رشید پروین سوپور، کشمیر
ضلع بڈگام کے ۲۷ اسمبلی حلقے میں ضمنی انتخابات ہونے تھے جو ہو چکے ہیں اور جس کا نتیجہ بھی سامنے آ چکا ہے، اس کے ساتھ ہی نگروٹہ کے ۷۷ اسمبلی حلقے میں بھی ضمنی انتخابات کے لئے یہی ڈیٹ دی گئی تھی اور چودہ نومبر کو ووٹ شماری کا دن مقرر کیا جا چکا تھا جو اپنے اختتام تک پہنچی ہے۔ آپ کو یاد ہوگا کہ عمر عبداللہ نے اپنے پچھلے انتخابات میں دو جگہوں سے فارمِ نامزدگی داخل کیے تھے اور دونوں جگہوں سے اپنی جیت درج کرنے میں کامیاب رہے تھے۔ یہ دونوں حلقے گاندربل اور بڈگام کا حلقہ تھا۔ گاندربل شیخ خاندان کی اپنی جاگیر کہی جاسکتی ہے، کیونکہ اس حلقے نے کبھی اس خاندان اور اس کی نئی نسلوں کو مایوس نہیں کیا ہے، بلکہ ہمیشہ اور ہر دور اور ہر زماں نیشنل کانفرنس یا شیخ محمد عبداللہ مرحوم کے ساتھ کھڑا رہا ہے۔ اس میں منطق، دلیل یا لاجک ڈھونڈنے کی کوشش بیکار اور لایعنی سی بات ہوگی۔ ظاہر ہے کہ یہ حلقہ ابھی تک مرحوم عبداللہ کے جان نثاروں پر ہی مشتمل ہے اور زمانے کی گردشوں نے اس حلقے کی سوچ و فکر کو کسی طرح متاثر نہیں کیا ہے۔ دو میں سے کسی ایک پر ہی آئین کے مطابق عمر کو رہنا تھا اور وہ آبائی گاندربل سیٹ ہی کو برقرار رکھتے ہوئے بڈگام سیٹ سے مستعفی ہوئے اور اس طرح یہ سیٹ خالی ہوگئی تھی۔
نگروٹہ کی سیٹ بی جے پی کے لیڈر دیوندر سنگھ رانا نے حاصل کی تھی لیکن وہ اچانک ۳۱ اکتوبر ۲۰۲۴ کو سورگباشی ہوئے اور اس طرح یہ سیٹ بھی خالی ہوئی۔ دونوں حلقوں کی ووٹنگ مکمل کرکے ۱۴ نومبر کو امیدواروں کے نصیبوں کا فیصلہ آ چکا ہے۔ اس بار بھی امیدواروں کی ایک بڑی کھیپ میدان میں اتری تھی اور بڈگام کے حلقہ ۲۷ میں سب سے زیادہ یعنی بیس امیدواروں نے فارمِ نامزدگی داخل کیے اور میدان میں اپنا کھیل پیش کیا۔ ان میں تمام بڑی کشمیر نشین پارٹیوں کے امیدواروں کے علاوہ ایک بڑی تعداد آزاد امیدواروں کی بھی تھی، لیکن ہم نہیں کہہ سکتے کہ کس کس آزاد امیدوار کے پیچھے کون کون سی پارٹی یا انٹرسٹڈ لوگ رہے ہیں، کیونکہ سیاست کے کھیل اس میدان میں نہیں کھیلے جاتے جس کا آپ اور میں شب و روز تماشا دیکھتے ہیں بلکہ اس کا اصل میدان کہیں اور ہی سجتا ہے۔
بقولِ غالب:
ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ، دیتے ہیں دھوکہ یہ بازیگر کُھلا۔۔۔
کشمیر کے لئے اور کشمیری عوام کے لئے بڈگام کی سیٹ بڑی اہم اور دلچسپ رہی ہے اس لئے بھی کہ یہاں سے صرف ایک سال پہلے عمر نے انتخابات جیتے تھے، اور اس الیکشن میدان کا فیصلہ یہ بتانے کے لئے کافی تھا کہ پلوں سے اب تک کتنا پانی بہہ چکا ہے۔ این سی کے آغا سعید محمود، پی ڈی پی کے منتظر مہدی، اور جنتا کے آغا سعید محسن فریمیں تھے۔
نگروٹہ سے بی جے پی کی دیویانی رانا، این سی کی شمیم بیگم اور پینتھرس پارٹی کے ہریش دیو سنگھ قابلِ ذکر ہیں۔ اور بھی امیدوار تھے جن کی تعداد ۱۳ تک پہنچتی ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ سیٹ پہلے بھی بی جے پی کی تھی اور اس میں کوئی خاص اور زبردست مقابلہ نہیں تھا کیونکہ ووٹروں کا رجحان شروع سے ہی بی جے پی کی طرف تھا اور ہندو اکثریتی بیلٹ اور حلقہ ہونے کی وجہ سے بھی یہ سیٹ بی جے پی کی جھولی کا ہی مال تھا۔ اور آج اس کی تصدیق بھی ہوگئی جب دیویانی رانا کے حق میں نتائج سامنے آئے جنہوں نے اپنے مدِ مقابل کو 24522 ووٹوں سے ہرا کر اپنی جیت درج کی ہے اور اس طرح بی جے پی یہ سیٹ اپنے حق میں برقرار رکھنے میں کامیاب رہی ہے۔ اس پر تبصرے کی کوئی گنجائش نہیں۔
بڈگام کے حلقہ ۲۷ کا ووٹ بینک اہلِ تشیع کا ہے کیونکہ اس سارے علاقے میں ان کی تعداد بھی زیادہ ہے اور ان کا اثر و رسوخ بھی اس علاقے میں بہت زیادہ ہے۔ اور ایسا سمجھا جاتا ہے کہ یہ ووٹ بینک جسے چاہتا ہے کامیاب کرنے میں کلیدی رول ادا کرتا ہے۔ لیکن امیدواروں پر ایک نظر ڈالنے سے آپ یہ سمجھ سکتے ہیں کہ ان تینوں بڑی پارٹیوں نے اپنے امیدوار بڑی سوچ سمجھ کر اور پوری کیلکولیشن کر کے اسی ایک سیکٹ سے منتخب کیے تھے تاکہ جیت کو آسان بنایا جاسکے، لیکن اصل بات یہ ہے کہ تینوں امیدواروں کا ایک ہی سیکٹ کا ہونے سے جو خدشات پیدا ہوتے ہیں وہ ووٹ بینک کا بکھراؤ ہے، یا وہ سارے ووٹ کو ایک جگہ یا ایک شخص پر مرکوز نہیں ہونے دیتی، جس کی وجہ سے وہ نتائج برآمد نہیں ہوتے جن کی توقع کی جاتی ہے۔
سروے جو بھی ہوئے ہیں اور جنہوں نے بھی کیے ہیں ان پر ایک نظر ڈالنے سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا تھا کہ این سی شاید یہاں ریٹین کر پائے گی، لیکن وہ نہیں کر پائی۔ اور اس بات کو سمجھنے کے لئے بہت سارے عوامل ہیں۔ آپ کی یادوں کو تھوڑا سا تازہ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ آپ ان جانے منصوبوں کو بھی ساتھ دیکھنے اور ملحوظِ نظر رکھا کریں جن پر ہمارا بس نہیں، اور محض انسانی سوچوں پر ہی سارا کچھ نہ چھوڑیں۔
اس معاملے میں عمر عبداللہ باپ کی طرح مقدر کے سکندر نہیں رہے ہیں۔ سو آج خلافِ توقع اور تمام اندازوں کے باوجود پی ڈی پی کے امیدوار آغا منتظر مہدی نے حلقہ بڈگام سے جیت درج کی ہے اور اپنے مدِ مقابل این سی کے امیدوار کو چار ہزار ایک سو باون ووٹوں سے شکست دی ہے۔ اس کا تجزیہ بڑا دلچسپ ہوگا۔
۵ جنوری ۲۰۰۹ کو عمر عبداللہ صاحب چیف منسٹر جموں و کشمیر کی حیثیت سے تاریخ میں جگہ پا چکے ہیں اور اب دوسری بار اکتوبر ۲۰۲۴ میں پھر ایک بار بڑی مدت کے بعد باوقار اور بہتر عوامی سپورٹ کے ساتھ پھر اس پَد پر براجمان ہوئے ہیں۔ ماضی کو دہرانے کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ ۹ مئی ۲۰۰۹ کو وہ افسوسناک اور انسانیت سوز واقعہ پیش آیا تھا جس نے نہ صرف انسانیت کو شرمسار کیا تھا بلکہ ہماری تاریخ میں ایک وحشیانہ، بہیمانہ اور درندانہ واقعے کے طور درج ہو چکا ہے اور آج بھی اور آنے والے مستقبل میں بھی اس کے سائے ہمارا پیچھا کرتے رہیں گے۔ اور یہ سانحہ نیلوفر، آسیہ اور نند بھابی کا ریپ اور قتل تھا جو شوپیاں بونہ گام میں ہوا تھا، جنہیں راستے میں اغوا کیا گیا اور پھر دوسری صبح کے ابھرتے سورج نے ان کی لاشیں اسی کنارے پر دیکھی تھیں۔
اور دوسری بار عوامی ووٹ اور سپورٹ سے پھر ایک بار اس پَد پر آئے ہیں تو محض چند دنوں بعد ہی گگن گیر خونین قتلِ عام ان حسین نظاروں اور ٹھنڈی ہواوؤں نے دیکھا جہاں دور دور سے آکر لوگ اپنی تپتی اور جھلستی روح کو ٹھنڈک اور فرحت بخشنے کی خاطر ہزاروں میل کا سفر طے کرکے آجاتے ہیں۔ یہاں پر اس بار جو بہیمانہ اور وحشیانہ قتلِ عام ہوا ہے، یہ بھی ایک ایسا واقعہ ہے جو ہماری تاریخ کا ایک سیاہ باب کہلائے گا، اور ہمیشہ ہمارے دل و دماغ کو لرزہ براندام رکھے گا۔
اس کے بعد ۲۴ اکتوبر کو ایک ایسے ہی دوسرے خونیں واقعہ میں چار افراد جان بحق ہوئے۔ یہ واقعہ بارہمولہ کے علاقے بونہ پتھری میں پیش آیا جہاں گھات لگا کر ایک کانوائے کو نشانہ بنایا گیا۔
۲۲ اکتوبر ۲۰۲۵، پھر ایک بار کشمیر کے نازک اور سیمیں بدن کو لہو لہاں کیا گیا۔ یہ خونین اور وحشیانہ، انسانیت سوز واقعہ پہلگام سے صرف سات کلومیٹر دور ایک پرفضا اور سیاحتی مقام پر پیش آیا ہے جہاں ہمارے مہمان ٹھنڈی ہواوؤں اور فضاوؤں سے لطف اندوز ہونے کے لئے آئے تھے۔ اس وحشیانہ قتلِ عام میں ۲۷ سے زیادہ ہمارے مہمان اپنی جانیں کھو چکے اور بعد میں کئی زخمی بھی جان گنوا بیٹھے۔
یہ خونین حملہ دو ایٹمک پاور کے درمیان تصادم کا بھی باعث بنا، اور ایسا اندازہ تھا کہ یہ بہت بڑی تباہ کن جنگ میں تبدیل ہوجائے گی لیکن دونوں ممالک نے بر وقت نزاکت اور ہلاکت کا ادراک کرکے جنگ بندی کی۔
ان واقعات سے ظاہر ہے کہ عمر سرکار اس لحاظ سے کسی بھی طرح خوش نصیب ثابت نہیں ہوئی ہے، کیونکہ بار بار اس کی ٹرم میں کہیں نہ کہیں اور کچھ نہ کچھ ایسا ہوجاتا ہے کہ اس کی نیندیں حرام ہوجاتی ہیں، اور اس کا تاثر بھی منفی ہی پڑتا ہے۔ اور دوسری اہم بات یہ کہ جب سے عمر نے وزارتِ اعلیٰ کا عہدہ سنبھالا ہے وہ خود بھی نالاں ہیں اور اپنے عوام کو بھی مایوس کررہے ہیں، کیونکہ وہ برملا بار بار کہہ چکے ہیں کہ ان کے ہاتھ پاؤں بندھے ہیں اور وہ کوئی کام نہیں کر پارہے۔ اس لئے اسٹیٹ ہُڈ کی بات کرتے ہیں جو بی جے پی اس سے بخشنے کے لئے تیار نہیں۔
گزشتہ ایک برس کے دوران عمر عبداللہ اپنے کسی وعدے کو عملی جامہ نہیں پہنا سکے ہیں، اور انتخابات میں جو خواب انہوں نے عوام کو دکھائے تھے وہ سراب ہی ثابت ہوئے ہیں۔ وہ بار بار اس بات کا اعادہ کرتے ہیں کہ مجھے عوام نے پانچ سال کا مینڈیٹ دیا ہے لیکن پہلے ایک برس میں کچھ کارکردگی ہونی چاہئے تھی، جو کہیں نظر نہیں آتی۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ انہیں مرکز کی طرف سے مشکلات کا سامنا ہے، شاید ٹھیک ہی کہتے ہیں کہ بندھے ہوئے ہیں، اور اختیارات کی کشمکش میں وہ عوام کا بھرم کھو رہے ہیں۔
لیکن عوام کیا کرے؟ ان کے اپنے بنیادی مسائل ہیں، اور ان میں سب سے بڑا مسئلہ بجلی، پانی، ہیلتھ اور روزگار ہے۔ ان مسائل سے سماجی بحران پیدا ہوتے ہیں جو عوام کی سوچ و فکر کو دستک دیتے رہتے ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ ماضی قریب میں کشمیری عوام نے این سی سے چھٹکارا پانے کی راہ منتخب کی تھی اور پی ڈی پی کو سپورٹ کرکے شاید اٹھائیس کے ہندسے تک پہنچایا تھا، لیکن مفتی مرحوم نے لوکل پارٹیوں کے بجائے بی جے پی کے اشتراک سے حکومت بنائی تھی، اور یہ بات کشمیری عوام ہضم نہیں کر سکے جس کی وجہ سے پچھلے انتخابات میں پی ڈی پی تقریباً نظروں سے اوجھل ہوئی۔
لیکن بڈگام کی اس سیٹ پر قابض ہونے سے کیا یہ سمجھا جاسکتا ہے کہ پی ڈی پی واپسی کا سفر شروع کر چکی ہے؟ میرے خیال میں یہ کہنا قبل از وقت ہوگا۔
لیکن عمر کے پاس ابھی وقت ہے، لیکن وقت کے پنکھ ہوتے ہیں۔ اسے اپنی حکمتِ عملی پر غور کرنا ہوگا اور عوام کو وہ سہولیات فراہم کرنی ہوں گی جن کا اس نے انتخابات میں وعدہ کیا تھا، نہیں تو وہ نہ ادھر کے رہیں گے اور نہ اِدھر کے۔


