امریکی خارجہ پالیسی بے لگام!

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے روس پابندیوں کے بل کو کانگریس سے عجلت میں منظور کرانے کی کوشش بظاہر ماسکو کی جنگی معیشت کو کمزور کرنے کے لئے ایک سخت اقدام کے طور پر پیش کی جا رہی ہے۔ اس بل کے تحت امریکی صدر کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ روس سے تیل خریدنے والے ممالک پر پانچ سو فیصد تک محصولات عائد کر سکے۔ سرکاری بیانیہ اسے اخلاقی مؤقف اور اسٹریٹجک دباؤ کے طور پر پیش کرتا ہے لیکن حقیقت میں یہ امریکی خارجہ پالیسی میں ایک خطرناک اور بے لگام رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔
یہ معاملہ صرف روس تک محدود نہیں۔ بھارت پر بار بار محصولات کی دھمکیاں ہوں یا ایران پر پابندیاں اور وہاں احتجاجات کو ہوا دینا، وینزویلا کے صدر کو اغوا کرنا ہو یا گرین لینڈ پر امریکی لالچ، یہ سب اس سوچ کی علامت ہیں جس میں طاقت ہی حق بن جاتی ہے۔ صدر ٹرمپ کی قیادت میں امریکہ کی خارجہ پالیسی سفارت کاری کے بجائے دھونس اور جبر کا روپ اختیار کرتی جا رہی ہے۔
ٹرمپ کے دور میں امریکی طرزِ عمل ایک اصولی ریاستی پالیسی کے بجائے دباؤ کے کاروبار سے مشابہ دکھائی دیتا ہے۔ اقتصادی پابندیاں آخری چارہ جوئی کے بجائے روزمرہ ہتھیار بن چکی ہیں۔ بین الاقوامی قانون، جس کا حوالہ امریکہ اپنی سہولت کے مطابق دیتا رہا ہے، اب اسی وقت نظرانداز کر دیا جاتا ہے جب وہ امریکی مفادات کی راہ میں رکاوٹ بنے۔
سب سے زیادہ تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ عالمی سطح پر طاقت کے بل پر فیصلے کرنے کا رجحان معمول بنتا جا رہا ہے۔ جب دنیا کی سب سے طاقتور ریاست کھلے عام "طاقت ہی حق ہے”کے فلسفے پر عمل کرے تو اس کے اثرات پوری دنیا میں محسوس ہوتے ہیں۔ اس سے آمریت پسند رجحانات کو تقویت ملتی ہے اور پہلے ہی کمزور عالمی نظام مزید متزلزل ہو جاتا ہے۔
روس پر پابندیوں کا یہ بل دراصل اسی یکطرفہ اور متکبرانہ رویے کا تسلسل ہے۔ اتحادی ممالک کو بھی برابری کے بجائے تابع سمجھا جا رہا ہے اور غیر جانبدار ریاستوں کو دھمکیوں کے ذریعے جھکانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ خودمختاری صرف اسی صورت میں قابلِ قبول ہے جب وہ واشنگٹن کے مفادات سے ہم آہنگ ہو۔
تاریخ ان طاقتوں کے لئےبے رحم ثابت ہوتی ہے جو اپنی برتری کو اپنی تقدیر سمجھ بیٹھتی ہیں۔ یہ وقت ہے کہ امریکی عوام ہوش کے ناخن لیں اور اپنے صدر کے اس طرزِ عمل کے خلاف آواز بلند کریں۔ خاموشی دراصل ایسے رویوں کی تائید کے مترادف ہے۔ اگر عوام نے طاقت کے نشے میں چور قیادت کا محاسبہ نہ کیا تو تاریخ کا فیصلہ یقیناً سخت ہوگا۔طاقت اگر اصولوں سے خالی ہو تو بالآخر خود اپنے بوجھ تلے دب جاتی ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

انڈونیشیا میں 6.7 شدت کے زلزلے کے جھٹکے

پالو، 16 جون انڈونیشیا کے سولاویسی جزیرے میں منگل کو...

محکمہ موسمیات کی تازہ پیشنگوئی

سرینگر۔ فیضان پنجابی موسمیاتی مرکز سرینگر نے اگلے کئی دنوں...

کشمیری پنڈت 36 سال بعد واپس آئے

سری نگر کشمیر کے مشترکہ ورثے اور بقائے باہمی کی...

موٹر سائیکل کھائی میں گرنے سے ایک کی موت، دو شدید زخمی 

جموں 16 جون دھنہ دوہیاں ستھارا میں منگل کی صبح...

تازہ ترین خبریں

انڈونیشیا میں 6.7 شدت کے زلزلے کے جھٹکے

پالو، 16 جون انڈونیشیا کے سولاویسی جزیرے میں منگل کو...

محکمہ موسمیات کی تازہ پیشنگوئی

سرینگر۔ فیضان پنجابی موسمیاتی مرکز سرینگر نے اگلے کئی دنوں...

کشمیری پنڈت 36 سال بعد واپس آئے

سری نگر کشمیر کے مشترکہ ورثے اور بقائے باہمی کی...

موٹر سائیکل کھائی میں گرنے سے ایک کی موت، دو شدید زخمی 

جموں 16 جون دھنہ دوہیاں ستھارا میں منگل کی صبح...

امریکی خارجہ پالیسی بے لگام!

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے روس پابندیوں کے بل کو کانگریس سے عجلت میں منظور کرانے کی کوشش بظاہر ماسکو کی جنگی معیشت کو کمزور کرنے کے لئے ایک سخت اقدام کے طور پر پیش کی جا رہی ہے۔ اس بل کے تحت امریکی صدر کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ روس سے تیل خریدنے والے ممالک پر پانچ سو فیصد تک محصولات عائد کر سکے۔ سرکاری بیانیہ اسے اخلاقی مؤقف اور اسٹریٹجک دباؤ کے طور پر پیش کرتا ہے لیکن حقیقت میں یہ امریکی خارجہ پالیسی میں ایک خطرناک اور بے لگام رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔
یہ معاملہ صرف روس تک محدود نہیں۔ بھارت پر بار بار محصولات کی دھمکیاں ہوں یا ایران پر پابندیاں اور وہاں احتجاجات کو ہوا دینا، وینزویلا کے صدر کو اغوا کرنا ہو یا گرین لینڈ پر امریکی لالچ، یہ سب اس سوچ کی علامت ہیں جس میں طاقت ہی حق بن جاتی ہے۔ صدر ٹرمپ کی قیادت میں امریکہ کی خارجہ پالیسی سفارت کاری کے بجائے دھونس اور جبر کا روپ اختیار کرتی جا رہی ہے۔
ٹرمپ کے دور میں امریکی طرزِ عمل ایک اصولی ریاستی پالیسی کے بجائے دباؤ کے کاروبار سے مشابہ دکھائی دیتا ہے۔ اقتصادی پابندیاں آخری چارہ جوئی کے بجائے روزمرہ ہتھیار بن چکی ہیں۔ بین الاقوامی قانون، جس کا حوالہ امریکہ اپنی سہولت کے مطابق دیتا رہا ہے، اب اسی وقت نظرانداز کر دیا جاتا ہے جب وہ امریکی مفادات کی راہ میں رکاوٹ بنے۔
سب سے زیادہ تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ عالمی سطح پر طاقت کے بل پر فیصلے کرنے کا رجحان معمول بنتا جا رہا ہے۔ جب دنیا کی سب سے طاقتور ریاست کھلے عام "طاقت ہی حق ہے”کے فلسفے پر عمل کرے تو اس کے اثرات پوری دنیا میں محسوس ہوتے ہیں۔ اس سے آمریت پسند رجحانات کو تقویت ملتی ہے اور پہلے ہی کمزور عالمی نظام مزید متزلزل ہو جاتا ہے۔
روس پر پابندیوں کا یہ بل دراصل اسی یکطرفہ اور متکبرانہ رویے کا تسلسل ہے۔ اتحادی ممالک کو بھی برابری کے بجائے تابع سمجھا جا رہا ہے اور غیر جانبدار ریاستوں کو دھمکیوں کے ذریعے جھکانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ خودمختاری صرف اسی صورت میں قابلِ قبول ہے جب وہ واشنگٹن کے مفادات سے ہم آہنگ ہو۔
تاریخ ان طاقتوں کے لئےبے رحم ثابت ہوتی ہے جو اپنی برتری کو اپنی تقدیر سمجھ بیٹھتی ہیں۔ یہ وقت ہے کہ امریکی عوام ہوش کے ناخن لیں اور اپنے صدر کے اس طرزِ عمل کے خلاف آواز بلند کریں۔ خاموشی دراصل ایسے رویوں کی تائید کے مترادف ہے۔ اگر عوام نے طاقت کے نشے میں چور قیادت کا محاسبہ نہ کیا تو تاریخ کا فیصلہ یقیناً سخت ہوگا۔طاقت اگر اصولوں سے خالی ہو تو بالآخر خود اپنے بوجھ تلے دب جاتی ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں