی روشنی میں بیان کیا جاتا ہے۔
کشمیر کا جغرافیہ اس عمل کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے۔ پہاڑی خطہ، مائیکرو کلائمیٹس، تیزی سے بدلتے ہوا کے رخ اور مغربی ہوائیں جب مقامی نظام سے ٹکراتی ہیں تو معمولی فرق بھی بڑے نتائج پیدا کر دیتا ہے۔ ایسے میں مہینوں پہلے درست برفباری کی پیش گوئی کی توقع رکھنا حقیقت پسندانہ نہیں۔
یہ بھی سچ ہے کہ حالیہ برسوں میں کئی پیش گوئیاں درست ثابت نہیں ہوئیں۔ بعض اوقات شدید برفباری کے اعلانات ہوئے مگر برف نہ پڑی، اور بعض اوقات موسم اچانک کروٹ بدل گیا۔ اس سے عوامی اعتماد کو نقصان پہنچا ہے اور اس تنقید کو مکمل طور پر رد بھی نہیں کیا جا سکتا۔
تاہم تنقید اور تمسخر میں فرق ہونا چاہئے۔ سائنسی عمل کو اس بنیاد پر مسترد کرنا کہ نتائج ہماری توقعات کے مطابق نہیں آئے، دانش مندی نہیں۔ موسم کی پیش گوئی کا مقصد مکمل یقین نہیں بلکہ تیاری ہے، تاکہ انتظامیہ، کسان، مسافر اور عام لوگ ممکنہ خطرات کے لئے پہلے سے تیار رہ سکیں۔ ایک غیر مکمل پیش گوئی بھی اگر نقصان کم کر دے تو اپنی افادیت رکھتی ہے۔
کشمیر میں ایک احساس خاموشی سے تسلیم کیا جاتا ہے کہ سونم لوٹس کے جانے کے بعد ایک خلا سا پیدا ہوا ہے۔ یہ خلا صرف ایک فرد کا نہیں بلکہ علاقائی تجربے، موسمی بصیرت اور عوام سے مؤثر رابطے کا ہے۔ موسمیات میں تجربہ محض اعداد و شمار سے نہیں آتا بلکہ برسوں کی مقامی مشاہدہ کاری سے تشکیل پاتا ہے، جسے یک دم پُر کرنا آسان نہیں۔
لیکن اس خلا کو جواز بنا کر پورے ادارے کو نشانے پر لینا مسئلے کا حل نہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ جدید ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری ہو، ڈیٹا تک رسائی بہتر بنائی جائے، پیش گوئیوں میں غیر یقینی کو دیانت داری سے بیان کیا جائے اور عوامی اعتماد بحال کیا جائے۔
موسم کی پیش گوئی ایک سائنسی عمل ہے جو غلطیوں سے سیکھ کر آگے بڑھتا ہے، نہ کہ ان سے شرمندہ ہو کر ختم ہو جاتا ہے۔ طنز سے نہ برف سمجھ آتی ہے نہ موسم، البتہ شعور ضرور پگھل جاتا ہے۔ کشمیر جیسے خطے میں، جہاں موسم زندگی کا تعین کرتا ہے، سائنس کی تضحیک نہیں بلکہ اس کی قدر کرنا وقت کی ضرورت ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

انڈونیشیا میں 6.7 شدت کے زلزلے کے جھٹکے

پالو، 16 جون انڈونیشیا کے سولاویسی جزیرے میں منگل کو...

محکمہ موسمیات کی تازہ پیشنگوئی

سرینگر۔ فیضان پنجابی موسمیاتی مرکز سرینگر نے اگلے کئی دنوں...

کشمیری پنڈت 36 سال بعد واپس آئے

سری نگر کشمیر کے مشترکہ ورثے اور بقائے باہمی کی...

موٹر سائیکل کھائی میں گرنے سے ایک کی موت، دو شدید زخمی 

جموں 16 جون دھنہ دوہیاں ستھارا میں منگل کی صبح...

تازہ ترین خبریں

انڈونیشیا میں 6.7 شدت کے زلزلے کے جھٹکے

پالو، 16 جون انڈونیشیا کے سولاویسی جزیرے میں منگل کو...

محکمہ موسمیات کی تازہ پیشنگوئی

سرینگر۔ فیضان پنجابی موسمیاتی مرکز سرینگر نے اگلے کئی دنوں...

کشمیری پنڈت 36 سال بعد واپس آئے

سری نگر کشمیر کے مشترکہ ورثے اور بقائے باہمی کی...

موٹر سائیکل کھائی میں گرنے سے ایک کی موت، دو شدید زخمی 

جموں 16 جون دھنہ دوہیاں ستھارا میں منگل کی صبح...

موسم کی پیش گوئی جادو نہیں

کشمیر میں اب ہر سردی دو متوازی موسم لے کر آتی ہے۔ ایک برف، سردی اور غیر یقینی کا، اور دوسرا سوشل میڈیا پر شور، طنز اور محکمہ موسمیات کے خلاف تمسخر کا۔ جب بھی برفباری کی پیش گوئی حقیقت سے کم یا زیادہ ثابت ہوتی ہے، انگلیاں فوراً موسمیاتی ماہرین کی طرف اٹھنے لگتی ہیں۔ یہ رویہ دراصل اس بنیادی حقیقت سے لاعلمی کا مظہر ہے کہ موسم کی پیش گوئی آخر ہے کیا۔
موسم کی پیش گوئی کوئی فال بینی نہیں، نہ ہی یہ قیاس آرائی کا کھیل ہے۔ یہ خدا بننے کی کوشش بھی نہیں۔ موسمیاتی ماہرین سائنسی اعداد و شمار، سیٹلائٹ تصاویر، فضائی دباؤ، موسمی ماڈلز اور برسوں کے مشاہدے کی بنیاد پر تجزیہ کرتے ہیں۔ پیش گوئی یقین نہیں بلکہ امکان کا نام ہے، جسے علم اور تجربے کی روشنی میں بیان کیا جاتا ہے۔
کشمیر کا جغرافیہ اس عمل کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے۔ پہاڑی خطہ، مائیکرو کلائمیٹس، تیزی سے بدلتے ہوا کے رخ اور مغربی ہوائیں جب مقامی نظام سے ٹکراتی ہیں تو معمولی فرق بھی بڑے نتائج پیدا کر دیتا ہے۔ ایسے میں مہینوں پہلے درست برفباری کی پیش گوئی کی توقع رکھنا حقیقت پسندانہ نہیں۔
یہ بھی سچ ہے کہ حالیہ برسوں میں کئی پیش گوئیاں درست ثابت نہیں ہوئیں۔ بعض اوقات شدید برفباری کے اعلانات ہوئے مگر برف نہ پڑی، اور بعض اوقات موسم اچانک کروٹ بدل گیا۔ اس سے عوامی اعتماد کو نقصان پہنچا ہے اور اس تنقید کو مکمل طور پر رد بھی نہیں کیا جا سکتا۔
تاہم تنقید اور تمسخر میں فرق ہونا چاہئے۔ سائنسی عمل کو اس بنیاد پر مسترد کرنا کہ نتائج ہماری توقعات کے مطابق نہیں آئے، دانش مندی نہیں۔ موسم کی پیش گوئی کا مقصد مکمل یقین نہیں بلکہ تیاری ہے، تاکہ انتظامیہ، کسان، مسافر اور عام لوگ ممکنہ خطرات کے لئے پہلے سے تیار رہ سکیں۔ ایک غیر مکمل پیش گوئی بھی اگر نقصان کم کر دے تو اپنی افادیت رکھتی ہے۔
کشمیر میں ایک احساس خاموشی سے تسلیم کیا جاتا ہے کہ سونم لوٹس کے جانے کے بعد ایک خلا سا پیدا ہوا ہے۔ یہ خلا صرف ایک فرد کا نہیں بلکہ علاقائی تجربے، موسمی بصیرت اور عوام سے مؤثر رابطے کا ہے۔ موسمیات میں تجربہ محض اعداد و شمار سے نہیں آتا بلکہ برسوں کی مقامی مشاہدہ کاری سے تشکیل پاتا ہے، جسے یک دم پُر کرنا آسان نہیں۔
لیکن اس خلا کو جواز بنا کر پورے ادارے کو نشانے پر لینا مسئلے کا حل نہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ جدید ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری ہو، ڈیٹا تک رسائی بہتر بنائی جائے، پیش گوئیوں میں غیر یقینی کو دیانت داری سے بیان کیا جائے اور عوامی اعتماد بحال کیا جائے۔
موسم کی پیش گوئی ایک سائنسی عمل ہے جو غلطیوں سے سیکھ کر آگے بڑھتا ہے، نہ کہ ان سے شرمندہ ہو کر ختم ہو جاتا ہے۔ طنز سے نہ برف سمجھ آتی ہے نہ موسم، البتہ شعور ضرور پگھل جاتا ہے۔ کشمیر جیسے خطے میں، جہاں موسم زندگی کا تعین کرتا ہے، سائنس کی تضحیک نہیں بلکہ اس کی قدر کرنا وقت کی ضرورت ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں