امریکہ کی عالمی تنہائی ایک خطرناک موڑ

ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے اقوام متحدہ کے ماحولیاتی فریم ورک کنونشن اور درجنوں دیگر عالمی اداروں سے علیحدگی کا اعلان محض ایک پالیسی فیصلہ نہیں بلکہ عالمی نظم کے لیے ایک سنجیدہ خطرے کی علامت ہے۔ اسے امریکی مفاد کے نام پر پیش کیا جا رہا ہے مگر درحقیقت یہ فیصلہ امریکہ کو ایک گہری تنہائی کی طرف دھکیل رہا ہے۔
پہلی مدت میں پیرس ماحولیاتی معاہدے سے علیحدگی کے بعد اب ٹرمپ انتظامیہ نے جو بائیڈن کے دور کی تمام ماحولیاتی اور عالمی شراکت داریوں کو ختم کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ اس دائرے میں وہ ادارے بھی شامل ہیں جو صحت عامہ، قابل تجدید توانائی، انسانی حقوق، صنفی مساوات اور قانون کی بالادستی جیسے بنیادی عالمی امور پر کام کرتے ہیں۔ ان سب کو محض نظریاتی اختلاف کی بنیاد پر مسترد کرنا عالمی تعاون کے تصور کو کمزور کرتا ہے۔
اس کے اثرات پہلے ہی نمایاں ہو چکے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت سے امریکی لاتعلقی نے ترقی پذیر ممالک میں زچہ و بچہ کی صحت، وبائی نگرانی اور تپ دق، ملیریا اور ایچ آئی وی جیسے امراض کے خلاف پروگراموں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ماحولیاتی تبدیلی اور انسانی حقوق کے شعبوں میں بھی امریکی مالی اور اخلاقی قیادت کے خاتمے سے ایک ایسا خلا پیدا ہو رہا ہے جسے چین اور روس جیسے ممالک پُر کر سکتے ہیں، مگر ان کی ترجیحات عالمی شفافیت اور جمہوری اقدار سے ہم آہنگ نہیں۔
اس پالیسی کے پیچھے کارفرما تنگ نظر قومی مفاد کا تصور عالمی سطح پر عدم استحکام کو فروغ دے سکتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب قومیں مشترکہ ذمہ داریوں سے منہ موڑتی ہیں تو قوم پرستی، نسلی تعصب اور نفرت کو تقویت ملتی ہے، جس کے نتائج ہمیشہ تباہ کن رہے ہیں۔
اکیسویں صدی کے مسائل سرحدوں کے پابند نہیں۔ امریکہ اگر عالمی قیادت سے دستبردار ہوتا ہے تو وہ دنیا کو ہی نہیں بلکہ خود اپنے مستقبل کو بھی غیر یقینی بنا رہا ہے۔ عالمی تعاون سے فرار طاقت نہیں بلکہ ذمہ داری سے فرار ہے۔
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

دولت مشترکہ کھیلوں میںبھارت پر سونے کی برسات

جنگ نیوز دولت مشترکہ کھیلوں (CWG 2026) میں بھارت نے...

SKUAST-K میں جموں و کشمیر کا پہلا ایگری وولٹائکس منصوبہ

جنگ نیوز سرینگر/ SKUAST-K نے CSTEP کے اشتراک سے شالیمار...

ڈاکٹر فاروق عبداللہ کا سنجیدہ سوال ریاستی درجے کی بحالی کا مطالبہ

جنگ نیوز سرینگر/نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے...

غزل

  محمد ایوب ترال بالا میں تھکا ہارا کہاں جاؤں میں درد کا...

تازہ ترین خبریں

دولت مشترکہ کھیلوں میںبھارت پر سونے کی برسات

جنگ نیوز دولت مشترکہ کھیلوں (CWG 2026) میں بھارت نے...

SKUAST-K میں جموں و کشمیر کا پہلا ایگری وولٹائکس منصوبہ

جنگ نیوز سرینگر/ SKUAST-K نے CSTEP کے اشتراک سے شالیمار...

ڈاکٹر فاروق عبداللہ کا سنجیدہ سوال ریاستی درجے کی بحالی کا مطالبہ

جنگ نیوز سرینگر/نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے...

غزل

  محمد ایوب ترال بالا میں تھکا ہارا کہاں جاؤں میں درد کا...

امریکہ کی عالمی تنہائی ایک خطرناک موڑ

ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے اقوام متحدہ کے ماحولیاتی فریم ورک کنونشن اور درجنوں دیگر عالمی اداروں سے علیحدگی کا اعلان محض ایک پالیسی فیصلہ نہیں بلکہ عالمی نظم کے لیے ایک سنجیدہ خطرے کی علامت ہے۔ اسے امریکی مفاد کے نام پر پیش کیا جا رہا ہے مگر درحقیقت یہ فیصلہ امریکہ کو ایک گہری تنہائی کی طرف دھکیل رہا ہے۔
پہلی مدت میں پیرس ماحولیاتی معاہدے سے علیحدگی کے بعد اب ٹرمپ انتظامیہ نے جو بائیڈن کے دور کی تمام ماحولیاتی اور عالمی شراکت داریوں کو ختم کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ اس دائرے میں وہ ادارے بھی شامل ہیں جو صحت عامہ، قابل تجدید توانائی، انسانی حقوق، صنفی مساوات اور قانون کی بالادستی جیسے بنیادی عالمی امور پر کام کرتے ہیں۔ ان سب کو محض نظریاتی اختلاف کی بنیاد پر مسترد کرنا عالمی تعاون کے تصور کو کمزور کرتا ہے۔
اس کے اثرات پہلے ہی نمایاں ہو چکے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت سے امریکی لاتعلقی نے ترقی پذیر ممالک میں زچہ و بچہ کی صحت، وبائی نگرانی اور تپ دق، ملیریا اور ایچ آئی وی جیسے امراض کے خلاف پروگراموں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ماحولیاتی تبدیلی اور انسانی حقوق کے شعبوں میں بھی امریکی مالی اور اخلاقی قیادت کے خاتمے سے ایک ایسا خلا پیدا ہو رہا ہے جسے چین اور روس جیسے ممالک پُر کر سکتے ہیں، مگر ان کی ترجیحات عالمی شفافیت اور جمہوری اقدار سے ہم آہنگ نہیں۔
اس پالیسی کے پیچھے کارفرما تنگ نظر قومی مفاد کا تصور عالمی سطح پر عدم استحکام کو فروغ دے سکتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب قومیں مشترکہ ذمہ داریوں سے منہ موڑتی ہیں تو قوم پرستی، نسلی تعصب اور نفرت کو تقویت ملتی ہے، جس کے نتائج ہمیشہ تباہ کن رہے ہیں۔
اکیسویں صدی کے مسائل سرحدوں کے پابند نہیں۔ امریکہ اگر عالمی قیادت سے دستبردار ہوتا ہے تو وہ دنیا کو ہی نہیں بلکہ خود اپنے مستقبل کو بھی غیر یقینی بنا رہا ہے۔ عالمی تعاون سے فرار طاقت نہیں بلکہ ذمہ داری سے فرار ہے۔
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں