14 نومبر یوم اطفال: معصومیت، محبت اور مستقبل کی امید کا دن

خورشید ریشی
کپوارہ، کشمیر

بچوں کے چھوٹے ہاتھوں کو چاند ستارے چھونے دو
چار کتابیں پڑھ کر یہ بھی ہم جیسے ہو جایئں گے
یوم اطفال ہر سال چوداں نومبر کو بڑے جوش و خروش کے ساتھ منایا جاتا ہے۔یہ دن ملک کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو کے یوم پیدائش پر منایا جاتا ہے انکے یوم پیدائش کو یوم اطفال کے طور پر اس لئے منایا جاتا ہے کیونکہ وہ بچوں سے بے پناہ محبت کرتے تھے اور بقول ان کے
آج کے بچے کل کے شہری ہیں۔
اس لئے ان کی تربیت تعلیم اور خوشی میں ہی قوم کا مستقبل چھپا ہوا ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ آج کے بچے ہی ہمارا مستقبل ہیں اور ان کی تعلیم و تربیت اور ان کے حقوق کی پاسداری کرنا ہماری اولین ذمہ داری ہے۔بچے معصوم ہوتے ہیں انکے چہروں پر مسکراہٹ دیکھنے کو ملتی ہے اور ابتدائی سالوں میں ہی انکی صحیح تربیت اور ذہنی اور جسمانی نشوونما کرنی لازمی ہے۔
چچا نہرو بچوں کو محض معصوم مخلوق نہیں سمجھتے تھے بلکہ وہ انہیں قوم کے مستقبل ترقی اور خوشحالی کی بنیاد قرار دیتے تھے۔اُن کا ماننا تھا کہ اگر ہم اپنے بچوں کو بہتر تعلیم اخلاقی تربیت اور صحت مند ماحول فراہم کریں تو وہ ایک روشن اور مضبوط قوم کی تعمیر کر سکتے ہیں۔

بچوں کے چہروں پہ مسکان رہنے دو
دنیا کو ان کا گلستان رہنے دو

چچا نہرو نے بچوں سے پیار کیا
تعلیم و خوشی کا ان سے اقرار کیا

بچوں کا دن ہے خوشیوں کا پیغام
ہر دل میں جگاؤ و محبت کا چراغ

بچے قوم کا قیمتی سرمایہ ہیں اور یہ ہر لحاظ سے معصوم ہوتے ہیں لیکن انکی معصومیت کو نکھارنے کا کام ہماری ذمہ داری ہے ان کی تربیت اور ان کے اندر انسان دوستی، صلہ رحمی، اخلاقی اقدار کی پاسداری اور اپنے سے بڑوں کی تعظیم اور اپنے دوستوں کے ساتھ خوش اسلوبی سے پیش آنے کا طریقہ اور انکے ہر ایک مشکلات کا حل تلاش کرنا یہ ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔

سلیقے سے گر بچوں کی پرورش کر لی
سمجھو آنے والی نسلوں کی حفاظت کر لی

یوم اطفال منانے کا اصل مقصد یہ ہے کہ ہمیں اپنے بچوں کو محبت، امن، تعلیم اور صحت مند ماحول دینے کے ساتھ ساتھ انہیں وقت دینا ہوگا کیونکہ ان کی معصومیت ہمارے سماج کی خوبصورتی، ان کی مسکراہٹ ہماری خوشی ہے اور ان کے خواب ہمارے مستقبل کی امید۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ ہر ایک اپنے بچوں کے تیئں فکر مند ہیں اور اپنے بچوں کو بڑے بڑے عہدوں پر فائز ہوتے ہوئے دیکھنا چاہتا ہے اس کے لئے بچوں کی آزادی چھین لی جاتی ہے، بچوں پر دباؤ بنایا جاتا ہے، بچوں کو ذہنی تناؤ کا شکار کیا جاتا ہے کیونکہ بچوں کی دلچسپی جس طرف ہوتی ہے والدین اس پر اپنی مرضی تھوپ کر اس کی دلچسپی کا گھلا گھونٹ دیتا ہے اور یہاں سے کشیدگی کا ماحول جنم لیتا ہے اس پر ستم ظریفی یہ کہ والدین اپنے بچوں کو مختلف سرگرمیاں کرنے سے بھی روکتے ہیں ،یہ مت کرو، وہ مت کرو، اور دوسروں کے بچوں کی مثالیں پیش کرتے ہوئے انہیں بولنے کا موقع فراہم نہیں کرتے۔بچوں کو صرف نصحیت نہیں بلکہ محبت، اعتماد اور مواقع بھی دینے چاہئیں تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کو اجاگر کر سکیں۔
یوم اطفال منانے کا دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ جس طرح ہم اپنے بچوں کے تیئں فکر مند ہوتے ہیں اسی طرح ہمیں سماج کے ہر بچے کے بارے میں سوچنا ہوگا کیونکہ اگر ہم اپنے بچوں کو بہتر ماحول فراہم کریں گے تبھی تو اس کے اندر باقی اچھی خصلتیں پیدا ہونگی۔سماج میں اسے باقی بچوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا ہے ان کے ساتھ وقت گزارنا ہے کھیل کود کی سرگرمیوں میں حصہ لینا ہے۔اس لئے ہمیں ہر ایک بچے کو تعلیم ،اور بہتر ماحول فراہم کرنا ہوگا۔

نہ جانے وہ بچہ کس کھلونے سے کھیلتا ہوگا
جو دن بھر بازار میں،کھلونے بیچتا ہوگا

افلاس کی بستی میں جا کر تو دیکھو
وہاں بچے تو ہوتے ہیں مگر بچپن نہیں ہوتا

یوم اطفال کے موقعے پر ہمیں بچہ مزدوری جیسے سنگین مسلے پر بھی سوچنا ہوگا کیونکہ عمر کے جس موڈ پر جن ہاتھوں میں کاپی اور قلم ہونا چاہیے تھا ان ہاتھوں میں اونچی اونچی عمارتوں پر اینٹیں یا بازاروں میں مختلف کاموں میں مشغول دیکھ کر دل چھلنی ہوتا ہے لہذا بحیثیت قوم ہماری یہ اجتماعی ذمہ داری ہے کہ ہم ان بچوں کو اس مصیبت سے چھٹکارا دلانے میں اپنا کردار ادا کریں اور ان بچوں کے ہاتھوں اور کمزور کندھوں سے اینٹیں اور بھاری بوجھ چھڑایئں اور انہیں بھی قلم اور کاغذ سے اپنی زندگی بدلنے کا موقع فراہم کریں ایسا کرکے ہم ان بچوں پر کوئی احسان تو نہیں کر رہے ہیں بلکہ ہم ان کے ساتھ ساتھ اپنے بچوں کو ایک بہتر اور خوشگوار ماحول فراہم کرتے ہیں کیونکہ یہ بچے بھی ہمارے سماج کا حصہ ہیں اور انہیں بھی اپنی مرضی سے اپنی زندگی اور خوابوں کے خاکوں میں رنگ بھرنے کا حق ہے اور اگر ہماری کوشش سے ایسے بچے اپنے خوابوں کو شرمندہ تعبیر کرنے میں کامیاب ہوئے تو سمجھو ہمارے بچوں مستقبل بھی روشن اور تابناک ہوگا اور ہمارا سماج ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا اور تب جا کر ہمیں صحیح معنوں میں یوم اطفال منانے کا اصل مقصد حاصل ہوگا۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

دہلیز

راشیدہ یاسمین سارہ جب ہنستی تھی تو یوں محسوس ہوتا...

تازہ ترین خبریں

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

دہلیز

راشیدہ یاسمین سارہ جب ہنستی تھی تو یوں محسوس ہوتا...

14 نومبر یوم اطفال: معصومیت، محبت اور مستقبل کی امید کا دن

خورشید ریشی
کپوارہ، کشمیر

بچوں کے چھوٹے ہاتھوں کو چاند ستارے چھونے دو
چار کتابیں پڑھ کر یہ بھی ہم جیسے ہو جایئں گے
یوم اطفال ہر سال چوداں نومبر کو بڑے جوش و خروش کے ساتھ منایا جاتا ہے۔یہ دن ملک کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو کے یوم پیدائش پر منایا جاتا ہے انکے یوم پیدائش کو یوم اطفال کے طور پر اس لئے منایا جاتا ہے کیونکہ وہ بچوں سے بے پناہ محبت کرتے تھے اور بقول ان کے
آج کے بچے کل کے شہری ہیں۔
اس لئے ان کی تربیت تعلیم اور خوشی میں ہی قوم کا مستقبل چھپا ہوا ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ آج کے بچے ہی ہمارا مستقبل ہیں اور ان کی تعلیم و تربیت اور ان کے حقوق کی پاسداری کرنا ہماری اولین ذمہ داری ہے۔بچے معصوم ہوتے ہیں انکے چہروں پر مسکراہٹ دیکھنے کو ملتی ہے اور ابتدائی سالوں میں ہی انکی صحیح تربیت اور ذہنی اور جسمانی نشوونما کرنی لازمی ہے۔
چچا نہرو بچوں کو محض معصوم مخلوق نہیں سمجھتے تھے بلکہ وہ انہیں قوم کے مستقبل ترقی اور خوشحالی کی بنیاد قرار دیتے تھے۔اُن کا ماننا تھا کہ اگر ہم اپنے بچوں کو بہتر تعلیم اخلاقی تربیت اور صحت مند ماحول فراہم کریں تو وہ ایک روشن اور مضبوط قوم کی تعمیر کر سکتے ہیں۔

بچوں کے چہروں پہ مسکان رہنے دو
دنیا کو ان کا گلستان رہنے دو

چچا نہرو نے بچوں سے پیار کیا
تعلیم و خوشی کا ان سے اقرار کیا

بچوں کا دن ہے خوشیوں کا پیغام
ہر دل میں جگاؤ و محبت کا چراغ

بچے قوم کا قیمتی سرمایہ ہیں اور یہ ہر لحاظ سے معصوم ہوتے ہیں لیکن انکی معصومیت کو نکھارنے کا کام ہماری ذمہ داری ہے ان کی تربیت اور ان کے اندر انسان دوستی، صلہ رحمی، اخلاقی اقدار کی پاسداری اور اپنے سے بڑوں کی تعظیم اور اپنے دوستوں کے ساتھ خوش اسلوبی سے پیش آنے کا طریقہ اور انکے ہر ایک مشکلات کا حل تلاش کرنا یہ ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔

سلیقے سے گر بچوں کی پرورش کر لی
سمجھو آنے والی نسلوں کی حفاظت کر لی

یوم اطفال منانے کا اصل مقصد یہ ہے کہ ہمیں اپنے بچوں کو محبت، امن، تعلیم اور صحت مند ماحول دینے کے ساتھ ساتھ انہیں وقت دینا ہوگا کیونکہ ان کی معصومیت ہمارے سماج کی خوبصورتی، ان کی مسکراہٹ ہماری خوشی ہے اور ان کے خواب ہمارے مستقبل کی امید۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ ہر ایک اپنے بچوں کے تیئں فکر مند ہیں اور اپنے بچوں کو بڑے بڑے عہدوں پر فائز ہوتے ہوئے دیکھنا چاہتا ہے اس کے لئے بچوں کی آزادی چھین لی جاتی ہے، بچوں پر دباؤ بنایا جاتا ہے، بچوں کو ذہنی تناؤ کا شکار کیا جاتا ہے کیونکہ بچوں کی دلچسپی جس طرف ہوتی ہے والدین اس پر اپنی مرضی تھوپ کر اس کی دلچسپی کا گھلا گھونٹ دیتا ہے اور یہاں سے کشیدگی کا ماحول جنم لیتا ہے اس پر ستم ظریفی یہ کہ والدین اپنے بچوں کو مختلف سرگرمیاں کرنے سے بھی روکتے ہیں ،یہ مت کرو، وہ مت کرو، اور دوسروں کے بچوں کی مثالیں پیش کرتے ہوئے انہیں بولنے کا موقع فراہم نہیں کرتے۔بچوں کو صرف نصحیت نہیں بلکہ محبت، اعتماد اور مواقع بھی دینے چاہئیں تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کو اجاگر کر سکیں۔
یوم اطفال منانے کا دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ جس طرح ہم اپنے بچوں کے تیئں فکر مند ہوتے ہیں اسی طرح ہمیں سماج کے ہر بچے کے بارے میں سوچنا ہوگا کیونکہ اگر ہم اپنے بچوں کو بہتر ماحول فراہم کریں گے تبھی تو اس کے اندر باقی اچھی خصلتیں پیدا ہونگی۔سماج میں اسے باقی بچوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا ہے ان کے ساتھ وقت گزارنا ہے کھیل کود کی سرگرمیوں میں حصہ لینا ہے۔اس لئے ہمیں ہر ایک بچے کو تعلیم ،اور بہتر ماحول فراہم کرنا ہوگا۔

نہ جانے وہ بچہ کس کھلونے سے کھیلتا ہوگا
جو دن بھر بازار میں،کھلونے بیچتا ہوگا

افلاس کی بستی میں جا کر تو دیکھو
وہاں بچے تو ہوتے ہیں مگر بچپن نہیں ہوتا

یوم اطفال کے موقعے پر ہمیں بچہ مزدوری جیسے سنگین مسلے پر بھی سوچنا ہوگا کیونکہ عمر کے جس موڈ پر جن ہاتھوں میں کاپی اور قلم ہونا چاہیے تھا ان ہاتھوں میں اونچی اونچی عمارتوں پر اینٹیں یا بازاروں میں مختلف کاموں میں مشغول دیکھ کر دل چھلنی ہوتا ہے لہذا بحیثیت قوم ہماری یہ اجتماعی ذمہ داری ہے کہ ہم ان بچوں کو اس مصیبت سے چھٹکارا دلانے میں اپنا کردار ادا کریں اور ان بچوں کے ہاتھوں اور کمزور کندھوں سے اینٹیں اور بھاری بوجھ چھڑایئں اور انہیں بھی قلم اور کاغذ سے اپنی زندگی بدلنے کا موقع فراہم کریں ایسا کرکے ہم ان بچوں پر کوئی احسان تو نہیں کر رہے ہیں بلکہ ہم ان کے ساتھ ساتھ اپنے بچوں کو ایک بہتر اور خوشگوار ماحول فراہم کرتے ہیں کیونکہ یہ بچے بھی ہمارے سماج کا حصہ ہیں اور انہیں بھی اپنی مرضی سے اپنی زندگی اور خوابوں کے خاکوں میں رنگ بھرنے کا حق ہے اور اگر ہماری کوشش سے ایسے بچے اپنے خوابوں کو شرمندہ تعبیر کرنے میں کامیاب ہوئے تو سمجھو ہمارے بچوں مستقبل بھی روشن اور تابناک ہوگا اور ہمارا سماج ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا اور تب جا کر ہمیں صحیح معنوں میں یوم اطفال منانے کا اصل مقصد حاصل ہوگا۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں