جنگ نیوز
سرینگر/ SKUAST-K نے CSTEP کے اشتراک سے شالیمار کیمپس میں جموں و کشمیر کا پہلا 50 کلو واٹ ایگری وولٹائکس (AgriPV) تحقیقی پائلٹ منصوبہ قائم کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کا مقصد وادی کے موسمی حالات میں فصلوں کی پیداوار، توانائی کی کارکردگی، معاشی افادیت اور کسانوں کی قبولیت کا جائزہ لینا ہے۔
یہ اعلان وائس چانسلر پروفیسر نذیر احمد گنائی نے ’’جموں و کشمیر میں ایگری وولٹائکس ماحولیاتی نظام کی تشکیل‘‘ کے موضوع پر منعقدہ ورکشاپ کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ، پائیدار اور توانائی سے محفوظ زرعی نظام کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہوگا۔
منصوبے کے تحت ایک ایسا تحقیقی و نمائشی مرکز قائم کیا جائے گا جہاں ایک ہی زمین پر فصلوں کی کاشت اور شمسی توانائی کی پیداوار کے ماڈل پر تحقیق کی جائے گی، تاکہ مستقبل میں اس ٹیکنالوجی کو بڑے پیمانے پر فروغ دینے کے لئے سائنسی بنیاد فراہم کی جا سکے۔
ورکشاپ میں KPDCL، NISE، TERI، CSIR-NIIST، NSEFI، مختلف سرکاری محکموں، مالیاتی اداروں، صنعتوں اور کسانوں کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔ اس اقدام کو جموں و کشمیر میں موسمیاتی موافق زراعت، قابلِ تجدید توانائی اور کسان دوست اختراعات کے فروغ کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا گیا۔


